ہاں ہمیں پیار ہے پاکستان سے۔۔۔
09 ستمبر 2018 2018-09-09



دشمن کے سینے پر منجھ دلنے والے پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ حب والوطنی ،شہادت کی لگن،سمندروں کا سینہ چیرنے والے،پہاڑوں کوبھی اپنے راستے کی دیوار نہ سمجھنے والوں اور سب سے بڑھ کر قوت ایمانی سے سرشارمیرے جوانوں کو تو دیکھ کر موت بھی راستہ بدل لیتی ہے کیونکہ جو ہر وقت شہادت کے طلب گار ہوں انہیں موت سے کیا ڈر،ہمارے جوانوں کی بہادری،شجاعت کی داستانیں بھری پڑی ہیں صفحے ختم ہوجاتے ہیں لیکن قلم نہیں رکتی، رکے بھی کیسے کیونکہ۔۔۔ارادے جن کے پختہ ہوں۔۔۔نظرجن کی خدا پرہو۔۔۔تلاطم خیزموجوں سے ۔۔۔ وہ گھبرایا نہیں کرتے۔۔۔ہمارا ہرجوان جب ملک کی خاطر جان دینے کا عہد کرتا ہے توپھر ان کے آگے سینے پر گولی کھاناہی مقصد ہوتا ہے جان جائے تو جائے پر غیرت حیا تے ایمان نہ جائے پر وہ آخری سانس تک قائم رہتا ہے ایسا ہی ہمارا ایک مان جس کا نام سپاہی مقبول حسین تھا جو,1965 میں سری نگر میں ایک کامیاب مشن میں زخمی ہو کر انڈیا کا قیدی بنا اس وقت جب سرپر سفیدی نام کی کوئی چیز نہ تھی ،تقریباً چالیس سال تک بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت کرجب وہ پاک دھرتی پرسجدہ ریز ہوا تواس کے منہ زبان نہ رہی مکار دشمن نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ نہ لگانے کی پاداش
زبان کو کھینچ ڈالا وطن سے محبت تھی کہ زبان کٹوادی لیکن پاکستان مردہ باد کا نعرہ نہ لگایا۔
اوپر سے اور ستم یہ کہ ظلم ، بربریت اور چنگیزیت کے طوفان کے سامنے عزم ، حوصلے ، استقلال اور جوانمردی
کی داستان رقم کرنے والے مقبول حسین کشمیر کے محاذ پر لڑ تے ہوئے بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جنگی قیدی بنا مگر اس کا نام دشمن نے جنگی قیدیوں کی فہرست میں نہ ڈالا۔ جینیواکنونشن، عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انسانیت سوز مظالم کانشانہ بنایا گیا ، وہ چار دہایؤ ں تک پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ، بھارتی جیلروں کے سیاہ چہروں پر تھوکتا رہا ،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مقبول حسین اندھیروں کا عادی ہو چکا تھا جب اسے بوجھ سمجھ کرآزاد کیا گیا تواسے دنیا کی آسائشیں بھول چکی تھیں،جب اسے پاک فوج کے فراہم کردہ گیسٹ ہاوئس کے نر م وگداز بستر فراہم کیا گیا تو اس نے زمین پر لیٹنے ہی کو ترجیع دی ، ہماری فوج میں سپاہی مقبول حسین جسے لاکھوں گمنام مجاہدین ہیں جنھوں نے وطن کی عظمت ، عزت، آزدی کے لیے جانیں نچھاور کردیں قربانیان دی مگردشمن کے سامنے سینہ سپر رہے جانیں دیدیں مگر وطن کے خلاف ایک لفظ نہ بولا نہ سنا۔قابل فخر سپاہی غازی مقبول حسین نے اپنی جوانی دشمن کی جیل میں گزار دی کہا جاتا ہے کہ دشمن کے ہر ظلم سہنے کے باوجود پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے رہے آخر کار زبان کاٹ دی گئی تو اپنے پاک خون سے دیواروں پر پاکستان زندہ باد لکھ دیا نہ ہار مانگی اور نہ اپنا سر جھکنے دیا ،ایسا جزبہ ایسا حوصلہ ایسی محبت کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی مقبول حسین اس دنیا سے رخصت ہو گیا ان کی موت سے وفاداری کا ایک باب بند ہوگیا لیکن وہ ہم سب کو سکھا کرگیا کہ ملک سے وفا داری کیا ہوتی ہے سپاہی مقبول حسین ہمارے ملک کے نوجوانوں کیلئے ایک مثال ہیں جوہر وقت ملک کو کوستے رہتے ہیں کہ اس نے ہمیں کیا دیا کبھی یہ نہیں سوچا کو ہم نے ملک کو کیا دیاپاکستان لاکھوں قوبانیوں کے بعد حاصل ہوا جنہوں نے گردنیں کٹوائیں وہ چلے گئے جنہوں نے انگریزوں سے وفادرای کی وہ ملک پر قابض ہو گئے آج ملک سے وفاداری برائے نام ہے کیڑے نکالنے میں ہم بہت شیر ہیں کرنی پڑھ جائے تو موت آتی ہے ہم اپنے آپ سے مخلص ہیں نہ کسی دوسرے سے کیونکہ ہڈ حرامی کی عادت پڑگئی ہے تنقید کرنا حق سمجھتے ہیں گزرے کل سے سیکھتے بھی نہیں جنہوں نے ماضی سے سیکھا وہ تر گئے جنہوں نے ماضی کو روناد وہ مر گئے ہم بھی وہی ہیں سقوط ڈھاکہ سے لیکر سانحہ اے پی ایس تک ہم
نے سب خواب بنا ڈالا سیکھنے کے بجائے غلطیوں پہ غلطیاں کیے جا رہے ہیں جنہیں پالیسی میکر بنا کر اسمبلیوں میں بیجھا وہ اپنے بینک بیلنس بڑھانے لگے مامے چاچے اور تائے نوازے گئے۔ نوکریوں کے نام پربندر بانٹ کی گئی،عوام کا ہر جگہ استحصال کیا گیامعیشت تباہ کردی گئی ایک وقت تھا ہم بجلی دوسرے ملکوں کو دیتے تھے آج خود ترس رہے ہیں ملک میں سارا سارا دن بجلی غائب رہتی ہے کوئی ناکامیوں کا ذمہ لینے کو تیار نہیں دردرکی بھیک مانگ رہے ہیں کشکول ہے کہ بھرتا ہی نہیں ؟صحت ،تعلیم کے نام پر بھی قرضے لئے اور ہڑپ کیے گئے۔ اٹ پٹو تے اربوں کی کرپشن ہر محکمے سے نکل آتی ہے ہم چودہ اگست کو بھی ایک رسم کے طور پر منا رہے ہوتے ہیں ورنہ اس دن بھی وطن سے محبت کا عہد کرلیں تووطن حاصل کرنے کا مقصد اب بھی حل ہوسکتا ہے اور کچھ نہیں کرسکتے تو سپاہی مقبول حسین کی زندگی کو ہی مشل راہ بنالیں کہ جس نے اس باہمت بہادر فوجی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جسم کا ہر حصہ چھلنی کردیا لیکن وہ پھر بھی وطن سے محبت کا اظہار کرتے رہے اس مرد مجاہد نے سامنے سر جھکایا نہ ہار مانی،آخر کار بے رحمی اور ظلم کی حد کر کے سپاہی مقبول حسین کی زبان کاٹ دی گئی، ایک نہتا سپاہی، قید و بند کی صعوبتوں، شدید ظلم و بر بریت کے باوجود، اپنے وطن کی محبت اور ایمان پر ڈٹا رہا آئیے جذبہ شہادت کو پاک فوج کے جوانوں کی طرح رگ رگ میں شامل کرکے دشمن کو بتادیں کہ وطن کی حفاظت کیلئے ہر گھر میں سپاہی مقبول حسین ابھی زندہ ہے اورہاں ہمیں پیار ہے پاکستان سے ؟؟؟


ای پیپر