چیئرمین FBR اور رعایا
09 ستمبر 2019 2019-09-09

عوام کو اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس دنیا کی زندگی عارضی اور ناپائیدار ہے ورنہ ہر روز ان پر نئی قیامت توڑی جاتی جن لوگوں نے سرکاری نوکری (غلامی) نہیں کی ان کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ بیورو کریسی کی پرکشش بڑی بڑی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے انتہائی چھوٹے لوگ اپنے اندر کتنے بڑے بڑے فرعون رکھتے ہیں۔ ان میں اکثر کے رویے اپنے ماتحتوں کے ساتھ ایسے توہین آمیز ہوتے ہیں کہ نمرود و فرعون ان کے سامنے معصوم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے رویوں کا Reflection ان کے ماتحت افسران یا ملازمین کے ذریعہ سرکاری دفتروں میں کام کی غرض سے آنے والے سائلین کو جب منتقل ہوتا ہے تو ہمارا پورا معاشرہ مہذب معاشرے کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ یہ رویہ عوام کو اُن سے متنفر کرتا ہے۔ آپ کسی بھی محکمہ یا کسی بھی شعبے میں چلے جائیں میز کے پار کرسی پہ بیٹھے ہوئے شخص کا کروفر دیدنی ہو گا اور اچانک اگر اس کی اپنی ٹرانسفر کی فیکس آ جائے تو گھبراہٹ کی وجہ سے فرعون اپنے والد کا نام بھی بھول جائے گا بڑے بڑے موچھوں کو تاؤ دینے والوں کو ایسے گرتے دیکھا جیسے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاورز زمین بوس ہوئے یا ڈائنا مائٹ لگا کر کسی بلڈنگ یا پل کے گرنے کا منظر ہو۔ جبکہ ماتحت کے سلام کا جواب دینا ان پر کوہ گراں گزرتا ہے۔ یہی حالت ہسپتالوں میں بڑے ڈاکٹروں، سیاسی عہدوں پر بیٹھے ووٹوں کے منگتوں اور پرائیویٹ سیکٹر کے سرمایہ داروں کی ہے، ستم ظریفی ہے کہ یہ تکبر و رعونت اب ’’ دانشوروں اور علماء دین‘‘ میں بھی آ چکی ہے۔ FBR پہلے ایسا نہیں تھا اب اس کے آفسران اور کارندے اپنا تعارف دیگر دہشت کی علامت اداروں کی طرح کرواتے ہیں۔

موجودہ حکومت کے دور میں جناب شبر زیدی غالباً چوتھے چیئر مین ہیں۔ زیدی صاحب کا چنائو بذات خود ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تصور کیا گیا کیونکہ حکومت نے FBR اور بیورو کریسی کو نظر انداز ہی نہیں موازنتاً بہتر سمجھ کر تعینات کیا بلکہ بیورو کریسی پر اعتماد نہیں کیا۔پہلے پہل FBR کے آفیسران کی تعیناتیاں انتہائی سست روی کا شکار رہیں شاید اس لیے کہ ریونیو ٹارگٹ حاصل کرنے میں مشکلات نہ آئیں جناب عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو FBR کی اصلاح کا بہت ذکر کرتے جب حکومت میں آئے تو ایک دن فرمایا کہ اگر FBR والے درست نہ ہوئے تو ہم نیا FBR بنا دیں گے۔ وزیر اعظم کی نیت اور ارادوں پر لوگ یقین کرتے۔

لیکن کیا کیجئے کہ اہلیت اور تجربہ ایک ایسا راستہ ہے جس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ پچھلے دنوں مجھے اخبار کے دفتر والوں نے ایک خط دیا جو مرزا شمس الحسن الحسنین بیگ نے لاہور کلکٹریٹ آف اپریزمنٹ کے متعلق لکھا تھا جس میں سابقہ ممبر کسٹم اور موجودہ ڈی جی کسٹم اینڈانٹیلی جنس موجودہ ممبر کسٹم ،وی بوک میں کے تعینات اپریزروں، انسپکٹروں سابقہ کلکٹروں، ایک ایڈیشنل کلکٹر ( ’’اعلیٰ کارکردگی‘‘ کا کھرا جس سے جا ملتا ہے اب ٹرانسفر ہو گئے) چند ڈپٹی کلکٹروں، پرنسپل اپریزروں ،چند کسٹم کلیئرنگ ایجنٹوں اور کسٹم انٹیلی جنس کا ’’ذکر خیر‘‘ ہے البتہ کلکٹر جناب امجد الرحمن کی تعریف کی گئی۔ وہ خط جب پڑھا تو مجھے لگا جیسے ہمارے دوست میاں ذوالقرنین انسپکٹر کسٹم، طارق جاوید انسپکٹر ، محمود سعیدراں سپرنٹنڈنٹ کسٹم ، روانی میں باتیں کر رہے ہیں یا میں ایجنٹ روم میں بیٹھا ہوں یا کسی بے بس ڈی سی یا ایڈیشنل کلکٹر کے دفتر میں ہوں۔

’’یہ قابل مذمت‘‘ خط وزیر اعظم کے نام تھا اور اس کی کاپی دیگر اتھارٹیز کے ساتھ ساتھ میڈیا کے لوگوں کو بھی پہنچی ہوئی ہے۔ جب تک الزام ثابت نہ ہو جائے کسی کے متعلق بات نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن عام تاثر یہی تھا کہ موجودہ حکومت چونکہ بد عنوانی کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے آئی ہے اس لیے کرپٹ اور بد عنوان لوگوں کی بیخ کنی کرے گی مگر ہوا یہ کہ بیوروکریسی نے ہاتھ دکھایا،میرے مطابق تاریخ میں سب سے بڑے تبادلے کر دیئے گئے تاکہ تبدیلی کا تاثر ابھرے 503 لوگ تبادلوں کی سونامی میں بہہ گئے تبادلوں کی لسٹ پڑھ کر FBR ملازمین کی آنکھ کھلی تو لاہور کے لوگ ملتان ، ملتان کے لاہور، فیصل آباد کے گوجرانوالہ لاہور کے سیالکوٹ ، سمبڑیال گویا تبادلے نہ ہوئے اوجڑی کیمپ میں دھماکہ ہو گیا کہ درو دیوار بلا کر رکھ دیئے گئے یقینا وزیر اعظم اور چیئرمین FBR خوش ہوئے ہوں گے سال ہا سال سے بیٹھے لوگ پھڑ کا کر رکھ دیئے گئے مگر کیا کہیے؟ قابل تحسین قابل داد اور دیگر محکمہ جات کے لیے قابل تقلید فن پارہ ہے کہ انتہائی کامیابی، صفائی کے ساتھ پورے FBR میں ایک بھی کرپٹ کو نہیں ہلایا گیا ( تتی ہوا نہ لگنے دی) گرم ہوا نہ لگنے دی گئی ۔ 503 لوگوں کے چکر میں تبلیغی جماعت کے لوگ نیک دیانت دار لوگ جن کی عمر یں بھی 50 سال سے اوپر ہیں کسی کی بیٹی کے رشتے کا مسئلہ ہے۔ کسی کی بیماری کا مسئلہ ہے ۔ کسی کے بچوں کے مسائل ہیں کسی کے والدین کا بڑھاپا اور بیماری ۔ مہنگائی اور تلخی کے اس دور میں دو دو گھر اور سیکڑوں میل کی مسافرت کا سامنا کیسے کر سکتے ہیں۔ لاہور سے ملتان جانے والے وہاں درباروں اور مسجدوں میں قیام طعام کر رہے ہیں ۔ کوئی میس نہیں ہے۔ اوپر سے یہ دور ایسا تو بہ اور روزہ شکن دور ہے کہ اچھے بھلے تائب ایم اسماعیل نے لاہور سے کراچی تعینات ہو کر توبہ توڑ ڈالی۔

امید تھی کہ موجودہ حکومت افراد اور اشیاء کو ان کے اصل مقام پر میرٹ کے مطابق رکھ کر بادی النظر میں انصاف کا بول بالا کرے گی مگر ہوا یہ کہ اگال دان کی جگہ گل دان ، چولہے کی جگہ ایئر کنڈشنڈ، گیزر کی جگہ فریج ، آتش دان کی جگہ برف کا بلاک رکھ دیا گیا سب اس لیے کہ قالین کے نیچے کا گند ظاہر نہ ہوا اگر چیئر مین صاحب کو کرپٹ لوگوں کی فہرست چاہیے ہو گی تو کسی بھی FBR کے ادارے کے سٹیشن پر پائوں رکھتے ہی لوگ ہاتھ پکڑ کر سیدھے کرپٹ ترین آدمی کے پاس لے جائیں گے مجھے حیرت ہے کہ 503 لوگوں میں ایک بھی ایسا نہیں جس کی وجہ شہرت بدعنوانی ہو بلکہ بد عنوانوں کو تحفظ دیا گیا ۔ جتنی اس دور میں بیورو کریسی کی چاندی ہوئی ہے اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

سفارش اور رسائی نہ رکھنے والے کا کوئی کل والی وارث تھا نہ آج ہے کل بھی ڈانسنگ فلور کا انتظام کرنے والے یاور تھے آج بھی انہیں کا راج ہے۔

503 میں سے چند متاثرین نے مجھ سے بطور وکیل ہائی کورٹ میں رٹ کرنے کے لیے رابطہ کیا لیکن میں نے مشورہ دیا کہ محکمہ اور حکومت کی طاقت سے ٹکرایا نہیں جا سکتا اور پھر انہی کے تحت آپ لوگوں نے نوکری ( غلامی ) کرنا ہے لہٰذا کو ئی اور صورت نکالیں انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ گھر والوں سے الگ ہوں تو گھر کا نظام نہیں چل سکتا تآنکہ موت نہ آجائے البتہ ایک بات ہے کراچی جو معیشت کا حب ہے معاشی کرپشن کا بھی حب ہے وہاں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ میں نے ان کی چیخوں کی آواز قلمبند کر کے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ چیئر مین صاحب چونکہFBR سے نہیں ہیں اس لیے وہ نہیں جانتے کہ ان کی رعایا میں ان کی بیورو کریسی نے کیسے کیسے بد عنوانوں کو تحفظ دے رکھا ہے اور لاوارثوں کو اپنے ہی وطن میں پردیسی بنا دیا ہے۔بڑے افسران کو تو بہت سہولتیں ہیں جناب چیئرمین اپنی رعایا کا خیال کریں۔


ای پیپر