سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری
09 اکتوبر 2019 2019-10-09

موجودہ حکمران توکفن چورکے بیٹے سے بھی دونہیں سوقدم آگے نکلے۔سادہ لوح عوام کومہنگائی ،غربت،بیروزگاری اورپسماندگی سے پا ک نئے پاکستان کے سپنے اورخواب دکھانے والوں نے محض ایک سال میں انہی غریب عوام کے منہ سے روٹی کانوالہ چھیننے کے ساتھ اب ان کے جسم سے گوشت نوچنے ،خون اورہڈیاں چوسنے کاکام بھی شروع کردیاہے۔عوام کی قسمت بدلنے کے لئے بھینس ،کٹے،مرغیاں اورانڈے بیچنے والوں نے اب قوم کی تقدیربدلنے کے لئے عوام ہی کوبرسربازارنیلام کرنے پراپنی نظریں مرکوزکردی ہیں ۔حکومتی وزیروںاورمشیروں کے بدلتے تیوراوراژدھوں کی طرح کھلے منہ دیکھ کریوں محسوس ہو رہاہے کہ حالات اگریہی رہے تواس بدقسمت ملک کے بدقسمت عوام بھی بہت جلدبھینس،کٹوں،مرغیوں اورانڈوں کے درجے پرفائزہوں گے۔ کل تک چوری چپکے اپنے گھروں سے قیمتی سامان کباڑیوں پربیچنے کاجوکام چرسی ،پوڈری اورشرابی کرتے تھے اب وہی کام آئی ایم ایف کی محبت اورذاتی تجوریاں بھرنے کے عشق میں ہمارے نئے پاکستان کے ان حکمرانوں نے شروع کردیاہے۔ سرکاری ہسپتال بھی کسی نے بیچے ہیں ۔۔؟یقین نہیں آرہاکہ مفت علاج کے نام پرغریب عوام سے زکوٰۃ ،صدقات ،خیرات اورفطرانے لیکر شوکت خانم کینسرہسپتال تعمیرکرنے والے اب غریبوں کی آخری امیدگاہوں ،، سرکاری ہسپتالوں کوبھی ،،کاروباری مراکز،،بنائیں گے۔ہم اب تک تویہی دیکھتے اورسنتے آئے کہ عوام کوصحت اورتعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی مفت اورفوری فراہمی وقت کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اوراس ذمہ داری کواحسن طریقے سے اداکرنے میں حکمران نفع اورنقصان کبھی نہیں دیکھتے۔ مگریہ غالباًتاریخ میں وہ پہلے حکمران ہیں جوسرکاری ہسپتالوں اورسکولوں کوبھی ،،بچت مراکز،،بناناچاہتے ہیں ۔بھینس اورکٹوں کے بیچنے سے اپنی حکمرانی کامبارک آغازکرنے والوں کوکیاپتہ کہ عوام کے بھی کوئی حقوق ہوتے ہیں ۔۔؟جس طرح ایک بیوپاری،دکانداراورتاجرکی نظریں صرف منافع اورخالص منافع پرہوتی ہے اسی طرح موجودہ حکمرانوں کی نظریں بھی ایک سال سے صرف اورصرف ،،خالص منافع،، پراٹکی ہوئی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں سے منافع کیوں نہیں آرہا۔۔؟اس بنیاد پرخیبرپختونخواکے تمام سرکاری ہسپتال پچھلے دوہفتوں سے تماشابنے ہوئے ہیں۔اصلاحات کے نام پرسرکاری ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری سے ڈاکٹروں سے لیکرپیرامیڈیکل سٹاف اورغریب عوام کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں مگرحکومت کواس کی کوئی پرواہ نہیں ۔صوبے کے تمام چھوٹے اوربڑے ہسپتالوں میں دوہفتوں سے علاج معالجے کی سرگرمیاں معطل اورصحت سے متعلق سہولیات کی فراہمی تقریباًبندہے مگرانصاف کے نام پراقتدارمیں آنے والے حکمران چین کی بانسری بجاکرگہری نیندسورہے ہیں۔دوہفتوں سے صوبے کے ہزاروں اورلاکھوں غریب عوام کوصحت کی کوئی مفت سہولت نہیں مل رہی ۔لوگ ایڑھیاں رگڑرگڑکرجان دے رہے ہیں مگرحکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے۔کیاعوام نے تحریک انصاف کواس لئے ووٹ دیئے تھے کہ یہ اقتدارمیں آکرغریب عوام کے ساتھ اس طرح کاانصاف کریں گے۔۔؟ سرکاری ہسپتال یہ غریبوں کا آخری آسراہے۔پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سکت اورطاقت نہ رکھنے والے غریب ان ہسپتالوں کارخ کرتے ہیں اوریہاں ان کے زخموں پرمرہم رکھے جاتے ہیں ۔امیرزادوں،شہزادوں اورتحریک انصاف والوں کی طرح پیسے والوں کے لئے توپرائیوٹ ہسپتالوں کی کوئی کمی نہیں لیکن اس ملک کے غریب عوام کے لئے ان سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ نہ کوئی اور ہسپتال ہے اورنہ ہی اورکوئی جگہ۔ اس ملک کے غریب توآخری ہچکیاں بھی انہی سرکاری ہسپتالوں میں لیتے ہیں اب اگرانہیں بھی پرائیوٹ کرکے ایک دکان کادرجہ دیاجائے توپھراس ملک کے غریب زندگی کی چندسانسیں بچانے کے لئے کہاں جائیں گے۔۔؟پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواحکومت نے اصلاحات کے نام پرصوبے بھرکے سرکاری ہسپتالوں کوغریبوں کی پہنچ سے دورکرنے کے لئے جال بچھادیاہے۔اللہ نہ کرے اگرحکومت اپنے ان مذموم اورخفیہ عزائم میں کامیاب ہوگئی توپھرصوبے کے ان سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کے لئے ایک دن علاج بھی ممکن نہیں رہے گا۔صوبائی حکمران اصلاحات کی آڑمیں غریب عوام کے ساتھ جوکھیلواڑکھیل رہے ہیں اس کاانجام ہرصورت انتہائی خوفناک اوربھیانک ہوگا۔ان عوام دشمن اصلاحات پرڈاکٹروں کی ہڑتال پرحکومت کی جانب سے تویہ کہاجارہاہے کہ ان اصلاحات سے عوام کوفائدہ ہوگا۔ڈاکٹران کی اس لئے مخالفت کررہے ہیں کہ ان کے مفادات کونقصان پہنچ رہاہے مگرحقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ان اصلاحات سے جس طرح ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس اورسرکاری ہسپتالوں کے دیگرملازمین کونقصان پہنچ رہاہے اس سے بھی دوگنانقصان کل کوعوام کوپہنچے گا۔حکمران ڈاکٹروں کونشانہ بناکرعوام کوبیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے بھی ایسے ہی عوام کش اصلاحات جسے ایم ٹی آئی کانام دے کرصوبے کے بڑے تدریسی ہسپتالوں میں نافذکیاتھااس وقت بھی یہی کہانی پڑھائی گئی تھی کہ ان اصلاحات سے نہ صرف ان ہسپتالوں میں معاملات بہترسے بھی بہترہوجائیں گے بلکہ عوام کوبھی بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی ہوگی مگرپھردنیانے دیکھاکہ ایم ٹی آئی کے نفاذسے نہ صرف ان بڑے ہسپتالوں کانظام درہم برہم ہوابلکہ عوام کے لئے طبی سہولیات کاحصول بھی آسان نہیں رہا۔کیونکہ ایم ٹی آئی کے نفاذسے جہاں ان بڑے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی مکمل طورپربندہوئی وہیں ایم آرآئی،سی ٹی سکین،ایکسرے ،الٹراسائونڈاوردیگرٹیسٹوں کی قیمتوں میں بھی ڈبل سے ٹرپل اضافہ ہوا۔ایم ٹی آئی کی آفت آنے سے پہلے اوپی ڈی کی جوپرچی پہلے دس روپے میں ملتی تھی وہ بھی پھرتیس سے پچاس روپے تک پہنچی۔جس طرح عام انتخابات سے پہلے سادہ لوح عوام کویہ سپنے اورخواب دکھائے جارہے تھے کہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعدملک میں دودھ اورشہدکی نہریں بہیں گی اسی طرح آج ایک مرتبہ پھروہی پرانی کہانیاں پڑھائی اوردہرائی جارہی ہیں کہ محکمہ صحت میں ان نئے اصلاحات سے عوام کو فائدہ ہی فائدہ ہوگامگرحقیقت کاان نعروں،دعوئوں،سپنوں ،خوابوں اورکہانیوں سے دوردورتک کوئی تعلق نہیں۔جس طرح ماضی میں ایم ٹی آئی غریب عوام اورمحکمہ صحت کے ملازمین کے لئے کالاقانون ثابت ہوااسی طرح صوبائی حکومت کے یہ نئے قوانین بھی کل عوام کے لئے کالے بلکہ انتہائی درجے کے کالے قوانین ثابت ہوں گے۔صوبے کے عوام نے اگراس وقت ڈاکٹرکمیونٹی اورسرکاری ہسپتالوں کے دیگرملازمین کے ساتھ ملکران کالے قوانین کاراستہ نہ روکاتوکل کوغریبوں کے لئے صوبے میں مفت وفری علاج کے لئے کوئی جگہ بھی نہیں بچے گی۔انصاف کے نام پرعوام سے ووٹ لینے والوں کوبھی عوام کے ساتھ کچھ انصاف کرناچاہیئے۔عوام کوبنیادی سہولیات کی فراہمی میں نقصان کونہیں دیکھاجاتا۔ سرکاری ہسپتال اورسکولزیہ ویسے بھی منافع اورمال کمانے کے لئے نہیں ہوتے۔ سرکاری ہسپتال بھی اگردکان اوربچت مراکزبنیں گے توپھرعوام کوطبی سہولیات کی فراہمی کیسے ممکن ہوگی ۔۔؟اس سوال کاجواب ہسپتالوں کومنافع بخش ادارے بنانے کے چکرمیں پڑے ہمارے ان نادان حکمرانوں کے پاس بھی نہیں ہوگا۔ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کرکے عوام کوطبی سہولیات کے لئے دربدرکرنایہ صحت کاانصاف ہرگزنہیں۔آئی ایم ایف اورکسی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سرکاری ہسپتالوں کوسیاسی اکھاڑا اور تماشا بنا کر خیبرپختونخواکے حکمرانوں نے صوبے سے صحت انصاف کاجنازہ دھوم دھام سے نکال دیاہے۔انصاف کے ان نام نہادعلمبرداروں کواب سوچناچاہیئے کہ یہ غیروں کے اشاروں پرجوکچھ کررہے ہیں وہ کسی بھی طورپرانصاف نہیں۔انصاف کاتقاضایہ ہے کہ غریب عوام پرسرکاری ہسپتالوں کے دروازے بندکرنے کی بجائے عوام کوصحت وتعلیم کے ساتھ دیگربنیادی سہولیات کی فوری اورفری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام بھی زندگی کے کچھ دن آرام وسکون کے ساتھ جی سکیں۔


ای پیپر