اسلامو فوبیا کا بخار ،مقدس مقامات نائٹ کلب میں تبدیل
09 اکتوبر 2020 (19:13) 2020-10-09

اسلامو فوبیا بھارت کا ہی نہیں پوری دنیا نے اپنے لئے ایک مسئلہ بنا لیا ہے۔ ا سکے خلاف طرح طرح کے غیر حقیقی اور گھٹیا الزامات تراشے جا رہے ہیں۔ غلط فیصلے اور کام کئے جا رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی کمپنی نے صرف خود ساختہ اسلامو فوبیا کے جواب میں تیرہویں صدی کی جنوبی بیت المقدس میں واقع الاحمر مسجد کو نائٹ کلب اور شادی ہال میں تبدیل کردیا۔فلسطینی اسلامک اینڈوومنٹ ایجنسی کے سیکرٹری خیر طبری کے مطابق یہ مذہبی دہشت گردی ہے۔

 یہ فلسطین کی تاریخی مساجد میں سے ایک مسجد ہے جو 1948ء   میں یہودیوں کے قبضے میں چلی گئی تھی۔ نائٹ کلب میں بدلنے سے پہلے اسے سکول اور الیکشن کمپینز کے لیے استعمال کیا جاتا رہا لیکن اب اس مسجد کو نائٹ کلب میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں نے اسے دوبارہ مسجد بنانے کی درخواست دی لیکن تاحال عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ اس سے قبل بھی کئی مساجد کو شراب خانوں اور نائٹ کلبوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے. دو سال قبل صہیونی انتظامیہ نے پرفضا مقام قیساریہ میں واقع جامع مسجد قیساریہ میں 90 انواع کی شراب مہیا کرنے کی منظوری دی تھی۔ قدیم ترین مسجد کی تعمیر اموی خلفیہ عبدالملک بن مروان نے کی تھی۔

 بحیرہ روم کے ساحل پر واقع مسجد قیساریہ جامع مسجد تھی جسے 1948ء میں اسرائیل نے قبضے میں لے لیا تھا. مسجد قیساریہ کا نام ان 80 مساجد کی لسٹ میں شامل تھا جنہیں سیاحتی مقامات پر واقع ہونے کی بنا پر اسرائیلی انتظامیہ نے شراب خانہ‘ ریسٹورنٹس‘ اصطبل‘ نائٹ کلب اور دیگر سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسرائیلی انتظامیہ نے قیساریہ جامع مسجد مقبوضہ علاقوں میں ریستوران چلانے والی ایک کمپنی کو ٹھیکے پر دے دیا تھا۔ اسرائیل نے اس جگہ قیساریہ کے نام سے اسرائیلی دولت مند اور کاروباری یہودی بسانے کے لیے ایک پوش بستی بسائی جسے سدوت یام کا نام دیا گیا ۔ بعدازاں فلسطینی مسلمانوں نے اس مسجد کی تاریخی حیثیت کے 

پیش نظر اس کا مقدمہ لڑا اور کئی عالمی فورموں پر مسجد کا مسئلہ لے جا کر ماضی میں انہیں بالآخر ایک مرتبہ کامیابی بھی ہوئی۔ 1993ء میں اسرائیلی انتظامیہ نے عالمی دباؤ میں آ کر قیساریہ جامع مسجد کو دوبارہ نماز کیلئے استعمال کی اجازت دے دی تھی جہاں فلسطینی مذہبی رہنما شیخ رائد صلاح نے نماز جمعہ کی امامت کی۔ یہ النکبہ کے بعد اس مسجد میں پہلی نماز تھی۔

آج کل ہندو انتہا پسند بھارت میں موجود مسجدوں کے درپے ہیں۔کہیں مساجد کو منہدم کیا جا رہا ہے تو کہیں مساجد میں بت اور مورتیاں رکھی جا رہی ہیں۔  میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے کارپوریٹر رام کشن یادو اور ان کے چیف وہیپ رجنیش گپتا نے بھارت کی تاریخی مسجد ٹیلے والی کے سامنے لکشمن کی مورتی نصب کرنے کی تجویز بلدیہ میں پیش کی تھی جسے منظور کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا۔ مسجد کے امام مولانا فضل المنان رحمان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ محفوظ ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کی اجازت کے بغیر کسی قسم کی تعمیر یہاں پر نہیں ہو سکتی۔ مسجد میں جمعہ، عیدین اور دیگر نمازیں ادا کرنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان آتے ہیں۔ اژدہام کے باعث بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر بھی نماز ادا کرتے ہیں۔ مجسمہ کے سامنے نماز نہیں پڑھی جا سکتی لہذا مجسمہ کیلئے کوئی دوسرا مقام منتخب کر لیں۔ 

بھارت میں تقریبا تمام مذہبی مقامات خصوصا مساجد پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ایک ہندو تنظیم نے سپریم کورٹ میں 1991 کے قانون کی ایک شق کو چیلنج کیا ہے جس میں 15 اگست 1947 کو تقسیم ہند سے قبل موجود مقدس مقامات کی خصوصی مذہبی حیثیت کو برقرار رکھا گیا تھا۔ یہ درخواست ہندو تنظیم ’’مہاسنگ ‘‘کی جانب سے دائر کی گئی تاکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے 1991 کے ایکٹ کی دفعہ 4 کواپنے قانونی اختیار سے تجاوزاور غیر آئینی قراردلوایا جاسکے۔متذکرہ قانون کے تحت کسی مندر کو مسجد اورکسی مسجد کو مندر میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ۔  ہندو تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس قانون نے ایک اور عقیدے ’’مسلمانوں‘‘کی طر ف سے طاقت کے ذریعے مذہبی املاک پر کئے جانے والے قبضے کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے جس کے نتیجہ میں ہندو عدالت میں کوئی بھی مقدمہ دائر کرکے یا آئین کی دفعہ 226کے تحت ہائی کورٹ میں کوئی مقدمہ دائر کرکے ہندو اوقاف کی املاک یامندروں پر جن پر 15اگست 1947سے پہلے ہی قبضہ کیا جاچکا ہو کی واپسی کیلئے کوئی کوشش نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کی تنظیم جمعیت علمائے ہند نے ہندو تنظیم کی طرف سے دائر عرضداشت کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں ایک دائردرخواست میں استدعا کی کہ عدالت 1991کے ایکٹ کے خلاف دائر ہندو تنظیم کی درخواست کو سماعت کیلئے منظور نہ کرے  سماعت سے مسلمانوں میں خوف پیدا ہوگا۔

کچھ عرصہ قبل انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی نے دہلی کی تاریخی مساجد پر بھی اپنی میلی نظریں جما لی تھیں۔ نئی دہلی کی 300 سال پرانی اور تاریخی قدسیہ مسجد پر بی جے پی کے بااثر انتہا پسند ہندو رہنما وجے گوئیل نے عرصے سے میلی نظریں رکھی ہوئی ہے اور مسجد پر قبضہ کرنے اور اسے ہندو مندر کی جگہ قرار دینے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے وقتاً فوقتاً مسجد کی طرف آنیوالے مختلف راستے بند کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ نمازی مسجد میں نہ آ سکیں۔ نامعلوم افراد نے کشمیری گیٹ بس اڈے کی جانب کھلنے والے راستے کو دیوار تعمیر کرکے بند کر دیا جس سے نمازیوں کو دقت اٹھانا پڑی۔ مسجد کے خطیب اور امام نے بتایا کہ مسجد کی طرف جانے والا یہ گیٹ کافی عرصے سے کھلا ہوا تھا اور ان کی غیرموجودگی میں بند کیا گیا۔ رنگ روڈ کی جانب کھلنے والا راستہ بھی رکاوٹوں کی زد میں ہے۔ مسجد پر قبضے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ آکر مسجد قدسیہ میں نماز ادا کیا کریں تاکہ شرپسندوں کو احساس ہو کہ مسجد کا پرسان حال صرف امام نہیں نمازی بھی ہیں۔ قدسیہ مسجد کو مغل بادشاہ محمد شاہ کی تیسری اور لاڈلی بیوی قدسیہ بیگم نے 1748 ء میں شمالی دہلی کے علاقے میں دریائے جمنا کے کنارے قدسیہ باغ کے ساتھ تعمیر کرایا۔ بھارتی حکومت کی طرف سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس عظیم الشان مسجد کی حالت خاصی خستہ ہو چکی ہے۔


ای پیپر