اضطرابی سیاست اور بگڑتی معیشت
09 اکتوبر 2019 2019-10-09

وطن عزیز کی سیاست اور معیشت کو عجیب سی صورتحال کا سامنا ہے۔ہماری سیاسی تاریخ اضطراب اور ڈرامے سے عبارت رہی ہے۔تازہ بے چینی یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی معاشی، خارجی اور داخلی معاملات پر ناکامی کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ اور دھرنے کے لیے یکسو ہیں، پیپلز پارٹی جس نے جمہوریت کی سربلندی کے ساتھ ساتھ لبرل ازم اور سیکولرازم کے پرچار کا بھی بیٹرہ اٹھا رکھا ہے، وہ مولانا صاحب کے دھرنے میںعدم شرکت کا واضح پیغام دے چکی ہے، لیکن ساتھ ہی دھرنے کی اخلاقی حمایت کا عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر حالات تبدیل ہوں تو حصہ بقدر جثہ کا موقع بھی جانے نہ پائے۔ ادھر مسلم لیگ ن بھی شہباز شریف کی مصلحت پسندی کے سبب دھرنے میں شرکت کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہے۔ جیسا کہ پچھلی سطور میں عرض کیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اضطراب اور ڈرامے کی رہی ہے یہاں ظاہر کی دوستی باطن میں بغض اور کینہ لیے ہوتی ہے، آج کے دوست کل کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست بن جانا یہاں معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ابھی چند ماہ قبل چئیرمین سینٹ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے باوجود اگر یہ سمجھا جائے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں تو خوش فریبی کی اس سے بڑی کوئی مثال نہیں ہوسکتی ہے۔ عمران خان جب کہتے ہیں کہ این آر او نہیں دوں گا تو اپوزیشن باجماعت کہتی ہے کہ این آر او مانگ کو ن رہا لیکن اسی اپوزیشن کی چند جماعتیں اور چند افراد اس امید پر مصلحت پسندی اختیار کیے ہوئے کہ اگر کل کو این آر او کرنا پڑ گیا تو پھر کیا ہوگا؟۔ لیکن نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے بارے میں ابھی تک تو گمان یہی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلمشنٹ کے خلاف اگر کوئی ڈٹ کے کھڑا ہے تو یہ باپ بیٹی ہی ہیں اور اب مولانا صاحب بھی عملاََ ان کے ساتھ شریک ہوچکے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے خلاف تحریک انصاف نے حسب روایت اخلاق باختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا کررکھا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پرحکومت کے نمائندے مولانا صاحب کے آزادی مارچ کے خلاف خوب بول رہے ہیں لیکن جب انھیں آئینہ دکھایا جاتا ہے تو برا بھی مان جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن دیو بند مکتبہ فکر کے نمائندے ہیں اور اس کی سیاسی ترجمانی کی مسند پر بھی براجمان ہیں۔ اسی مکتبہ فکر کے ایک اہم نمائندے مولانا طارق جمیل عمران خان کے اخلاص اور سادگی پر جس طرح اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے اپنی مخالفت کے حوالے سے دیو بندی مسلک کے درمیان بھی ایک خلیج پیدا کردی ہے۔ اسی طرح علامہ طاہر اشرفی بھی اپنا وزن حکومت کے پلڑے میں رکھے ہوئے ہیں اور وفاق المدارس بھی حکومت اور ریاست سے امیدیں باندھے بیٹھا ہے اور وہ امیدیں اسی صورت میں پوری ہوسکتی ہیں کہ جب مدارس کے طلبہ کو مولانا کے آزادی مارچ سے دور رکھا جائے۔ لیکن اس حوالے سے دیوبندی مکتبہ فکر کے اس چمن میں آتش گل کے خطرے کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن کاعزم بلند ہے۔

معیشت کی زبوں حالی اور کاروباری طبقے کی بڑھتی ہوئی مشکلات کے حل کے لیے ملک کی بڑی کاروباری شخصیات نے چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد پاکستان میں معیشت اور کاروبار کی بہتری میں حائل روکاوٹوں اور ان کو دور کرنے کے لیے تجاویز دینا تھا۔ لیکن یہاں بھی تحریک انصاف نے ناپختگی کا مظاہرہ کیا اور اس ملاقات میں شریک کاروباری افراد کے بارے میں طرح طرح کی خبریں پھیلانے کا سلسلہ ابھی تک جاری رکھا ہے۔ سوشل میڈیا کو تو جانے دیجئے ، بعض دانشور وں نے تو اخبارات میں کالم بھی لکھ ڈالے کہ کس طرح ان کاروباری شخصیات کی’’ درگت‘‘ اس ملاقات میں بنائی گئی۔ نواز شریف حکومت پر ایک الزام معروف زمانہ ڈان لیکس کا بھی تھا کہ میٹنگ کی خبریں باہر کیسے ’’لیک‘‘ ہوئیں۔ اس میٹنگ میں بھی اس وقت کے آرمی چیف موجود تھے۔ لیکن حالیہ ملاقات پر بے پر کی اڑانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی سننے اور دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کو جس معاشی اور اقتصادی بحران کا سامنا ہے اس کے حل کے لیے کاروباری افراد کو اعتماد اور کام کرنے کا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے یا ان کو دبائو میں رکھا جانا چاہیئے۔ سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لیے ہر آن تیار رہنے والے دانشورنما سیاستدانوں نے جنھیں کالم شائع کروانے کا بھی شوق ہے انہوں نے اپنے کالموں میں کاروباری افراد کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے اپنے نمبروں میں تو اضافہ کرلیا لیکن اس سے معیشت کی بہتری کو جو ضرب لگے گی اس کی انھیں کوئی پروا نہیں۔ بہرحال نیہب کے چئیرمین نے اپنی پریس کانفرنس میں اس کا اعادہ کیا کہ اب نیب کاروباری حضرات کو بلا ضرورت تنگ نہیں کرے گا۔

حکومت کا اپنا ’’اقتصادی ویژن‘‘ یہ ہے کہ ملک میں فیکٹریوں اور کارخانے لگانے کی بجائے لنگر خانے کھول رہی ہے۔ جس سے محسوس یہی ہوتا ہے کہ عمران خان صاحب ابھی تک چندے کی معیشت سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ ملک میں بند کارخانوں اور کاروبار کا اعتراف وزیر اعظم نے بھی کیا اور لنگر خانے کے افتتاح کے موقع پر یہ اعلان بھی کردیا کہ جب تک ملک میں کاروبار شروع نہیں ہوتا وہ لنگر خانے کھولتے رہیں گے۔تحریک انصاف کو اب ادراک ہوجانا چایئے کہ ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور بگڑتی کاروباری صورتحال چندے اکٹھے کرنے اور لنگر خانے کھلونے سے حل نہیںہوگی۔


ای پیپر