پروپیگنڈا اور مولوی صاحبا ن
09 ستمبر 2018 2018-09-09



ایسٹ انڈیا کمپنی کے درپردہ انگریز تجارت کے بہانے 1614ء میں ہندوستان وارد ہوئے ۔ اس وقت ہندوستان پہ مغلیہ شہنشاہ جہانگیر کی حکومت تھی۔ انگریز کو جس بنا پر ہندوستان میں بے حدحیرانی و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا وہ مسلمانوں کی اپنے مذہب اسلام سے گہری محبت تھی۔ انگریز کو یہ اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ ہندوستان کی اصل طاقت مسلمان ہیں او رمسلمانوں کی اصل طاقت کی وجہ ان کی یگانگت اور آپس میں اتفاق و اتحاد ہے۔ انگریزنے اپنے مطالعہ میں گہرائی پیدا کی۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان اپنے علماء کرام سے دلی عقیدت رکھتے ہیں۔ چنانچہ غور و خوض کے بعد انگریز اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں میں اپنے علماء کرام کی عقیدت پہ کاری ضرب نہ لگائی جائے وہ مسلمانوں کو کمزور نہیں کرسکتا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی قوم یا ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں انگریز اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر دوسری جنگ عظیم میں اتحادی افواج جو انگریزوں کے جھنڈے تلے جمع تھیں، انہوں نے انگریزوں کے زیر کمان پروپیگنڈ ے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس سلسلے میں برطانیہ کی منسٹری آف انفارمیشن میں دوسری جنگ عظیم کے سلسلے میں پروپیگنڈے کے حوالے سے ایک الگ شاخ قائم کی گئی۔ یا یوں کہیے کہ تب منسٹری آف انفارمیشن (ایم او آئی) کا فنکشن صرف اتحادی فوجوں کے حق میں بہ سلسلہ جنگ پروپیگنڈا کرنا رہ گیا۔ ایم او آئی نے اس سلسلے میں اشتہار، پوسٹرز، کتب، لیف لیٹس اور ریڈیو کا بطور میڈیا استعمال کیا۔ ایسی فلمیں بنائی گئیں جو دیکھنے میں دلچسپ ہوا کرتیں، لیکن ان میں لاشعوری انداز میں اتحادی افواج کی برتری کو نمایاں کیا جاتا۔ شہروں اور قصبوں میں نمایاں جگہوں پر جابجا جرمنی کے خلاف نفرت ابھارنے والے پوسٹر لگائے جاتے۔ برطانوی مفکرین سے کتابیں لکھوا کر پھر ان کا ترجمہ غیرملکی زبانوں میں کروا کر دنیا بھر میں انتہائی ارزاں قیمتوں پر فراہم کی جاتیں۔ شہروں اور قصبوں میں ہوائی جہازوں کے ذریعے لیف لیٹس بکھرائے جاتے اور ایسی کوشش کی جاتی کہ دنیا بھر می سب سے زیادہ برطانوی ریڈیو کو سنا جائے۔ چنانچہ غیرملکی زبانوں میں برطانیہ کے جنگ کے بارے میں پروگرام نشر ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر برطانیہ پروپیگنڈے کا سہارا نہ لیتا تو اتحادی افواج دوسری جنگ عظیم کبھی نہ جیت سکتیں۔
تو اسی پروپیگنڈے کی طاقت کو اس سے کہیں پہلے انگریز نے مغلیہ سلطنت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا۔ میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ انگریز جان چکا تھا کہ جب تک وہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کے علماء کرام کی عقیدت ختم نہیں کرے گا وہ مسلمانوں کو کمزور نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اس نے مولوی صاحب کے قابل تکریم لفط کو معاشرے کے ایک بیکار اور نکھٹو فرد سے جوڑ کر اپنے حصول کی تکمیل کے لیے بہت محنت کی۔ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر انگریز مولوی صاحبان کے اصلی تصور کو بگاڑنے میں کامیاب نہ ہوتا تو وہ برصغیر کے مسلمانوں کو کبھی بھی کمزور نہ کر پاتا اور نتیجتاً آج بھی پورے برصغیر پہ مسلمانوں کا تسلط ہوتا۔ بہرکیف انگریز نے جو کیا وہ سلطنت برطانیہ کے مفاد میں تھا۔ لیکن ہم مسلمانوں کے ذہنوں کو کیا ہوا؟ انگریز کے دور میں بگاڑے گئے لفظ مولوی کے تصور کو ہم آج تک اس کا جائز مقام دینے سے عاری ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اس خطۂ ارض پہ اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کی ناکامی میں اصل کردار مولوی صاحبان کا ہوتا ہے۔ ختم نبوت پہ سب مسلمانوں کا ایمان ہے۔ ختم نبوت میں مکمل ایمان کے بغیر کوئی بھی خود کو مسلمان کہلوانے کا حقدار نہیں رہتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آئین پاکستان میں ختم نبوت کے بارے میں دو ٹوک انداز میں شق موجود ہونے کے باوجود مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی غرض سے وقتاً فوقتاً سازشیں کی جاتی ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے کون سب سے پہلے آواز بلند کرتا ہے؟ کون موسم کی سختی کی پرواہ کیے بغیر سڑکوں پہ نکلتا ہے؟ یہ مولوی صاحبان ہی ہوتے ہیں ۔ بے شک ہم مسلمانوں کی شان رسول پہ دو رائیں نہیں۔ ہمارا کردار خواہ کیسا بھی ہو ہم ناموسِ رسالت پہ کوئی حرف آتا ہے تو ہم سب ا حتجا ج کر تے ہیں۔ مگر اس کے لیے واشگاف الفاظ کے ساتھ صدائے احتجاج کون بلند کرتا ہے؟ ہم عام پاکستانی جب اپنے ٹھنڈے ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر اس مسئلے پہ بات کررہے ہوتے ہیں، مگر سڑکوں پہ نکل کر مسلمانوں کی آواز کو اوپر اقوام متحدہ تک پہنچانے کا ذمہ کون لیتا ہے؟ لیکن ہم ہیں کہ مولوی صاحبان کی ان قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں طرح طرح کے الزامات سے نوازتے چلے جاتے ہیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ پاک ہستیوں کے سوا کوئی بھی شخص خطا سے مبرا نہیں۔ فرق زیادہ یا کم کا ہوتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ مولوی صاحبان بھی ہماری طرح کے انسان ہیں۔ ان سے بھی بھول چوک ہوجاتی ہے لیکن معاشرے میں مقابلتاً مولوی صاحبان ہمیشہ عام لوگوں سے بہتر کردار کے مالک ہوتے ہیں۔ آج اگر ہمارے ملک میں بے راہ روی دوسرے ممالک کی طرح عام نہیں ہوسکی تو اس میں بڑا حصہ مولوی صاحبان کا معاشرہ پہ ہردم نظر رکھنے کی بناء پر ہے۔ دو رجانے کی ضرورت نہیں۔ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیجئے۔ وہاں مسلمانوں تو بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر حکومت مسلمانوں کی نہیں۔ لہٰذا وہ مولوی صاحبان کی آواز توانائی سے محروم ہیں۔ نتیجہ؟ نتیجہ یہ ہے کہ وہاں بے راہ روی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اسے قانون کی سرپرستی حاصل ہوچکی ہے۔ وہاں آئین کی دفعہ 377 میں ترمیم لا کر ہم جنسیت کو قانوناً جائز قرار دے دیا گیاہے۔ وارننگ کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ اگر ہم نے مولوی صاحبان کی آواز کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی اسی طرح کے انجام سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔
ہم مولوی صاحبان کے شب و روز پہ تو انگلی اٹھاتے ہیں مگر ان کی مالی حالت پہ کبھی نظر نہیں دوڑاتے۔ بہت کم کو چھوڑ کر بڑی بڑی گاڑیوں کی بجائے وہ پیدل یا ٹوٹی پھوٹی سائیکلوں پہ سفر کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا لباس بے شک غریبانہ ہوتا ہے، مگر شرعی تقاضوں پہ پورا اترتا ہے۔ وہ دکانوں، چائے خانوں اور گلی محلوں کے تھڑوں پہ بیٹھے کبھی بھی لچر گفتگو میں مشغول نظر نہیں آئیں گے۔ ہمارے ہاں خود کو روشن خیال کہنے والا دانشوروں کا ایسا طبقہ بھی وجود ہے جو شراب نوشی کو آنے بہانے جائز قرار دلوانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یہ لوگ طرح طرح کی رنگ برنگی دلیلیں تراشتے ہیں۔ ہما رے دیگر دانشور ان کی دلیلوں کا جوب کبھی کبھی دلیلوں سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل وہ بھی اس مسئلے کو اتنا سنجیدہ نہیں لیتے۔ جبکہ یہ اس قدر سنجیدہ مسئلہ ہے کہ اس کا حل ہاں یا نہ کی صورت میں دو ٹوک الفاظ میں کرنا چاہیے۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مو لو ی صا حبا ن ہی ہیں جو اس کا دو ٹوک جواب ’نہ‘ کی صورت میں کہہ کر مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کا ذمہ لیتے ہیں۔ قارئین کرام! پڑوسی ملک بھارت سے اٹھی بے راہ روی کی لہر سے وطن عزیز کو محفوظ کرنے کی غرض سے ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے علماء کرام اور مولوی صاحبان کی آواز پہ سے سنجید گی سے دھیان دیں۔ انہیں وہ مقام دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ مغرب کی شیطانی طاقتوں کے ساتھ
ساتھ اسرائیل اور بھارت اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلمانوں کی ایٹمی قوت پاکستان کو اگر کمزور کرنا ہے تو یہاں کے لوگوں کی اسلام سے عقیدت کو کمزور کرنا ہوگا اور اسلام سے یہاں کے مسلمانوں کی عقیدت کو کمزور کرنے کے لیے علماء کرام اور مولوی صاحبان کی آواز کو کمزور کرنا ہوگا۔ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اپنی آنکھیں کھلی رکھ کر اپنے علماء کرام اور مولوی صاحبان کو عزت دینے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر