مولانا کا آزادی مارچ
09 اکتوبر 2019 2019-10-09

ہر مسلمان کی طرح میرا بھی ایمان یہی کہتا ہے کہ ناموس رسالت پر میری جان ، میرے اہل و عیال اور میری عزت قربان ۔۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہوئے دو قومی نظریے پر یقین رکھتے ہوئے اور دین محمدیؐ کے پیروکار کی حیثیت سے سیاست یا صحافت سے مذہب کو الگ کرنا ممکن نہیں ہے ۔دین آپ کو سکھاتا ہے کہ انصاف کے حصول اور قانون کے نفاذ کے لئے کوشش کریں ۔ اس لئے عوامی خدمت کی غرض سے سیاست کرنا کسی طرح بھی دین سے الگ نہیں ہے ۔ مذہب کی خدمت کرنا عبادت اور مذہب کی حفاظت کرنا جہاد کہلاتا ہے لیکن اگر یہی مذہب ہم اپنے ذاتی مقصد کے حصول کے لئے ، معاشی فائدے کے لئے یا کسی دشمنی کا بدلہ لینے کے لئے استعمال کریں تو اسے منافقت کہتے ہیں ۔جو قانون ہم نے محسن انسانیت کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف بنایا تھابدقسمتی سے اسے میرے نبیؐ کی ہی امت سے انتقام لینے کے لئے بھی استعمال کیا گیا اور عوامی رائے کسی مخصوص گروہ کے حق میں ہموار کرنے کے لئے بھی ۔تاریخ میں گواہی بھی موجود ہے اور عبرت بھی مگرہم ماضی سے کب سیکھتے ہیں ؟ہمیں تو دائرے میں رہتے ہوئے ہر چکر میں ایک ہی رکاوٹ سے ٹکرا کر زخمی ہونے کی عادت سی ہو گئی ہے ۔وطن عزیز کی 70برس کی تاریخ میں کبھی ناموس رسالت ؐ، کبھی نظام مصطفی ؐکے نفاذ ، کبھی انتخابی دھاندلی اور کبھی معاشی بدحالی کے نام پر بیرونی و اندرونی دشمن طاقتوں کے آلہ کار بننے والے چند بہروپیوں نے کبھی لبرل اور کبھی مذہب کے ٹھیکیدار کا روپ دھار کے پاکستانی عوام کو بے وقوف بنائے رکھا ۔اور اب ایک مرتبہ پھر 27اکتوبرکو جب کشمیری عوام بھارتی ریاست کی بربریت کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہوں گے ۔جب سری نگر کے محصور گھروں میں نہتے بچے اور بے یارو مدد گار عورتیں بھارتی حکومت کے افکار کا ماتم منائیں گی وہاں اسلام آباد کے ڈی چوک میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بجائے پاکستانی حکومت کے خلاف ہی نعرے لگ رہے ہونگے ۔ مجھے نہ تو 2018کے الیکشنزکی بھرپور شفافیت پر یقین ہے اور نہ ہی حکومت کے ایک سال میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کوئی شک ۔میں یہ بھی مانتی ہوں کے حکومت نے پہلے سال معاشی ، سیاسی اوربین الاقوامی محاذ پربہت سے غلط فیصلے کئے ۔ڈالر کی اونچی اڑان ، آئی ایم ایف کے پاس لیٹ جانا ، کابینہ میں بار بار تبدیلیاں اور ایک کے بعد ایک یوٹرن عمران خان کی مقبولیت میں کمی اور حکومت مخالف رائے ہموار کرنے کی وجہ بنا۔ اقوام متحدہ کی تقریر ، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ، کشمیر پر بین الاقوامی بیانیہ اورچند ایک واقعات نے عمران خان کے حامیوں کی بحث کے لئے مواد ضرور جمع رکھا مگر مجموعی صورتحال حکومت کی مقبولیت میں کمی کی صورت میں ہی سامنے آئی ہے ۔لیکن اس سب کے باوجود مجھے موجودہ حکومت ، وزیر اعظم عمران خان اورکسی وزیر یا مشیر کی ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جس کی بنیاد پر انھیں نعوذباللہ توہین رسالت کا مرتکب ٹھہرایا جا سکے ۔ مولانا کے مارچ کے دو اہم پہلوہیں ۔ایک موجودہ حکومت سے نجات اور دوسرا ناموس رسالت ۔حکومت سے نجات کی وجہ مہنگائی بتائی جا رہی ہے کیا حکومت تبدیل ہونے سے معیشت ٹھیک ہو جائے گی ؟ کیا ڈالر کی اڑان رک جائے گی ؟کیاموجودہ حکومت پر کرپشن کے کوئی الزامات ہیں ۔نہیں بلکہ اس مارچ کے نتیجے میںپیدا ہونے والا عدم استحکام اندرونی و بیرونی ملک دشمن طاقتوں کو مظبوط کرے گا ۔اس مارچ کے نتیجے میں پاکستانی بیرونی محاذ پر لڑنے کے بجائے اندرونی خانہ جنگی میں مصروف ہو جائے گا ، اس مارچ کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ کار قدم پیچھے ہٹا لیں گے اور یہی مارچ غیر جمہوری قوتوں کو اقتدار کا راستہ دکھانے کے لئے راستہ ہموار کرے گا ۔ مارچ کا دوسرا پہلوناموس رسالت کا تحفظ ہے ۔ کیا وطن عزیز میں ناموس رسالت کو مسلمان اکثریت سے خطرہ ہے ؟ کیاموجود حکمرانوں کے مسلمان ہونے پر اور نعودباللہ توہین رسالت کے مرتکب ہونے کا خدشہ ہے ؟ یہ سب بھی نہیں ہے تو پھر مارچ کس کے اشارے پہ؟ کس کو فائدہ پہنچانا مقصودہے ۔ مولانا کے مارچ کے ذمہ دار ہم اپوزیشن کو بھی نہیں قرار دے سکتے ۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ محض پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہنے کی خواہش مند ہیں ۔ کبھی ہاں اور کبھی ناکی آواز اسی پریشانی کو ظاہر کرتی ہے کہ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور بلال بھٹو زرداری بھی نہیں جانتے کہ مولانا کا ایجنڈا کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کے مارچ پر اعتراض نہیں لیکن 27 اکتوبر ہی کیوں ؟ وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں کامیاب تقریر کے بعد ہی کیوں ؟ ایسے موقع پر ہی کیوں؟جب مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں توجہ کا مرکز ہے ۔جب دنیا کشمیر میں بربریت پر بھارتی حکومت سے سوال پوچھ رہی ہے ۔ایسے وقت میں ہی کیوں مولانا فضل الرحمٰن پاکستانی حکومت کے خلاف ڈی چو ک آباد کرنا چاہتے ہیں ۔اور مارچ کے اعلان کے بعد سے مولانا فضل ارحمن بھارتی میڈیا کے ہیرو کیوں بن گئے ہیں ؟بھارتی میڈیا اس وقت اپنے نشریاتی وقت کا بڑا حصہ عمران خان کی کردار کشی اور مولانا فضل الرحمن کی تعریفوں میں کیوں صرف کر رہا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ایک پاکستانی کو مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں جانے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھنے ہیں ۔اور مولانا کو بھی ایک مرتبہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اپنے دوستوں اور مشیران کے نظریے کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ بدقسمتی سے گزشتہ 7دہائیوں میں ہمارے سیاست دانوں کے ساتھ یہی ہوتا آرہا ہے وہ کبھی جانتے ہوئے مجبوری میں اور کبھی نہ جانتے ہوئے انجانے میں ان قوتوں کا ساتھ دینے یا انکا مہرا بننے پہ مجبور ہو جاتے ہیں ۔ضیاالحق کی جانب سے اقتدار بچانے کے لئے مذہب کارڈ کا استعمال ہو ، تحریک لبیک کا دھرنا ہو یا اب مولانا کا مارچ ، سیاستدانوں اور انکے آلہ کاروں کو ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مذہب کو ذاتی مقاصد کے حصول سے دور رکھنا ہو گا ۔ورنہ دائرے کے چکر میں وہی رکاوٹیں کسی نئے روپ میں کسے نئے حربے کا استعمال کرتے ہوئے آپ کو اسی مقام پر بار بار گراتی رہیں گی ۔


ای پیپر