11 ستمبر قائد اعظم کا یوم انتقال
09 ستمبر 2019 2019-09-09

آج پابائے قوم کو بچھڑے 72 برس ہو چکے ہیں۔ جو کچھ ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے ایسا منظر نامہ پاکستان کو قائم ہوتے وقت بھی نظر آتا تھا قائد اعظم نے اس وقت اس سازشوں کو ناکام بنایا تھا آج منظر نامہ اس سے بھی بھیانک ہے۔ ایک طرف بھارت کو بڑی طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل ہے ایسی طاقتوں نے ہمیں پہلے بھی دھوکہ دیا تھا۔کشمیر جسے پاکستان اپنی شہ رگ سمجھتا ہے اس کو ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ کشمیری کرفیو کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس پر اپنے ہونٹ سی رکھے ہیں۔ دوسرا ہمارے سر پر مسلط جنگ کو دو د ہائیا ں گزرنے کو ہیں۔ سال دو ہزار تیرہ میں امریکہ اور حامد کرزئی نے جو کھیل کھیلا تھا اس کو امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دہرایا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اب افغان صدر اشرف غنی ہے۔ اس بار تو ایسا لگا تھا کہ امریکہ بالکل افغانستان سے جانا چاہتا ہے جب طالبان نے سارا کچھ مان لیا تو پھر امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے امن معاہدہ پر دستخط کرنے سے انکا کر دیا۔محسوس ہوتا ہے امریکہ اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کو اندازہ ہے کہ اگر افغان طالبان سیاسی عمل میں داخل ہوگئے تو افغانستان سے ان کی وہ ساری محنت رائیگاں جائے گی جس کے لیے وہ نائن الیون سے کوشش کر رہے ہیں۔ لگتا ہے افغانستان میں امن اب دور کی بات ہے کیوں کہ دوحا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ دس ماہ سے مذاکرات جاری تھے وہ امریکہ صدر کے یکے بعد دیگرے 8 ستمبر کو جاری ہونے والے ٹویٹس تین توئٹس کے بعد ختم ہو گئے ہیں۔ جن میں امریکی صدر نے الزام لگایا کہ طالبان اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اتوار کو طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کن مرحلہ طے ہونا تھا کہ چھ ستمبر 2019 کو ایک امریکی فوجی سمیت بارہ لوگ طالبان کے خود کش حملے میں مارے گئے تھے۔ اگر یہ کامیاب عمل تعطل کا شکار نہ ہوتا تو پاکستان کے لیے یہ اچھی خبر تھی جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے اس وقت تک پاکستان کو الرٹ رہنا پڑے گا۔ پاکستان کو بھی اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ ایسے لمحے میں ہمارے لیے قائد اعظم کی مثالیں موجو ہیں۔آج قائد کے انتقال کا دن بھی ہے۔ وہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948ء میں سے جدا ہو گئے تھے، یہ دن ایک ایسے عظیم قائد کی یاد دلاتا ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا، شیکسپیئر کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ پیدائشی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت پاتے ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی جدوجہد اور لازوال کارناموں کی بدولت عظمت کے میناروں کو چھوتے ہیں۔ قائد اعظم کے زمانے میں دنیا میں بڑے بڑے لیڈر تھے۔

1940 ء سے 1947ء تک کا دور، جس میں ایک علیٰحدہ خطّے کے مطالبے نے شدت اختیار کی اور جس کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک پاکستان کی شکل میںمعرضِ وجود میںآیا۔کیبنٹ مشن سے 3 جون 1947کے اعلان اآزادی تک آپ نے کانگرس اور لارڈ مونٹ بیٹن کی ہر سازش کو ناکام بنایاآزادی کے موقع پر آپ 7اگست 1947کو کراچی پہنچے، قائد اعظم آخری باراسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے قائد اعظم آزادی کے بعد پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔آپ کی انتھک محنت و کاوشوں کی وجہ سے آپ کو بابائے قوم کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے’جناح آف پاکستان‘ کے مصنف ممتاز دانشور اور لکھاری اسٹینلے والپرٹ نے قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا

وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی نے 20 فروری 1947ء کو اعلان کیا۔ تاج برطانیہ ہندوستان کو دو خود مختار ڈومینین میں تقسیم کر دے گی۔ تقسیم ہند کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے لارڈ ماؤنٹ بیٹن آخری وائسرائے بن کر ہندوستان آئے۔ جواہر لعل نہرو نے جلد ہی ان سے سیاسی مراسم کے ساتھ ساتھ ذاتی تعلقات بھی استوار کر لیے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو برطانیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، وہ پاکستان اور انڈیا کے مشترکہ گورنر جنرل بھی بننا چاہتے تھے۔ کانگریسی لیڈروں نے اْن کی اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے تقسیم سے پہلے ہی یہ پیغام دے دیا کہ وہ آخری وائسرائے کے ساتھ ساتھ بھارت کے پہلے گورنر جنرل بھی ہوں گے۔ نہرو کو یقین تھا کہ بھارت کے بعد قائداعظم بھی خود بخود لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل تسلیم کر لیں گے۔ قائداعظم نے جمہوریت اور جدوجہد کا طویل سفر طے کرنے کے بعد پاکستان کی منزل پائی تھی۔ پاکستان برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کی پر عزم اور شاندار جدوجہد سے حاصل کیا تھا، اس لیے قائداعظم نے پاکستان کو آزاد، خود مختار اور جمہوری ملک بنانے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا تھا۔ جبکہ قائداعظم سامراج کی ایک ایک نشانی کو اکھاڑنے کا عزم رکھتے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بتا دیا گیا کہ پاکستان کے پہلا گورنر جنرل بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ہوں گے۔ انکار سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا غرور ٹوٹ گیا۔ اْن کے دل پر کراری چوٹ اس لیے بھی لگی تھی کہ اس نے برطانوی حکومت کو بتا دیا تھا کہ پاکستان انہیں گورنر جنرل کی حیثیت سے قبول کر لے گا۔ وائسرائے ہند کو ایسے انکار کی توقع نہیں تھی کہ جس ملک پر انہوں نے طویل عرصہ حکمرانی کی ہو کوئی انہیں حرف انکار بھی کہہ سکتا ہے؟ معاملہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن ایک گورنر جنرل بننے کا نہیں تھا بلکہ معاملہ سامراج اور جمہوریت کی بالادستی کا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گورنر جنرل کی ضد نہ چھوڑی۔ مگر قائد بھی ڈٹے رہے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے نواب حیدر آباد دکن، ریاست کے مشیر والٹر اور جونا گڑھ کے نواب کی سفارش بھی قائد تک پہنچائی مگر یہ بھی لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے کسی کام نہ آئی۔ ایک روز لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی کو ملاقات کے لیے وائسرائے ہاؤس طلب کیا لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پھر ایک بار اْن کے سامنے گورنر جنرل بننے کی خواہش کے ساتھ ساتھ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ’انہیں مشترکہ گورجنرل نہ بنایا گیا تو پاکستان گھاٹے میں رہے گا‘ دھمکیوں، اپیلوں اور دلائل کے باوجود تقسیم ہند منصوبے کا لمحہ آن پہنچا۔ 3 جون 1947ء کی صبح دس بجے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائداعظم، جواہر لعل نہرو اور سکھ رہنما ڈاکٹر بلدیو سنگھ سے ملاقات کی جس میں تینوں رہنماؤں سے تقسیم ہند کے منصوبے کو فوری منظور کرنے کی درخواست کی۔ قائداعظم نہ صرف جمہوریت کی حکمرانی کا پرچار اپنی تقریروں میں کرتے تھے بلکہ اس نظریے کو انہوں نے اپنی پارٹی میں بھی قائم کر رکھا۔ تقسیم ہند کے منصوبے پر قائداعظم نے اس شرط پر دستخط کیے۔ یہ اسی صورت میں قابل قبول ہو گا جب اس کی منظوری آل انڈیا مسلم لیگ کونسل نہیں دے گی۔ ملاقات میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی ایک اور سامراجی خواہش کو قائداعظم پورا کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ جب پاکستان کے قومی پرچم کے پانچویں حصے میں انہوں نے یونین جیک کو سجانے کی خواہش کا اظہار کیاقائد اعظم بھلا غلامی کی یاد گار کو بھلا پرچم میں کیسے سجا سکتے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی ساری امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں، جب 5 جولائی 1947 ء کو لیاقت علی خان نے وائسرائے کو خط لکھا کہ تاج برطانیہ سے درخواست کی جائے کہ قائداعظم محمد علی جناح کو پاکستان کا گورنر جنرل بنا دیا جائے۔ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن 13 اگست 1947 کو کراچی آئے۔ اگلے روز انہوں نے شہنشاہ معظم کا پیغام دستور ساز اسمبلی میں پڑھ کر سنانا تھا مگر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی آتے ہی ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا کہ 14 اگست کو آزادی کی خوشی میں نکالے جانے والے جلوس پر سکھوں کی جانب سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کومنسوخ کر دیا جائے مگر قائداعظم ڈرنے والے نہیں تھے منصوبے کے باوجود لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش کو قدم قدم پر شکست ہوئی جس کا آخری نظارہ 14 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی میں اس وقت دیکھا گیا جب انہوں نے شہنشاہ معظم کا پیغام پڑھ کر سناتے ہوئے پاکستان کی آزادی کا اعلان کیا وہاں پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائداعظم کی آزادی کے لیے جدوجہد کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔


ای پیپر