سی پیک معاہدے منظر عام پر آپائیں گے؟
09 اکتوبر 2018 (23:18) 2018-10-09

ہمایوں سلیم : سی پیک منصوبہ جسے گیم چینجر قرار دیا گیا، اب ظاہری طور پر ایک نئی جہت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت اس بات پر پُر عزم دکھائی دے رہی ہے سی پیک کے حوالے چین کے ساتھ طے پانے والے منصوبوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔ جب کہ یہ تقاضا بھی کیا جارہا ہے کہ اس پرجیکٹ سے متعلق معلومات تک عوام کی بھی رسائی ہونی چاہیے۔


گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا اس میں ایک بڑی خبر آئی۔ ترجمان نے بریفنگ میں اس کا ذکر ایک جملے میں کیا۔ کسی نے سنا کسی نے نہیں سنا۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سی پیک کے”پراجیکٹس“ پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ خبر بھی آ چکی ہے کہ پشاور تا کراچی ریلوے لائن کو دہرا اور اپ گریڈ کرنے کا کام بھی ٹھپ کر دیا گیا ہے۔ ٹھپ کیا، یہ شروع ہی نہیں ہونے والا۔ پھر فنانشل ٹائم نے وزیر اعظم کے مشیر کے حوالے سے خبر دی کہ سی پیک ایک سال کے لیے بندکیا جا رہا ہے۔ پھر خبر آئی کہ چین کے وزیرخارجہ کا استقبال ایڈیشنل سیکرٹری کیا ہے، جبکہ سعودی وزیراطلاعات کا استقبال فل ٹائم وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کیا۔ پھرکسی نے کہا کہ پاک چین دوستی محض ایک دکھاوا یا ”سیاسی بیان“ ہو سکتا ہے اس سے آگے کچھ نہیں اور اسی تناظر میں سی پیک دو طرفہ فائدے کا منصوبہ ہے ورنہ چین تو کسی کو مونگ پھلی کا چھلکا بھی مفت نہیں دیتا۔ خیر اسے مبالغے والا تبصرہ سمجھئے۔ لیکن حقیقت اتنی ہے کہ یہ سقے اور پیاسے کا بندوست ہے۔ سقے کو دھیلہ چاہیے، پیاسے کو پانی کی کٹوری۔ دھیلہ دے کر پیاسا سقے پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ سقہ پانی پلاکر پیاسے سے نیکی نہیں کرتا، دونوں ضرورت مند ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ سی پیک سے چین کو سستی راہداری ملے گی۔ ہمیں کرایہ اور دوسرے باقی پراڈکٹ ملیں گے۔ یہ صحیح ہے کہ زیادہ فائدہ چین کو ہو گا لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ سستے میں اپنا سودا کرنا ہماری پرانی عادت ہے۔ ایسی عادت جواب مجبوری بن گئی ہے۔ ویسے سی پیک کی آدھی ٹانگ تو نواز حکومت نے اس کا رخ موڑکر توڑ دی تھی۔ شارٹ کٹ تو گلگت، پختونخواہ اور بلوچستان تھا لیکن اسے پہلے لاہور پھرکراچی اور وہاں سے گوادر لے جانے کا نقشہ بنایا گیا۔ کہتے ہیں حکومت کو ”یقین“ تھا کہ بلوچستان کے حالات تو کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ادھر سے گزارکر اس کی ”معطلی“ کا خطرہ کیوں مول لیا جائے چنانچہ روٹ بدل دیا گیا۔ خدشہ اتنا غلط بھی نہیں تھا۔ بلوچستان ہی نہیں پختونخواہ کے سرحدی حالات بھی جیسے تھے، ویسے ہیں۔ تبدیلی کی خوشخبریاں افواہیں تھیں، افواہیں ہی رہیں۔


کیوں کہ سی پیک کا مکمل بجٹ 56 ارب ڈالر ہے، یہ 56 ارب ڈالر قرضہ ہے جو پاکستان ادا کرے گا اور آنے والے 45 سالوں تک CPEC کا 95 فیصد فائدہ بھی چین اٹھائے گا، مزے اور حیرانگی کا پہلو ملاحظہ کریں چین یہ 56 ارب ڈالر پاکستان کو دے گا بھی نہیں خود سے اپنی لیبر اپنی ٹیکنالوجی کے ساتھ CPEC پر خرچ کرے گا۔ اگلے45 سالوں تک CPEC روٹس کے ساتھ فینس لگے گی جو سکیورٹی کے ہیڈ میں پاکستان لگائے گا لیکن پاکستان اور پاکستانی اس فینس سے باہر رہیں گے۔ ن لیگ کا یہ معاہدہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے 7جنوری 1992ءکو نواز شریف نے لاہور اسلام آباد موٹروے کے لیے FWOسے معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے موٹروے تعمیر ہونے کے بعد 20 سال تک ٹول پلازوں سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی ایف ڈبلیو او حاصل کرے گا اور پاکستان کو محض 20کروڑ روپے سالانہ ملا کریں گے جوکم و بیش کل جمع شدہ رقم کا 10فیصد بنتے ہیں۔ اب اسی طرح سی پیک کو بھی ن لیگ نے اونے پونے معاہدے کرکے پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اُس وقت اسٹیبلشمنٹ کے سامنے یہ معاہدے ہوئے مگر انہیں پبلک نہیں کیا گیا۔اس CPEC پر ہوٹلز، گودام اور ریسٹ ہاوسز چین کے ہوں گے،جہاں 90 فیصد چینی چائینہ ورکرز ہوں گے۔ یہ آج کی بات نہیں ہے عمران خان پر الزام لگا کہ دھرنوں کی وجہ سے سی پیک ایک سال تاخیرکا شکار ہوا مگر قارئین کی اطلاع کے لیے بتاتا چلوں کہ عمران خان نے اُس وقت بھی یہی کہا تھا کہ ان معاہدوں کو پبلک کیا جائے تا کہ حقائق عوام تک پہنچ سکیں۔ عمران خان اپوزیشن میں تھا یا آج حکومت میں شروع سے یہی دہائی دے رہا ہے۔CPEC میں ہوا کیا ہے ہم کیوں بے نام اور برائے نام اوکھلی میں سر دیکر مار کھا رہے ہیں۔اس CPEC نے پاکستان اور پاکستانیوں کو کیا دیا ہے۔ چینی وزیرخارجہ کا پرتپاک استقبال نہ کرنے کے پیچھے بھی یہی راز ہے آج بھی عمران خان نے وزیرخارجہ کو دو ٹوک بتا دیا ہے ہم تمام کنٹریکٹس اور معاہدے ری وزٹ کرنا چاہتے ہیں۔


مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آیا سی پیک ”نئے پاکستان“ میں رواں دواں رہے گا۔ یہ تو لازم ہے۔ سرمایہ کاری راہداری کے لیے فوج اور بین الفریقین حمایت موجود ہے اور صاف بات ہے کہ پاکستان کے پاس دیگر آپشن کم ہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آیا سی پیک پر پیش رفت سے وزیرِ اعظم خان کی عوامیت پسندی کے محض بیان بازی ہونے کا پردہ تو نہیں کھل جائے گا؟وزیرِ اعظم عمران خان کی عوامیت پسند سیاست لازمی طور پر انہیں بیجنگ کے دروازے تک کی پتھریلی سڑک پر لے جائے گی۔ وہ شفافیت کی بات کیسے کریں گے جب ان کا سامنا سی پیک کے پوشیدہ مالی معاملات سے ہوگا؟ وزیرِ خزانہ اسد عمر نے پہلے ہی سی پیک معاہدوں کو عوام میں لانے کا وعدہ کیا ہے۔ مگرکیا عوام ان شرائط کو ہضم کر پائیں گے؟ کبھی نہیں ، کیوں کہ سابقہ حکومت نے محض ”کریڈٹ “ لینے کے چکر میں ایسے ایسے معاہدے کیے ہیں جنہیں بتاتے ہوئے بھی عمران خان شرم محسوس کر ر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان سی پیک منصوبوں کی جانچ پڑتال کروائے بغیر کس طرح نواز شریف، مسلم لیگ (ن) کی کرپشن اور اقتصادی بدانتظامی کے خلاف مہم جاری رکھ پائیں گے؟ وزیرِ ریلوے شیخ رشید نے کسی زمانے میں سی پیک کے تحت بننے والے ایک بجلی گھرکی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جس میں ان کے نزدیک کرپشن ہوئی تھی۔


قارئین کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے جنرل ایوب کے دور میں پاکستان کے لیے سی پیک کی طرح کا ایک بڑا معاہدہ ہوا تھا جو حقیقت میں گیم چینجر تھا۔ جس کے تحت منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہزاروں کلو میٹر طوالت کی نہریں بھی بنائی گئیں۔ اس کے نتیجے میں اب وہاں سال میں دو فصلیں ہوتی ہیں جہاں پہلے گھاس کا تنکا بھی نہ اگتا تھا اور جہاں1970ءکے عشرے تک ویرانے تھے وہاں اب ہنستے بستے شہر ہیں۔ انڈس واٹر ورکس منصوبے کا ایک نتیجہ یہ بھی برآمد ہوا کہ دو مشرقی صوبے (پنجاب اور سندھ) تیزی سے پروان چڑھے اوراُن میں شہری علاقوں کا رقبہ بھی وسعت اختیارکرگیا ۔ اس کے بعد 1960ءکی دہائی میں ہم نے امریکا اور چین کے درمیان صلح کے لیے پُل کا کردار ادا کیا تھا، جب کہ امریکی صدر ہنری کسنجر اُس وقت پریشان تھے کہ اس کے بدلے میں پاکستان نہ جانے امریکا سے کیا ڈیمانڈ کرے گا، مگر ہم نے ذاتی مفادات کے سوا کچھ نہ لیا۔ 9اگست 1990ءکو عراقی صدر صدام حسین نے طاقت کے نشے میں کویت پر حملہ کر کے اسے پسپائی پر مجبورکر دیا۔

سعودی عرب اور عرب امارات پر بھی عراق نے چڑھائی کا عندیہ دے دیا تھا۔ ترکی اور مصر عراق کی زد میں تھے۔ ایران سے عراق کی پہلے ہی طویل جنگ ہو چکی تھی، الغرض عراق پوری اسلامی دنیا کے سامنے سینہ تانے کھڑا تھا۔ اس صورتحال میں سعودی عرب اور عرب امارات نے اپنے تحفظ کے لئے پاکستان سے فوجی مدد مانگی۔ ہماری پانچ ہزار فوج پہلے ہی سعودی عرب میں موجود تھی۔پاکستان میں اس وقت بیوروکریٹک حکومت اقتدار کے مزے لوٹ رہی تھی۔بیوروکریسی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کبھی بھی کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ان کی کمزور حکومت اس بات کا فیصلہ ہی نہ کر سکی کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ سعودی عرب کی اس پیشکش کا فائدہ مصر حکومت نے اٹھاتے ہوئے 50 ہزار فوج سعودی عرب بھیج کر اپنے تمام قرضے معاف کروا لئے۔


البتہ سی پیک کے بارے میں بہت سے دعوے کیے جارہے ہیں اور تبصروں کی بھی بھرمار ہے۔ سی پیک کے تمام نہ سہی تب بھی اچھے خاصے اجزا تجربے کے بنیاد پر تیار کیے ہوئے معلوم نہیں ہوتے کیونکہ متعلقہ اعداد و شمار اور حقائق اب تک عوام کے سامنے نہیں رکھے گئے۔ چند سوالات اس وقت میرے ذہن میں اُبھر رہے ہیں کہ پاکستان نے سی پیک کی جامع فزیبلیٹی تیارکی ہے؟کیا پاکستان نے سی پیک کی تکمیل کی صورت میں ماحول پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے کوئی تخمینہ تیار کیا ہے؟گوادر کی بندر گاہ سے ہونے والی مجموعی آمدن میں پاکستان کا حصہ کس حد تک ہوگا؟گوادر کی بندر گاہ سے ہونے والی مجموعی آمدن میں بلوچستان کا حصہ کس قدر ہوگا؟کیا گوادر سے خنجراب تک کی ہائی وے محض ٹول روڈ ہے؟ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اس آمدن سے ان صوبوں کو کس قدر ملے گا جن سے یہ ہائی وے گزرے گی؟(کیا اس کا حال بھی تو موٹروے والا نہیں ہوگا؟)چین کی ٹرانزٹ ٹریڈ کا پاکستان کے مینوفیکچرنگ (اشیا سازی) سیکٹر پر کیا منفی یا مثبت اثر مرتب ہوگا؟ سی پیک سے متعلق درآمدات پر ٹیکس کی چھوٹ دینے سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر پرکیا اثرات مرتب ہوں گے؟ سی پیک سے مالیاتی وسائل کی آمد (بیرونی قرضے اور بلا واسطہ بیرونی سرمایہ کاری) اور وسائل کے اخراج (قرضوں اور ان پر سود نیز منافع کی ادائیگی) سے متعلق توازن ادائیگی پر کیا قلیل المیعاد اور طویل المیعاد اثرات مرتب ہوں گے؟ خشکی پر اور سمندر میں ملکی تجارتی قافلوں کو زیادہ سے زیادہ یا جامع ترین تحفظ فراہم کرنے کا پاکستان کے بجٹ پر کیا اثر مرتب ہوگا؟گوادر تا خنجراب سی پیک سے متعلق تجارتی قافلوں کو تحفظ فراہم کرنے والے سکیورٹی یونٹس میں متعلقہ اضلاع کا حصہ کتنا ہوگا یعنی وہاں سے کتنوں کو بھرتی کیا جائے گا؟اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں کہ گوادر ایسا شہر نہ بن جائے جس میں بلوچ اقلیت میں ہوں؟آج بھی ان سوالوں کے جوابات عوام کو درکار ہیں۔ لہٰذاحقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کے ”تعاون“ سے CPEC کی صورت میں ہمارے گرد قرض اور سود کا وہ جال لپیٹ دیا ہے کہ ہم چائینہ کے محکوم اس کی کالونی بن کر رہ جائیں گے۔ CPEC کا اک معاہدہ بھی احسن اقبال اور ن لیک نے قوم کے سامنے نہیں آنے دیا اس کی بھی وجہ وہی کمیشن اور لوٹ مار ہے۔ اس لیے عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ ان معاہدوں کو لازمی عوام کے سامنے لائیں، حقیقت بتائیں اور انہیں ختم تو شاید نہیں کر سکتے مگر ریویو کی گنجائش موجود ہے۔ اسے استعمال کرکے خالصتاََ پاکستان کے مفادات کے لیے سامنے لائیں ، تاکہ بہترین فیصلے کیے جاسکیں۔


ای پیپر