حکومت کے ابتدائی 25 دن
09 ستمبر 2018 2018-09-09



100 دنوں میں سے 25 دن گزر گئے 75 دن باقی ہیں ملک میں جس تبدیلی کا پچھلے پانچ سال سے شور و غوغا ہو رہا تھا جن وعدوں پر اقتدار حاصل کیاگیا اس پر ابھی عملدرآمد شروع نہیں ہوا، لائحہ عمل ہی مکمل نہیں ہو پایا، اندازہ ہو رہا ہے کہ راستہ میں کتنی مشکلات حائل ہو رہی ہیں، ہر ٹاسک اہم لیکن اس کے لیے فورس ضروری، اس لیے ہر منصوبہ کے لیے ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے جو تجاویز دے گی اس پر عمل کے لیے مشاورت ہوگی، اختلاف رائے کی گنجائش نہیں،جس نے اختلاف کیا وہ ہتھے سے اکھڑ گیا راہیں جدا کرے گا تو گمنامی کے اندھیروں میں ڈوب جائے گا ،عائشہ گلالئی اور ریحام خان سمیت بہتوں کا انجام سامنے ہے، جذباتی سیاست میں یہی کچھ ہوتا ہے، ہفتہ میں اوپر تلے تین ملاقاتیں، خود چل کر گئے، 8 گھنٹے بریفنگ، کہا گیا ’’ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا‘‘ اطمینان ہوا کہ ادارے ایک پیج پر ہیں ،کب تک؟ جب تک آنا جانا لگا رہے گا معاملات آہ و فغاں ٹھیک رہیں گے، آنا جانا موقوف ہوگیا اور نواز شریف کی طرح سمجھ لیا گیا کہ ’’آنا بھی ہے کیا آنا جانا بھی ہے کیا جانا‘‘ اسی دن سب کچھ خلط ملط ہوجائے گا، نواز شریف اپنے اقتدار کے تمام ادوار میں ایک صفحہ پر نہ آسکے خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے ،کس بات پر اختلاف تھا اللہ ہی جانے، خارجہ پالیسی، بھارت سے تعلقات ،کسی اور کی جنگ نہ لڑنے پر اتفاق ،غازیوں، شہیدوں، مجاہدوں کو خراج تحسین، تقریبات میں شرکت، آرمی چیف سے پے در پے ملاقاتیں سب کچھ یہی تو تھا دن بدلے نہ راتیں، تبدیلی کہاں اور کہاں سے آئی؟ فرق جذبۂ خیر سگالی کا ٹھہرا، تعاون کا عملی مظاہرہ، بریفنگ کے دوران ہمہ تن گوش،’’ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘‘ یوم دفاع کی تقریب میں وزیر اعظم کی تقریرپر سارے خوش ،کتنی زو دار تالیاں بجائی گئیں خود آرمی چیف نے خوشی و مسرت کا اظہار کیا، نواز شریف ایسے مواقع پر لکھی ہوئی تقریر پڑھا کرتے تھے ،خیالات ان کے الفاظ اسپیچ رائٹر کے ، بعض اوقات الفاظ خیالات کا ساتھ نہیں دیتے تھے یہاں فی البدیہہ اظہار، خیالات و الفاظ دونوں اپنے تھے اس لیے دلوں میں اترتے گئے، ’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘ ہمسایوں کو ماں جایاسمجھ کر گلے لگا لیا جائے تو کیا مضائقہ ہے آئندہ پانچ سال آسانی سے گزر جائیں گے، ورکنگ ریلیشن شپ اور خلوص و محبت کے رشتہ میں فرق ہوتا ہے، نواز شریف نا معلوم وجوہ کی بنا پر خلوص و محبت کا رشتہ قائم نہ کرسکے، ورکنگ ریلیشن شپ صرف فائلوں تک محدود رہتی ہے، اجلاسوں میں ساتھ بیٹھے سنجیدہ چہرے بہت سی کہانیوں کو جنم دے جاتے ہیں، نواز
شریف رسہ کشی میں مصروف رہے اس کھیل میں طاقتور جیت جاتا ہے جبکہ کمزور زمین چاٹنے پر مجبور ہوجاتا ہے کیا خیال ہے؟ ہر وزیر اعظم طیب اردوان نہیں ہوتا گزشتہ دنوں جیل سے احتساب عدالت لائے گئے تو راستے میں صرف دو آدمی ’’نواز شریف کو انصاف دو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے ایک کروڑ 68 لاکھ اور اب ایک کروڑ 28 لاکھ افراد کہاں گئے، سوچنے سمجھنے کی فرصت ملی ہے تو بہت کچھ سوچا سمجھا جاسکتا ہے عمران خان نے وزیر اعظم بنتے ہی اداروں کے ساتھ خلوص و محبت کا رشتہ قائم کرلیا ورکنگ ریلیشن خود ہی قائم ہوجائیں گے، چیف جسٹس نے ڈیمز فنڈ قائم کیا پوری قوم نے خیر مقدم کیا ،واقعی ملک میں قحط سالی سے بچنے کے لیے ڈیم ضروری ہیں، سیاست دان تو اب تک قوم کو ڈیم فول بناتے رہے ابھی تک اتفاق رائے نہ ہوسکا، جب بھی ڈیم کا ذکر آیا لاشوں پر سے گزر کر تعمیر کے بیانات خوفزدہ کر گئے ،کالا باغ ڈیم کے نام پر کب سے سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں بد قسمتی ہے کہ چین میں 575 سے زیادہ ڈیم جبکہ ہمارے یہاں گنتی کے پانچ یا 6 ڈیم وہ بھی اللہ بھلا کرے جنرل ایوب خان بنا گئے تھے ان کے بعد آج تک ساتواں ڈیم نہ بن سکا، دریاؤں میں ہر سال سیلاب آتا ہے پانی کناروں سے باہر نکلتا ہے سیلاب پنجاب کے وسیع علاقہ میں تباہی مچاتا ہوا سندھ کے راستے سمندر برد ہوجاتا ہے، پانی کہیں تو ذخیرہ کیا جائے چیف جسٹس نے ڈیمز فنڈ قائم کر کے نیکنامی کمائی، عمران خان نے آگے بڑھ کر ڈیمز فنڈ کے لیے پوری قوم سے اپیل کردی اوورسیز پاکستانیوں سے بھی کہا کہ وہ کم از کم ایک ہزار ڈالر فی کس اس فنڈ میں جمع کریں، ادارے ایک پیج پر آگئے نواز شریف نے بھی داسو، دیامیر اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن دیگر پریشانیوں میں الجھ کر توجہ نہ دے سکے لاگت 22 ارب ڈالر ہوگئی فنڈ اتنے نہیں اس پر مختص رقوم میں کرپشن کا الزام، الزام لگنے سے فنڈز واپس نہیں آئیں گے لاگت بڑھتی رہے گی، مسئلہ فوری توجہ طلب ،عمران خان نے ترپ کا پتا پھینک دیا، تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے ڈیڑھ کروڑ سے زائد عوام، اتحادی جماعتوں کے حامی سبھی فنڈ ریزنگ میں شریک ہوگئے تو بہتر نتائج نکلیں گے ،کہنے لگے عمران خان یو ٹرن خان ہیں، یو ٹرن اچھے مقاصد کے لیے ہو تو کیا برا ہے، عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کونسل کا رکن بنایا گیا کس نے سفارش کی تھی اسے چھوڑیے، نظام حکومت چلانے کے لیے 9 ارب ڈالر کا قرضہ چاہیے ،کسی اوپر والے نے تجویز کیا ہوگا کہ عاطف میاں کی موجودگی سے قرضے کے حصول میں آسانی ہوگی، بندہ قادیانی نکلا قادیانیوں کی روز اول سے باہر والوں تک رسائی ہے، پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی ،کون ہے ،کیا ہے ،کیوں لیا گیا؟ قرآن و حدیث سے فتوے آگئے، نص قطعی کہ اقلیتوں کو کسی اسامی پر فائز کرنا درست لیکن ان کے لیے غیر مسلم کا اعتراف ضروری، قادیانی تو اپنے سوا تمام مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں اسی لیے کافر قرار پائے، ختم نبوت ہر مسلمان کا ایمان نبی ختمی مرتبتﷺ پر جان قربان کرنے کو تیار، لاکھوں فرزندان توحید اور غلامان رسولﷺ سڑکوں پر آگئے، ضد سے فائدہ؟ وزیر اعظم نے عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کونسل سے الگ کردیا ،جمائما کو مایوسی ہوئی لیکن 22 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات مقدم، دانش مندانہ فیصلہ، سنبھل سنبھل کر چلنے کا عندیہ، 75 دن باقی ہیں سنبھل سنبھل کر قدم اٹھتے رہے تو پریشانی نہیں ہوگی ہنی مون کی مدت ختم ہوتے ہی کاروبار زندگی رواں دواں ہوجائے گا بس ہلکا سا خوف دلوں کو دہلا رہا ہے کہ
پلک جھپکتے ہی تحلیل ہو نہ جائے کہیں
ابھی تو خواب سا منظر نظر میں رکھا ہے
اپوزیشن تتر بتر ہے تتر بتر ہی رہے گی شاید اسی لیے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے تو اس میں کوئی حیرانی نہیں ہے۔




ای پیپر