ایک اور مرحلہ گزر گیا

09 ستمبر 2018

طارق محمود چوہدری



انتقال اقتدار کے تمام مراحل مکمل ہو چکے۔ ایک آخری مرحلہ باقی تھا۔ اتوار کی سہ پہر عروس البلاد کراچی سے تعلق رکھنے والے دندان ساز عارف علوی نے مملکت پاکستان کے نئے سربراہ کے طور پر حلف لیا۔ آ ئی بی اے سے فارغ التحصیل ممنون حسین ایوان صدر میں ایک شاندار پانچ سالہ دور گزار کر رخصت ہو گئے۔ ہفتہ کی شام ان کو الوداعی فارڈ آ ف آنر دیا گیا ۔ ماضی میں تو ایسا ہوتا تھا کہ سوائے بزور طاقت ایوان اقتدار تک رسائی پانے والے فوجی صدور نہ صرف اپنی مدت پوری کیا کرتے بلکہ واپسی کا راستہ ہی بھول جاتے۔جب تک وردی جسم پر رہتی وہ بھی ایوان صدر کے مکین رہتے۔ کسی کو مستعفی ہونا پڑا،کوئی جاتے جاتے اپنے ساتھ نصف پاکستان بھی ساتھ لے گیا ۔ یوں کہ کسی نے گمشدہ مشرقی پاکستان کا حساب بھی نہ پوچھا۔ ایک اور صاحب اختیار میں یوں آئے کہ نوے دن کا وقت مانگا۔پھر کوئی گنتی رہی، نہ کوئی شماررہا،نہ کوئی قاعدہ ضابطہ۔ 11 سال گزر گئے فضائی حادثہ نہ ہوتا تو نہ جانے کب تک وہ بر سر اقتدار رہتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ فوری،عارضی، ہنگامی عرصہ کیلئے چیئر مین سینیٹ کو قائم مقا م صدارت کی ذمہ داریاں بطور اضافی ڈیوٹی کے اٹھا نا پڑتی۔ اب تو شائد میرے ایسے بھلکڑوں کو ان عارضی صدور کا نام بھی بھول گیا ہو۔ بھولنا تو نہیں چاہیے۔وہ صدور تو اٹھاون توپی کے ہتھیار سے لیس تھے۔صدور وہ جیسے بھی تھے لیکن اس مہلک آ ئینی ترمیم اٹھاون ٹوپی کے ہتھیار سے چار منتخب اسمبلیوں کو ذبح کیا گیا ۔ ادھر عوام کے منتخب وزیر اعظم کے آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کر بات کر نے کی کوشش کی۔ ادھر اٹھاون ٹوبی کو نیام سے نکال کر دھار کو تیز کرنے کی مشق شروع۔ بس کوئی چھوٹا جواز،کوئی بہانہ،کوئی دلیل،کوئی تاویل، کوئی عزر درکار ہوتا۔چارج شیٹ تیار ہوئی اور منتخب اسمبلی کے ٹکڑے سر بازار پڑے ہوتے۔کوئی ادھر گرا کوئی اْدھر گرا۔ عمررسید غلام اسحا ق خان کو تو تین مرتبہ جلاد کا کردار ادا کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہو ا۔ لیکن کج رفتار فلک کی نیرنگی ہے کہ ان طاقتور بااختیار کو بھی مدت پوری کئے بغیر بے خانماں برباد ہو کر ایوان صدر سے رخصت ہونا پرا۔ کوئی الوداعی تقریب،نہ سلامی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر رخصتی کا اعزاز۔کوئی الوداعی ڈنر نہ با عزت انداز میں ظہرانہ۔ بس جو کچھ بھی ہوا اچانک آناً فا ناً چپ چاپ استعفیٰ۔ ایسے ایوان صدر کو چھوڑنا پڑاا جیسے سپین کے آخری فر ما ں روا ابو عبداللہ نے غرناطہ کے محل کو چھوڑا۔ غلام اسحاق نے بے نظیر بھٹو کے بعد دوسرے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو تر نو الہ سمجھااور ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی لیکن وہ لوہے کا چنا ثابت ہوا۔بوڑھے صدر کے دانت اس کو چبا نہ سکے۔ لاہور سے منتخب ہو کر آ ئے پنجابی حکمران نے ووٹ کی طاقت پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا۔ تب جمہوریت پسندی کے دعویدار بے نظیر بھٹو بعض نواز میں غلام اسحا ق خان کی حلیف تھیں۔نواز شریف ڈٹ گیا ۔چوہدری الطا ف کی قانونی مہارت کام آئی نہ گورنر ی کادبدبا۔پندرہ دن میں
دو مرتبہ قومی اسمبلی ٹوٹی۔لیکن وہ کش مکش ختم نہ ہوئی۔ اعصاب کی جنگ تھی جس میں جیت نواز شریف کی ہوئی۔ اب تاریخ، دن یاد نہیں۔ لیکن اخبارات کی سرخیاں یا ر ہیں۔ ایک قومی روزنامے کے نیوز ڈیسک پر بیٹھ کر ٹرینی سب ایڈیٹرنے وہ سرخی اپنے ہاتھوں سے نکالی تھی۔ ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ اس ایک فیصلے نے طفیلی سیاست کے خوگر نواز شریف کوحقیقی لیڈر بنا دیا۔ اس فیصلے نے نواز شریف کو کئی مرتبہ اقتدار سے نواز ا۔ اور اسی فیصلے کی قیمت بھی ادا کی۔ وہ قیمت ادائیگی اسیری کی شکل میں آج بھی جاری ہے۔سود در سود ادائیگی میں نواز شریف کی بہادر بیٹی مریم بھی شامل ہے۔ بہر حال غلام اسحاق خان کو ایوان صدر سے رخصت ہو نا پڑا۔بے نظیر بھٹو کو موقع ملا تو فاروق بھائی کو قصر صدارت میں پہنچا کر رہیں۔اختیار اقتدار کب کسی کا ہوتا ہے۔ اختیار صاحب اقتدار کو اس کے استعمال پر اکساتا رہتا ہے۔ حو اس واعصاب پر سوار ہوجاتا ہے۔چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔نواز شریف نے ایوان صدر میں کامیاب نقب لگائی۔ ایوان صدر کا مکین پہلے ہی سپر انداز ہو چکا تھا۔ لہٰذا منظم واردات کامیاب ہوئی۔ منہ بولے بھائی کے ہاتھوں بہن کی حکومت ختم ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کودیس نکالا مل گیا ۔لیکن کب تک؟ فاروق لغاری،نواز شریف میں نہ بنی۔ فاروق لغاری کو بھی استعفیٰ دینا پڑا۔سابق جج رفیق تارڑ ایوان صدر کے نئے مکین بنے۔معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہے۔جلد ہی امتحان آزمائش کی گھڑی آگئی۔ نواز شریف بندی خانے کا اسیر ہوا۔ سپہ سالار اعلیٰ جو اب چیف ایگزیکٹو تھا اس نے صدر مملکت کو کام جاری رکھنے کی استدعا کی۔بھولے بھالے قانون دان کو معلوم نہ تھا کہ قابضین کو نمائش کیلئے منتخب چہرہ درکار ہے۔ جس روز ضرورت ختم ہوئی چار کا ٹولہ آیا اور صدر صاحب سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ وفا کیش صدر نے ذرا بھر تامل نہ کیا۔ کسی دوست کی گاڑی منگوائی اور براستہ سڑک لاہور روانہ ہو گئے۔ اگلے دس سال پرویز مشرف کے نام کے آگے لکھے عہدے بدلتے گئے۔ ٹیلی فون کا لیں آتی رہیں وہ ڈھیر ہوتے رہے۔ ایوان صدرمہلاتی سازشوں کا گڑھ بنا رہا۔ ایوان صدر سے ہی عہدے تقسیم ہوتے۔ اسی صدارتی محل سے خارجہ امور پر فیصلے ہوتے۔اسی قصر سفید کی غلام گردشوں میں دفاع وطن کا فریضہ سر انجام دیا جاتا۔قومی اسمبلی،سینیٹ،صوبائی اسمبلی موجود تھیں۔ وزیر اعظم،کابینہ، وزرائے اعلیٰ، گورنر سب موجود تھے۔ لیکن مجبور محض کے طور پر۔فیصلہ ایوان صدر میں ہوتا۔ٹھپہ اور دستخط کہیں اور جا کر لگتے۔ پھر ایک روز آیا ہر اختیار صاحب کی طرح پرویز مشرف کو بھی رخصت ہو نا پڑا۔وردی وہ پہلے ہی اتار چکے تھے۔ وہی ان کی اصل طاقت تھی۔ مسلم لیگ (ق) تو پانی کا بلبلہ تھی۔وہ تو اندر سے اگلے حکمران کے ساتھ ساز باز کر چکی تھی۔ اپنی کھال بچانے کیلئے پرویز مشرف کو حالات کے تقاضے کے تحت مستعفی ہونا پڑا۔ وسط اگست کی ایک حبس آلود سہ پہر پرویز مشرف ایوان صدر سے رخصت ہوئے۔ اب وہ ہیں ان کا کمر در د ہے۔ اور دربدری۔ ایوان صدر کا اگلا مکین آصف زرداری تھا۔شترنج کا کھلاڑی ایوان صدر میں پہنچا تو سب کچھ بدل گیا ۔ اہل پاکستان بھول جائیں تو ان کی مرضی لیکن تاریخ اس شخص کو یاد رکھے گی۔ جس پرہر الزام لگا۔الزام سچے بھی ہوں گے اور بے بنیاد بھی۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آصف زرداری نے غصب شدہ اختیارات عوامی نمائندوں کو لوٹائے۔ آصف زرداری کے پانچ سال مکمل ہوئے تو نواز شریف حقیقی سیاستدانوں کی مانند آگے بڑھے۔ اور اقتدار کی پر امن منتقلی کی روایت ڈالی۔صدر مملکت کو باعزت انداز سے تقریب برپا کر کے رخصت کیا۔
ممنون حسین پانچ سال پورے کر کے رخصت ہو گئے۔ ان پانچ سالوں میں اس محترم نستعلیق دار شخص کا سوشل میڈیا پر مذا ق اڑایا گیا ۔سب جانتے ہیں اس کے پیچھے کون تھا۔امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بھی نواز شریف کی ڈالی روایت پر عمل پیرا ہوں گے۔ اور ممنون حسین کو اسی طرح الودع کہیں گے۔ یہ ان کا حق ہے۔ عارف علوی اب ایوان صدر کے مکین ہیں۔وہ ایک متحرک کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے آئین پاکستان پڑھ لیا ہو گا۔ ممنون حسین نے اپنا آئینی کردار ادا کرکے عزت کمائی۔ عارف علوی بھی اسی محدود دائرے میں رہیں گے۔ یہی آئین پاکستان کا تقاضا ہے۔

مزیدخبریں