حکومتی اہلکار عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں
09 ستمبر 2018 2018-09-09



پاکستان اپنے قیام کے دن سے ہی مشکلات کا شکار رہا ہے۔ کرپشن، قرضے ، اقربا پروری اسی قسم کی بیماریاں اس کو روز اول سے چمٹی ہوئی ہیں۔ کرپشن اور قرضوں کا تو یہ حال ہے کہ خود سرکاری ادارے، گردشی قرضے میں اضافے کا بتا کر قوم کو پریشان کرتے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان مقروض ملک و قوم اپنی معاشی خودمختاری سے کوسوں دور ہے۔
نئی حکومت کے سربراہ عمران خان اپنی بہترین ٹیم سامنے لائے ہیں۔ تحریک انصاف کے ایجنڈے میں کرپشن کا خاتمہ سر فہرست ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ماضی کے حکمران نہ صرف کرپشن کی بدولت وطن عزیز کی دیواریں کھوکھلی کر چکے ہیں ۔ کرپشن کا ناسور پاکستان میں کینسر کی بیماری کی طرح بڑھ رہا ہے۔ لہذا عمران خان حکومت کو اس کے خاتمے کے لئے دیر پا مگر تلخ اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو ٹیم چنی ہے اس کو بتا دیا ہے کہ میں ایک روپے کی بھی ہیر پھیر برداشت نہیں کروں گا۔سب کا بلاامتیاز احتساب ہوگا۔ کوئی حکومتی رکن بھی کرپشن کرے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔گورننس میں 3 ماہ میں واضح تبدیلی نظر آئے گی، کوئی وزیر مستقل نہیں، کارکردگی نہ دکھائی تو بدل دوں گا۔ یہ ان کا وژن بھی ہے۔جہاں تک پنجاب کی بات ہے تو وزیر اعظم نے برملا اعتراف کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب دلیر آدمی ہیں۔ کل کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں لوگ کہیں گے کہ یہ اچھی چوائس ہے۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ کام کرنے والے افراد بھی بے مثال ہیں۔ ان میں ایک تو چیف سیکرٹری پنجاب اکبر حسین درانی اور دوسرے سیکرٹری سروسز پنجاب احمد رضا سرور ہیں۔ الیکشن 2018 کو صاف و شفاف بنانے کیلئے انتخابات سے قبل معمول کے مطابق اعلیٰ ترین افسران کو تبدیل کیا گیا ۔ انہی تبدیلیوں کے نتیجے میں کیپٹن(ر) اکبر حسین درانی چیف سیکرٹری پنجاب تعینات ہوئے۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ قومی اسمبلی میں اس کی نشستیں بھی زیادہ ہیں۔ اسی لئے ہر جماعت پنجاب میں زیادہ نشستیں جیتنے کی کوشش کر تی ہے۔ لہذا انتخابات کے حوالے سے بھی پنجاب انتہائی حساس اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لئے یہاں بہترین افراد کا چناؤ کیا گیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب اکبر حسین درانی اور سیکرٹری سروسز احمد رضا سرور کا نام بھی انہی لوگوں میں آتا ہے۔ احمد رضا سرور اس سے قبل بحیثیت سیکرٹری آرکائیوز اینڈ لائبریریز بھی کام کر چکے ہیں۔
چیف سیکرٹری پنجاب تعینات ہونے سے قبل اکبر حسین درانی سینئر ممبر بورڈ آف ریو نیو بلوچستان تعینات رہے۔ اس سے قبل وہ سیکر ٹری داخلہ اور سیکر ٹری خزانہ بلوچستان کے عہدوں پر فائض رہ چکے ہیں۔ سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کی گرفتاری اور گھر سے بھاری رقم کی برآمدگی کے بعد حکومت نے سیکرٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی کو محکمہ خزانہ کا اضافی چارج سونپ دیاتھا۔صوبہ کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
راقم الحروف سے بات چیت کے دوران اکبر حسین درانی نے بتایا کہ بحیثیت سیکرٹری داخلہ بلوچستان ، انہیں سنگین خطرات کا سامنا تھا۔ گزشتہ چند سالوں سے بلوچستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ بلوچی عوام خواہ وہ کسی بھی مذہب اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں ، سب دہشت گردی سے متاثر تھے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا تھا تاکہ وہ امن و امان قائم نہ کر سکیں۔ یوں بلوچی عوام شدید عدم تحفظ کا شکار تھے۔ اکبر حسین درانی نے وہاں بطور سیکرٹری داخلہ امن و امان کی بحالی کیلئے بہت کام کیا۔ دن رات کام کرکے امن بحال کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ کئی مرتبہ ان کی گاڑی پر فائرنگ بھی ہوئی۔ پہاڑوں میں بارودی سرنگیں بھی ان کا راستہ نہ روک سکیں۔
بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے کلبھوشن کی دہشت گردی پر بات ہوئی ۔ اکبر حسین درانی نے بتایا کہ بطور سیکرٹری داخلہ بلوچستان کلبھوشن کی دہشت گردی پر بھارت سے تحفظات تھے اور ہیں۔ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ کلبھوشن کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
موجودہ حکومت کے وژن کے بارے میں یہ بات تو واضح ہے کہ کرپشن کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ اس کیلئے پنجاب میں بھی خصوصی کام ہو رہا ہے۔ کرپٹ افراد اور افسران کا محاسبہ کیا جا رہا ہے۔ صاف پانی ، اورنج لائن میٹرو ٹرین اور میٹرو بس منصوبوں میں اربوں کی کرپشن سامنے آرہی ہے۔ میٹرو ٹرین ابھی تکمیل کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ نئی حکومت میٹرو ٹرین منصوبہ ختم کر دے گی مگر اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کے حوالے سے اکبر حسین درانی نے بتایا کہ یہ سی پیک کا حصہ ہے۔ اس کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ تاہم اس میں ہونے والی کرپشن اور کرپٹ افراد کا محاسبہ ضرور ہوگا۔ 22 کروڑ کے ملک پاکستان میں اگر ہم نے گورننس سسٹم کو تبدیل نہ کیا اور لوگوں کو اقتدار میں شریک نہ کیا تو ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے لہٰذا وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ اختیارات مرکزی حکومت سے نچلی سطح پر عام لوگوں تک منتقل ہونے چاہیءں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرح پورے صوبے کے وسائل کسی ایک حصے پر خرچ نہیں کرنے چاہیءں جس کی انہیں سزا بھی بھگتنا پڑی ہے بلکہ پوری صوبے کے عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ اسی کے لیے موجودہ حکومت کوشاں بھی ہے۔موجودہ حکومت کے تمام اقدام ملک کی ترقی، انصاف کے حصول ،کرپشن کی روک تھام اور ایک عام آدمی کی زندگی کی مشکلات کا احاطہ کیئے ہوئے ہیں۔ یہ ملک اور عوام کے لیئے خوش آئند ہے۔ ملک کے تمام ادارے کرپشن زدہ ہیں۔ کرپٹ افراد کے خلاف جہاد کر کے ہی انسانی حقوق کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔
اکبر حسین درانی اور احمد رضا سرور ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ دونوں افراد جنگی بنیادوں پرکام کرنا بھی جانتے ہیں ۔ میں پرامید ہوں کہ جوذمہ داریاں ملک و قوم کی جانب سے ان پر عائد کی گئی ہیں ان سے وہ عہدہ براء ہو کر پنجاب کے غیور اور محب وطن عوام کا سر فخر سے بلند کر یں گے۔ ان افسران نے عوامی خدمت میں دن را ت ایک کر دیا ہے۔ غریب اور مستحق عوام کو ان کا جائز حق دلانا ہی ان کا اولین مقصد ہے۔ اس کیلئے ان کے دروازے دن رات کھلے ہیں۔ دفتری اوقات میں بھی کوئی بھی شخص بغیر سفارش ان سے مل سکتا ہے اور اپنی تکالیف بتا سکتا ہے۔مذکورہ بالا عہد حاضر کے ذہین اور قابل ترین افسران وزیر اعظم کے وژن کے مطابق نہ صرف کرپشن کا خاتمہ کرنے میں مدد دیں گے بلکہ پنجاب کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن بھی کریں گے۔


ای پیپر