پولیس بمقابلہ وکلا
09 ستمبر 2019 2019-09-09

فیروزوالہ بار سے شروع ہونے والی یہ لڑائی دو ہاتھیوں کی تھی بلکہ لفظ’ شروع‘ بھی کیوں استعمال کیا جائے کہ یہ لڑائی تو عشروں سے جاری ہے، ہاں ، ایک نیا محاذ ضرور کھلا اور اگر یہاں بھی سیز فائر ہو گیا تو کسی دوسری جگہ نقارے بج جائیں گے۔ ممبر پنجاب بار کونسل فرہاد علی شاہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک ہفتے میں پولیس والوں کی طرف سے تین قتل ہونے پر لتے لے رہے تھے تو جواب میں پنجاب پولیس کے ترجمان نایاب حیدر نے کچہریوں کے اندر پولیس والوں کو مارنے کا طعنہ دے دیا، بات تو سچ تھی کہ تھانوں میں پولیس والے مار رہے ہیں تو کچہریوں میں وکیل، فیروزوالہ بار کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ایک وکیل صاحب نے کسی تنازعے پر خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑدے ما را جو انتہائی غلط، نازیبا اور غیراخلاقی حرکت تھی لیکن چونکہ وکیل صاحب کچہری کے پاس تھے ، وہاں ان کی حکومت تھی اور وہ جو چاہے کر سکتے تھے۔ کہتے ہیں کہ معاملہ بگڑا تو مقامی سطح پر رفع دفع بھی ہو گیا مگر پولیس افسران نے اس موقع کوضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس وکیل کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، اسے گرفتار کر کے ہتھکڑی لگائی گئی اور ہتھکڑی کی زنجیر اسی خاتون پولیس اہلکار کے ہاتھ میں تھما کے کچہری لایا گیا جو اس مقدمے کی مدعی تھی۔ وہاں پولیس والوں کے فوٹوکرافروں نے خصوصی تصاویر کھینچیںاور اپنے سوشل میڈیا پیجز پر شاباش پنجاب پولیس کے عنوان کے ساتھ وائرل کر دیں۔

بات اگر آئین، قانون اور اخلاقیات کی ہوتی تو قانون کی حفاظت اور انصاف کی علمبرداری کی دعوے دار کمیونٹی کا ایک رکن کسی عورت کو سرعام تھپڑ مارنے کی جرا¿ت ہی نہ کرتا اور اگر جرا¿ت کرتا تو اس کی کمیونٹی ہرگز اس کے ساتھ کھڑی نہ ہوتی مگر یہ بات تو ہاتھیوں کی لڑائی کی ہے جس میں قانون اور اخلاقیات کھیتوں اور کھلیانوں کی طرح روندے جاتے ہیں۔ وکلا کمیونٹی کی طرف سے ایک سوال وزن رکھتا ہے کہ کیا پولیس ہر مدعی کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے ملزمان کو اپنے ہاتھ سے ہتھکڑی لگا کر گلیوں میں پھرائے، چاہے وہ گلیاں کچہری ہی کی کیوں نہ ہوں اور پھر اس کی تصاویر وائرل کی جائیں مگر چونکہ معاملہ لڑائی کا تھا جس میں پولیس کی طرف سے وکیلوں کے منہ پر جوابی تھپڑ مارنا ضروری تھا لہٰذا وہ مار دیا گیا۔ میرے سوشل میڈیا سروے کے مطابق ایک ڈیڑھ ہفتے میںگوجر خان اور رحیم یار خان سے لاہور کے دوتھانوں میں مجموعی طور پر چارسے زائد قتل کرنے والی پولیس نے ایک تھپڑ کے ذریعے عوامی ہمدردیوں کا رخ اپنی طرف موڑ لیا۔ یہ پوائنٹ سکورنگ کا کھیل تھا جس میں پولیس والوں نے چھکا لگا کر میچ کو اپنے حق میں کرنے کی پوری کوشش کی مگر کسی ہتھیار کی طرح استعمال ہونے والی لیڈی کانسٹیبل کو استعمال کرنے کے بعد کچرے کی طرح پھینک دیا اور پھر ایک دوسری ویڈیو میں وہی خاتون پولیس اہلکار الٹی بندوق کی طرح اپنے ہی افسران کی طرف منہ کر کے چل گئی۔

مجھے کہنے میں عار نہیں کہ یہ دوہاتھیوں سے زیادہ دو مافیاز کی لڑائی ہے اوراسلامی جمہوریہ پاکستان کسی آئینی اور قانونی ریاست کی بجائے مافیاز کے علاقوں میں تقسیم ہوچکا ہے ۔ یہاں جون ایلیا کے مطابق اب ہر کسی کو ہر کسی سے خطرہ ہے۔ یہاں ہر کسی کی اپنی راجدھانی ہے اور جو کسی مخالف کی راجدھانی میں قابو آجاتا ہے اس کی تکا بوٹی ہو جاتی ہے، اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے اور پھر فتح کے باجے بجائے جاتے ہیں۔ پولیس ، عدالت، سیاست، صحافت، تجارت اور ہر قسم کی بیوروکریسی میں یہی سکہ رائج الوقت ہے۔ پولیس نے تھپڑ مارنے والے وکیل کو پکڑا اور اسے ذلیل و رسوا کرنے کی پوری کوشش کی مگر جلدی میں ایف آئی آر کاٹتے ہوئے نام لکھنے میں غلطی کر گئے اور یہاں اسی بنیاد پر اس وکیل کو رہائی بھی مل گئی ۔ میں جہاں پولیس سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا وہ ہر مدعی کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ و ہ اپنے ملزم کو جکڑنے والی زنجیر پکڑ کے گلیوں میں چلے، اس کی تصویریں بنوائے تو میں وکلا اور باالخصوص فیروزوالہ ، لاہور اور پنجاب بار کے عہدے داروں سے بھی یہی سوال کرتا ہوں کہ اگر یہ تھپڑ اس پولیس والی عورت کے بجائے آپ کی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے منہ پر سرعام پڑا ہوتاتو کیا آپ اسی طرح ردعمل کا مظاہرہ کرتے، اسی طرح مختلف جواز تراشتے ہوئے اس مرد کے محافظ بن جاتے ؟

یہ مافیاز کی لڑائی ہے جو کسی کھیل کی طرح دلچسپ ہے۔ وکیل نے غلطی کی تو پولیس نے پکڑ لیا اور رگڑ لیا۔ پولیس والوں نے اپنا راو¿نڈ کھیل لیا تو باری وکلا کی آگئی ۔انہوںنے فیروزوالہ بار کے دروازے پربینرز لگا دئیے کہ یہاں پولیس والوں کا داخلہ منع ہے۔ کیا دلچسپ صورتحال ہے کہ وکلا انہی پولیس والوں کے گرفتار کر کے لائے ہوئے ملزموں کو انصاف دلانے کا مقدس کام کرتے ہیں اور ان کے بچوں کی روزی روٹی بھی اسی سے وابستہ ہے۔ وہ جب پولیس والوں کے لئے دروازے بند کرتے ہیں تو جہاں وہ گرفتارشدگان کے لئے انصاف ہی نہیں بلکہ اپنے بیوی بچوں کے لئے رزق کی راہ بھی بند کردیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ انہیں رزق کسی اور بہانے سے بھی مل جائے گا اور آج نہیں تو کل مل جائے گا مگر یہاں عام آدمی مارا جائے گا جسے تھانوں ، کچہریوں میں انصاف کی تلاش ہے۔ اتنی بڑی لڑائی میں ہاتھیوں نے سونڈیں اٹھائیں مگر وہ خاتون پولیس اہلکار عزت اور انصاف سے محروم رہی کیونکہ لڑائی میں محض اس کا نام استعمال ہو رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ لڑائی بھی ماضی کی بہت سار ی لڑائیوں کی طرح ختم ہوجائے گی،اس میں نہ کسی کی ہار ہو گی نہ جیت، صرف فریقین کی رسوائی اور عوام کی خواری ہو گی۔ جب یہ لڑائی ختم ہو گی تو پھر موٹروے پرکوئی گروہ کسی دوسرے کو مارے گا، ہسپتالوں میں کوئی کسی دوسرے کو رگیدے گا، تھانوں میں کسی کو جوتے پڑیں گے، یو ں آئین، قانون اور اخلاقیات جائیں گی تیل لینے، کچھ اور ہاتھی اپنی انااور مفادات کی جنگ شروع کر دیں گے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ وہ آدمی ہر اس جگہ مارا جاتا ہے جہاں وہ عام ہوجاتا ہے، یہ عام ہونا اچھی بات نہیں۔ خود ہاتھی نہ بھی ہو توہاتھی والوں کے کسی نہ کسی گروہ کا حصہ ہونا چاہئے تاکہ جب اسے کچلا جائے تو وہ بھی دوسروں کو روند سکے مگر میرا ایمان ہے کہ ہاتھی والوں کے لئے ہمارا رب چونچوں میں چھوٹے چھوٹے پتھر اٹھائے ابابیلیں بھیجتا ہے ، بہت ساروں کا خیال ہے کہ اب ابابیلیں نہیں آتیں مگر میری نظر میں میرا یہ کالم بھی ایک چھوٹے سے صحافی کے معمولی قلم سے وہی معمولی سا پتھر ہے جو ابابیل جیسے چھوٹے سے پرندے کی چھوٹی سی چونچ میں ہوسکتا ہے مگرہاتھیوں کا سرکچلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہم یہ چھوٹے چھوٹے پتھر پھینکتے رہیں گے کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر پانی کے متصل گرنے سے چٹان میں سوراخ ہو سکتا ہے تو ان مافیاو¿ں کی چٹانوں کو بھی ریت میں بدلا جا سکتا ہے۔


ای پیپر