یہ ہے غدار اور مودی کا یار
09 اکتوبر 2020 (19:29) 2020-10-09

پاکستان کی یہ واحد حکومت ہے جس کے پاس اقتدار میں آنے کا کوئی منصوبہ تھا اور نہ تیاری۔ نعرے اور وعدے ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ اقتدار میں آتے ہی کپتان نے حکومت کا بہت سا وقت بلیم گیم پر لگا تھا۔ یہ ایسی غلطی تھی جس نے گڈ گورنس کو کافی متاثر کیا۔ سیاسی دشمنوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے جذبے نے کپتان کو آگے بڑھنے نہ دیا۔ خواہش اور انتقام غالب تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں اور ان کی سیاست کو ٹارگٹ کر کے بدنام کیا جائے، دو سال یہ چور وہ چور یہ ڈاکو وہ ڈاکو میں گزر دیئے۔ تاثر دیا گیا کہ ہمارا وزیر اعظم اتنا سادہ اور ایمان دار ہے کہ وہ قوم کے ٹیکس کے پیسوں کے لیے بہت فکر مند ہے۔سادگی مہم چلی، احتساب کا طرفہ تماشا اب بھی جاری ہے۔ ابھی منصف اعلیٰ نے بلین ٹری کی طرف توجہ دلائی ہے مگر نیب خاموش ہے۔ پانی سر سے اونچا ہو چکا۔ منظر نامہ دیکھ کر حکومت مشکل میں ہے، مخالف تباہ نہیں ہوئے اکھٹے ہو گئے ہیں۔ مگر اب ان کو بھی ذرا سنبھل کے چلنا پڑے گا۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا پروگرام سامنے آ چکا۔ وزیروں اور مشیروں کی پریشانیاں اور پریس کانفرنسیں اقتدار کی غلام گردشوں کے حالات بتا رہی ہیں۔ دھمکیاں، گرفتاریاں اور اپوزیشن لیڈر کے ساتھ نیب حراست میں توہین آمیز سلوک، ان کا ڈر اور خوف اتر چکا تو غداری کا سیزن ہے۔ اپوزیشن اس کو بھگتنے کے لیے تیار ہے، غداروں کی کہانیاں ماضی میں تو چلتی تھیں اب کسی کو غدار کہنے کا وقت ہے اور نہ کوئی مانے گا۔ وزیر اعظم کا نیا موقف سامنے آیا ہے اپوزیشن چور ہے باغی نہیں، کیا خوب ہے قاضی فائز عیسیٰ کی طرح ایک آدمی کو تیار کیا گیا، پھر شکیل الرحمان کے خلاف ایک صحافی استعمال ہوا۔ پنجاب میں اپوزیشن تحریک کا دم نکالنے کے لیے مسلم لیگ کی پوری قیادت کے خلاف غداری کا الزام رانا ثنا اللہ سے ہیروئن برآمد ہونے والی کارروائی سے ملتا جلتا ہے۔ غداری کے تماشے میں خود حکمران پارٹی کے اند ر سے اختلافی آوازیں شدت سے اٹھیں، عالمی سطح پر بھی خفت کا سامنا کرنا پڑا، سوشل میڈیا پر تو اس بیہودہ منصوبے کا بینڈ بج چکا۔ معروف قانون دان اور سیاست دان اعتزاز احسن نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کا پوسٹ مارٹم اپنے مختصر تبصرے میں یوں کیا ہے کہ کسی سیاستدان کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دینا انتہائی فضول الزام ہے، حکومت کی مشکل یہ ہے کہ کرتی پہلے اور سوچتی بعد میں ہے، الزام کا کوئی ثبوت نہیں حکومت واپس لے، اس ملک میں بدقسمتی سے کوئی حب الوطن ہو ہی نہیں سکتا وہ کسی نہ کسی کا غدار ہے۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کو غیر محب وطن یا کسی بھی سیاستدان کو کسی دوسرے ملک کا ایجنٹ قرار دینا انتہائی فضول الزام ہے۔ ابھی میر ظفراللہ جمالی نے اپنی وزارت اعلیٰ کے زمانے کا راز کھولا ہے۔ اینکر ندیم ملک نے ظفراللہ خان جمالی کو اپنے ٹاک شو میں مدعو کر کے دریافت کیا کہ شیخ رشید کس ملاقات کی بات کر رہے ہیں۔ جمالی نے بتایا کہ امریکا جو جو بھی جاتا تھا فورسیزن ہوٹل واشنگٹن میں قیام کرتا تھا۔ جب جمالی امریکہ کے دورے پر تھے ’’سیکریٹری آف اسٹیٹ کولن پاول نے مجھے کہا کہ میں صبح ہوٹل آؤں گا۔ وہ اگلے دن آئے اور بیٹھے رہے۔ میں نے پوچھا کہ چائے پینا چاہیں گے، انہوں نے ہاں کر دی اور ہم نے ان کو چائے پلائی۔ جمالی کے بقول ’میں نے کولن پاول سے کہا کہ میں اب واپس جا رہا ہوں، ہمارے صدر کیلئے کوئی پیغام بھیجنا چاہیں گے؟ کولن پاول نے مجھے صرف ایک چیز کہی تھی کہ جا کر  اپنے صدر سے کہہ دو آپ نے جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا نہیں کیا۔ ظفراللہ خان جمالی کے مطابق جب جنرل مشرف امریکا گئے تھے تو انہوں نے کولن پاول سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عراق میں پاکستانی فوج بھیجیں گے۔ میں نے 

کہا، میں اسمبلی کا سربراہ ہوں، وہاں جا کر بات کروں گا۔ ضرورت پڑی تو قوم کی رائے لوں گا؟ جمالی کی اتنی طاقت کہاں تھی۔ان کی وزارت عظمیٰ گئی البتہ وہ غداری کے الزام سے بچے رہے۔ غداروں کی نئی فہرست مسلم لیگ (ن) کے رہنما جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا ہے کہ یہ دن بھی آنا تھا کہ پاک فوج کی 38سال ملازمت میں تحریری تو بہت دور کی بات کبھی زبانی وارننگ بھی نہیں ملی، اب ہمارے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، پتا نہیں ہم کدھر جا رہے ہیں، یہ فاشزم نہیں تو پھر  کیا ہے، نواز شریف کی تقریر سننے والے غدار ہیں تو پھر وزیراعظم پر بھی اس حوالے سے غداری کا مقدمہ بننا چاہیے۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے غداری کی ایف آئی آر حکومت کے ایما پر ہی درج ہو سکتی ہے مگر کیا ہو گا تھانے کے محرر پر یہ مدعا ڈال دیا جائے گا۔ نواز شریف پر غداری کی تہمت پہلی بار نہیں لگی۔ نواز شریف مودی کا یار ہے تو ایوب خان کی نہرو سے دوستی 

تھی۔ جب معاہدہ تاشقند ہوا تو پاکستان عوام سمجھتے تھے ایوب خان نے کشمیری عوام سے دھوکہ کیا ہے۔ بھٹو بھی اس کا مخالف تھا، اس پر بھی غداری کا الزام لگایا گیا۔ نواز شریف پر بھی ایسی ہی تہمت لگی ہے 22 ستمبر 2016 کو نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک یادگار خطاب کیا جس میں مودی کے یار نوازشریف نے پہلی بار پورے عزم کے ساتھ مسئلہ کشمیر اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل تک امن کا قیام ممکن نہیں اور عرصے سے قربانیاں دینے والے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ہو گا۔ وہاں نواز شریف نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجا جائے جو بھارتی فوج کی طرف سے معصوم کشمیریوں، خواتین اور بچوں پر مظالم کی تحقیقات کرے اور تمام گرفتار کشمیریوں کو رہا، کرفیو ختم، زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کشمیری رہنماؤں کے بیرون ملک سفر پر پابندیاں ختم کی جائیں۔ سرکاری ترجمانوں نے نواز شریف کو الطاف حسین سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ الطاف تو پاکستان کے خلاف بولتا تھا۔ پاکستان توڑنے کی بات کرتا تھا مگر نواز شریف پاکستان کے خلاف کبھی نہیں بولے۔ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرارداد پاس کی تھی۔ اب نئے مہرے اور مردہ گھوڑے بھی سیاست چمکانے کے لیے میدان میں ہیں۔ نواز شریف نے 1993 میں کسی کی سرپرستی سے نکلتے ہوئے اپنے نام سے مسلم لیگ ن قائم کی۔ اعجاز الحق نے اپنے والد کے نام سے پارٹی بنائی اس کا وجود کدھر ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں 73سال سے جو نظام چل رہا ہے۔ اس کے لیے ہر ادارے کو پروفیشنل ہونا چاہیے۔ جو سرکاری ملازم ہیں ان کے لیے سیاست کے دروازے بند ہونے چاہئیں۔ جس کا کام اسی کو ساجھے، باقی رہے نا اللہ کا۔


ای پیپر