پولیس اصلاحات پر ایک نقطہ نظر

09 ستمبر 2018

خالد بھٹی



وزیراعظم عمران خان نے یوں تو عوام سے بہت سارے وعدے کیے ہیں اور تبدیلی کے نام پر برسر اقتدار آئے ہیں۔ ان کے وعدوں میں سے ایک اہم ترین وعدہ ادارہ جاتی اصلاحات ہیں۔ ان اصلاحات میں سے اہم ترین پولیس اصلاحات ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے خاص طور پر پنجاب پولیس اصلاحات لانے اور اسے سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ وہ پنجاب میں تھا نہ کلچر کے خاتمے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان سے پہلے بھی حکمرانوں نے پنجاب میں تھانہ اور پولیس کلچر تبدیل کرنے کے اعلان اور وعدے کیے مگر وہ پنجاب پولیس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ا گر عمران خان واقعی تھانہ کلچر کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دو کام ضرور کرنا ہوں گے۔ ایک تو پولیس قوانین اور ڈھانچے کی تبدیلی اور دوسرا پولیس کی تربیت کے پورے نظام اور طریق کار میں تبدیلی۔
پولیس کے قوانین اور پورا ڈھانچہ نو آبادیاتی ہے جو کہ 21 ویں صدی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھانے آج بھی عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں اور شریف آدمی تھانے جانے کے تصور سے کانپتا ہے۔ پولیس کا سارا نظام فرسودگی اور بدعنوانی کے نرغے میں ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ سارے پولیس والے رشوت لیتے ہیں اور پورا محکمہ پولیس ہی بدعنوان ہے۔ پولیس بھی سماج کا عکس ہے جس طرح سماج میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، اسی طرح پولیس میں بھی ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ دراصل مسئلہ کسی کی ذاتی ایمانداری یا بدعنوانی کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ پولیس کے بحیثیت مجموعی تاثر اور عوامی رائے کا ہے جو کہ یقیناًمنفی ہے۔ مسئلہ پولسی کے متشدد اور جابرانہ رویے اور طریق کار کا ہے۔ پولیس میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کی دیانتداری اور کارکردگی پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی اور ایسے بھی لوگ ہیں جو کہ اپنے ادارے کے لیے بدنامی کا باعث ہیں۔
ایف آئی آر (FIR) کے اندراج سے تفتیشی مراحل تک سب کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ سطحی اصلاحات اور مصنوعی اقدامات سے پولیس کے نظام کا کچھ نہیں بدلے گا۔ اس کالم کو لکھنے کی تحریک دراصل راولپنڈی پولیس سے وابستہ نہایت اچھے شاعر اور ادیب ماجد جہانگیر مرزا کی واٹس اپ کے ذریعے موصول ہونے والی تحریر سے ملی۔ ماجد جہانگیر مرزا ایلیٹ فورس میں ASI ہیں مگر ان کا اصل تعارف ایک بہت اچھے شاعر اور ادیب کا ہے۔ اس تحریر کے ذریعے انہوں نے پولیس کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ اس تحریر میں انہوں نے سابق آئی جی KPK ناصر درانی اور ایڈیشنل آئی جی پنجاب سرمد سعید کو مخاطب کیا ہے جو کہ پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ میں ان کا نقطہ نظر جوں کا توں پیش کر رہا ہوں:
ماجدجہانگیرمرزا کا آئی جی (ریٹائرڈ)جناب ناصر خان دورانی و ایڈیشنل آئی جی(ریٹائرڈ) جناب سرمد سعید کے نام کھلا خط
( پولیس اصلاحات )
جناب عالی!
گزارش ہے کہ پاکستان کووجود میں آئے 71سال ہو چکے ہیں اس کے بعد ہی تمام سرکاری محکمہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا محکمہ پولیس جس کی تاریخ سے ہرذی شعور بخوبی آگاہ ہیکہ یہ محکمہ کس مقصد اور کس کے دور میں وجود میں آیا تاریخ کی کتابوں میں سنہری حروف میں درج ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس اپنے فراء4 ض پوری دیانتداری سے ادا کررہی ہے کہ نہیں اور اگر نہیں کر رہی تو اس کی وجوہات کیا ہیں صرف اس کو تنقید کا نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے کوئی چینل کوئی اخبارجب تک اس محکمہ کی تذلیل نہ کر لے ان کی خبر نہیں بکتی اور نہ ہی ان کی حلق سے نوالہ نیچے اترتا ہے کوئی ایک پروگرام دکھا دیا جائے جس میں پولیس کے جوانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو یا ان کے اچھے کاموں کو عوام کے سامنے لایا گیا ہو قصہ مختصر سمجھ میں یہی آتا ہے یا سمجھانے کی یہی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان کے موجود حالات کی ذمہ دار کوئی اور آدارہ نہیں
صرف پولیس ہے چونکہ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو پولیس اصلاحات کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دے گی تو اس سلسلہ میں کچھ باتیں گوش گزارکرنے کی جسارت کر رہا ہوں قوی امکان ہے کہ اگر ان پر عمل کیا گیا تو محکمہ کے اندر آپ کو تبدیلی ہوتی ہوئی نظر آئے گی انشاء اللہ
ایک اے ایس آئی اور سب انسپکٹر اس محکمہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے اور تمام مقدمات کی تفتیش عمل میں لاتا ہے جب وہ کوئی ایف آئی آر درج کرتا ہے تو ملزم کی گرفتاری سے لے کر اس کو اڈیالہ جیل تک اور مثل مقدمہ کو سینٹ ٹو کورٹ کروانے تک کا ذمہ دار ہوتا ہے اب اس کے اخراجات بھی ملاھظہ فرمائیں ایک 3/4حد منشیات کا پرچہ جب وہ کاٹتا ہے تو ملزم کو حوالات میں دو ٹائم یا تین ٹائم کھانا اپنی جیب سے کھلاتا ہے اس کو کورٹ پیش کروانے کے لیے ٹیکسی اپنی جیب سے کرواتا ہے ملزم کے جوڈیشل ہوجانے کی صورت میں اپنی جیب سے اڈیالہ تک ٹیکسی کرواتا ہے اس کے بعد مثل مقدمہ پر چالان سائن کروانے کے لیے ڈی ایس پی اور ایس پی کے ریڈر کو روپے اور چالان سینٹ ٹو کورٹ کروانے کے لیے اے ڈی پی پی کو روپے ادا کرتا ہے رشوت کی صورت میں اگر نہ دے تو بلاوجہ مثل پر اعتراضات لگا کر واپس کر دی جاتی ہے جس کا نقصان تفتییشی کو شوکاز یا ایکسپلانیشن کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اخراجات کا اندازہ آپ خود لگا لیں میرے نزدیک 6 سے 7 ہزار ایک مقدمہ ہر خرچہ آتا ہے اور ایک تفتیشی 3 سے 4 پرچے ایک ماہ میں دیتا ہے جس تفتیشی کی تنخواہ 30000 سے 40000 ہے وہ کہاں سے خرچہ کرئے گا وہ یقیناًرشوت لے گا اور اپنے اخراجات پورے کرئے گااور اس کو رشوت لینے پر محکمہ مجبور کرے گا ایک بات اور اس کا کوئی تفتیشی بل برآمد نہیں ہوتا اگر ہوتا ہے تو وہ کاغذوں میں ہوتا ہوگا کسی کو ملتا نہیں ۔
2۔قریب ایک صدی سے محکمہ کو انہیں پرانے قوانین پر چلایا جا رہا ہے وقت بدل چکا ہے مگر قوانین وہی بوسیدہ ہیں جب کہ قوانین کو موجودہ وقت سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے لیگل افسران کی کمیٹی بنا کر تجاویز لی جاسکتی ہیں ۔
3۔اخبارات اور میڈیا میں پولیس کی مسلسل تذلیل سے پولیس فورس کا مورال ڈاون ہوا ہے اور اہلکار محکمہ سے بدظن ہو چکے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ضابطہ اخلاق بنایا جائیاس پر عمل کروایا جاے۔ پولیس کی تذلیل بندکی جائے اور ایسے پروگرامز کا انعقاد کیا جائے جس سے اچھا کام کرنے والے افسران و ملازمان کی حوصلہ افزائی ہو ۔
4۔افسران کی جانب سے ملازمین کو بلاوجہ سزائیں کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں اس سے بڑھ کر ڈبل سزائیں تو جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں آڈر پاس کیا جائے کہ سی پی او اور ڈی پی او کے علاوہ کوئی آفیسر سزا کا مجاز نہیں یہاں حالات یہ بنے ہوئے ہیں کہ ایک ہی مقدمہ میں اہکاروں کو ہر افسر الگ الگ سزا سنا دیتا ہے جو کہ سرا سر زیادتی اور قانون کی خلاف ورزی ہے ۔
5۔تھانہ جات کی بلڈنگ کی بات کی جائے تو کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ جانور باندھنے والی جگہوں پر ملازمین سوتے ہیں انتہائی خستہ حال بلڈنگز تھانہ رتہ امرال جو کہ ریلوے کی زمین پر ہے دیکھ لیں اور ریس کورس تھانہ جو کہ قبرستان میں بنا ہوا ہے اس کی واضع مثالیں ہیں یہ ایک ڈسڑکٹ کی بات ہے پورے صوبے کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔
6۔ڈایرکٹ بھرتی کی وجہ سے رینکرز کی حق تلفی ہو رہی ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ ملازمین 10/10 سال سے پرموش کے منتظر ہیں لیکن کوئی امید نظر نہیں آتی جس سے ملازمین میں محکمہ سے عدم دلچسپی پیدا ہوتی ہے اس کا تدارک کیا جائے۔
7۔جو ملازمان محکمہ سے ڈائرکٹ اے ایس آئی یا ایس آئی ہوں ان کو دوبارہ ۱ سال کا کورس کروانا صرف خزانے پر بوجھ ڈالنا ہے وجہ یہ کہ پہلے سے تمام فیلڈ ورک سے واقف ہوتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کو 4 ماہ کا انسویسٹی گیشن کورس کروا کر فوری فیلڈ میں بھیجا جائے تاکہ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکے لیکن اس کے برعکس ان کو بلاوجہ سال ٹرینگ کے بعد اے بی سی اور ڈی کورس میں 7 سے 8 سال وقت ضائع کروایا جاتا ہے ۔
8۔محکمہ کے اندر ایسے ملازمان جن کی تعلیم ایم فل یا پی ایچ ڈی ہے ان کو سامنے لایا جائے اسی طرح جو محکمہ میں ادیب ہیں چاہیے ان کا تعلق ادب کی کسی بھی صنف سے ہو کو سامنے لا کر حوصلہ افزائی کی جائے یہ محکمہ کا سافٹ امیج لوگوں میں پیش کرنے کے لیے کارگر ثابت ہوسکتے ہیں مختلف ورکشاب کے ذریع عوام اور پولیس کے درمیان فاصلہ کم کروانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ محکمہ ان کو مکمل نظر انداز کیے ہوئے ہے اور محکمہ میں ایم فل پی ایچ ڈی اور ادیب حضرات کی خاصی تعداد موجود ہے۔
9۔کلرک سٹاف کی شدید کمی ہے اور جوسٹاف موجود ہے ان کی پروموشن بھی کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہے۔
10۔منشیات کے پرچے کے چالان کے بعد اس کا پارسل تفتیشی افسر کو خود جا کر لاہور جمع کروانا ہوتا ہے جو کہ وہ اپنی جیب سے کرایہ ادا کرتا ہے اس کے ساتھ باقی مقدمات کی تفتیش جو اس کے سپرد ہوتی ہے وہ تعطل کا شکار ہو جاتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع میں متعلقہ لیبارٹری دفتر قائم کیا جائے جو پارسل جمع کرئے۔
11۔ پولیس افسران و ملازمان کی ڈیوٹی شفٹ وائزآٹھ گھنٹے کی جائے ترتیب وائز ہفتہ وار چھٹی کا تعین کیا جائے اور پولیس رولز میں ترمیم کی جائے یہ نہ ہو حکومت ختم ہونے کی صورت میں تمام احکامات بھی کالعدم کر دیے جائیں۔
12۔پورے پاکستان میں پولیس کی وردی اور تنخواہ یکساں کر دی جائے اورموجودہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے معقول تنخواہ دی جائے تاکہ ملازمین رشوت کی جانب راغب نہ ہوں اگر پھر بھی کوئی رشوت لے سخت سے سخت سزا دی جائے۔
13۔ملازمین کے لیے پولیس ہسپتال قائم کیا جائے جو کہ ایم ایچ جیسی سہولیات کا حامل ہو اگر یہ جلد ممکن نہیں تو پولیس کے ملازمین کا الحاق ایم ایچ کے ساتھ کر دیا جائے ۔
14۔ پولیس کے لیے مختص ویلفیز فنڈ پولیس پر لگایا جائے اس کا آڈٹ کیا جائے کب سے ملازمین کی حق تلفی ہو رہی ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔
15۔ پولیس سے سیاست کا خاتمہ کیا جائے ایک تفتیشی کو اتنا مضبوط کر دیں کے وہ اپنے تبادلے کے لیے کسی ایم پی اے یا ایم این اے کی منتیں نہ کرئے اور اس کے اٰعصآب اتنے طاقت ور ہو جائیں کہ وہ میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے کسی ایم این اے کے دباو میں نہ آئے۔
16۔تمام تھانہ جات کو تین عدد گاڑیاں فراہم کی جائیں جن میں سے دو گاڑیاں گشت کے لیے جبکہ ایک گاڑی صرف ملزمان کی پیش کرنے یا جوڈیشل کروانے کے لیے استعمال کی جائے اور اس کے لیے ہی مختص ہو گاڑیوں کا نیا ہونا ضروری ہے۔
17۔ ملازمین کی 25 سال سروس پوری ہونے یا 60 سال عمر ہونے کی صورت میں ان کا اپنی پنشن کے لیے پنشن کلرک سے واسطہ پڑتا ہے جو کہ ملازمین کا خون چوستے ہیں اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پینشن کے کاغذات تیار کرنے کے لیے کلرک منہ مانگی قیمت مانگتے ہیں ابھی ایک کنسٹیبل نے ریٹائرڈ منٹ لی اس نے 65000 بطور رشوت ادا کیے تب جا کر اس کو بقایا جات ادا کیے گے اس طرح کی ان گنت مثالیں موجود ہیں خدارا اس مافیا سے ملازمین کی جان چھڑائی جاے۔
18۔محکمہ میں موجود کلرکس کا پولیس ملازمین کے ساتھ رویہ انتہائی توہین آمیز ہوتا ہے اور چھوٹے سے چھوٹے کام کرنے کے لیے بھی دس دس چکر لگواتے ہیں اور بغیر رشوت کام نہیں کرتے اس کی بنیادی وجہ ان کلرکس کا ایک ہی سیٹ پر 10/10 سال گزارنا ہے تبادلہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ فرعون بنے ہوے ہیں اورایک دن مرنا بھی ہے اس حقیقت کو یکسر بول بیٹھے ہیں اچھی شہرت کے حامل لوگ بھی موجود ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہیاس برائی کا بروقت تدارک ضروری ہے۔۔۔
ماجد جہانگیرمرزا(راولپنڈی)

مزیدخبریں