’’ صرف بالغوں کے لیے ۔۔۔ کتب خانہ ۔۔۔ ؟‘‘

09 ستمبر 2018

حافظ مظفرمحسن



کیسے ممکن ہے کہ اکبر بادشاہ کے دور میں مالی باقاعدگیاں نہ ہوتی ہوں کیونکہ اُس دور میں ہر سلطنت میں شاہی نجومی، شاہی طبیب اور کوتوال کا ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا اُس دور میں بھی یقیناًملک میں افرا تفری بھی پھیلتی ہو گی اور دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہوتے ہوں گے ۔۔۔ اور رہی بات سازشیوں کی ۔۔۔ وہ تو ہر دور میں کام جاری رکھتے ہیں چاہے زیر زمین ہوں یا ۔۔۔؟؟!
’’جہاں ظلم وہاں پولیس‘‘ ۔۔۔ ’’جہاں لوٹ مار وہاں پکڑ دھکڑ‘‘ ۔۔۔ ’’جہاں بادشاہ وہاں بہت سی شادیاں‘‘ ۔۔۔ یہ وہ بنیادی اصول تھے جن پر مغلیہ سلطنت کھڑی دکھائی دیتی تھی ۔۔۔ مغلیہ دور میں مشاعرے اور دوسری ادبی محافل کا انعقاد لگتا ہے ہر شام ہونا ضروری تھا (مرزا غالب، مرزا سودا، میر تقی میر، مصحفی وغیرہ کے قصے کتابوں میں موجود ہیں اور متاثر کن ہیں کہاں اُس دور کے شاعر اور کہاں ہمارا دور؟) ایسے ہی ناچ گانا اور موسیقی کے پروگرام بھی معمول کا حصہ تھے اس کے علاوہ مغلیہ دور میں ہر وقت جنگ کی تیاری جاری رہتی تھی مغلوں کے آخری دور میں یہ جنگ میدان کی بجائے اُن کے اپنے گھروں میں منتقل ہو گئی اور جس طرح وہ دشمن کو تہ تیغ کرنے کے جدید طریقے استعمال کرتے تھے وہی طریقے اُنھوں نے گھروں میں استعمال کیے اور خوب رسوا ہوئے ۔۔۔ یقین نہ آئے تو تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ۔۔۔ مغل جیسے رسوا ہوئے اور ہندوؤں کے ہاتھوں جو درگت اس کی بنی، اُس پر ہندو بھی شرمندہ ہیں اور رہی بات مغل کی اُن کا آخری دور شرمندگی، ذلت اور رسوائی سے بھرپور فلم کی عکاسی کرتا ہے ۔۔۔ رہی بات تاریخ کی تو ایک خاص قسم کی بے ایمانی اُس دور میں اس حوالے سے بھی ہوتی رہی ہے کیونکہ مختلف مورخ مغلیہ دور کی تاریخ مختلف انداز میں تحریر کرتے رہے ہیں ۔۔۔ کہیں اُس دور کی تاریخ پڑھ کر رونا آتا ہے تو کہیں تاریخ پڑھ کر انسان ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے ۔۔۔
تاریخ دان بھی ایک خاص قسم کا عہدہ تھا اور مجھے لگتا ہے ہر بادشاہ تاریخ لکھنے والے سے متاثر ہوتا تھا کیونکہ ممکن ہے تاریخ دان اچھے بھلے مرد کو اپنی تحریر کے بل بوتے پر ’’ہجڑا‘‘ ثابت کر دے کیونکہ مجھ جیسے لکھاری تحریر میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے ایسے ’’تجربے‘‘ کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ حالانکہ اس سے اُن کی اپنی ساکھ بھی خراب ہوتی ہے ۔۔۔ آج جو حالات ہم اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں اس حوالے سے بھی کل کو مورخ جو تاریخ رقم کرے گا آنے والی نسلیں اُسے پڑھ کر سبق تو کیا سیکھیں گئیں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہی ہوں گئیں اور ہم پر لعنت ۔۔۔ ؟!
تاریخ کی کتابوں میں میں نے ’’تزکِ بابری‘‘ ۔۔۔ ’’تزکِ جہانگیری‘‘ اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی ہے اور میری لائبریری میں ایک بڑا سا خانہ ایسی کتابوں کے لیے مخصوص ہے اور اُس پر میں نے سرخ سیاہی سے بڑا بڑا لکھ چھوڑا ہے ۔۔۔ ’’ صرف بالغوں کے لیے ‘‘ ۔۔۔ میری لائبریری کے اس خانے میں سعادت حسن منٹو کی کتابیں، کشور ناہید کی ’’بری عورت کی کتھا‘‘ ۔۔۔ ’’یادوں کی بارات‘‘ جو جوش ملیحہ آبادی کی آپ بیتی ہے اور بہت سی دوسری انگلش اردو کتابیں جن کے میں نام یہاں بیان نہیں کر سکتا ۔۔۔ آپ خود اندازہ کریں کیونکہ میری تحریر توجہ سے وہی پڑھ سکتا ہے جس کا رہن سہن، جس کے طور اطوار مجھ جیسے ہوں ۔۔۔
مغل دور میں ’’تزک بابری‘‘ میں ظہیر الدین بابر اپنی بہت سی ’’ نا پسندیدہ عادات‘‘ کا وافر مقدار میں تذکرہ کرتا ہے اور کہیں کہیں اپنی کچھ ایسی عادات پر خوش بھی ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔ یعنی رشک کرتا ہے معجون کھانے پر؟ ۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب بتانے کی بجائے یہ انوکھا موضوع کیوں چھیڑ لیا ہے ۔۔۔ در اصل ایک دو مہینوں سے میں نے چینلز پر چلنے والے مباحثے دیکھنا چھوڑ رکھے ہیں اُس کی وجہ ’’وہی‘‘ ہے جس کے باعث آپ بھی یہ مباحثے نہیں دیکھ رہے ۔۔۔؟ شکر ہے آپ سمجھ گئے ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔؟ ؟ نئی حکومت کے آنے کے بعد one by one ایسے واقعات رونما ہوئے کہ صاحب ذوق سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہے ہیں وزیر اطلاعات پنجاب نے تو حیرانگی کے ساتھ ساتھ عوام کو پریشان بھی کر ڈالا اور معافی بھی مانگ لی ۔۔۔ ؟!
رہی بات اخبارات کی اُن میں چونکہ آج کل اشتہارات بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے اُن میں سے خبریں تلاش کرنا خاصا مشکل کام ہے اور اشتہارات کے درمیان سے خبریں تلاش کرتے ہوئے توجہ ادھر اُدھر ہو جاتی ہے اس لیے بلڈ پریشر ہائی ہونے سے بچ جاتا ہے لیکن کچھ دنوں سے اخبارات بھی ’’ہائی بلڈ پریشر‘‘ کا باعث بن رہے ہیں ۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے نہال ہاشمی سابقہ سینیٹر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا ہوئے تو اُن کے مداحوں نے اُن پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں بعد میں نچھاور کیں ۔۔۔ پہلے اُن کے آگے مائیک کر دیا اور کیمرے آن کر لیے (جلدی جلدی) کہ مبادا اُن کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور وہ بولتے ہوئے ’’عقل کا استعمال‘‘ کرنا شروع کر دیں ۔۔۔ پھر جو نہال ہاشمی نے بہت سے مائیک اور بہت سے کیمرے سامنے دیکھتے ہوئے جو گفتگو شروع کی تو موصوف پھر سے آپے سے باہر ہو گئے کچھ دن تو معاملہ دبا رہا لیکن ’’بیڑا غرق‘‘ ہو Facebook کا جس پر ’’یاروں‘‘ نے معاملے کو خوب اُچھالا اور پھر سے نہال ہاشمی کی طلبی ہو گئی ۔۔۔ فیس بک والوں نے ’’عدالت‘‘ کا وقت بھی ضائع کیا اور نہال ہاشمی ۔۔۔ کی مت پوچھیں ۔۔۔؟!
کچھ دنوں سے میں تاریخ کی کتابوں کا محض اس لیے مطالعہ کر رہا تھا کہ پتہ چلے کہ جب کبھی مغلیہ دور میں یا دورِ سلاطین میں ایسے حالات پیدا ہوتے تھے تو عدالتوں کا رویہ کیا ہوتا تھا اور عوام کیسے محسوس کرتے تھے مگر بادشاہت ہر جگہ آڑے آ جاتی تھی کیونکہ بادشاہ کے سامنے سب ’’سرکاری ملازم‘‘ سر بستہ کھڑے رہتے تھے سوائے عدلِ جہانگیری کے ۔۔۔ مورّخ نے تاریخ میں ہمیشہ بادشاہ کو انصاف پسند، ایماندار اور صلح جو ہی قرار دیا جبکہ سرکاری مورخ کو چھوڑ کر کسی دوسرے تاریخ دان کی لکھی تاریخ پڑھی جائے تو معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے ۔۔۔
آج کے دور میں ہم اگر غور کریں تو پچھلے پانچ سال ملک میں دھرنے، بے ہنگم بیان بازی اور سائنسی قسم کی سازشیں ہوتی دکھائی دیتی ہیں اور عوام بہت سی نئی ‘‘بیماریوں‘‘ سے آشنا ہوئے چند سال پہلے میں نے نہیں سنا تھا کہ کسی عورت کا بلڈ پریشر ڈسٹرب ہوتا ہو یا کوئی عورت دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئی ہو ہاں البتہ بہت سے مرد ’’عورتوں کے ‘‘ ظلم کے باعث اس کیفیت میں مبتلا ہوئے ۔۔۔ اب عورتیں بھی ہائی بلڈ پریشر جیسے مرض میں مبتلا دکھائی دیتی ہیں اور دل کا دورہ پڑنے سے موت کا شکار بھی ہو رہی ہیں کیونکہ مقابلے میں، اپنی سیاسی بصیرت اور خود کو سب سے زیادہ ’’باخبر‘‘ ثابت کرنے کے لیے اینکر خواتین و حضرات معاملات کو نہ صرف بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں (بار بار اپنے اپنے چینلز پر چلاتے رہتے ہیں) بلکہ اپنی مرضی کا کیچڑ بھی مخالفین پر اچھال رہے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس کیچڑ کے چھینٹے اُن کے اپنے کپڑوں پر بھی پڑ رہے ہیں ۔۔۔ میں جب اپنے ملک کے سیاسی حالات دیکھتا ہوں تو مجھے ہمسایہ ملک کی پرانی فلمیں یاد آ جاتی ہیں جن میں گانے نہ صرف بڑی محنت سے لکھے جاتے تھے اُن کی موسیقی بھی شاندار ہوتی تھی اور ہر فلم میں ایک ہیرو اور دو ہیرونیں ہوتی تھیں اور یا کچھ معاملات میں صورتحال اُلٹ ہو جاتی یعنی دو ہیرو ایک ہیروئن دیکھنے والا الجھ کے رہ جاتا ۔۔۔؟! آپ چاہتے ہوئے بھی فلم ادھوری چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے ۔۔۔
سوری میں نے آپ کا وقت ضائع کیا اور کوئی نتیجہ نہ نکل پایا۔۔۔؟ رہی بات ملک میں موجود ’’تلخی‘‘ کی اس کے لیے ہمیں بہر حال پوری فلم دیکھنا پڑے گی ۔۔۔؟
’’نیا پاکستان‘‘ کا آغاز درخت لگانے سے، سبزا اُگانے سے ہو چکا ہے لیکن چینلز کو نت نئے موضوعات اور شخصیات کو نشانہ بنانے کا موقع ملتا ہی رہتا ہے اس حوالے سے نئی حکومت کو پندرہ دنوں میں پندرہ ہی مختلف قسم کے پوائنٹ پر صفائیاں دینا پڑیں اور یہ سلسلہ جاری ہے یوں لگتا ہے چینلز کے حوالے سے کہ نوک جھونک اگلے پانچ سال جاری رہے گی ۔۔۔

مزیدخبریں