پاکستانی سیاست میں خواتین رہنماوں کا مزاحمتی کردار
09 اکتوبر 2018 (23:38) 2018-10-09

مقبول خان:پاکستان کی سیاست میںہمیشہ سے مردوں کی بالادستی رہی ہے اسی لئے چند سال قبل تک منتخب ایوانوں میں بہت کم خواتین نظرآتی تھیں۔ جنرل پرویزمشرف کی حکومت میں پاکستان کے منتخب ایوانوں میں خواتین کا کوٹہ بڑھانے کے بعد اسمبلیوں میں خواتین کی تعدا میں اضافہ ہوا۔ یہ خواتین بالواسطہ طور پر پارٹی ٹکٹ پر منتخب کی جاتی ہیں، جبکہ عام انتخابات میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی خواتین کی تعداد اب بھی برائے نام ہے۔ وطن عزیزکی70سالہ تاریخ میں صرف ایک خاتون بے نظیربھٹو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئی ہیں، جبکہ فہمیدہ مرزا کو قومی اسمبلی کی اسپیکر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہواہے۔ محترمہ فاطمہ جناح ؒکو پاکستان کی تاریخ میں صدارتی امیدوار ہونے اورالیکشن لڑنے کا اب تک منفرد اعزاز حاصل ہے۔ پاکستان میں اگرچہ خواتین کو صنف نازک خیال کیا جاتا ہے، لیکن ہم اگر پاکستان میں مزاحمتی سیاست کا تاریخی جائزہ لیں تو ہمیں اس میدان میں متعدد خواتین نمایاں نظرآتی ہیں جنہوں نے مشکل وقت میںاپنے دورکے آمروں کو للکارا اور جمہوریت کی بحالی کے لئے تاریخی جدوجہدکی۔ جب مرد سیاست دان جیلوں میں تھے یا مصلحت کی چادر اوڑھ کر خواب غفلت میں اچھے دورکے خواب دیکھ رہے تھے یا پھر اپنی وفاداریاں تبدیل کر رہے تھے؛ ایسے مشکل وقت میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہدکرنے والی چار خواتین محترمہ فاطمہ جناحؒ، بے نظیر بھٹو شہید، بیگم نصرت بھٹو اور بیگم کلثوم نوازکے نام پاکستان کی سیاسی تاریخ کے صفحات پرنظرآتے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی جنریلوں کی حکومت سے، جمہوری حکومت کی طرف سفرکی تاریخ لکھی جائے گی تو مورخ جمہوریت کی بحالی میں ان تین خواتین کے کردارکو نظر اندازنہیں کر سکے گا۔ یہاں یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ ان چاروں خواتین نے اپنے اپنے وقت میں جمہوریت کی بحالی میں اس وقت کردار اداکیا جب صدر مملکت کے نام کے ساتھ جنرل بھی لگا ہوتا تھا۔ ان سطور میں ہم ان چار خواتین میں سے تین کی مزاہمتی سیاست کا مختصر احوال بیان کرتے اور اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان خواتین نے اپنے اپنے دور کے آمروں کا کس آہنی عزم اور مستقل مزاجی سے سامنا کیا۔

محترمہ فاطمہ جناحؒ

بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح ؒاس وقت میدان سیاست میں آئیں، جب فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کے اقتدارکا سورج عروج پر تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران برصغیرکی مسلم خواتین کو متحرک کردار ادا کرنے کی ترغیب دلانے میں محترمہ فاطمہ جناح ؒ کا کردار نمایاں تھا، لیکن قیام پاکستان کے بعد وہ عملی سیاست سے لاتعلق ہوگئی تھیں۔1964ءمیںجنرل ایوب خان نے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کےلئے بنیادی جمہوریت کے فارمولے کے تحت صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ اس وقت پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر مولانا بھاشانی، خان عبدالغفارخان، شیخ مجیب الرحمنٰ، ممتاز دولتانہ، مولانا مودودیؒ، نوابزادہ نصراللہ خان جیسے سیاستدان موجود تھے، لیکن کوئی بھی جنرل ایوب خان کے مقابلے میں امیدوارکے طور پر سامنے آنے کی جرا¿ت نہ کر سکا۔ ایسے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی امیدوارکے طور پرکاغذات نامزدگی جمع کرائے، اور تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود جم کرنہ صرف انتخابی مہم چلائی بلکہ مو¿ثرانداز میں مقابلہ بھی کیا۔ عوامی سطح پر فاطمہ جناح ؒکی صدارتی الیکش میں کامیابی یقینی سمجھی جا رہی تھی، لیکن الیکشن کے سرکاری نتائج کا اعلان جنرل ایوب خان کی کامیابی کے طورپر کیاگیا۔ بعد ازاں مصنوعی طریقے سے ایوب خان کی یہ کامیابی ان کے مستحکم اقتدارکا نقطہ آغاز ثابت ہوئی اور صرف دو سال کے عرصے میں ایوب خان کا راج سنگھاسن زمین بوس ہوگیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو

سابق وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی مزاحمتی سیاست کرنے والی پاکستانی خواتین سیاستدانوں میں ایک بلند مقام رکھتی ہیں۔ ہاورڈ اورآکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر نے والی بے نظیر بھٹوکا سیاسی کیریئر1977ءمیں اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان کے والد سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکی منتخب حکومت کو جنرل ضیاءالحق نے برطرف کر دیا تھا، بعد ازاں انہیںسزائے موت بھی دی گئی تھی۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نے اس سانحہ کوقومی سیاسی سانحہ میں تبدیل کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کا کنٹرول سنبھالا اورایم آرڈی کے پلیٹ فارم سے جمہوریت کی بحالی کی تحریک کو منظم کیا۔ جنرل ضیاءنے جمہوریت بحالی کی اس تحریک کوکچلنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا، لیکن بے نظیر بھٹو نے اپنی جدوجہدکو جاری رکھا، جس سے پریشان ہوکر انہوں نے بے نظیرکو جلا وطنی پر مجبورکردیا، اور بے نظیر بھٹو1984ءمیں برطانیہ چلی گئیں، جہاں انہوں نے 1986ءتک قیام کیا۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لئے غیر ملکی دباو¿کے باعث ضیاءحکومت انہیں 1986ءمیں پاکستان آنے سے نہ روک سکی۔ بعد ازاں جنرل ضیاءالحق پاکستان میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگئے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر دکھاوے کی جمہوریت کے لئے انہوں نے1985ءمیں غیر جماعتی بنیاد پر عام انتخابات منعقد کرائے تھے۔ اور محمد خان جونیجوکی سربراہی میں وفاقی حکومت قائم کی تھی، اور خود ریفرنڈم کے ذریعے صدر مملکت منتخب ہوئے تھے۔ لیکن17اگست 1988ءکو طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ اس طرح پاکستان سے ایوب خان کے بعد دوسرے جنرل کی طویل حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اورغلام اسحق خان صدر مملکت کے منصب پر فائز ہوئے، اسی سال ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹوکی قیادت میں اگرچہ سب سے بڑی پارٹی کے طور پرکامیاب ہوئی، لیکن اسے پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی، ایم کیو ایم اور اے این پی سمیت دیگرچھوٹی جماعتوں کے اتحاد سے بے نظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان منتخب ہوگئیں۔ انہیں پاکستان کی سب سے کم عمر وزیراعظم اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ لیکن ان کی حکومت صرف اٹھارہ ماہ بعدکرپشن اور اقربا پروری کے الزام میں صدر غلام اسحٰق خان نے آئین کی دفعہ 58.2bکے تحت برطرف کر دی۔اس پر بھی بے نظیر بھٹو نے ہمت نہ ہاری اور مزاحمت کی سیاست کو جاری رکھا۔ وہ1993ءدوسری مرتبہ پھر وزیراعظم منتخب ہوگئیں۔ اس مرتبہ بھی اپنی ہی پارٹی کے اور پارٹی ووٹوں سے منتخب کرائے گئے صدر مملکت فاروق لغاری نے انہیں کرپشن، بیڈ گورنیس اور اقربا پروری کے الزامات کے تحت وزارت عظمیٰ سے برطرف کردیا۔ بے نظیر بھٹوکی اس مرتبہ بھی وزارت عظمیٰ کے منصب سے برطرفی میںنادیدہ قوتوں کا ہاتھ ہونے سے کوئی بھی با شعور شخص انکارنہیں کرسکتا ہے۔ بے نظیر بھٹوکی وزارت عظمیٰ سے برطرفی کے نتیجے میں1997ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں میاں نواز شریف ایک باروزیراعظم منتخب ہوگئے، لیکن اس مرتبہ بھی وہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں ناکام رہے، اورجنرل پرویزمشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد خود اقتدار سنبھال لیا، اورکچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد سعودی عرب چلے گئے، لیکن بے نظیر بھٹو نے ایک بار پھرجمہوریت کی بحالی کی جدوجہد شروع کردی۔ بے نظیر بھٹو اپنے سیاسی کیرئرکے دوران دو مرتبہ وزیر اعظم اور تین مرتبہ قائد حزب اختلاف رہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وہ وزیراعظم کے مقابلے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے زیادہ کامیاب نظرآئیں۔ پرویز مشرف کے بر سراقتدار آنے کے بعد کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر اپنی سیاسی جدوجہد شروع کی اور مشرف حکومت کے تحت 2002ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں اگرچہ پیپلزپارٹی قومی اسمبلی کی63 نشتیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی لیکن پیٹریاٹ گروپ کی بے وفائی کے بعد وہ حکومت بنانے میں ناکام رہیں۔2004ءمیں مشرف حکومت نے ان کے شوہر آصف علی زرداری کو رہا کر دیا، اور وہ اپنے شوہرکے ساتھ دبئی چلی گئیں، اور2008ءکے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے 2007ءکے اواخر میں پاکستان واپس آگئیں، جبکہ ان کے شوہر آصف علی زرداری بدستور دبئی میں رہے۔ پاکستان آمد پر کراچی اپنی رہائشگاہ بلاول ہاو¿س جاتے ہوئے کارسازکے قریب ان کے جلوس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، لیکن ان کی جان بچ گئی، جبکہ متعددکارکن شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان کی جان کو خطرہ لا حق ہوگیا تھا لیکن وہ ان خطرات سے بے نیاز ہوکر عوامی جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کرتی رہیں۔ آخرکار 27 دسمبر2007ءکو راولپنڈی کے جلسے سے خطاب کے بعد واپسی پر وہ دہشتگردی کے حملے میں شہید ہوگئیں۔ اس طرح پاکستان ایک ذہین اور تعلیم یافتہ اور زیرک خاتون سیاستدان سے محروم ہوگیا۔ بلا شبہ ان کی شہادت سے پاکستان کی سیاسی قیادت میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ اب تک پر نہیں ہوسکا ہے۔

کلثوم نواز

آمریت کے خلاف جدجہدکر نے والی پاکستانی خواتین میں بیگم کلثوم نوازکا نام بھی خاصا اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی کے عالمی شہرت یافتہ پہلوان رستم زمان گاماکی نواسی کلثوم نواز ایک ڈاکٹرکی صاحبزادی تھیں، جو ٹھیٹھ کشمیری پنجابن ہونے کے باوجوداردوادب ، شعرو شاعری اور نقد ونظرکی دلدادہ تھیں۔ پاکستان کی تین مرتبہ خاتون اوّل کا منفرد اعزا رکھنے والی کلثوم نوازملک کے سیاسی منظر نامے 1998ءمیں سامنے آئیں۔ اس وقت بھارتی وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی لاہور یاتراکرنے آئے تھے، اورکارگل آپریشن شروع ہو رہا تھا۔ یہیں سے سابق وزیراعظم نوازشریف کی دوسری مرتبہ سیاسی ابتلاکا دور شروع ہو رہا تھا۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے برسر اقتدار آتے ہی نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے معزول کرنے کے بعدگرفتار کر لیا۔ اس وقت تک کلثوم نواز خاتون خانہ تھیں، ان کا سیا ست سے واسطہ یا تعلق نہیں تھا۔ نواز شریف کی گرفتاری کے بعد انہوں نے امور خانہ داری سے رخصت لی اور اپنے دوپٹے کو جمہوریت کی بحالی کا پرچم بناکر سیاست کے خارزار میں تنہا اتر پڑیں۔ اس وقت میاں نواز شریف کے وفادار جیلوں میں تھے، کچھ نے مصلحت کی چادر اوڑھ کر خاموشی کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔ جبکہ کچھ ابن الوقت سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے اقتدارکے جھولے میں جھولا جھول رہے تھے۔ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہدکے دوران کلثوم نوازکے کے ساتھ ایک تاریخ ساز واقعہ بھی منسوب ہے۔ جس میں پولیس والوں نے کلثوم نوازکی گاڑی کو ہوا میں معلق کر دیا تھا لیکن گاما پہلوان کی نواسی نے لاہور پولیس کو ناکوں چنے چبوا دئے تھے۔ اس کے بعد کلثوم نواز جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں ہر جگہ متحرک اور فعال نظر آنے لگیں۔کراچی پریس کلب میں بھی انہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہدکے دوران اپنے خطابت کے جوہر دکھائے۔کلثوم نوازکا باوجی (نواز شریف ) جیل میں تھا۔ انہوں نے اس ذاتی دکھ کو جمہوریت بحالی کی جدوجہد میں تبدیل کردیا تھا۔کلثوم نواز نے جمہوریت کی بحالی اور میاں نوازشریف کی رہائی کے لئے جدوجہد کے نام پر ملک کے طول عرض کے طوفانی دورے کئے اور جلسوں سے خطاب کیا۔کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی حکومت کلثوم نوازکی اس مزاحمتی سیاست سے بے حد پریشان تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے ساتھ کلثوم نوازکو بھی سعودی عرب جانے پر مجبورکیاگیا۔ اب نواز شریف پر ایک بار پھر سیاسی ابتلاکا دور ہے، وہ زیرعتاب ہیں، اقتدار سے محروم ہوچکے ہیں۔لیکن اب کلثوم نواز اس دنیا میں موجود نہیں۔ اب ان کی جگہ مریم نواز ہیں لیکن اب وہ بھی اپنی ماں کی ابدی جدائی کے غم کے ساتھ اپنی سیاسی زندگی کے مشکل وقت سے دوچار ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ مریم نواز اسی طرح مزاحمت کی سیاست کر پائےں گی،جس طرح بے نظیر بھٹو اورکلثوم نوازکر چکی ہیں، اس کا درست جواب تو آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔

٭٭٭


ای پیپر