کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کا مستقبل
09 اکتوبر 2019 2019-10-09

اگرچہ اس کا احوال میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں… لیکن پانچ اگست کے بھارتی حکومت کے فیصلے کے بعد کشمیر کا تنازعہ جس نازک ترین موڑ پر آن پہنچا ہے … اور پاکستان کے پاس زور دار الفاظ میں تقاریر کرنے اور پر زور بیانات مذمت جاری کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا … اس تناظر میں چندباتوں کا دوبارہ ذکر کرنا غیر مناسب نہ ہو گا… بیس پچیس سال پہلے ڈاکٹر مبشر حسن نے پاک بھارت امن کمیٹی کے نام سے دونوں ملکوں کے دانشوروں، ادیبوں ، صحافیوں اور کچھ سیاستدانوں پر مشتمل ایک این جی او قائم کر رکھی تھی … جس کے تحت اسلام آباد، دہلی ، لاہور اور کراچی کولکتہ وغیرہ میں سیمینار منعقد کیے جاتے تھے …رائونڈ ٹیبل ہوتے تھے … اور امن کی دہائی دیتی ہوئی پریس کانفرنسیں منعقد کی جاتی تھیں … دسمبر 1996 ء میں اسی سلسلے کا ایک سیمینار کولکتہ میں منعقد ہوا… ڈاکٹر مبشر حسن نے مجھے بھی پاکستانی وفد کے رکن کے طور پر ساتھ چلنے کی دعوت دی … میرے علاوہ پاکستانی وفد کے تمام ارکان جانے پہچانے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور آج کل کی اصطلاح میں لبرل صاحبان دانش و بصیرت تھے … جن میں محترم آئی اے رحمن ، جناب عابد حسن منٹو ، اور اسی حلقۂ یاراں سے تعلق رکھنے والی کراچی و صوبہ خیبر پختونخوا کی کچھ ممتاز شخصیات تھیں … سیمینار کولکتہ کے انگریزی دور کی یاد گار بڑے امپیریل ہوٹل میں منعقد ہوا… دن بھر جاری تھا … آخری سیشن کی صدارت جناب عابد حسن منٹو ، اور ایک بھارتی دانشور نے مشترکہ طور پر کی …اس زمانے میں دہشت گردی کا چرچا اتنا عام نہیں تھا… لیکن بنیاد پرستی ، کی خوب مذمت کی جاتی تھی اور جنوبی ایشیا میں اس کا مرکز پاکستان کو قرار دے کر اسے بہت بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جس کا سدِ باب وقت کی اہم تر ضرورت اور قیام امن کی شرائط میں سے لازمی سمجھی جاتی تھی … مذکورہ بالا سیمینا میں بھی مقررین کی جانب سے تقریباً سارا وقت اسی خطرے کے تدارک کی ضرورت کو عیاں کرنے پر صرف کیا گیا … آخری سیشن میں میں نے چٹ بھیجی کہ دو چار منٹ کے لیے گفتگو کا موقع دیا جائے … لیکن میری درخواست کو نظر انداز کر دیا گیا … دوبارہ چٹ بھیجی کوئی پزیرائی نہ ہوئی … سیشن کے خاتمے کو تھوڑا سا وقت رہ گیا تھا … میں نے کھڑے ہو کر صاحبان سٹیج سے مخاطب ہو کر کہا … اگر مجھے بولنے کا موقع نہ دیا گیا تو میں کل یہیں پر پریس کانفرنس کروں گا … اور پوری دنیا کو بتائوں گا کہ سیمینار میں دونوں طرف کے ہم خیال لوگوں سے تقاریر کرائی گئیں … اختلافی رائے رکھنے والے کو نہیں سنا گیا… اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ میں سٹیج پر آ کر صرف پانچ منٹ کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہوں… میں اسے غنیمت جان کر فوراً ڈائس پر پہنچا … اور کہا کہ مذہبی انتہا پسندی اور اس سے جنم لینے والی سیاسی تنگ نظری کا اصل مرکز پاکستان نہیں بھارت ہے … جہاں ہندو قوم پرستی کے سیاسی نظریے کی علمبردار بی جے پی نے پچھلے انتخابات کے دوران لوک سبھا کی 86 نشستوں پر کامیابی حاصل کی … اتر پردیش میں ریاستی حکومت بنا لی ہے … اور وہ بابری مسجد اور دوسری مسلم تہذیبی و مذہبی علامات کے انہدام کے نعرے پر اگلا بھارتی انتخاب جیت کر پورے ملک پر اپنی حکومت قائم کرنے کے ارادے باندھ رہی ہے …ظاہر ہے یہ خواب پورا ہوتے ہی … جو اب زیادہ غیر حقیقی نظر نہیں آتاتمام کا تمام بھارت مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے … اس کے بر عکس پاکستان میں جن جماعتوں پر بنیاد پرستی کا لیبل لگایا جاتا ہے …وہ ہماری پارلیمنٹ کی آٹھ دس سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی… درانحالیکہ ہمارے آئین کی روح سے اسلام پاکستان کے بنیادی نظریے کا درجہ رکھتا ہے… جبکہ بھارت سیکولر ملک ہونے کا دعوے دار ہے … لیکن یہاں پر مذہبی انتہا پسندی پر مبنی متعصبانہ سیاست تیزی سے فروغ پا رہی ہے … دوسرا نقطہ جو میں نے اس مختصر تقریر میں اٹھایا وہ یہ تھا … کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقلاً قیام امن کی خاطر منعقعد ہونے والے اس مذاکرے کی کسی تقریر میں تنازع کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا … سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت پاکستان اور بھارت دونوں اس بات کے پابند ہیں کہ کشمیری عوام حقِ رائے دری کے تحت دونوں میں سے جس ملک کے ساتھ بھی الحاق کرنا چاہیں ان کا فیصلہ قبول کیا جائے گا…میں نے کہا یہ مسئلے کا سیدھا سادھا اصولی اور انسانی حل ہے …مگر اس پر تین جنگیں ہو چکی ہیں … ہمارے درمیان پائیدار امن کا قیام بھی اسی بنا پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے …دونوں ملکوں کے دانشوروں کا اتنا بڑا اجتماع اگر اس بنیادی مسئلے کو نظر انداز کر دے گا تو ساری کوشش رائیگاں جائے گی … لہٰذا لازم ہے کہ جو قرار داد منظور کیا جائے … اس میں اس تنازعے کے منصفانہ اور کشمیری عوام کے آزادانہ رائے پر مبنی حل کی ضرورت پر زور دیا جائے …

قرار داد کا متن سامنے آیا … تو اس میں تنازع کشمیر کا ذکر کیے بغیر تمام باہمی مسائل کو پر امن طریقے سے اور بذریعہ مذاکرات حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا …تاہم شرکاء کے درمیان رات گئے تک میری تقریر اور اس میں اٹھائے جانے والے نکات کا ذکر ہوتا رہا… اگلے روز ہوٹل کے بڑے ڈائننگ ہال میں سب شرکاء ناشتے کے لیے جمع تھے … تو حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ جو اپنی وضع قطع سے مسلمان معلوم ہوتے تھے… میری میز پر تشریف لائے … اور بیٹھتے ہی کہا …میں نے کل تمہاری تقریر سنی تھی… آج ایک دو سوال ہیں… جو تمہارے سامنے رکھنا چاہتا ہوں … میں نے عرض کیا فرمائیں … انہوں نے کہا تمہارے ملک کی آبادی کتنی ہے … میں نے کہا جی اندازاً 18 کروڑ … ( واضح رہے یہ 1996 ء کا تخمینہ ہے) انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ یہ بنگلہ دیش جو تم سے علیحدہ ہو گیا ہے … وہاں کتنے مسلمان ہیں… میں نے کہا جی پہلے تو ان کی تعداد ہم مغربی پاکستان والوں سے زیادہ تھی … لیکن اب ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنا تناسب کم کیا ہے … اس کے با وجود سولہ ستراہ کروڑ تو ہوں گے … جن میں پندرہ کروڑ مسلمان سمجھ لیجئے … حیدر آبادی بزرگ نے کہا چلیے دونوں کو ملا کر کل مسلمانوں کی تعداد 30 کروڑ مان لیتے ہیں… میں نے اثبات میں سر ہلایا … انہوں نے پھر پوچھا … تمہارے خیال میں ہندوستان میں باقی رہ جانے والے ہم مسلمانوں کی تعداد کیا ہو گی … میں نے کہا بھارتی حکومت تو کم کر کے بتاتی ہے… لیکن آپ لوگ اس وقت پندرہ سولہ کروڑ کے لگ بھگ تو ہوں گے … وہ مسکراتے ہوئے بولے … تمہارے حساب سے اس وقت بر صغیر کے جملہ مسلمانوں کی آبادی 45 کروڑ ہونی چاہیے… پھر کہا کہ آج کے ہندوستان میں ہندوئوں کی تعداد کیا ہو گی … میں نے کہا آپ بتائیں … انہوں نے جواب دیا … کہ کل 90 کروڑ میں سے ہندو 70 کروڑ کے قریب ہیں ان اعدادو شمار کو سامنے رکھو… اور اندازہ لگائو… اگر بٹوارا نہ ہوتا … تو 70 کروڑ ہندوئوں کے مقابلے میں 45 کروڑ مسلمانوں کی تعداد غیر منقسم اور آزادکی کتنی بڑی سیاسی طاقت بنا سکتی تھی… آج ہم پر کسم پرسی کا عالم طاری نہ ہوتا… اور کشمیر جس کی آپ لوگوں کو بہت فکر ہے … اس کا مسئلہ سرے سے جنم نہ لیتا … میں نے ہنستے ہوئے کہا … حضرت یہ جو آج ہم بر صغیر کے 45 کروڑ مسلمان ہیں… تقسیم کے وقت کتنے تھے … حیدر آبادی بزرگ نے جواب دیا … یہی دس کروڑ … میں عرض کناں ہوا… کہ جناب آج 1996ء میں نصف صدی کے بعد ہم ساڑھے چار گناہ ہو گئے ہیں… انسانوں کی زندگی میں 50 سال زیادہ لمبا عرصہ نہیں ہوتا… آپ فکر نہ کیجئے … اگلی نصف صدی کے اختتام تک ہماری تعداد ہندوئوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ جائے گی … اور یہ لوگ مسلمان اکثریت سے علیحدگی کی خاطر کہیں جنوبی ہند کے اندر اپنے لیے آزاد ملک کا مطالبہ کر رہے ہوں گے … یہ سن کر حیدر آبادی دوست نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور خاموش ہو گئے …

آج کے حالات کی طرف واپس چلتے ہیں… کشمیریوں کو تو مودی حکومت نے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور ذیلی شق 35 اے خارج کر کے مستقلاً غلام بنا لیا ہے … موجودہ دنیا میں ہماری جانب سے تمام تر صدائے احتجاج بلند کرنے کے باوجود کوئی اس کا گریباں پکڑنا تو کیا سرزنش کرنے کے لیے تیار نہیں… بھارت والے اس صورت حال کو اپنے اقدام کی تائید سے تعبیر کر رہے ہیں… لیکن کشمیر کو اس طرح ہضم کر لینا اور کسی قوم کو غلام بنا لینا اتنا آسان نہیں… اگر پاکستان اس وقت اخلاقی تائید کے علاوہ ان کی کسی طرح کی مدد کے قابل نہیں… تو بھارت کے اٹھارہ سے بیس کروڑ تک مسلمان کہیں نہیں گئے ہوئے… بی جے پی کی حکومت ان کے ساتھ بھی امتیازی اور حد درجہ غیر انسانی سلوک کو اس حد تک لے گئی ہے … کہ اندرہی اندر لاوا تیزی کے ساتھ پک رہا ہے … کشمیریوں کو بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ملا لیں تو کسی ملک کے اندر بیس کروڑ سے زائد کی اقلیت معمولی تعداد اور سماجی و سیاسی طاقت نہیں ہوتی … اس لاوے کو پک کر پھٹنے میں کتنی دیر لگے گی… اس کے بارے میں تعین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا… لیکن جب بھی اس کا دھماکہ ہوا … تو بھارت کے لیے اس کے اثرات کسی بھی خطرناک بم سے کم نہ ہوں گے … کشمیر کو تو پاکستان سے چھین لیا گیا ہے اور بد قسمتی سے ہماری حکومت اور ریاستی ادارے کچھ کرنے کے قابل نظر نہیں آتے … ان کی حالت تو یہ ہے … کہ گزشتہ بائیس جولائی کو جب وزیر اعظم عمران خان وائٹ ہائوس میں بیٹھے صدر ٹرمپ سے کشمیر پر ثالثی کی یقین دہانی کا سن کر خوشی سے نڈہال ہوئے جا رہے تھے… اور ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پینٹا گون میں اکیس توپوں کی سلامی وصول فرما رہے تھے… تو دونوں کو ہر گز اندازہ نہیں تھا کہ نریندر مودی سرکار بہت جلد کیا کرنے والی ہے … وزیر اعظم بہادر تو اس وقت تک توقع لگائے بیٹھے تھے … موصوف نے حالیہ بھارتی انتخابات سے پہلے بیان بھی داغ دیا تھا … کہ اس چنائو کے بعد مودی کے رویے میں تبدیلی ا ٓ جائے گی … اور وہ کشمیر سمیت تمام معاملات پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار ہو جائے گا … دوسرے الفاظ میں ایک صفحے پر ہونے والے ہمارے سول و ملٹری حکمرانوں کو قطعی اندازہ نہیں تھا … کہ مودی اور ان کی بی جے پی کتنی بڑی انتخابی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں … اس کے فوراً بعد وہ کشمیر پر غاصبانہ آئینی حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں… ہم نے اس صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے کوئی پیشگی تیاری نہ کر رکھی تھی کیونکہ ہمیں اس کا سرے سے اندازہ نہ تھا۔ الٹا مودی سے نرم رویے کی توقع لگائے بیٹھے تھے… اس پر مستزاد یہ کہ ٹرمپ نے ثالثی کی گیدڑ سنگھی دکھا دی تھی… آج اس مسئلے پر چین، ترکی، اور ملائیشیا کے علاوہ یہاں تک کہ بڑے بڑے عرب ممالک میں سے کوئی ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں… پاکستان ایک طرح کی سفارتی کسمپرسی کے عالم سے گزر رہا ہے … اس عالم میں کشمیریوں کا سب سے بڑا سہارا ان کے بھارتی ہم مذہب یعنی 18 سے 20کروڑ تک بھارتی مسلمان ہو سکتے ہیں… جو آج نہیں تو کل اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کی مشترکہ اندرونی طاقت بھارتی استبداد کے لیے اصل خطرہ بن سکتی ہے… جیسا کہ میں نے اُوپر عرض کیا کہ یہ خطرہ حقیقت کا روپ دھارنے میں کتنا وقت لے گا اس کے بارے میں سر دست کچھ نہیں کہا جا سکتا …لیکن ہندو اکثریت کی فوجی برتری اس چیلنج کو زیادہ عرصہ کے لیے نظر انداز نہیں کر سکتی…اس میں شک نہیں کہ بھارتی مسلمانوں کے اس وقت جو بھی مذہبی یا سیاسی لیڈر شپ ہے اس پر بزدلی کا عالم طاری ہے اور سخت دباؤ کا شکار ہے… دوسرے الفاظ میں حقیقی لیڈر شپ کا فقدان پایا جاتا ہے… ایک قسم کا خلا ہے جسے بہر صورت پر ہو کر رہنا ہے… البتہ کشمیریوں کی جو بھی لیڈر شپ اس وقت بھارت کی جیلوں میں مقید یا گھروں میں نظر بند ہے اس کے اندر جرأت کا فقدان نہیں آزادی کا جذبہ فروزاں ہے… وہ شاید بھارتی مسلمانوں کو بھی راہ دکھا سکتے ہیں جن کی بنا پر اس کے اندر سے بھی ایسی لیڈر شپ جنم لے سکتی ہے جو در پیش خطرے سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری بصیرت اور قوت عمل کی مالک ہو گی … لہٰذا اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مودی نے کشمیر کو غلام بنانے کے لیے جو سفاکانہ کارروائی کی ہے اس کا ایک زور دار ردعمل کشمیر اور بھارت دونوں جگہ سے اُٹھے اور مایوسی کے بادل چھٹنا شروع ہو جائیں…


ای پیپر