’’ برگر کھانے والے… تربوز سے ڈرنے والے بچے؟ ‘‘
09 اکتوبر 2019 2019-10-09

ہمارے بچپن میں گُڑ شکر کا استعمال عام تھا۔یہ سفید چینی اُس وقت شاید ’’ بہت زیادہ ‘‘ اچھی چیز نہیں سمجھی جاتی تھی۔(ویسے اطلاعاً عرض کر دوں کہ یہ کوئی پانچ سو سال پرانی بات نہیں!)ہمارے دور میں گُڑ بھی برائون بلکہ سیاہی مائل ہوتا تھا۔اور شوگر کے مریض بھی رات کے کھانے کے بعد گُڑ لازمی کھایا کرتے تھے.... بڑی مقدار میں۔کیونکہ انہیں با لکل اندازہ نہیں ہوتا تھا ۔کہ وہ شوگر جیسے مُو ذی مرض کا شکار ہیںاور ہر وقت موت سایے کی طرح اُن کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔اس دور میں یہ بحث بھی عام تھی کہ انسان ’’ بکواس ‘‘کرتا ہے کہ وہ چاند پر قدم رکھنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔اُس دور میں ’’ برگر ‘‘ ابھی نیا نیا ایجاد ہوا تھا ۔اور اکثر لوگوں کو برگر کھانے کا طریقہ بھی نہیں پتہ تھا ۔جانوروں کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا... کہ وہ صدیوں سے ایسے ہی کھاتے آئے ہیں۔ برگر کے ساتھ چائنیز پکوڑے بھی آئے جنہیں پنجابی میں ’’ ڈرم سٹکس‘‘ کہتے ہیں۔

جُوں جُوں مائوں نے اپنے نوزائیدہ بچوں کو گود میں اٹھانا چھوڑا... توں توں گھر سے باہر جا کر کھانے کا رواج عام ہونے لگا۔مائیں ہمیں نہایت شوق اور محبت سے ساگ پکا کر مکھن ڈال کر مکئی کی روٹی کے ساتھ کھلوا تیں اور بچے دیکھتے ہی دیکھتے مرد بن جاتے۔مردوں والی کھیلیں عام تھیں ... کبڈی،ہاکی فٹ بال وغیرہ۔اب بچے پہلے نوکرانی کے ہاتھوں فیڈر میں دودھ پیتے ہیں... پھر نوکرانی کے ہاتھوں برگر کھاتے ہیں اور پھر نوکروں کے ہاتھوں میں ہی بڑے بچے بن کر اسکول کالج جانے لگتے ہیں،(تربیت کا عمل بذریعہ نوکر ہونے لگا ہے )اور بڑوں کی محفل میں’’ پا پا ‘‘ کے پیچھے چھپ کر ’’ بڑوں ‘‘ کی باتیں سنتے ہیں اور ’’ شرماتے ‘‘ چلے جاتے ہیں۔’’ہائے گندی گندی باتیں..... توبہ ‘‘۔ کسی ایم بی اے کے سٹوڈنٹ کو لڑکیوں کے ساتھ بریانی کھاتا دیکھیں ،سب سمجھ آجائے گا۔’’ہائے .... ٹمی .....میں بوٹی نہیں کھاتا.... یہ کوئی کھانے کی چیز ہے .... آئو.... چلی ملی کھاتے ہیں،ایک ہی پلیٹ میں بہن بہن بن کر...ایسے ہی کچھ لڑکیاں بھی ’’ برادر‘‘ دکھائی دیتی ہیں...بھلا میک اپ سے نزاکت تو نہیں آتی ناں... ؟

آج کے بیس سالہ ’’بڑے بچے ‘‘ کو شرم بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے... یہاں تک کہ وہ مسجد میں بھی ’’ پاپا‘‘ کے ساتھ ہی جاتا ہے۔اور بازار میں خریداری کے لیے اُ سے ’’ ماما‘‘ کا سہارا لینا پڑتا ہے... پٹھان پچاس روپے والی عینک کے سات سو مانگے تو وہ دے دیتا ہے۔اِنہیں بڑے تربوز سے ڈر لگتا ہے تربوز اور حلوہ کدہ کو میں بھی دیر تک ایک ہی چیز سمجھتا رہا ہوں۔شکر ہے میں نے بچپن میں ضد نہیں کی ... ’’ امیّ آج میں تربوز کے ساتھ روٹی کھائوں گا‘‘؟وغیرہ وغیرہ...

کل میں نے ایک ایسے ’’بچے ‘‘کو باپ سے سوال کرتے سُنا تو میں رُک گیا میرا سانس بند ہونے لگا ۔’’ پاپا یہ سجدہ سہو کیا ہوتا ہے ‘‘۔ہم گُڑ کھانے والوں ساگ کے ساتھ مکئی کی روٹی کھانے والوں کو سات سال کی عمر میں ہی اللہ کے فضل سے پتہ ہوتا تھا کہ ’’سجدہ سہو‘‘ کیا ہوتا ہے.. . اور کیسے ادا کیا جا تا ہے کہ ہمیں مائیں ساری دعائیں،بڑی سورتیں،مذہبی واقعات سات آٹھ سال کی عمر میں یاد کروا چکی ہوتی تھیں اور اپنے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے بچوں کو بھی جائے نماز پر بٹھا لیتی تھیں ۔آجکل ماں بچہ’’بے ہودہ‘‘فلم اِک ساتھ دیکھ سکتے ہیں ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہوئے ..... ہے ناں انڈر سٹینڈنگ کی بات؟ہاں البتہ ماہ رمضان میں سب افطار سے پہلے حسین و جمیل لڑکیوں کو ٹی - وی چینلز پر افطاری کرتا دیکھتے ہیںسب گھر والے اِک ساتھ۔

پھر’’ برگر ‘ ‘ ... کی ایجاد کے ساتھ ہی ’’ شوارما ‘‘ وجود میں آگیا... ماڈرن دور کی ماں کے لیے اِک اور سہولت پیدا ہو گئی۔حالانکہ یہ سب چیزیں اس ماڈرن معاشرے میں ضروری سمجھی جاتی ہیں. . جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشا نہ دفتروں فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں۔اور چونکہ دونوں میاں بیوی سارا دن مصروف ہوتے ہیں واپسی پر برگر ،شوارما لیا کچھ جوس وغیرہ پیا اور سو گئے۔مگر یہاں سارا دن تھوڑا بہت کام کاج کر کے سارا دن ٹیلی ویژن پر ’’ ’’بھارتی چینل‘‘ پر ہزار ہزار قسطوں والے ڈرامے دیکھ کر جب عورتیں تھک جاتی ہیں... ( چپکے چپکے سے اب تو ترک،رشین نیم عریاں فحش ڈراموں کی سہولت بھی اردو ڈبنگ کے ساتھ موجود ہے جبکہ . ..ریما تو ان بیرونی ڈراموں کی ’’ بلندی ‘‘ سے گھبرا رہی ہیں...)تو وزن مزید بڑھانے کے لیے وہ پھر برگر ،شوارما وغیرہ وغیرہ خود بھی کھاتی ہیںاور ’’ بے چارے‘‘ بچوں کو بھی یہی کھلواتی ہیں... روز بر گر یا شوارما کھانا ایسے ہی ہے جیسے بے چارہ شوہر روز بیوی سے جھڑکیاں کھائے۔بدمزہ مگر مسکراتے ہوئے...تلخ و شریں باتوں کے ساتھ۔

پاکستان میں 1965 کے بعد کوئی شاید بڑی فیکٹری ایجاد نہیں ہوئی البتہ کاسمیٹکس کی کاٹیج انڈسٹری اور برگر ،شوارما بیچنے والے ایک ہی شہر میں بیسیوں ریسٹورنٹ بن گئے اور انہوں نے خوب ترقی کی ... یا پھر موبائل فون اِک انڈسٹری کی شکل اختیار کر گیا کہ بیس کروڑ آبادی والے ملک میں ایک’’ عرب‘‘ سے زائد موبائل دستیاب ہیں اور بے چارے پیغام رساں کبوتر ’’ بے روزگاری‘‘ کے ہاتھوں تنگ .... اپنی موت آپ مر گئے.. ’’ کبوتر جا جا جا...... کبوتر جا جا جا گانے والی اب بھارت جا بیٹھی ہیں۔رسالوں کے ننگے ٹائٹل بن جانے کے لیے . .. باقی پاکستانی اداکارائیں بھی بمبئی جانے کے لیے پر تول رہی ہیں... حالانکہ اُن کے تو پر کٹ چکے ہیں اور تب سے لوگ اُنہیں گنجی کبوتری کہتے ہیں۔ویسے مودی حرامزدگی پر اترا ہوا ہے کشمیر میں اِس لیئے مشترکہ فلمی کوششیں بھی ’’ سٹاپ‘‘ ہیں۔

لاہور میں شوارما ... تیس روپے میں بھی ملتا ہے ۔اور دو سو سے تین سو تک بھی شوارما گلی محلوں میں دستیاب ہے۔

آج میں گھر سے نکلا ... تو شہر کی سب سے اہم اور بڑی سڑک پر میں نے یہ بورڈ آویزاں دیکھا...

’’ واقعی ... بڑا شوارما‘‘ .... ’’ سچی مُچی . .بڑا شوارما‘‘

کل کو شاید مرزا ذولفقار کو دیکھا دیکھی بینر لگا ہو اور اُس پر بہت بڑا لکھا ہوا . ..’’ خدا کی قسم ...واقعی بڑا شوارما‘‘ ... لیڈر شپ کی ادائیں بھی تو دلبر با ہوتی ہیں ناں۔

رات ٹیلی ویژن پر بحث چل رہی تھی... اِک چینل پر نہایت خوبصورت خاتون . .. نہایت خوبصورت انداز میں ... نہایت بزرگ قسم کے چار سیاستدانوں کو سامنے بٹھائے.. نہایت روانی کے ساتھ اردو بولتے ہوئے . .. نہایت بڑے سیاستدانوں کے ’’ اثاثوں‘‘ کی بات کر رہی تھی۔سنا ہے سب نے اپنے اثاثے ظاہر کر دیئے .. جو نہیں کریں گے اُن کے اثاثے نیب خود تلاش کر لے گا؟؟

’’ واقعی بڑا شوارما ‘‘ کھانے والے دیکھیں اب کس کو ’’ واقعی بڑا لیڈر‘‘ مانتے ہیں؟!!فی الحال تو سنا ہے موجودہ حکومت ... ’’ واقعی بڑی مشکل ‘‘ میں ہے ۔کہ اِک ’’ بڑے مولوی‘‘ نے.... حکمران خاندان کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

سرکاری ادارے بڑے بیان جاری کر رہے ہیں... 27 اکتوبر کو بڑی تحریک کا آغاز ہو گا ....یا اِک بڑا مولوی بھی ’’ فلاپ‘‘ ہو جائے گا۔ویسے آخری خبریں آنے تک عمران خان دنیا کے بڑے لوگوں میں چھٹے نمبر پر آچکے ہیں... ؟


ای پیپر