پولیس کے کچھ گندے انڈے !
10 اپریل 2018

مشتاق سکھیرا پنجاب پولیس سے دم توڑ گیا مگر اُس کی روح ابھی تک سی پی او یعنی آئی جی پنجاب کے دفتر میں ایک ایڈیشنل آئی جی کی صورت میں بھٹکتی پھر رہی ہے۔ اِس کو دیکھ کر سی پی او میں تعینات ہراچھا پولیس افسر یہ سوچ کر پریشان ہوجاتا ہے حکمرانوں کی روایتی کاسہ لیسی کے نتیجے میں جس روز انتہائی منفی ذہنیت کا حامل یہ پولیس افسر آئی جی پنجاب بن گیا انتقامی کارروائیوں میں مشتاق سکھیرا کو بھی پیچھے چھوڑجائے گا۔ جیسے مشتاق سکھیرا جاتے جاتے اُسے پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ اُس نے بھی خود پر خودبخود ہی ایمانداری کا خول بلکہ ”مین ہول“ چڑھایا ہوا ہے۔ وہ بھی تقریباً ویسا ہی ایماندارہے جیسے ایک سابق معروف افسر تھے۔ کیسے ایماندار تھے؟ یہ بھید اب جاکر کہیں کھلا ہے جب بددیانت ترین حکمرانوں کی وہ محض اِس لیے کاسہ لیسی کرنے پر مجبور ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اُن حکمرانوں نے اُنہیں ایک ایسے عہدے سے نواز رکھا ہے جس کا اُنہیں کوئی تجربہ ہی نہیں ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی ”نوازش “ اور ”شہبازش“ ہے جو مشتاق سکھیرے کو انکم ٹیکس کا محتسب بناکر کی گئی جس کا اُسے بھی کوئی تجربہ نہیں ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہیے کسی روز اِن ”نوازشات“ کا بھی ذرا جائزہ لیں، جس انداز میں اپنے ذاتی افسروں کو باربار ریوڑیاں بانٹیں دنیا اُس پر حیران ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی عہدے کے اور عہدہ چاہے جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، اگلے روز ایک سینئر پولیس افسر بتارہے تھے مشتاق سکھیرے نے بطورآئی جی پنجاب تمام ریٹائرڈ پولیس افسران سے عملہ واپس لے لیا تھا، مگر اب خود اُس نے ریٹائرمنٹ کے کئی ماہ بعد تک درجنوں پولیس ملازمین کو ”یرغمال“ بنایا ہوا ہے، ....مجھے یقین ہے انہیں کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد ایسی ہی کسی پوسٹ پر لگادیا جائے گا جس کا اُسے کوئی تجربہ نہیں ہوگا۔ ممکن ہے اُسے چڑیا گھر لاہور کا ریذیڈنٹ ڈائریکٹر لگادیا جائے۔ اِس تقرری پر جانور یقیناً جشن منائیں گے۔ بھیڑیے وغیرہ اُس کے اعزاز میں شاید ایک دعوت کا اہتمام بھی کریں، ....یہ پولیس افسر مبینہ ایمانداری کے اُس مقام پر کھڑا ہے جہاں نیچے ہرپولیس افسر ہی اُسے بددیانت دکھائی دیتا ہے۔ ایسی ایمانداری کو کسی نے چاٹنا ہے جو دوسروں کو اذیت دے کر یاانصاف نہ دے کر ثابت کی جائے۔ اُسے قصور کی بچی زینب قتل کیس میں جے آئی ٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا ۔اِس سے بڑھ کر اُس کی بدبختی اور بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے ایک مظلوم (زینب کے والد) نے اُن پر عدم اعتماد کردیا اور میڈیا پر آکر فرمایا ”ایک غیرمسلم ذہنیت کا حامل پولیس افسر مجھے انصاف نہیں دے سکتا“ ....اُن کے اِس اعتراض کے بعد آرپی او ملتان محمد ادریس کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنایا گیا ۔ یہ تفتیش پولیس کے اِس ابوبکری کے پاس رہتی ممکن ہے وہ زینب کے والد کو ہی قصوروار ٹھہرا دیتا کہ وہ چونکہ اپنی بچی کو عمرے پر اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے لہٰذا اس زیادتی اور قتل کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ پولیس کے اِن”نفسیاتی مریضوں“ سے ایسی ہی تفتیشوں کی توقع کی جاسکتی ہے، یہ پولیس افسر مبینہ طورپر ایک اور کیس پر اثرانداز ہوا۔ قصور میں مدثر نامی ایک نوجوان کو پولیس مقابلے میں پارکردیا گیا تھا، وہ بے قصور تھا۔ ظاہر ہے یہ بہت بڑا ظلم تھا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اِس ظلم کی انکوائری ٹیم کا سربراہ ایک ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب کو بنایا گیا۔ ابوبکری اُس کا ایڈیشنل آئی جی تھا۔ اِس کیس کی تفتیش میں اُس وقت کے ڈی پی او قصور علی ناصر رضوی پر دفعہ 109لگائی گئی جس کے مطابق پولیس مقابلے میں اُس کی مشاورت شامل تھی، اِس کیس میں دوانسپکٹرز کو گرفتار کرلیا گیا ، بعد میں ملزمان نے مقتول مدثر کے ورثاءکو دیت کی رقم ادا کرکے اُن سے صلح کرلی جس کے نتیجے میں اُن کی ضمانتیں ہوگئیں۔ پھر سپریم کورٹ نے اِس کیس کی مزید انکوائری کا حکم دیا تو اذیت پسند ایڈیشنل آئی جی ابوبکری نے مبینہ طورپر اپنے ماتحت ڈی آئی جی انویسٹی گیشن جو اِس انکوائری ٹیم کا سربراہ تھا پر دباﺅ ڈال کر سپریم کورٹ میں بھجوائی جانے والی رپورٹ میں دفعہ 311بھی لگادی جس کے مطابق دیت کی رقم ادا کرنے اور مقتول کے ورثاءسے صلح کے باوجود ملزمان رہا نہیں ہوسکتے۔ اس دفعہ کے تحت مدعیوں کو ملزمان کو معاف کرنے کا حق بھی حاصل نہیں ہوتا۔ یعنی انہوں نے اپنی ہی ”شریعت “ متعارف کروادی۔ یہی وہ پولیس افسر ہے بطور آرپی او شیخوپورہ اُس کی تعیناتی کے دوران کئی بے گناہ لوگ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ کیا وہ اِس ظلم سے بے خبر تھا؟ علی ناصر رضوی پر 109لگائی گئی تو یہی دفعہ خود اُس پر بھی لگنی چاہیے۔ بلکہ سابق آئی جی پر بھی لگنی چاہیے جواُس وقت آئی جی پنجاب تھا، کیا مسٹر ابوبکری کو کبھی یہ توفیق ہوئی شیخوپورہ رینج میں اپنی تعیناتی کے دوران ہونے والے پولیس مقابلوں کی بھی کوئی انکوائری کرواتا ؟ ۔دوسروں کے گریبانوں میں ہروقت جھانکتے رہنے کے شوقین پولیس افسر نے اپنے گریبان میں بھی کبھی جھانکا ؟ سپریم کورٹ نے دوسوسے زائد پولیس مقابلوں کی رپورٹ مانگی تھی، وہ یہ بتانا پسند کرے گا اپنی رپورٹ میں کتنے کیسوں میں دفعہ 311لگانے کی اُس نے سفارش کی ؟ وہ کون سا بغض تھا جس کے نتیجے میں قصور کے مدثر مقابلہ کیس میں کچھ پولیس افسروں کے خلاف دفعہ 311کا اُس نے اضافہ کروادیا ؟۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے میری معلومات کے مطابق سپریم کورٹ میں یہ رپورٹ آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کو دِکھائے بغیر بھجوادی گئی، ”چین آف کمانڈ“ پر ایسے نااہل پولیس افسران یقین ہی نہیں رکھتے، نہ اُسے خاطر میں لاتے ہیں۔ وہ صرف ایک ہی بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ماتحتوں کو کسی نہ کسی انداز میں نقصان پہنچا کر ہی اُن حکمرانوں کی نظر میں کوئی مقام حاصل کیا جاسکتا ہے جن کی اپنی فطرت دوسروں کو نقصان پہنچا کر خوش ہونے کی ہے، بھلائی کا کوئی تصور ہی اُن کے ہاں نہیںہے۔ البتہ منتقم مزاجی میں کوئی اُن کا ثانی نہیں ہے، ایسے بدقسمت افسروں کو ریٹائرمنٹ پر اتنی پنشن، گریجویٹی اور دیگر مراعات وغیرہ نہیں ملتیں جتنی بددعائیں وغیرہ ملتی ہیں،....ایسے ہی ایک پولیس افسر ایک سابق میجر ہوا کرتے تھے، اللہ اُنہیں غریق رحمت فرمائے۔ اُن سے بھی خیر کی کوئی توقع کسی کو نہیں ہوا کرتی تھی منفی ذہنیت کے حامل پولیس افسران نے اپنے کسی ماتحت کو ناجائز سزادلوانی ہوتی اُس کی انکوائری اُنہیں سونپ دیا کرتے تھے، یہی حال اپنے عملش صاحب کا تھا۔ جو حال ہی میں بطور ڈی جی ایف آئی اے ریٹائر ہوئے۔ یہ وہ ”ایماندار“ ہیں جو اپنے علاوہ کسی اور کو ایماندار دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ ”ایمانداری“ اِن کی نظر میں صرف یہ ہوتی ہے پیسے کی کرپشن نہیں کرنی، جبکہ میرے نزدیک اذیت پسندی ، منتقم مزاجی، مردم بیزاری اور ہروقت اپنی ایمانداری کے چرچے کرتے یا کرواتے رہنے کی ”کرپشن“ پیسے کی کرپشن سے زیادہ بڑی ہے!


ای پیپر