سال 1947ءسے 2018ءتک۔۔۔پاکستان اقوام متحدہ میں!
09 اکتوبر 2018 (23:22) 2018-10-09

رانا اشتیاق احمد:اپنی آواز عالمی برادری تک پہنچانے کے لئے ہر ملک اپنے بہتریں لوگوں کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ لوگ خارجہ امور کے ماہر اور عالمی مسائل اور سیاست کا گہرا شعور رکھنے والے ہوتے ہیں جو مختلف بین الاقوامی فورمز پر اپنے ملک کے امیج، وسائل اور مسائل کے بارے میں دوسروں کی رائے ہموار اور مثبت بنانے کے لئے کام کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ ایک ایسا ہی ادارہ ہے جہاں دنیا کے کم و بیش تمام ممالک کو نمائندگی حاصل ہے۔ اس عالمی پلیٹ فارم کے ذیلی اداروں میں ایک جنرل اسمبلی بھی ہے جس کے سالانہ اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندے اپنا اپنا نقطہ¿ نظر بیان کرتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی کے 73ویں اجلاس میں خطاب کیا۔ انہوں نے یہ خطاب اردو میں کیا جس کی وجہ سے اسے خوب سراہا گیا۔ اس قبل بھی اقوام متحدہ میں کچھ پاکستانی رہنماوں نے کچھ منفرد تقاریر کیں جن میں کچھ کا احوال یہاں پیش کیا جارہا ہے۔


وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس سے خطاب میں بھارت کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان کے صبر کا امتحان نہ لے۔ وزیر خارجہ نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھوتہ ایکسپریس میں جاں بحق ہونے والے بے گناہ پاکستانیوں کو بھی نہیں بھولیں گے جن کے قاتل بھارت میں آزاد پھر رہے ہیں، کلبھوشن یادیو نے بھارتی حکومت کی ایماءپر پاکستان کی سر زمین پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی اور اسے مالی معاونت فراہم کی۔ وزیر خارجہ نے بھارت سے مذاکرات کی ضرورت پر بھی اصرار کیا اور کہا کہ نیویارک میں ملاقات ایک اہم موقع تھی، مودی حکومت نے مذاکرات سے تیسری مرتبہ انکار کرکے اہم موقع گنوا دیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اسلحے کی دوڑ پر مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے، جنوبی ایشیا میں سارک تنظیم ایک ملک کی وجہ سے غیر فعال ہو چکی۔ جموں کشمیرکے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ”پاکستان اس خطے میں ہے جہاں نو آبادیاتی نظام اور سرد جنگ نے نقوش چھوڑے ہیں، ہم مربوط اور سنجیدہ مذاکرات سے مسائل کا حل چاہتے ہیں، منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے موقع تیسری مرتبہ گنوا دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیرکا مقدمہ عالمی فورم پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد، حق خود ارادیت دئیے جانے تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے، دہشتگردی کی آڑ میں بھارت منظم قتل و عام کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آزاد جموں کشمیر میں کمیشن کا خیر مقدم کریں گے امید ہے بھارت بھی ایسا ہی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت اکثر کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے، سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہے ہیں، انسانی حقوق کی حالیہ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں، یہ رپورٹ پاکستان کے مو¿قف کی تائید کرتی ہے، ہم رپورٹ کی سفارشات پر جلد عمل درآمد کی سفارش کرتے ہیں۔افواج پاکستان نے اس ملک کی سا لمیت اور خودمختاری کی حفاظت کیلئے بے پناہ جانوں کی قربان دی۔ مسلح اور جرا¿ت مند افواج پاکستان کی کاروائیوں کے باعث مملکت پاکستان میں دہشت گردی کا زور ٹوٹ چکا ہے۔پاکستان کی باہمت اور جرا¿ت مند قیادت نے بھارتی جارحیت کا اصل چہرہ اقوام عالم کے سامنے رکھ دیا۔گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان، بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے،پاکستان امن کا گہوارا ہے اور پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے لیکن ازل سے بھارت کے منفی رویے نے علاقے کا امن تباہ کیا ہوا ہے،واضح رہے بھارت،پاکستان امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔دوسری جانب حریت پسند رہنما یسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر میں بھارتی بربریت کا کھل کر ذکر کیا۔ وزیرخارجہ نے بھارتی دہشتگردی کوکھل کردنیاکے سامنے رکھا اور بھارتی خفیہ ایجنسی کاپردہ بھی فاش کیا۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کے جنرل اسمبلی کے خطاب پر ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمودقریشی نے نے سانحہ اے پی ایس اورکلبھوشن یادیوپر بھی نے کھل کربات کی۔


میاں محمد نواز شریف
ستمبر 2016ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے71 ویں اجلاس میں اس وقت کے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے خطاب کیا۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ پاکستان پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ امن اور اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا اور مذاکرات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان امن مسئلہ کشمیرکے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ ہندوستانی بربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جارحیت جاری ہے،کشمیریوں کی نئی نسل ہندوستان سے آزادی چاہتی ہے اور ہندوستان کی اسی بربریت کی وجہ سے حریت پسند کمانڈر برہان وانی نئی تحریک آزادی کی علامت بن گئے ہیں اور سری نگر سے سوپور تک کرفیوکے باوجود آزادی کے لیے احتجاج کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھاکہ ”پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے، ہم کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام کی تحقیقات کے لیے عالمی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ ،کشمیرکو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے، سلامتی کونسل اپنے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے، بے گناہ کشمیریوں کو رہا کیا جائے اورکرفیو اٹھایا جائے۔‘ میاں نواز شریف نے ہندوستان کو ایک مرتبہ پھر تمام متنازعہ ایشوز پر بامعنی مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان غیر مشروط طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کو بیرونی مدد حاصل ہے، آپریشن ”ضرب عضب“دہشت گردوں کے خلاف کامیاب ترین آپریشن ہے جبکہ داعش کو روکنے کے لیے بھی اقدامات بڑھائے جا رہے ہیں لیکن انصاف کی عدم موجودگی میں عالمی سطح پُرامن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے جس سے لازماً نمٹنا ہوگا اور اس کے لیے عالمی برادری کو متحد ہونا ہوگا، دہشت گردی اور شدت پسندی کی اصل وجوہات کو جانچنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ”نیشنل ایکشن پلان“کو عوام کی پوری حمایت حاصل ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کی بنیادکو ختم کیے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ضروری ہیں جس کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے، جبکہ افغانستان میں مذاکراتی عمل میں پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ نیوکلیئر سپلائرزگروپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ”پاکستان ذمہ دار ایٹمی ملک اورنیوکلیئر سپلائرزگروپ کا رکن بننے کا حقدار ہے، جبکہ ہم ایٹمی تجربات روکنے کے معاہدے پر بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں“۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، ہندوستان کے ساتھ ہتھیاروںکی دوڑ نہیں چاہتا لیکن ہندوستان کی جانب سے ہتھیار جمع کرنے پر ہمیں تشویش ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے یہ چوتھا خطاب تھا۔


حنا ربانی کھر
سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکہ اور افغانستان سے تعاون کر رہا ہے۔ اس وقت امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کافی کشیدہ تھے، جب انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو یہ یقین دہانی کروائی تو حقانی نیٹ ورک کے معاملہ پر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات خاصے کشیدہ ہو چکے تھے۔ امریکہ نے چند ہفتے قبل کابل میں امریکی سفارت خانے پر حملے کو حقانی نیٹ ورک کی کارروائی قرار دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ حقانی گروپ کو پاکستانی خفیہ ادارے سپورٹ کرتے ہیں۔ وائٹ ہاو¿س کے ترجمان جے کارنی نے پاکستانی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ حقانی گروپ اور اپنی سر زمین پر موجود دیگر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے۔حنا ربانی کھر نے اپنے خطاب میں کہا تھا، ”پاکستان افغانستان کی حکومت اور امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہا ہے۔“ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی خرابی کی وجہ صورتحال کی نزاکت ہے۔ ”ہمیں اپنے مقصد کو نہیں بھولنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔“ حنا ربانی کھر نے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ادارے کی کوششوں سے حالیہ کچھ عرصے میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے بہت سے رہنماو¿ں کو گرفتار کیا گیا۔اسی طرح سابق وزیرخارجہ حناربانی کھر نے نیویارک میںسلامتی کونسل سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے، محض فوجی کارروائی کافی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم اورمسلح افواج نے دہشت گردی کیخلاف پختہ عزم کر رکھاہے، پاکستان نے خطے میں امن کیلئے اہم اقدامات کیے۔بھارت کی جانب سے جنگجوانہ بیانات کے باوجود پاکستان کا رویہ مفاہمتی ہے۔


آصف زرداری
پاکستان کے سابق صدرآصف علی زرداری نے25 ستمبر 2008ءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے63 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اپنی بیگم بےنظیر بھٹوکی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہیں اور ایک ایسی قوم کی نمائندگی کررہے ہیں جو خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک دُکھی خاوند ہوں جس نے اپنے بچوں کی ماں کو دہشت گردی کے ناسُور کے خلاف لڑتے ہوئے اور اپنی جان دیتے دیکھا ہے۔ وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی جو مہذب دُنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”بھٹو کا نظریہ¿ مصالحت“ آمریت اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا دوہرا مشن لیے ہوئے ہے۔ اس کا مقصد سماجی اور معاشی اصلاحات اور انصاف کو بڑھاوا دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہر اس قوت کے خلاف لڑے گا جو اس پر حملہ آور ہو گی، ہر اس قوت کا مقابلہ کرے گی جو اپنی سرزمین اس پر حملے کرنے کے لیے کسی دوسری قوت کو استعمال کرنے کی اجازت دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے سیاسی عزم، عوام میں آگاہی اور ایسی معاشرتی ومعاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے تحت قوم کے دل وذہن جیتے جاسکتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بنی نوع انسان کے سامنے لڑنے کے لیے دو جنگیں ہیں، ان میں سے ایک جنگ آمروں کے خلاف جبکہ دوسری انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف ہے۔


جنرل ضیاءالحق
جنرل ضیاءالحق نے یکم اکتوبر0 198ءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 35 ویں اجلا س سے خطاب کیا۔ اس خطاب کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں ضیاءالحق نے اپنی تقریر میں قرآنی آیات کے حوالے دیے۔ اس میں انہوں نے اسلام، ریاست مدینہ اور نبی کریم کی حیات مبارکہ پر بھی بات کی۔ اس کے علاوہ مسلم ممالک کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ ایک معمولی مسلمان کی حیثیت سے تقریرکرتے ہوئے مجھے ان اسلامی احکام کا شدت سے احساس ہے کہ رنگ، نسل اور عقیدے کے فرق سے بالاتر ہوکر تمام انسانوں کو ایک عالمی برادری کے افراد سمجھا جائے۔ اسلام کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ امن کا مذہب ہے اور رضائے الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا نام ہے۔ اسلام کا اپنے پیروکاروں سے یہ تقاضا ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ایسا معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں جس کی بنیاد عدل ومساوات ہو۔ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑکے علاوہ تصادم کی ایک اور بھی شکل ہے جس سے انسانی بقاءخطرے میں ہے۔ یہ انسان کی خودغرضی اور فطرت کا تصادم ہے۔ وہ اپنی روزافزوں مادی آسائشوں کی خاطر قدرتی ماحول کو اندھادھند تباہ کئے جا رہا ہے۔ آج یہ کرہ¿ ارض خاص طور پر صنعتی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ قوموں کے ہاتھوں ماحول کی تباہی کے اس مرحلے پر پہنچ گیا ہے جہاں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انسان نے جوآگ خود روشن کی تھی، اس میں اس نے اپنے ہاتھ تو نہیں جلا لئے؟دنیاوی ترجیحات میں وہ توازن کے احساس سے محروم تو نہیں ہوگیا؟ وہ یہ بات نہیں سمجھتاکہ یہ دنیا اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے جو اس کا خالق ہے، ایک امانت ہے۔ یورپ اور اسلام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضیاءالحق کا کہنا تھا کہ دنیائے اسلام نہ صرف پہلے ذہنی سرگرمیوں کا سبب بنی جن کی بدولت یورپ کی نشاة ثانیہ کے لئے میدان ہموار ہوا بلکہ یہی دنیائے اسلام منگولوں کی یلغارکے خلاف، جو آفت سماوی سے کم نہیں تھی، مغربی تہذیب کے دفاع کے لئے ایک پشت پناہ ثابت ہوئی۔ دنیائے اسلامی نے منگولوں کی بڑی یلغارکا سامنا کیا۔ اگر مسلمان نہ ہوتے تو یورپ ساتویں صدی ہجری یعنی تیرہویں صدی عیسوی میں مغلوب ہو جاتا۔ یہ تقدیرکی ستم ظریفی ہے کہ ان ہی لوگوں نے جنہیں مسلمانوں نے بچا لیا تھا، پلٹ کر مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں لوٹ مارمچائی اور ان علاقوں کو اپنی آبادی بنا لیا۔ اپنے فصیح وبلیغ خطاب میں اس وقت ایران اور عراق کے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دو اسلامی ملکوں ایران اور عراق کا افسوس ناک تنازعہ پوری دنیا کے لئے گہری تشویش کا باعث ہے۔ اس سے خاص طور پر دنیائے اسلام کو بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ دو برادر اسلامی ملکوں کے درمیان مسلح تصادم ان غیرمستقل حالات کا نتیجہ ہے جو ایک اہم علاقے میں بڑی طاقتوں کی آویزش کے دباو¿ اور جوابی دباو¿کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہماری دلی دُعا ہے کہ ان دو ہمسایہ ملکوں میں جلد امن قائم ہو جائے۔ بین الاقوامی برادری خاص طور پر دنیائے اسلام اور غیروابستہ دنیاکا یہ فرض ہے کہ وہ ایران اور عراق کے اختلافات دورکرانے میں مثبت کردار ادا کریں۔ ان دونوں ملکوں میں امن کی بحالی کی ضروری شرط یہ ہے کہ بیرونی طاقتیں بالکل غیر جانبدار رہیں اور ان ملکوں کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس تاریخی خطاب میں مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر، افغانستان میں اس وقت جاری روسی جارحیت اور دیگر اہم مسائل پر بھی اظہار خیال کیا تھا۔


ذوالفقار علی بھٹو
6 ستمبر 1965 ءکو بھارت نے انتہائی بزدلانہ حرکت کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کر دیا، افواج پاکستان سرحدوں کا دفاع کر رہی تھیں اوربھٹو عالمی فورم پر بھارت کے خلاف نبرد آزما تھے۔ 22 ستمبر 1965ءکو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے انہوں تاریخی خطاب کیا۔ جس کے دوران انہوں نے بھارت کو للکارتے ہوئے کہا کہ ہم ہزار سال تک لڑیں گے، ہم اپنے دفاع میں لڑیں گے ، ہم اپنے وقارکے لیے لڑیں گے ، ہم زندگی کو نشوونما دینے والے لوگ ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا نام ونشان مٹا دیا جائے۔ ہم نے اپنے وقارکے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی خاطر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان دنوں بھٹو کی تقریر ریڈیو پر نشرکی جاتی تھیں۔ یہ تقریریں انگریزی میں ہوتی تھیں لیکن بازاروں میں ، ہوٹلوں پر ، دوکانوں جہاں ریڈیو پر تقریر سنائی جاتی لو گوں کے ہجوم لگ جاتے تھے۔ لوگ انگریزی نہیں جانتے تھے مگر آواز کے زیرو بم سے بھٹو کے لہجے سے جانتے تھے کہ یہ پاکستان کے دل کی آواز ہے اور واقعی بھٹو ہر دل کی آواز بن گئے۔اسی طرح 23ستمبر 1965ءکو بھٹو نے ایک بار پھر سلامتی کونسل سے خطاب کیا اور اس بار وہ پھر اسی طرح بھارتی وزیر خارجہ پر برسے تو بھارتی وفد اجلاس سے بھاگ گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے 1965ءکی جنگ کے دوران اقوام متحدہ میں کہے گئے یہ تاریخی الفاظ کہ ”ہم ایک ہزار سال تک بھارت کے ساتھ جنگ جاری رکھیں گے“آج بھی پاکستانیوں کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1965ءکی جنگ میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جب ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کو للکارتے ہوئے ببانگ دہل کہا تھا کہ”ہم ایک ہزار سال تک بھارت سے جنگ جاری رکھیں گے“تواس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اُنہوں نے جذبات میں آ کر ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو تاریخ میں امر ہو جائے گی ۔ یہ اقوام متحدہ میں جاندار انداز میں تقریر کا ہی نتیجہ تھا کہ1965ءکی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صرف پاکستان میں ہی نہیںبلکہ پاکستان کے باہر بھی اس قدر مقبول ہوگئے کہ جس کا تصور بھی ان دنوں ممکن نہیں تھا۔ ان دنوں عام پاکستانیوں کا خیال تھا کہ پاکستان کی شہ رگ”کشمیر“ پر کوئی خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا کہنا تھا کہ1965ءکی جنگ ایک ایسا سنہری موقع تھا کہ جس سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کے ایک بڑے حصے کو آزاد کرایا جاسکتا تھا، یہ وہ دن تھے جب پاکستان کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو جو ایوب کابینہ میں وزیر خارجہ تھے۔
٭٭٭


ای پیپر