خلیفہ¿ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ۔۔۔بت خانے میں بت کو پتھر مارنے کا واقعہ
09 اکتوبر 2018 (23:30) 2018-10-09

زاہد علی طاہری:

حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا نام عبد اللہ جب کہ کنیت ابوبکرتھی۔ آپؓ کے والدکا نام عثمان بن عامر اورکنیت ابوقحافہ تھی اور والدہ ماجدہ کا نام سلمیٰ اورکنیت اُم الخیر تھی۔ قبول اسلام سے قبل حضرت ابوبکر صدیق ؓکا نام والدین نے عبدالکعبہ رکھا تھا۔ جب آپؓ مشرف بہ اسلام ہوئے تو سرورکائنات نے آپ ؓ کا نام تبدیل کرکے عبداللہ رکھا۔ آپ ؓکا سلسلہ نسب بنو تمیم سے تھا۔ یہ ساتویں پشت میں مرہ بن کعب پر حضور اکرم کے شجرہ نسب سے مل جاتا ہے۔ آپ واقعہ فیل کے تقریباً ڈھائی برس بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔

حضرت ابوبکرصدیقؓ شروع سے قلب سلیم، حلیم، ذہن رسا اور توحید پرست کی فطرت پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پیدا ہوئے تھے بلکہ پیدائشی مسلمان تھے۔کیوں کہ وہ اس دورکے گمراہ کن اعتقادات، جاہلانہ رسم و رواج اور قول و فعل کے تضادات سے نفرت کیا کرتے تھے۔ بلکہ کبھی بھی یعنی بچپن سے لے کر مسلمان ہونے تک بتوں اور غیر ضروری رسموں رواج کے آگے مائل نہ ہوئے۔ جب آپ ؓکے والد آپ ؓکو بچپن میں بت خانے میں لے گئے تو آپ ؓ نے بت سے کہا کہ ”میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا دیں“ اس نے کچھ نہ بولا۔ فرمایا ”میں ننگا ہوں، مجھے کپڑے پہنا دیں“ وہ کچھ نہ بولا۔ پھر صدیق اکبر ؓ نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر فرمایا ”میں تجھ پر پتھر مارتا ہوں اگر تم خدا ہو تو اپنے آپ کو بچانا“ آخر آپ ؓ نے اس کو پتھر مارا تو وہ (بت) منہ کے بل گر پڑا۔ آپ ؓ کے والد نے یہ ماجرا دیکھ کرکہا ”اے میرے بچے! تم نے یہ کیا کیا؟“ فرمایا ”وہی کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔“ (بحوالہ: تنزیہ المکنةالحیدریہ از امام احمد رضا بریلویؒ)

جب حضور اکرم نے رب کائنات کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ کی نبوت و رسالت اور توحید باری تعالیٰ دین اسلام کو قبول کیا۔ تو رب کائنات نے یہ آیات کریمہ نازل فرمائی۔ ”اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور جنہوں نے ان کی تصدیق کی، یہی ڈرنے والے (متقی) ہیں۔“ (الزمر)

اس آیت کریمہ کی تفسیر حضرت علی ؓ سے مروی ہے یعنی الذی جآءبالصدق سے مراد جو صدق لے کر آیا وہ حضور کی ذات انور ہے اور جس نے اس صدق کی تصدیق کی وہ ابوبکر صدیق ؓکی ذات بابرکت ہے۔ ( تفسیر مدارک، تفسیر نورالعرفان، کنزالایمان)

بہت سے صحابہ کرام و تابعین عظام ؓ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ امام شعبی ؒفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ سب سے پہلے اسلام لانے والاکون ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق ؓ۔

حضرت میمون بن مہران ؓ سے جب دریافت کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ پہلے مسلمان ہوئے یا حضرت علی ؓ ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ قسم ہے خدائے عزوجل کی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ بحیری راہب ہی کے زمانے میں نبی کریم پر ایمان لاچکے تھے جب کہ حضرت علیؓ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ (تاریخ الخلفائ)

اسی طرح رحمت للعالمین نے حضرت ابوبکر صدیق ؓکا سب سے پہلے مردوں میں ایمان لانے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا بیشک جب اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث فرمایا تو تم سب لوگوں نے کہا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے لیکن اکیلے ابوبکر ؓنے کہا کہ یہ سچ فرماتے ہیں اور پھر اپنی جان اور اپنے مال سے میری خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ (صحیح بخاری)۔ ان تمام شواہد سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تمام صحابہ ؓ میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے صحابہ ؓ میں سے پہلے اسلام کی تبلیغ کی، جس سے آپؓکے دوست اور ملنے جلنے والوں میں سے جو مشرف بہ اسلام ہوئے ان میں حضرت عثمان غنی بن عفانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت زبیر بن العوام ؓاور حضرت عبیدہ بن جراح ؓ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسلام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا میں اپنا مال ومتاع بھی قربان کرنے میں کوئی بھی کوتاہی نہیں کی بلکہ جو مال و متاع اللہ کی راہ میں قربان کیا اس کی گواہی یوں بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے” کہ تو وہ جس نے دیا (اللہ کی راہ میں اپنا مال) اور پرہیزگاری کی اور سب سے اچھے (مذہب اسلام) کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا، سب سے اچھے (مذہب اسلام) کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کریں گے اور اس کا مال اسے کام نہ آئے گا جب وہ ہلاکت میں پڑے گا۔ بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم مالک ہیں۔ تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے۔ نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بد بخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔ اور اس سے بہت دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار ہے۔ جو اپنا مال (اللہ کی راہ میں) دیتا ہے کہ وہ پاک ہو اورکسی کا اس پرکچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔ صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا“۔ (سورة اللیل)

تفسیر نور العرفان و تفسیرکنز الایمان میں درج ہے کہ یہ آیات کریمہ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر رحمت اور امیہ بن خلف پر عتاب کے لیے اتریں۔ ان آیات کریمہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے۔ ایک یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ مومن برحق اور بڑے متقی پرہیزگار ہیں۔ رب کائنات نے ان کی تعریف فرماتے ہوئے کہا کہ وہ ( ابوبکر صدیقؓ) جنہوں نے اپنا بہترین مال، غلام اور دولت اللہ کی راہ میں دی اور روز ازل سے متقی ہوئے۔ اور انہوں نے ہر اچھی بات یعنی حضور اکرم کے ہر قول و فعل کو قولاً، عملاً اور اعتقادًا سچ جانا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے لیے دنیا، نزع، قبر، حشر میں ہر طرح کی آسانی مہیا کی جائے گی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دوزخ سے بہت دور رکھا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ ساری امت میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ بڑے متقی، پرہیزگار ہیں کیونکہ اتقیٰ لفظ مطلق ارشاد ہوا ہے۔ قرآن مجید کی نص سے ثابت ہے کہ تمام صحابہ ؓ میں بڑی پرہیزگار حضرت ابوبکر صدیق ؓکی ذات بابرکت ہے ۔

ترمذی شریف میں روایت ہے رسول کریم نے فرمایا کہ جس کسی نے بھی میرے ساتھ احسان کیا میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا علاوہ ابوبکر ؓکے احسان کے۔ انہوں نے میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے جس کا بدلہ قیامت کے دن ان کو خدا تعالیٰ ہی عطا فرمائے گا۔ (یعنی اور کسی کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا ہے جتنا فائدہ ابوبکر ؓکے مال نے پہنچایا ہے) ۔(مشکوة شریف)

صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ حضور سرکار مدینہ نے فرمایا کہ مجھ پر جس شخص نے اپنی دوستی اور مال سے سب سے زیادہ احسان کیے ہیں وہ ابوبکر ؓہیں۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اورکو خلیل بناتا تو ابوبکر ؓکو بناتا۔ مگر اخوت اسلام اب موجود ہے۔ حضرت رسول اکرم تمام صحابہ ؓمیں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت ابوبکر ؓکو رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اپنی زندگی میں ہر وقت اپنے ساتھ رکھا تھا۔ (بخاری و مسلم)

ترمذی میں ہے کہ آنحضرت ؓ نے فرمایا اے ابوبکر ؓغار ثور میں تم میرے ساتھ رہے اور حوض کوثر پر بھی تم میرے ساتھ رہوگے اور حضور اکرم نے اپنی زندگی میں اور اپنی موجودگی میں اپنے مصلے یعنی جاءنماز پر حضرت ابوبکر صدیق ؓکو امام بنایا اور اپنی زندگی میں ہی حضرت ابوبکر صدیق ؓکو اپنی جگہ پر امیر حج بنایا۔

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا ابوبکر ؓسے محبت کرنا اور ان کا شکر ادا کرنا میری پوری امت پر واجب ہے۔ (تاریخ خلفاء)۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا وصال مبارک بروز منگل کی صبح 22 جمادی الثانی 13 ہجری بعمر 63 سال میں ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓکو روضہ رسول میں دفن کیا گیا۔ یعنی قیامت تک یارغارؓکو رسول کریم نے اپنے ساتھ سایہ رحمت میں سلایا۔

٭٭٭


ای پیپر