نئے آئی جی پنجاب نے تعینات ہوتے ہی حیران کن بات کہہ ڈالی 
09 ستمبر 2020 (19:12) 2020-09-09

اسلام آباد : نئے آئی جی پنجاب نے تعینات ہوتے ہی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایک نوٹیفکیشن کی مار ہوں‘حکومت جہاں ٹرانسفرکرئے گی چلا جاؤنگا۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس انعام غنی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازم ہوں جہاں حکومت کہے گی وہاں چلا جاؤں گا‘ آئی جی پنجاب کا چارج سنبھالنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام ہے پالیسی بنانا اور ہمارا کام ہے اس پر عمل کرانا ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس میں کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کریں گے کوشش ہوگی کہ پولیس کے رویے کو بہتر کریں انہوں نے کہا کہ سابق آئی جی شعیب دستگیر نے اچھی ٹیم بنائی تھی آئندہ بھی پولیس میں تقرر و تبادلے میرٹ پر ہوں گے‘اپنی تعیناتی کے خلاف عدالت میں درخواست پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پولیس ایریا کی تعریف پڑھیں تو اس میں لکھا ہے کہ سارے صوبائی پولیس افسر آئی جی کے تحت اپنے فرائض انجام دیں گے‘انعام غنی نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کی اپنی ذمہ داریاں ہیں، اس میں وہ بہتر کارکردگی دکھائیں گے تو میں مطمئن رہوں گا اور اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے تو میں اور حکومت ان سے مطمئن نہیں ہوں گے کیونکہ حکومت ہمیں اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے ہی تنخواہ دیتی ہے۔

سابق آئی جی پنجاب کے سی سی پی او لاہور سے اختلافات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سینٹرل پولیس آفس تمام افسران کا گھر ہے، یہاں بیٹھ کر اگر افسران کوئی بات کرتا ہے تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہے تاہم اگر یہ باہر نکلیں اور سڑک بلاک کریں تو ان کے ساتھ بھی ویسے ہی نمٹا جائے گا جیسے عام آدمی کو دیکھا جاتا ہے۔


ای پیپر