”حاملہ ماں، نوزائیدہ بچہ او رکرکٹ“
09 اکتوبر 2019 2019-10-09

یہ اکتوبر کا پہلا عشرہ ہے اورمیرے شہر میں ایک ساتھ دو واقعات ہو رہے ہیں، ایک طرف پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچ ہو رہے ہیں ، شور مچا ہوا ہے کہ میرے شہر میں کرکٹ آئی ہے، تمام ٹی وی چینلوں کی اس پر بھرپور نظر ہے، ہر چوکے، چھکے اور آو¿ٹ کی بریکنگ نیوز ا ٓ رہی ہے مگر دوسری طرف بنیادی مراکز صحت میں کام کرنے والی چند ہزار لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کے ساتھ ان کی آیائیں اور چوکیدار ہیں جو سیکرٹریٹ چوک میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں ، ان کی طرف بھی چند ٹی وی چینلوں کی توجہ ہے مگر کچھ زیادہ نہیں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میچ کے مقابلے میں ایک، دو یا اڑھائی فیصد۔ٍ

ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے کہ کرکٹ ایک جنون ہے، مزا ہے اور مستی ہے جبکہ دوسری طرف وہی روایتی رولا اور سیاپا ہے کہ ہم غربت کے ہاتھوں مارے گئے ، ہاں،مگر ایک تعلق ضرور ہے اور وہ خرچے کا ہے کہ کرکٹ میچ پر بھی خرچ ہو رہا ہے اور بنیادی مراکز صحت کے اس عملے پر بھی۔ میں نے گُوگل کیا تو علم ہوا ہے کہ پاکستان بہت سارے دوسرے ممالک کے مقابلے میں حاملہ ماں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچانے والے ممالک میں بہت پیچھے ہے، جی ہاں، پاکستان اس کے باوجود بہت پیچھے ہے کہ گزشتہ پچیس برسوں میں ہم نے بچوں کو جنم دیتے ہوئے ماو¿ں کے مرجانے کی تعداد کو آدھا کر دیا ہے اور الحمد للہ بچ جانے والے بچوں کی تعداد میں بھی ایک تہائی اضافہ ہو گیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پنجاب بھر کے ایک ہزار بنیادی مراکز صحت پر تینوں شفٹوں میں کام کرنے والے اس عملے نے ہمارے دیہات کی حاملہ ماو¿ں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردارادا کیا ہے کیونکہ آج سے آٹھ، دس برس پہلے دیہات میں صرف دائیاں ہوا کرتی تھیں جن کی حمل اور پیدائش کے طبی امور پر دسترس محض ان کے تجربات کی بنیاد پر ہوتی تھی اور یوں بہت ساری مائیں اور بچے ان تجربات کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔ مجھے عملے نے بتایا کہ ان کی تعیناتی سے پہلے بنیادی مراکز صحت بھوت بنگلے ہوا کرتے تھے اور ان میں سے بہت سارے مراکزایسے تھے جنہیں بااثر افراد نے اپنے ڈیروں پر بنوا لیا تھا تاکہ وہاں مویشی باندھ سکیں مگر ماں ، بچہ صحت کا پروگرام شروع ہوا تو ان بنیادی مراکز صحت پرتین شفٹوں میں عملہ آ گیا اور ہر مرکز صحت پر ہر مہینے سو سے زائد( یعنی روزانہ تین سے چار) ڈیلیوری کیسز ہونے لگے۔ آپ اوسطاًایک سو ڈیلیوری کیسز کو ایک ہزار مراکز صحت کے ساتھ ضرب دیں تو یہ ایک لاکھ مائیں اور بچے بنتے ہیں جو وہاں سے تجربہ کار سٹاف سے زندگی پاتے ہیں۔ مجھے یہ بھی کہنے میں عار نہیں کہ اگر اس وقت پنجاب کے دیہات میں حاملہ ماو¿ں اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموا ت کو دیکھا جائے تو یہ مزید کم ہو چکی ہو گی۔

ان بنیادی مراکز صحت پر لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو پچیس ہزار روپے جبکہ آیا اور چوکیدار کو پندرہ ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ آپ سوال کر سکتے ہیں کہ جب سرکاری سطح پر کم از کم تنخواہ سترہ اور اٹھارہ ہزار روپے مقرر ہے تو سرکار خود اپنے ہی قانون کی خلاف ورزی کیوں کر رہی ہے تو یہ ایک اچھا سوال ہو گا مگر اس کا کوئی جواب نہیں کہ جواب تو اس امر کا بھی نہیں کہ دیہات میں خدمات سرانجام دینے والے ان مسیحاو¿ں کو ہفتہ وار چھٹی تو ایک طرف رہی، چھوٹی بڑی عید تک کی چھٹی نہیں دی جاتی مگراس کے باوجود ہر مہینے ایک لاکھ ماو¿ں اور بچوں کو زندگی دینے والا یہ سٹاف تبدیلی سرکار کو بہت مہنگا پڑ رہا ہے، اتنا مہنگا کہ انہیں تنخواہیں دیتے ہوئے حکومت کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور یوں ان کی تنخواہ کبھی دو اور کبھی تین ماہ لیٹ ہوجاتی ہے، ستم ظریفی تویہ ہے کہ اس برس ان کا پی سی ون بھی نہیں بنااور شنید ہے کہ ان کو اپنے کسی پیارے کی نجی کمپنی کے حوالے کیا جا رہا ہے ، بالکل اسی طرح جیسے تما م ہسپتال بورڈ آف گورنرز کے نام پر عطائیوں کے حوالے کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ صحت میں جناب عمران خان کے’ دو نہیں ایک پاکستان‘ ایک پاکستان کے نعرے کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے بس فرق الفاظ کی ترتیب ہے کہ یہاں نعرہ ’ ایک نہیں دو پاکستان‘ کا ہے کہ اس پروگرام کے افسران اور دوسرے پروگراموں کے ساتھی تو ریگولر ہو چکے ہیں مگر یہ دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔آپ حکومت سے اتفاق کر سکتے ہیں کہ جب خزانہ خالی ہو تو بہت سارے پروگرام بند یا پرائیویٹائز کرنے پڑتے ہیں چاہے وہ پروگرام کسی کی زندگی سے جڑے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں۔

میں نے دوسری طرف دیکھا کہ کرکٹ کے لئے غیر معمولی انتظامات ہیں۔ قذافی سٹیڈم سے میلوں دور تک مصنوعی روشنیوں کا اہتمام کیا گیا ہے ،ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں ، سکیورٹی کی وجہ سے بہت ساری سڑکیں بند ہیں اور شائقین کو قذافی سٹیڈیم تک پہنچانے کے لئے خصوصی شٹل سروس بھی شروع ہے۔ اگر آپ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہونے والے میچوں پر مجموعی اخراجات کو دیکھیں گے تو یہ یقینی طور پر اربوں روپوں میں پہنچ جائیں گے۔ میں غدار کہلانے سے ڈرتا ہوں لہٰذا میں دوٹوک انداز میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان سری لنکا سیریز عین پاکستان کے مفاد میں ہے اور کوئی غدار ہی یہ سوال کر سکتا ہے کہ جب قومی خزانہ خالی ہو تو پھر میچوں کی عیاشی کس لئے کی جار ہی ہے لہٰذا میں یہ سوال ہرگز نہیں کرتا بلکہ ٹی وی چینلوں پر میچ پر خوشی سے پاگل نظر آنے والے میک اپ سے لدے ہونے کے بعد بہت پیار ی نظر آنے والی خواتین اینکروں کو دیکھتا ہوں تو ہر غم بھول جاتا ہوں۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ہمارا ملک حاملہ ماو¿ں اور نوزائیدہ بچوں کی اموا ت میں خطے کے ممالک سے بھی آگے ہیں اور ہمار ے پاس ان کی زندگیاں بچانے والے عملے کی تنخواہیں اور انہیں ریگولر کرنے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔یہ وہ عملہ ہے جو اس بنیادی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ویکسی نیشن، فیملی پلاننگ اوران کمزور بچوں کی نیوٹریشن کے حوالے سے بھی خدما ت سرانجام دیتا ہے، وہ بچے جن کے دماغ کی تصویر جناب عمران خان نے وزات عظمیٰ کا تاج پہننے کے بعد اپنی پہلی نشری تقریر میں دکھائی تھی۔ میں مانتا ہوں کہ مدینے کی ریاست تیرہ ماہ میں نہیں بن سکتی کہ ملک کو وہ سابق حکمران لوٹ کر تباہ وبرباد کر گئے ہیں جن کے دور میں ایسے ماں بچہ صحت نام والے عجیب و غریب پروگرام چلا کرتے تھے۔ ہمیں اپنے قلم اور کیمرے کو قذافی سٹیڈیم کی رنگینیوں کی طرف رکھنا ہو گا، ہمیں سیکرٹریٹ میں دھرنا دینے والی ان پینڈو عورتوں کی طرف دھیان دینے کی کوئی ضرورت نہیں جن کی اکثریت نے پرانے پاکستان کی عورتوں کی طرح اپنے چہرے ڈھانپ رکھے ہیں۔ مجھے میچ دیکھتے ہوئے مستی سے جھومنے والی جوانیوں کی طرف رہنا ہے، مجھے حکومت کے اس اقدام کو سراہنا ہے کہ اس ترجیحات میں پاکستان کا سافٹ امیج زیادہ اہم ہے۔


ای پیپر