سی پیک سے پاکستان میں مواصلاتی ذرائع بہتر ہوں گے : شوکت عزیز
10 اپریل 2018 (14:09) 2018-04-10

بائو :سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ سی پیک سے پاکستان میں مواصلاتی ذرائع بہتر ہوں گے ، پانی کی فراہمی ہو گی ، بجلی میسر آئے گی، یہ ایک خوش آئند انیشیٹو ہے، اس سے غربت میں کمی آئیگی ، ایشیائی ممالک میں افرادی قوت کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے ،آزادانہ تجارت اور کھلی منڈیوں کے حامی ہیں۔آزادانہ تجارت کی راہ میں کسی قسم رکاوٹیں حائل نہیں ہونی چاہیے، دوست ملک کی حیثیت سے پاکستان چین کی ترقی کو بے حد سراہتا ہے، پاکستان میں بہترین طرز حکمرانی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔


ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ ایشیائی خطے سے لوگوں کی بڑی توقعات وابستہ ہیں کیونکہ ایشیا کی افرادی قوت ایک بڑی طاقت ہے ۔ ایشیا کے لوگ محنتی ، تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہیں۔ایشیائی عوام میں ملک کی ترقی ، خوشحالی کے حوالے سے عزم پایا جاتا ہے۔ایشیائی ممالک بشمول پاکستان میں بھی بہترین طرز حکمرانی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اِس کی بدولت ملک میں نئے منصوبہ جات آتے ہیں اور لوگوں کو مواقع ملتے ہیں۔بنیادی تنصیبات کے منصوبہ جات کی بدولت ایک جانب جہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں وہاں دوسری جانب عوام کا معیار زندگی بھی بہتر ہوتا ہے اور معاشی طور پر اس علاقے میں خوشحالی آتی ہے۔


شوکت عزیز نے مزید کہا کہ زرائع آمد ورفت ، توانائی اور مواصلاتی شعبے کی بہتری سے دیگر دنیا کے ساتھ رابطہ سازی کو فروغ ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور عالمگیریت کا دور ہے جس میں بہتر رابطہ سازی کی بدولت اقتصادی ترقی اور ایک روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔لہذا ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہوا جائے تاکہ ترقی کے ثمرات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔سابق پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ایشیا کا انیشیٹو ہے کیونکہ یہ چین کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔چین نے پہلے خود ترقی کی منازل طے کی اور اب چین ایک عظیم ملک بن چکا ہے۔ ہم نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو آگے لے کر جانا ہے۔ پاکستان میں سی پیک کے تحت جو منصو بہ جات جاری ہیں ان کی بدولت ملک میں مواصلاتی زرائع بہتر ہوں گے ، پانی کی فراہمی ہو گی ، بجلی میسر آئے گی۔یہ سب وہ عناصر ہیں جنہیں ترقی کے انجن کہا جاتا ہے جن کی بدولت غربت میں کمی آتی ہے ۔


ای پیپر