سلام ٹیچرز ڈے… ایسا استاد کہاں؟
09 اکتوبر 2019 2019-10-09

یہ 1970ء کی دہائی کے لائل پور (فیصل آباد) کے ایک پس ماندہ گاؤں کے پرائمری سکول کا منظر ہے۔ آپ نے انگلش میڈیم اور اردو میڈیم کے مقابل دیہاتی سکولوں کے بارے میں ٹاٹ میڈیم کی اصطلاح سنی ہو گی جہاں بچے پٹ سن سے بنے ہوئے ٹاٹ پر بیٹھ کر سبق یاد کرتے تھے مگر ہمارے اس سکول میں ٹاٹ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بچے اپنی اپنی بوری گھر سے لاتے تھے جسے لائنوں میں بچھا کر کلاس ڈسپلن کا مظاہرہ کیا جاتا تھا۔ گویا چک RB-237کھڈیاں لکاں کا یہ سکول اس وقت ٹاٹ میڈیم کے درجے سے بھی نیچے تھا۔ سکول میں دو کمرے تھے جن میں سے ایک کی چھت گر چکی تھی ایک ہی کمرہ قابل استعمال تھا۔ تختہ سیاہ جسے ماڈرن دور میں بلیک بورڈ کہتے ہیں اس کے ذرا اوپر دیوار پر با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب کے الفاظ درج تھے۔ سکول کی چار دیواری نہیں تھی سکول میں واشن روم کا تصور نہیں تھا۔ پانی پینے کے لیے بچے قریبی گھروں میں جاتے تھے یا تھوڑے فاصلے پر بابا شاہ کمال کے دربار پر لگے ہوئے نلکے سے پانی پیتے تھے۔ سکول یونیفارم کوڈ موجود تھا لیکن طلباء کی اکثریت غربت کی وجہ سے یونیفارم سے بے نیاز تھی اساتذہ اس وجہ سے باز پرس نہیں کرتے تھے لیکن اس تمام کمی اور کوتاہی کو جس چیز نے بطریق احسن پورا کیا تھا وہ ہمارے استاد محترم سید صابر علی شاہ صاحب مرحوم تھے جن کو مرحوم لکھنا بڑا تکلیف دہ ہے وہ گزشتہ دنوں ٹیچرز ڈے سے چند روز پہلے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنے استاد سید میر حسن کے لیے ایک شعر لکھا تھا اتفاق کی بات ہے کہ محترم صابر شاہ بھی سید زادے تھے اس لیے وہ شعر میں نے جتنی بار پڑھا مجھے اس میں اپنے استاد کی جھلک نظر آتی تھی۔

مجھے اقبال اس سید کے گھر سے فیض پہنچا ہے

پلے ہیں جس کے دامن میں وہی کچھ بن کے نکلے ہیں

سید صابر شاہ کا درجہ کسی صورت سید میر حسن سے کم نہیں ہے ان کی بد قسمتی صرف اتنی تھی کہ انہیں شاعر مشرق جیسا کوئی شاگرد نہیں ملا۔ وہ جس خلوص لگن اور انتھک محنت سے پڑھاتے تھے آج کے اساتذہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ پانچویں جماعت کا امتحان بورڈ کا ہوتا تھا اس کے لیے انہیں والدین سے زیادہ فکر رہتی تھی کہ ان کا کوئی بچہ فیل نہ ہو۔ پانچویں جماعت کے لیے یہ لازمی قرار پایا کہ شام کی ایکسٹرا کلاس صابر شاہ صاحب کی حویلی میں ہوا کرے گی یہ اس دور کی بات ہے کہ گاؤں میں بجلی نہیں تھی ہر لڑکا اپنی لالٹین ساتھ لے کر آتا تھا آپ شاید یہ سمجھیں کہ اس وقت بھی ٹیوشن کا رواج تھا جی نہیں یہ فی سبیل اللہ ٹیوشن تھی وہ سب کو مفت پڑھاتے تھے بلکہ زبردستی پڑھاتے تھے تا کہ ہم زندگی میں کچھ بن سکیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شاہ صاحب بیمار ہو گئے اور یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا انہوں نے سکول سے چھٹی نہیں کی کہ بچوں کا وقت ضائع نہ ہو وہ گھر سے چار پائی منگوا لیتے اور سخت بخار میں لیٹے لیٹے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ میرا چیلنج ہے کہ آج کے اس دور میں کوئی مجھے ان جیسا ٹیچر دکھا دے۔ ہر سال سکول کے معائنہ کے لیے محکمہ تعلیم سے ایک افسر آتا تھا۔ اس کی تیاری کے لیے بچوں کو اچھے کپڑے پہن کر آنے کی تاکید کی جاتی تھی ہم اس حقیقت کے چشم دید گواہ ہیں کہ سکول کا امیج بہتر بنانے کے لیے کمروں کی سفیدی وہ خود اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے سکول اور بچوں کی خاطر وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار تھے۔ کیا آج کے دور میں صابر شاہ جیسے استاد کا تصور ممکن ہے۔ پڑھائی کے معاملے میں بچوں پر خاصے سخت مزاج تھے۔ ہماری خواہش ہوتی کہ استاد محترم ہمیں کوئی ذاتی کام کہیں تو ہم بھاگ بھاگ کر ان کی فرماں برداری کر کے خوش ہوتے تھے یہ سکول کی دیوار پر لکھے با ادب بانصیب والے جملے کا اثر تھا۔

گاؤں سے پرائمری پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے ہمیں شہر کا رخ کرنا پڑا جس سے ان کے ساتھ رابطے کمزور ہوتے گئے لیکن جب بھی ملاقات ہوئی ان کی شفقت میں کمی نہیں آئی۔ گزشتہ سال دسمبر میں میری بھتیجی کے انتقال پر تعزیت کے لیے تشریف لائے وہ بہت لاغر اور کمزور نظر آتے تھے ہم نے بہت اصرار کیا کہ کھانا کھائیں مگر ان کی طبیعت ناساز تھی انہوں نے کھانا نہیں کھایا۔ ان کی صحت دیکھ کر مجھے ان کی درازیٔ عمر کے لیے کی جانے والی دعائیں رائیگاں محسوس ہوئیں لیکن امید ہمیشہ زندہ رہتی ہے بالآخر اللہ کی رضا پوری ہوئی اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔

میں نے شروع شروع میں لکھنا سیکھا تو میں بائیں ہاتھ سے لکھتا تھا مگر جب صابر شاہ ہمارے کلاس ٹیچر بنے یہ غالباً چوتھی جماعت کی بات ہے تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں میرے بائیں ہاتھ کے استعمال پر پابندی لگا دی اور مجھے وارننگ دی کہ اگر میں نے تمہیں اب بائیں سے لکھتے دیکھ لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ ان کے خوف سے میں نے دائیں ہاتھ سے لکھنا شروع کیا جو پہلے پہل تو مجھے ناممکن لگتا تھا۔ آپ نے دنیا میں بائیں ہاتھ سے لکھنے والے دیکھے ہوں گے اور دائیں ہاتھ سے لکھنے والے بھی دیکھے ہوں گے مگر صابر شاہ کی تدبیر کا اثر ہے کہ میں شاید واحد شخص ہوں جو اب دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے لکھ سکتا ہوں۔ کمرۂ امتحان میں لکھتے لکھتے جب میرا دایاں ہاتھ تھک جاتا تھا تو میں بائیں ہاتھ سے لکھنا شروع کر دیتا تھا۔

میرا گاؤں میرا پرائمری سکول اور استاد سید صابر شاہ یہ ایک ایسی Triangle ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔ جب میں بحرین میں سرکاری ملازمت کرتا تھا تو وہاں تعینات پاکستان کے سفیر محترم فیض محمد کھوسو بحرین کے انگریزی اخبار گلف ڈیلی نیوز میں میرا انگریزی کا کالم پڑھتے تھے ایک نجی محفل میں انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی انگریزی بڑے کمال کی ہے آپ کہاں کے پڑھے ہوئے ہیں ان کے سوال کا جواب دینے سے پہلے جو بات میرے ذہن میں آئی وہ صابر شاہ کی ذاتی تھی میں نے ان سے انگریزی نہیں سیکھی لیکن زندگی کے ابتدائی سالوں میں انہوں نے ہمیں جینے کا فن سکھا دیا۔ اس موقع پر آج مرحوم اسلم کولسری کی وہ مشہور غزل بہت یاد آ رہی ہے جو انہوں نے اپنے گاؤں کے بارے میں رقم کی تھی۔

جب میں اس گاؤں سے باہر نکلا تھا

ہر رستے نے میرا رستہ روکا تھا

ماں نے اپنے سارے آنسو بخش دیئے

بچے نے تو ایک ہی پیسہ مانگا تھا

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

شام ہوئی اور سورج نے اک ہچکی لی

بس پھر کیا تھا کوسوں تک سناٹا تھا


ای پیپر