خطرناک جاسوس خواتین ،،،دلچسپ اور معلوماتی رپورٹ
09 اکتوبر 2018 (23:46) 2018-10-09

قصوری:عام طور پرخواتین کو صنف نازک کہا جاتا ہے،اُنہیں اسے نام سے پکارنے کی وجہ یہ قرار دی جاتی ہے کہ یہ اُن سخت حالات کا سامنا نہیں کرسکتیں جو کسی بھی خفیہ مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والا خفیہ ایجنٹ یا جاسوس برداشت کر سکتا ہے۔لیکن یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جاسوسی کے مشکل کام کو ایک ایڈونچر سمجھنے والی خواتین نے نہ صرف اپنے مقاصد کے حصول اور مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلئے جان توڑ کوشش کی اور اپنا نام تاریخ میں درج کروانے میں کامیاب رہیں۔ ان میں سے تو بعض نے اپنے مشن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے افراد کو قتل تک کرنے سے گریز نہیں کیا، اور بعد ازاں پکڑے جانے پر سخت سزاﺅں کو بھی ہنس کر قبول کیا۔آج ہم اپنے قارئین کو تاریخ کی چند ایسی ہی نڈرخواتین سے متعارف کروانے جا رہے ہیں۔

ماتا ہری، جاسوسی کی دنیا کا پُراسرارکردار

پہلی جنگ عظیم کی بات کریں تو ہمیں تاریخ بتاتی ہے کہ اس دور میں ایک رقاصہمارگریٹ زیلے کے چرچے زبان زد عام تھے جنھیں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی۔مارگریٹ زیلے 1876ءمیں ہالینڈ میں پیدا ہوئی تھیں۔ جو بعدازاں ماتا ہری کے نام سے مشہور ہوئیں،کہا جاتا ہے کہ ان کا معروف نام ماتا ہری انڈونیشیائی زبان سے آیا، جس کا مطلب ،دن کی آنکھ، یعنی سورج تھا۔ ان کے شوہر فوج کے ایک کپتان تھے لیکن وہ اپنی شادی سے خوش نہ تھیں، انہیں اپنی شادی کے باعث بہت تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔اُنہیں اپنے شیر خوار بچے کی موت کا دکھ بھی جھیلنا پڑا ۔ 1905ءمیں اُنہوں نے اپنی شخصیت کو یکسر تبدیل کرنے کی ٹھانی ،جس کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے پاﺅں سے شادی کی زنجیر اُتار پھینکیں۔ جس کے بعد انھوں پیرس میں بطور رقاصہ خوب شہرت حاصل کی۔

ماتا ہری کے نام سے شعلہ جواں رقاصہ نے میلان کے لا سکالہ اور پیرس کے اوپرا کلبزمیں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ شائستگی سے متعلق قوانین سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنی پرفارمنس کو’ ’مقدس رقص“ کے طور پر پیش کیا۔ان کے چاہنے والوں میں وزرائ، صنعتکار اور جنرل جیسی امیر شخصیات شامل تھیں ۔ اور ان کی اسی آسان رسائی کے پیش نظر جرمنی نے اُنھیں پیسوں کی پیشکش کی کہ وہ اُس سے اتحادی افواج کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔ پہلی جنگ عظیم میں ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اتحادی افواج کےلئے جاسوسی کریں۔ کہا جاتا ہے کہ ماتا ہری نے خود اپنے ہاتھوں سے کسی کو قتل نہیں کیا تھا، تاہم یہ باتیں بھی کی جاتی ہیں کہ ان کی جاسوسی کی وجہ سے 50 ہزار فوجی مارے گئے۔ فرانس نے ان کی دوہری شخصیت پر شک کرنا شروع کیا اور فروری 1917ءمیں انھیں پیرس سے گرفتار کیا گیا اور اکتوبر میں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔ماتا ہری کی شخصیت پُر اسراریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے،ان پر یہ الزام لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کہ وہ جرمنی کے لئے کام کرتی تھیں ۔لیکن ماتا ہری کا کہنا تھا کہ ان کی ہمدردیاں اتحادی فوجوں کےلئے تھیں۔انہی وجوہات کی بناءپران کی موت کے سو برس گزرنے کے بعد بھی یہ بحث جاری ہے کہ آیا وہ قصور وار تھیں یا نہیں؟

تاہم فرانسیسی وزارتِ دفاع نے کچھ ایسی دستاویزات جاری کی ہیں ،جن سے دنیا کی تاریخ کی اس مشہور ترین جاسوسہ کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں جو اس سے پہلے دنیا کی آنکھ سے اوجھل تھے۔ ان میں 1917ءمیں ماتا ہری سے ہونے والی پوچھ گچھ کی دستاویزات بھی شامل ہیں۔ ان میں کچھ کو نیدرلینڈز میں ماتا ہری کے آبائی شہر لیووارڈن کے فرائز میوزیم میں نمائش کےلئے رکھا گیا ہے۔ان دستاویزات میں میڈرڈ میں جرمنی کے فوجی اتاشی کی جانب سے برلن کو بھیجا گیا وہ خط بھی شامل ہے جو ماتا ہری کی گرفتاری کا باعث بنا۔آرنلڈ فان کالے کی جانب سے جرمنی بھیجا جانے والا خط ماتا ہری کا بھانڈا پھوڑ نے کا باعث بنا۔ اس خط میں ایچ 21 نامی ایک جرمن جاسوس کا ذکر تھا۔ اس میں پتہ، بینک کی تفصیلات، حتیٰ کہ ماتا ہری کی خادمہ کا نام بھی درج تھا۔

فرانسیسی حکام کو یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی کہ ایچ 21 دراصل ماتا ہری ہیں۔نمائش میں یہ تار بھی موجود ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس خط کا سرکاری ترجمہ موجود ہے، اور یہیں سے سارا معاملہ گڑبڑ ہوتا نظر آتا ہے۔یہ خط کوڈ ورڈز میں تھا لیکن فرانسیسی بہت عرصہ پہلے جرمن کوڈ بوجھ چکے تھے۔ جرمنوں کو بھی یہ بات معلوم تھی کہ فرانسیسی ان کی خفیہ زبان جان گئے ہیں۔دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جرمنوں نے جان بوجھ کر وہ خط بھیجا تاکہ فرانسیسی اپنی ہی جاسوسہ کو پکڑ کر موت کے گھاٹ اُتار دیں۔ لیکن ایک اور نظریہ بھی ہے۔ریکارڈ میں صرف ترجمہ کیوں ہے؟ اصل خط کہاں ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ فرانسیسیوں نے خود ہی وہ خط گھڑ لیا ہو تاکہ ماتا ہری کو پکڑا جا سکے؟ اور یوں ایک ” خطرناک جاسوس “کو پکڑ کر اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹا جائے؟چاہے یہ کام جرمنز کا ہو یا فرانسیسیوں کادونوں صورتوں میں ماتا ہری پھنسی تھیں۔دستاویزات میں ماتا ہری کا اعترافی بیان بھی شامل ہے۔ انھوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ واقعی جرمن جاسوسہ تھیں، تاہم یہ کام انھوں نے صرف پیسہ حاصل کرنے کے لیے کیا لیکن ان کی ہمدردیاں اتحادی افواج کےساتھ تھیں۔

تاہم ان کی بات پر یقین نہیں کیا گیا۔انھیں پیرس کے مشرقی مضافات میں واقع شیتو دے ونسین لایا گیا جہاں 12 سپاہی بندوقیں لیے ان کے منتظر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ماتا ہری نے اپنی آنکھوں پر پٹی بندھوانے سے انکارکر دیا تھا۔ انھوں نے ایک ہاتھ ہلا کر اپنے وکیل کو خدا حافظ کہا۔ کمانڈر نے اپنی تلوار تیزی سے نیچے جھکائی، 12 رائفلوں کی صدا فضا میں گونجی اور ماتا ہری اپنے ہی قدموں پر گر پڑیں۔ماتا ہری کی نعش قبول کرنے کوئی نہیں آیا۔ اسے پیرس کے ایک میڈیکل کالج کے حوالے کر دیا گیا، جہاں اسے طلبہ کو علم الابدان سکھانے کےلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ ان کا سر میوزیم آف اناٹومی میں محفوظ کر دیا گیا۔ تاہم 20 سال قبل یہ وہاں سے غائب ہو گیا۔ فرائز میوزیم کے منتظم ہانز گروئن ویگ کہتے ہیں: گزشتہ صدی کی ابتدا میں یورپی دارالحکومتوں میں انھوں نے جو کچھ کیا اس کی وجہ سے جاسوسی کے بغیر بھی ماتا ہری کو آج یاد کیا جاتا۔انھوں نے بڑی حد تک سٹرپ ٹیز رقص ایجاد کیا۔

ہمارے پاس ان کی تصاویر اور اخباروں کے تراشے موجود ہیں۔ وہ اپنے زمانے کی سلیبرٹی تھیں۔آج ماتا ہری کو صرف جاسوسی کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں کئی تاریخ دان ان کے دفاع میں بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انھیں اس لیے قربان کر دیا گیا کہ فرانسیسی حکومت کو جنگ میں پے در پے ناکامیوں کا جواز پیدا کرنا تھا۔نسوانی حقوق کے علم بردار کہتے ہیں کہ ماتا ہری کو اس لیے نشانہ بنانا بے حد آسان تھا کہ ان پر ”برے کردار“ کا الزام تھا ،جس کی وجہ سے انھیں بڑی سہولت سے فرانس کا دشمن قرار دے دیا گیا۔ نئی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ماتا ہری نے میڈرڈ میں جرمن ملٹری اتاشی آرنلڈ فان کالے سے تعلق استوار کیا۔ اس وقت وہ فرانسیسی خفیہ اداروں کےلئے کام کر رہی تھیں اور ان کا مقصد جرمن نیٹ ورکس کا سراغ لگانا تھا۔

نورالنسائ: برطانیہ کی قابل فخر جاسوس

نور النساءبرطانوی خفیہ جاسوس تھیں، جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کےلئے جاسوسی کی۔ برطانیہ کے اسپیشل آپریشنز ایگزیکٹو کے طور پر تربیت یافتہ نور عنایت خان دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس کے نازی دائرہ اختیار میں جانے والی پہلی خاتون وائرلیس آپریٹر تھیں۔ وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس میں ایک خفیہ مہم کے تحت نرس کا کام کرتی تھیں۔ جرمنی کی طرف سے گرفتار کیے جانے کے بعد 10 ماہ تک انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تفتیش کی گئی، لیکن پوچھ گچھ کرنے والی نازی جرمنی کی خفیہ پولیس گسٹاپو ان سے کوئی بھی راز اگلوانے میں ناکام رہی۔

آخر کار انہیں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ نورعنایت خان کی قربانی اور جرا¿ت کی کہانی برطانیہ اور فرانس میں آج بھی مقبول ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں برطانیہ کے سب سے بڑے شہری اعزاز جارج کراس سے نوازا گیا۔ ان کی یاد میں لندن کے گورڈن اسکوائر میں یادگار بنائی گئی، جو انگلینڈ میں کسی مسلمان کےلئے وقف اور کسی ایشیائی خاتون کے اعزاز میں پہلی یادگار ہے۔نور عنایت یکم جنوری 1914ءکو ماسکو، روس میں پیداہوئیں۔ ان کا پورا نام نورالنساءعنایت خان تھا۔ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ نورالنساءکے والد عنایت خان 18 ویں صدی میں سلطنت خداداد میسور ریاست کے حکمران ٹیپو سلطان کے پڑپوتے تھے، وہ ایک ص±وفی منش انسان تھے، عدم تشدد کے قائل اور عارفانہ موسیقی کے شیدائی تھے، اُنہوں نے برصغیر کے تصوف کو مغربی ممالک تک پہنچایا۔ وہ خاندان کے ساتھ پہلے لندن اور پھر پیرس میں بس گئے تھے۔ جبکہ نور النساءکی ماں ایک نو مسلم امریکی خاتون تھی۔

نور کی دلچسپی بھی ان کے والد کی طرح مغربی ممالک میں اپنے فن کو آگے بڑھانے کی تھی۔ نور موسیقار بھی تھیں اور انہیں ستار بجانے کا شوق تھا۔ انہوں نے بچوں کےلئے کہانیاں بھی لکھیں اور کہانیوں پر ان کی ایک کتاب بھی چھپی تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے فوراً بعد ان کا خاندان ماسکو سے لندن، انگلستان آ گیا تھا، جہاں نور کا بچپن گزرا۔ نوٹنگ ہل میں واقع ایک نرسری اسکول میں داخلہ کےساتھ ان کی تعلیم شروع ہوئی۔ 1920ءمیں وہ فرانس چلی گئیں، جہاں وہ پیرس کے قریب سریسنیس کے ایک گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے لگیں جو انہیں صوفی تحریک کے ایک پیروکار کی طرف سے تحفے میں ملا تھا۔ نورالنساءکا بچپن پیرس کے نواح میں گزرا۔

وہ اپنے خیالات میں گم رہنے اور طلسمی کہانیاں پڑھنے والی ایک بچّی تھی لیکن 1927ءمیں جب وہ صرف تیرہ برس کی تھیں تو اُن کے والد کا انتقال ہو گیا اور والدہ ان کی اس صدمے سے مستقلاً سکتے میں آگئیں۔ والد کی موت کے بعد چار بچّوں میں سب سے بڑی ہونے کے سبب سارے خاندان کی ذمہ داری نورالنساءکے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ فطرتی طور پر کم گو، شرمیلی اور حساس نورکو موسیقی کے ذریعے معاش کا بندوبست کرنا پڑا اور وہ پیانو کی دھن پر صوفی موسیقی کا فروغ کرنے لگی، نظمیں اور بچوں کی کہانیاں لکھ کر اپنے معاش کو سنوارنے لگیں۔ ساتھ ساتھ فرانسیسی ریڈیو میں باقاعدہ شرکت کرنے لگیں۔ 1939ءمیں بدھ مت کے پیروکاروں کی جاتک کہانیوں سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک کتاب 20 جاتک کہانیاں کے نام سے لندن سے شائع کی۔

دوسری جنگ عظیم چھڑ نے کے بعد، فرانس اور جرمنی کی جنگ کے دوران وہ 22 جون 1940ءکو اپنے خاندان کے ساتھ سمندری راستے سے برطانیہ کے علاقے فالماوتھ، کارن وال لوٹ آئیں۔

1940ءمیں جب جرمنوں نے فرانس پر قبضہ کیا تو نورالنساءکا سماجی اور سیاسی شعور پختہ ہوچکا تھا۔ اپنے والد کی امن کی تعلیم سے متاثر نور کو نازیوں کے ظلم سے گہرا صدمہ لگا۔ جب فرانس پر نازی جرمنی نے حملہ کیا تو ان کے دماغ میں اس کےخلاف نظریاتی اُبال آ گیا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اب والد صاحب کی طرح محض عدم تشدد پر یقین رکھنے اور صوفیانہ موسیقی میں گم رہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ حالات براہِ راست عملی اقدام کا تقاضا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی ولایت کےساتھ مل کر نازی ظلم کو کچلنے کا فیصلہ کیا۔ نور کو بچپن ہی سے ریڈیو پر بچّوں کو کہانیاں سنانے کا شوق تھا اور وہ ریڈیو اور وائرلیس کی تکنیک سے قدرے شناسا تھیں چنانچہ جرمنوں کے خلاف تحریکِ مزاحمت میں اس نے خفیہ پیغام رسانی کا میدان چ±نا۔ 19 نومبر 1940ءکو وہ خواتین کے ضمنی ایئر فورس WAAF میں کلاس 2 ایئر کرافٹ آفیسر کے طور پر شامل ہوئیں، جہاں انہیں”وائرلیس آپریٹر“کے طور پر تربیت کےلئے بھیجا گیا۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نور عنایت خان جرمنوں کےخلاف کام کرنے والی اولین خاتون ریڈیو آپریٹر تھیں۔ جون 1941ءمیں انہوں نے ان پر Raf بمبار کمان کے بمبار تربیت اسکول میں کمیشن کے سامنے ”مسلح فورس افسر“ کےلئے درخواست کی، جہاں انہیں اسسٹنٹ سیکشن افسر کے طور پر پرموشن حاصل ہوا۔ وہ اپنے تین خفیہ نام بالترتیب ”نورا بیکر“، ”میڈلین“ اور ”جین مری رینیا“کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے چھبیس برس کی عمر میں خود کو تحریکِ مزاحمت کےلئے وقف کر دیا تھا اور ا±نتیس برس کی عمر میں جرمنوں کے ہاتھوں ایک اذیت ناک موت سے دوچارہوئیں۔بعد ازاں نور کو اسپیشل آپریشنز ایگزیکٹو کے طور پر ایف (فرانس) کی سیکشن میں شمولیت کےلئے بھرتی کیا گیا اور فروری 1943ءمیں انھیں فضائیہ میں تعینات کیا گیا۔

ان کے اعلیٰ افسران میں خفیہ جنگ کےلئے ان کے بارے میں مخلوط رائے بنی اور یہ محسوس کیا گیا کہ ابھی ان کی تربیت نامکمل ہے، لیکن فرانسیسی زبان کی اچھی معلومات اور بولنے کی صلاحیت کے باعث انہوں نے اسپیشل آپریشنز گروپ کی توجہ حاصل کر لی ،جس کے نتیجے میں انھیں وائرلیس آپریشن میں تجربہ کار ایجنٹوں کے زمرے میں ایک ضروری اُمیدوار کے طور پر پیش کیا گیا۔ پھر وہ بطور جاسوس کام کرنے کےلئے تیار کی گئیں اور جون 1943ء میں انہیں جاسوسی کےلئے ریڈیو آپریٹر بنا کرفرانس بھیج دیا گیا۔ ان کا کوڈ نام ”میڈیلین“ رکھا گیا۔ وہ بھیس بدل کر مختلف جگہ سے پیغام بھیجتی رہیں۔بعدازاں ایک نرس کے طور پر فزیشن نیٹ ورک میں شامل ہو گئیں۔ جس کے بعد نیٹ ورک سے منسلک ریڈیو آپریٹرز کو جرمنی کی سکیورٹی سروس (ایس ڈی) کی طرف سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ دوسری جنگ عظیم میں پہلی ایشین خفیہ ایجنٹ تھیں۔ نورالنساءدوسری جنگ عظیم کے دوران ونسٹن چرچل کے قابل اعتماد لوگوں میں سے ایک تھیں۔ انہیں خفیہ ایجنٹ بنا کر نازیوں کے قبضے والے فرانس بھیجا گیا تھا۔

نور نے پیرس میں تین ماہ سے زیادہ عرصہ تک کامیابی سے اپنا خفیہ نیٹ ورک چلایا اور نازیوں کی معلومات برطانیہ تک پہنچاتی رہیں۔ لیکن ایک کامریڈ گرل جو ان سے حسد کرتی تھی، اس کی مخبری پر وہ پکڑی گئیں۔ جس پر پیرس میں 13 اکتوبر 1943ءکو انہیں جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس دوران خطرناک قیدی کے طور پر ان کے ساتھ تشدد آمیز سلوک کیا جاتا رہا، تاہم اس دوران انہوں نے دو بار جیل سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔11 ستمبر 1944ءکو انہیں اور ان کے تین ساتھیوں کو جرمنی کے ڈاو کیمپ لے جایا گیا، جہاں 13 ستمبر 1944ءکی صبح چاروں کے سر پر گولی مارنے کا حکم سنایا گیا۔ اگرچہ سب سے پہلے نور کو چھوڑ کران تینوں ساتھیوں کے سر پر گولی مار کر قتل کیا گیا، تاکہ نور کو ڈرایا جائے اور وہ جن معلومات کو جمع کرنے کےلئے برطانیہ سے آئی تھیں، وہ بتا دے لیکن انہوں نے کچھ نہیں بتایا، بالآخر ان کے سر پر بھی گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سب کو جلا کر ایک خفیہ ڈچ جیل میں دفن کر دیا گیاجو بعد میں 1958ءمیں دریافت ہوا۔ موت کے وقت ان کی عمر 30 سال تھی۔ جب نور کو گولی مار ی گئی تو ان کے ہونٹوں پر آخری لفظ آزادی تھا۔برطانیہ کی پوسٹل سروس، رائل میل کی طرف سے ”قابل ذکر لوگوں“ کی سیریز میں نور کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے۔ لندن میں ان کی تانبے کا مجسمہ لگایا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب برطانیہ میں کسی مسلم یا پھر ایشیائی عورت کا مجسمہ لگا۔ اس مجسمہ کو لندن کے آرٹسٹ نیومین نے بنایا۔ گورڈن اسکوائر گارڈن میں اس مکان کے نزدیک مجسمہ نصب کیا گیا ہے جہاں وہ بچپن میں رہا کرتی تھیں۔

شارلٹ کورڈی: انقلا ب فرانس کا شدت پسند کردار

شارلٹ کورڈی کا تعلق اشرافیہ سے تھا۔ انھوں نے انقلاب فرانس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تو ایک ایسے شخص کو قتل کیا ،جس شخص کےساتھ اپنے مشن پر کام کر رہی تھیں۔ان کا تعلق گیروندن سے تھا جو کہ انقلاب فرانس کی اعتدال پسند شاخ تھی۔ یہ بادشاہت کے خاتمے کے حق میں تو تھے لیکن انقلاب میں تشدد کے حامی نہیں تھے۔شارلٹ نے ڑان پال مرات کو قتل کیا تھا۔ وہ جیکوبن گروپ کے ایک سینئر رکن تھے جس کی شارلٹ مخالف تھیں۔ اس گروپ میں شدت پسند سوچ رکھنے والے انقلابی شامل تھے اور ان کی وجہ سے دہشت کا دور شروع ہوا جس میں16500 سے زیادہ افراد کو مار دیا گیا۔ شارلٹ نے باتھ روم میں مرات پر چاقو سے وار کیا۔ وہ وہاں تک کیسے پہنچیں؟ بظاہر مرات کو جلد کا مرض لاحق تھا اور ان کےلئے غسل لیتے وقت کسی مہمان سے ملاقات کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔شارلٹ کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا اور مقدمے میں اُنھوں نے کہا کہ ایک آدمی کو مار کر ہزاروں افراد کی جانیں بچائی۔ اس واقعے کے چار دن بعد اُنہیںسزائے موت دے دی گئی اور اس وقت ان کی عمر 24 برس تھی۔

بریجیٹ جرمنی کی سب سے زیادہ خطرناک خاتون

بریجیٹ مونہاہت 1949ءمیں پیدا ہوئیں،ایک وقت تھا کہ بریجیٹ کو جرمنی میں سب سے خطرناک اور شیطان صفت خاتون کہا جاتا تھا۔ وہ ریڈ آرمی فیکشن کی سرکردہ رکن تھیں اور 1977 ءمیں اس دہشت کی لہر میں ملوث تھیں جسے ’جرمن خزاں‘ بھی کہا جاتا ہے۔اس انتہائی بائیں بازو کے شدت پسند گروپ نے ستر کی دہائی میں مغربی جرمنی کو دہشت زدہ کر رکھا تھا اور انھوں نے اس دوران متعدد افراد کو اغوا اور قتل کیا اور ساتھ میں بم دھماکے بھی کیے ۔مجموعی طور پر یہ گروپ درجنوں اموات کےساتھ ساتھ ایک جہاز کی ہائی جیکنگ میں بھی ملوث تھا۔ یہ مغربی جرمنی کی سرمایہ دارانہ اسٹیبلشمنٹ کےخلاف مزاحمت کر رہے تھے۔بریجیٹ کو 1982ءمیں گرفتار کیا گیا اور پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ساتھ میں 9 افراد کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 15 سال قید کی اضافی قید سنائی گئی۔ اس میں ایک بینکر کا قتل بھی شامل ہے ،جس کو پہلے پھول پیش کیے اور ساتھ ہی قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ ان پر ایک امریکی کمانڈر اور ان کی اہلیہ کو راکٹ لانچر کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کا الزام بھی تھا۔سال 2007ءمیں اپنے جرائم پر پشیمانی کا اظہار کیے بغیر اور حکام سے تعاون نہ کرنے کے باوجود انھیں پیرول پر رہا کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر جرمنی میں تنازع پیدا ہوا اور اچھی خاصی بحث ہوئی۔ بریجیٹ اب بقید حیات ہیں۔

شی جین کوئی : والدکا انتقام لینے والی دوشیزہ

قاتل اپنے کوڈ یا خفیہ نام سے بے حد لگاو¿ رکھتے ہیں۔ شی جین کوئی کا اصل نام شی گولن تھا لیکن شی گولن کے بجائے انھوں نے ’شی جین کوئی‘ کے نام کا انتخاب کیا، جس کے دونوں الفاظ کا مطلب” تلوار اور دوبارہ ابھرنا“ ہے۔ انھوں نے اپنے والد کی موت کا انتقام لینے کی ٹھان لی، جن کا 1925 میں اس وقت کے جنگی سردار سن چن فانگ نے سر قلم کر دیا تھا۔اس واقعے کے دس برس بعد جب سن چن فانگ ریٹائر ہوئے اور بدھ مت بن گئے تو شی جین کوئی نے ان کو ڈھونڈ کر اس وقت ان کے سر میں گولی مار کر قتل کردیا جب وہ مندر میں عبادت کر رہے تھے۔ تاہم وہ جائے وقوعہ سے بھاگنے کے بجائے وہیں رکی رہیں اور قریب موجود لوگوں سے اپنے اقدام کا اعتراف کیا اور یہ ان کے آئندہ کے جامع منصوبے کا حصہ تھا تاکہ میڈیا اور عوام کی ہمددری حاصل کر سکیں۔ایک اعلیٰ عدالتی کیس میں قتل کو دوسرے کے والدین کے احترام کی بنیاد پر معاف کر دیا گیا۔ ان کی وفات 1979 میں ہوئی۔

موساد ایجنٹ پینولپی

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایجنٹ پینولپی کو’ ’اریکا چیمبرز‘ ‘کے فرضی نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس نے فلسطینی گروپ بلیک ستمبر کے رہنما علی حسن سلامی کے قتل میں کردار ادا کیا، جو 1972 کے میونخ اولمپیکس میں 11 اسرائیلی ایتھلیٹس کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔میونخ میں ہونے والی ہلاکتوں کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم گولڈا میئر نے آپریشن کی منظوری دی، جس کے تحت موساد کے ایجنٹس کو بلیک ستمبر کے ارکان کی تلاش اور انھیں اپنے کیے پر سزا دینا تھی۔ قتل کی پانچ ناکام کوششوں کے بعد سلامی بلآخر چار محافظوں سمیت قتل کر دیئے گئے۔ 1979 ءمیں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ان کے اپارٹمنٹ کے باہر بم دھماکے کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔ایجنٹ پینولپی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے بم دھماکہ کیا اور اس مقصد کےلئے وہ سلامی کے فلیٹ کے قریب ایک سادہ زندگی گزار رہی تھیں اور یہاں تک خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا ایک بوائے فرینڈ بھی تھا۔دھماکے کے بعد ایجنٹ پینولپی غائب ہو گئیں لیکن اپنا سامان پیچھے چھوڑ گئیں، جس میں اریکا چیمبرز کے نام سے ایک برطانوی پاسپورٹ بھی تھا۔

ا س طرح تاریخ کے اوراق ایسی نڈر خواتین سے بھرے پڑے ہیں ،جن میں سے کسی نے اپنے ملک و قوم کے دفاع کی خاطر مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی جان قربان کرتے ہوئے اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔تو کسی نے انقلاب برپا کرنے کے لئے تلوار اُٹھائی،کسی نے اپنے خاندان کے فرد اور باپ کے قتل کا بدلہ لینے کےلئے ہتھیار اُٹھایا تو کسی نے اپنے نظریات سے متصادم لوگوں کو نشانہ بنایا۔ اس طرح انہوں نے عورت کےلئے صنف نازک کا لفظ استعمال کرنے والوں کو نہ صرف حیران کیا بلکہ پریشان بھی کر دیا۔

٭٭٭


ای پیپر