حکومت کا ریکوڈیک میں پاکستان کو ہونے والے جرمانے کو چیلنج کرنے کااعلان
09 ستمبر 2019 (23:13) 2019-09-09

اسلام آباد: حکومت نے ریکوڈیک میں پاکستان کو ہونے والے جرمانے کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا،وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ریکوڈک کیس میں6.2ارب ڈالر جبکہ کارکے کیس میں1.2ارب ڈالر جرمانہ ہوا،پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ، ہم اتنے جرمانے برداشت نہیں کر سکتے اسلئے ریکوڈک کیس میں جرمانہ چیلنج کرنے جارہے ہیں.

گزشہ حکومت کی پالیسی کی وجہ سے ریکوڈک کیس میں جرمانہ ہوا ،پاور کمپنیاں سیعدالت سے باہر سیٹل منٹ کی جارہی ہے یہ طریقہ اس لئے اپنایا جارہا ہے کہ کہیں یہ کمپنیاں باہر کے ممالک میں آربیٹیریشن میں نہ چلی جائیں،ہم نے میرٹ سے ہٹ کرکسی کوکوئی رعایت نہیں دی، شفافیت موجودہ حکومت کا طرہ امتیازہے، وزیراعظم کی ہدایت پر عوام کوحقائق سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، گذشتہ حکومت بیوقوفانہ انداز میں سسٹم چلا رہی تھی، بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری ہماری ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے،روش پاور کے ساتھ گیس معاہدہ 2016 میں ہوا ،انہیں پہلے لوکل گیس مل رہی تھی جیسے ایل این جی میں تبدیل کیا گیا اگر کوئی ادارہ میرٹ لسٹ پر آتا ہے تو ہم انرجی کاسٹ پر فیصلہ کرتے ہیں ۔ یہ پلانٹ1994 کی پاور پالیسی کے تحت لوکل گیس پر لگا جو 425 میگاواٹ کا کمبائن سائیکل پلانٹ ہے ۔ روش پاور کا ڈیڑھ ارب کیپیسیٹی چارجز کا بقایا ہے، گزشتہ دور حکومت میں آئی پی پیز کو دینے کیلئے رقم موجود نہیں تھی،گزشتہ حکومتوں نے آئی پی پیزپربہت زیادہ بوجھ ڈالا، روش پاور کمپنی اور دیگر 11 کمپنیوں نے آر بیٹریشن سے رابطہ کیا تھا۔ روش پاور نے مقامی مصالحت سے رابطہ کیا، جو کمپنیاں اپنے کیس بین الاقوامی مصالحت میں لیکر گئیں ہیں ان پر بھی حکومت کو 14سے15 ارب روپے دینے پڑ رہے ہیں، یہ پاور کمپنیاں عالمی عدالت میں سابق حکومت کی احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے گئیں، ہم ان کمپنیوں کی پیمنٹ بھی کر رہے ہیں اور سرکلولر ڈیٹ کے جن پر بھی قابو پا رہے ہیں، ان کمپنیوں کا گیس سیلز ایگریمنٹ تبدیل نہیں کیا گیا، تمام مسائل صاف شفاف انداز میں حل کئے جارہے ہیں ،عدالت سے باہر سیٹل منٹ کی جارہی ہے یہ طریقہ اس لئے اپنایا جارہا ہے کہ کہیں یہ کمپنیاں باہر کے ممالک میں آربیٹیریشن میں نہ چلی جائیں ،ہم نے میرٹ سے ہٹ کرکسی کوکوئی رعایت نہیں دی،ان کمپنیوں کا گیس سیلز ایگریمنٹ تبدیل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شفاف طریقے سے نہ کی گئی ہو ، اس میں کوئی فیورٹ ازم نہیں ہو رہی یہ سب میرٹ پر ہو ا ہے ۔ مسلم لیگ دور حکومت میں ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا آئوٹ آف کورٹ اس کے نقصانات کا حل نکالیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں ہم انہیں دور کر رہے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں بیرونی سرمایہ کاری پاکستان آئے ، بیرونی سرمایہ کاری آئے گی تو ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ شفافیت موجودہ حکومت کا طرہ امتیازہے،تمام مسائل صاف شفاف انداز میں حل کیے جارہے ہیں، عمران خان حکومت کا ہر قدم صاف شفاف ہے،عمران خان کی حکومت میں کوئی کام میرٹ کے بغیرنہیں ہوتا، وزیراعظم کی ہدایت پر عوام کوحقائق سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، ہمارے قو ل و فعل میں کوئی تضاد نہیں ہم جو بھی کریں گے شفاف طریقے سے کریں گے۔

عمرایوب نے کہا کہ تمام فیڈرز چل رہے ہیں ،مساجد، امام بارگاہوں میں بجلی بلا تعطل فراہم کررہے ہیں ۔عمر ایوب نے کہا کہ جی آئی ڈی سی بھی درست قدم تھا لیکن جب انگلی اٹھائی گئی تو ہم نے معاملہ سپریم کورٹ بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آکر بجلی کے شارٹ فال کو ٹھیک کیا اس کے لئے پاور سیکٹر کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کے لئے دن رات کام کیا ۔ پاکستان میں اس وقت 8010 فیڈرز ہیں ،رمضان میں بھی ہمیں کوئی بڑی شکایت نہیں ملی ، آج بھی 300 فیڈرز ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے بند ہیں اب بھی 99 فیصدفیڈر کام کر رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے گردشی قرضے بڑھ گئے، سابق دور حکومت میں گردشی قرضے 39 ارب روپے ماہانہ تھے، ہم اس کو 10 ارب روپے ماہانہ کر دیا ہے ۔ ہمارا ٹارگٹ ہے کوہم 31 دسمبر تک اس سرکلولر ڈیٹ کے زیرو کر دیں ،2017 کے بعد آئی پی پیز کی تقریباً86 سے 88 فیصد تک رقوم ہم ادا کر رہے ہیں جس میں انرجی، کپیسٹی پیمنٹ، سود سب شامل ہیں۔ ہم گردشی قرضوں پرکیپیسٹی چارجزواپس لے رہے ہیں۔ گذشتہ حکومت بیوقوفانہ انداز میں سسٹم چلا رہی تھی، بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری ہماری ترجیح ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک اور کارکے کیس میں پاکستان کو نقصان پہنچا،1.2 ارب ڈالر کارکے ، 6.2 ارب ڈالر ریکوڈک میں ہمیں جرمانہ ہوا ہے،پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ، ہم اتنے جرمانے برداشت نہیں کر سکتے ۔ ہم اس کے خلاف اپیل میں جائیں گے،گزشہ حکومت کی پالیسی کی وجہ سے ریکوڈک کیس میں جرمانہ ہوا ۔


ای پیپر