ڈیموں کی تعمیر ‘ بڑھ چڑھ کر حصہ لیجئے
09 ستمبر 2018 2018-09-09



وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پانی کی کمی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم ڈیم فنڈ کو چیف جسٹس ڈیم فنڈ کے ساتھ ملانے اورملک و بیرون ممالک بسنے والے تمام پاکستانیوں سے اس فنڈ میں رقم جمع کرانے کی اپیل کی ہے۔ قوم سے کئے گئے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈیم بنانا ملک کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہر پاکستانی کے حصے میں 5 ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی آتا تھا اور آج ایک ہزار کیوبک میٹر پانی رہ گیا ہے۔ ہمارے پاس پانی جمع کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے۔ اگر ڈیم نہ بنائے گئے تو ہماری آنے والی نسلیں متاثر ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک تقریبا 80 سے 90 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور اگر سب یہ سوچ لیں کہ ہر پاکستانی ایک ہزار ڈالرز بھیجے گا تو ہمارے پاس ڈیم بنانے کیلئے بھی پیسہ ہو گا اور ڈالرز بھی آ جائیں گے۔ ہمیں ان شاء اللہ کسی سے قرض نہیں مانگنا پڑے گا۔ پیسے آ گئے توہم ڈیموں کی تعمیر 5سال میں مکمل کر لیں گے۔اس وقت پاکستان کے ریزروز کم ہیں اور ملک کو ڈالرز کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کچھ عرصہ قبل ڈیموں کی تعمیر کو ملک کی نہایت اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے فنڈ قائم کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ اس میں رقوم جمع کروائیں تاکہ یہ کام جلد سے جلد شروع کیا جائے۔ ان کی اپیل پر ملک و بیرون ممالک سے ہر مکتبہ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے فنڈز جمع کروانے کا آغاز کیا تاہم اب وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس کیلئے اپیل کر دی ہے اور اوورسیز پاکستانیوں سے خاص طور پر کہا گیا ہے کہ بیرون ممالک رہنے والے پاکستانی ایک ہزار ڈالر اس فنڈ میں جمع کروائیں۔ ان کی اس اپیل پر ملک اور بیرون ممالک میں فنڈز جمع کروانے کے حوالہ سے لوگوں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا ہے اور مختلف سیاستدانوں، کاروباری شخصیات، کھلاڑیوں اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے خطیر رقم جمع کروائی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس سلسلہ میں
زبردست مہم دیکھنے میں آئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی اپیل کے چند گھنٹے بعد ہی ’’ڈونیٹ فار ڈیمز‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔دیکھنے میں آیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کسی بھی موضوع کو نمایاں کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا اور ایسا ہی کچھ وزیراعظم کی ملک میں پانی کی قلت کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس کے بعد ہوا جس میں انہوں نے ڈیموں کی تعمیر کیلئے امداد کی اپیل کی ۔پانی کا مسئلہ اس وقت واقعتا انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے اور ہر پاکستانی کو ڈیموں کی فی الفور تعمیر کی ضرورت و اہمیت کا احساس ہے۔بھارت جس نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا وہ مسلسل پاکستان کے پانیوں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے اور پاکستانی حکام کے اعتراضات پر کان دھرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ انڈیا نے ایوب خاں کے دور میں کئے گئے سندھ طاس معاہدہ میں پائی جانے والی کمزوریوں سے بہت زیادہ فائدے اٹھائے ہیں۔ معاہدہ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ بھارت بہتے ہوئے پانی کو اپنے استعمال میں لاکر اس سے بجلی پیدا اور زراعت کیلئے استعمال کرسکتا ہے تاہم اسے پانی روکنے اور رخ موڑنے کا اختیار نہیں ہو گا ۔1960کے معاہدہ کے نتیجہ میں سندھ ، جہلم اور چناب کا زرعی پانی پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ ستلج، راوی اور بیاس کا زرعی پانی انڈیا کے پاس چلا گیا لیکن صورتحال یہ ہے کہ انڈیا پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔ جس طرح ہندوانتہاپسند تنظیم بی جے پی کے لیڈر اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں کہ ہم پاکستان کی طرف آنے والے پانی کی ایک ایک بوند روکیں گے‘ اس سے ہندوبنئے کے پاکستان کیخلاف مذموم عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انڈیا کو معلوم ہے کہ ایٹمی قوت پاکستان سے اب میدان میں مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے اس لئے وہ بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے طویل عرصہ سے پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بنائے جارہے ہیں مگر ہماری حکومتیں انڈیا سے یکطرفہ دوستی پروان چڑھانے اور بیرونی دباؤ پر خاموش رہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں اب ہر سال سیلاب کی تباہی بھگتنا پڑ رہی ہے۔انڈس واٹر ٹریٹی میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت جہلم، چناب اور سندھ جن بھارتی علاقوں سے گزرتا ہے وہاں اسے پینے کیلئے، ماحولیات کیلئے اور آبی حیات کے لئے پانی لینے اور استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جب اپنے لئے اسی معاہدے کے تحت یہ تینوں قسم کا پانی جائز قرار دیتا ہے جو پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں سے لیا جا رہا ہے تو ہمارے غیر زرعی استعمال کیلئے ستلج بیاس اور راوی سے ماحولیات، آبی حیات اور پینے کا پانی کیوں بند کر رہا ہے؟۔ 1970 کے انٹرنیشنل واٹر معاہدے کے تحت دریا کے زیریں حصے میں خواہ وہ کسی ملک کے حصے میں ہو 100فیصد پانی بند نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے جو سہولت بھارت سرکار جہلم، ستلج اور بیراج سے حاصل کر رہی ہے وہی سہولت بیاس اور راوی میں پانی چھوڑ کر پاکستانیوں کو دی جانی چاہیے۔یہ بہت حساس مسئلہ ہے جس پر بھرپور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پانی کی کمی کے مسئلہ کا نوٹس لیکرڈیم بنانے کے جس مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے یہ انتہائی خوش آئند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ محض اپنے ذاتی مفادات کیلئے انڈیا کی آبی
دہشت گردی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے۔ ہر سال بہت بڑی مقدار میں پانی کو ہم استعمال میں نہیں لاتے اوروہ سیلاب کی شکل میں تباہی مچاتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے۔ ڈیموں کی تعمیر کے مسئلہ پر پورے ملک میں بھرپور تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ انڈیا ہمارے پانیوں پر تو ڈیم بنا رہا ہے لیکن ہم کوئی ڈیم بنانا چاہتے ہیں تو اسے روکنے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کیاجاتا ہے اور پھر بین الاقوامی سطح پر یہ پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو تو پانی کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ وہ ڈیم نہیں بناتا اور ہر سال کثیر مقدار میں پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ہمارا ستلج مکمل خشک ہو چکا ہے۔ راوی اور بیاس میں بھی پانی مکمل طور پر بند ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے نواب آف بہاولپور نے ستلج ویلی پروجیکٹ کے تحت چولستان میں کچھ نہریں بنائیں، مگر ستلج کے مکمل بند ہونے کی وجہ سے وہ نہریں بھی تباہ ہوگئی ہیں اور بہاولپور،رحیم یار خان ،بہاولنگر ،پاکپتن،ساہیوال اور لودھراں متاثر ہوئے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے جس کام کا بیڑہ اٹھایا ہے پوری قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ ماہرین کا کہنا درست ہے کہ اگر ہم نے بروقت ڈیم نہ بنائے تو پاکستان میں آئندہ سات برسوں یعنی 2025ء میں خشک سالی شروع ہوجائے گی، ہمارے پاس فصلیں اگانے کے لیے پانی نہیں ہوگا تو اپنے لوگوں کیلئے اناج کی پیداوار کیسے ہو گی‘ اس سے خدانخواستہ پاکستان میں قحط کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی صورتحال بھی یہ ہے کہ آج یہ قرض 30ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ہم ان قرضوں سے جان چھڑا لیں توپاکستان عالمی مالیاتی اداروں اور ملکوں کے شکنجے سے نکل آئے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر پاکستانی اس مسئلہ کی جانب توجہ دے ۔ یہ ڈیم ہمیں اپنے وسائل سے بنانے ہیں۔ باہر سے ہمیں اب قرض نہیں ملے گا۔ دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کو ڈیموں کی تعمیر کیلئے قائم فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنا چاہیے۔



ای پیپر