بھارت: ہندو دہشت گردوں کی جنت
09 ستمبر 2018 2018-09-09



عالمی معاملات کے اتار چڑھاؤ پر نگاہ رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے اس کھرے تجزیے سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ بھارت کو چین روس اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ چین بھارت کا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے روس بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین نے2015ء میں بھارت میں توانائی کی کمی پوری کرنے کے لئے 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا سمجھوتہ کیا ۔ بھارت کی 48 ملکی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے بعدتمام رکن ممالک کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ چین ان ممالک میں شامل ہے جنہیں بھارت کے حوالے سے شکوک و شبہات ہیں۔ ان تحفظات میں پاکستان بھی شریک ہے۔ چینی ترجمان نے جنوبی کے سمندری علاقے میں آزادانہ طور پر جہاز رانی اور پروازوں کے گزرنے کے حوالے سے امریکہ بھارت اعلان کو ہدف تنقید بنایا۔ اس پس منظر میں پا کستان بھارت سے اس مطالبے کا اعادہ کر نے میں حق بجانب ہے کہ وہ فروری 2007 ء کو سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے منصوبہ سازوں اور دہشت گردی کی اس واردات پر عمل کرانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔
دنیا کا ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ سیاسی اور معاشی مصلحتوں اور مفاد کی خاطر امریکہ اور بھارت کے ایٹمی معاہدہ کو آپریشنل کرنا اس خطہ میں سٹرٹیجک استحکام کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ہم امریکیوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ بھارت اس حوالے سے قطعی قابل اعتماد ملک نہیں ہے جیسا کہ 1984ء میں بھوپال میں یونین کاربائیڈ نامی امریکی ملٹی نیشنل کو سخت ترین تلخ تجربہ ہوا۔اوباما کی حالیہ بھارت یاترا کے بعد یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ اصولوں کا پرچار تو کرتا ہے لیکن اس کے اکثر فیصلے پیش پا افتادہ اور وقتی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ یہ وہ تضاد ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقت کی ساکھ بری طرح مجروح ہو رہی ہے۔ تاہم اوباما کا دورۂ بھارت بھارتی وزارت خارجہ کی کامیاب سفارت کاری کا ثمرہ ہے جبکہ ہمارے ہاں ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کے دور میں وزارت خارجہ کس کے دستِ تصرف میں ہے مشیر خارجہ، آرمی چیف یا براہ راست وزیراعظم کے۔ امریکی حکام اور انتظامیہ کا رویہ پاکستان کے حوالے سے ہمیشہ دو رخے پن کا مظہر رہا ہے۔ اُس نے سرد جنگ کے دور میں 1979ء سے 1989ء تک پاکستان کو دنیا کی دوسری عالمی طاقت روس کے خلاف استعمال کیا۔ اور بعد ازاں امریکی بھول گئے کہ اُن کے فتراک میں کبھی کوئی نخچیر بھی تھا۔ نائن الیون کے بعد اُنہیں پاکستانی خدمات کی دوبارہ ضرورت محسوس ہوئی تو امریکی انتظامیہ نے بیسیوں بار اپنے اس رویے پر خفت کا اظہار کیا کہ ہم نے سرد جنگ میں پاکستان سے قطبی تعاون حاصل کرنے کے بعد اُسے تنہا چھوڑ دیا تھا۔ وہ امریکی اہلکار یقین دہانی کراتے رہے کہ اب ماضی کی اس غلطی کا اعادہ نہیں ہو گا۔ اب جبکہ امریکی اور نیٹو افواج نے 2014ء سے اپنی افواج کا انخلا شروع کیا تو وہ پاکستان کے تمام احسانات کو حسب سابق بھول گئے۔ امریکیوں کا یہ رویہ بھارتی حکام کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ آنے والے دور میں ایسا وقت آ سکتا ہے جب امریکی چین کے خلاف بھارت کو اپنے مفادات کے حصول کے قابل نہ پائیں تو برسوں اپنے جوہری اتحادی اور گلوبل پارٹنر پر نوازشات کی بارش کے باوجود اسے اپنی خارجہ پالیسی میں استعمال شدہ ٹشو پیپر سے زیادہ حیثیت نہ دیں۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ ستمبر2013ء کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ’ امریکا نے جاسوسی کے لیے پاکستان میں دنیا کا مہنگا ترین اور وسیع جاسوسی نظام قائم کیا ،نئے سیل بنائے اوراس کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی بڑھادی۔ امریکاکوپاکستان کی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی پر شدید تحفظات ہیں اوراسے خدشہ
ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند کیمیائی ہتھیار بنالیں گے‘۔ حالانکہ بھارت میں خود مختاری کی تحریکیں ارنچل پردیش، آسام، بوڈالینڈ، کھپلنگ میگھا لیا، میزو رام، ناگا لینڈ، تیرہ پورہ، بندیل کھنڈ، گورکھا لینڈ، جھاڑ کھنڈ وغیرہ میں برسوں سے جاری ہیں۔ کیا ان تحریکوں کے بانی اور کارکنان بھارت کے ایٹمی اثاثوں کیلئے کسی خطرے کا موجب نہیں بن سکتے ہیں؟ کیا یہ بھارت کے ’’طالبان‘‘ نہیں ہیں پھر بھارت کے ایٹمی اثاثوں کو بربادی اور تہس نہس ہونے سے بچانے کیلئے امریکی خفیہ پلاننگ کیوں نہیں کر رہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت عسکریت پسندوں اور انتہا پسند ہندو دہشت گردوں کی جنت ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارت یاترا کے بعد صدر اوباما کو یہ بیان دینا پڑا کہ بھارت ترقی کے لیے مذہبی روا داری اپنائے تو امریکہ اس کا بہترین پارٹنر بن سکتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک ہندو انتہا پسند دہشت گرد جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ اُن کے ہاتھ گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کے خون سے تر ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذہبی روا داری پر یقین رکھنے والا کوئی بھی حقیقی جمہوریت دوست ملک ہندو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے گڑھ بھارت کو کبھی اپنا قابل اعتماد دوست تصور نہیں کرسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں ایف ایم سی ٹی، این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کرنے والے ملک کو جوہری ہتھیار سازی کے شعبے میں کھلی چھٹی دینے کے خطرناک نتائج پر بھی نگاہ رکھے۔


ای پیپر