نیب پراسیکیوشن بڑے کیسز سنبھالنے میں ناکام کیوں؟
09 اکتوبر 2018 (23:13) 2018-10-09

حافظ طارق عزیز:بدنیتی، بد عنوانی، ہیرا پھیری اور لوٹ مار ایسے عناصر ہیں جوکسی بھی معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کرکے رکھ دیتے ہیں۔ ان علتوں کا شکار ادارے اور افراد اپنی جیبیں بھرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے مفاد کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔ اسی روایت کوروکنے کے لئے دنیا بھر میں سخت قوانین بنائے اور ان پر عمل کیا جاتا ہے تاکہ کرپٹ عناصرکو نکیل ڈال کر قوم کا سرمایہ لٹنے سے بچایا جا سکے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں لوٹ مارکا یہ سلسلہ اپنی جڑیں اس قدر مضبوط کرچکا ہے کہ بدعنوان عناصر کسی طور پکڑ میں نہیں آتے۔

یقین مانیں بطور معاشرتی رکن کے ہمیں اُس وقت شرم محسوس ہوتی ہے جب دنیا ہماری کرپشن کو آشکارکرتی ہے، جب عالمی رینکنگ میں ہماری کرپشن کی داستانیں رقم ہوتی ہیں، جب قوم کا کھربوں روپیہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، جب یہ علم ہوتا ہے کہ کرپشن ختم کرنے والا ادارہ کمزور ” نیبپراسیکیوشن کی وجہ سے خود تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے، جب نیب پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ اونے پونے ڈیل کرکے خود ملزمان کو چھوڑ دیتا ہے۔ جب یہ الزام لگتا ہے کہ پاکستان میں جتنی مرضی کرپشن کر لو یہاں کے قوانین میں بہت لچک ہے، سب آزاد ہو جاتے ہیں، جب یہ سننے کو ملتا ہے کہ عدالتیں ٹھوس ثبوت مانگتی ہیں جو تفتیش کرنے والوں کے پاس نہیں ہوتے اور ملزمان بآسانی ناقص پراسیکیوشن سے آزاد ہو جاتے ہیں، جب نیب کی ہی جانب سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ ملزمان سیاسی اثرو رسوخ رکھتے ہیں اس لیے وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور سب سے زیادہ شرم اُس وقت محسوس ہوتی ہے جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کا سربراہ یہ کہتا ہے کہ نیب کو عدالت نے بہت سپورٹ کیا ہے، نیب سوائے آنے جانے کے کر ہی کیا رہا ہے؟ نیب کوئی ایک کیس بتائے جومنطقی انجام تک پہنچایا ہو، فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی گرفتاری سے کیا نتیجہ نکلا؟ قوم کوعلم ہونا چاہیے خلاف ضابطہ تقرری کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا؟ نیب سے صرف تحقیقات کرنے اورریفرنس دائرکرنے کی خبر آتی ہے، کیا نیب کا گند اب عدالت کو صاف کرنا ہے؟ نیب سے نتائج درکار ہیں، نیب کا ڈھانچہ تبدیل کرنا ہوگا۔

جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے ایسی باتیں ہوں تو یقینا وہ موضوع سخن ضرور بنتی ہے ورنہ ایک بزرگ کبھی یہ بات نہ کہتے کہ جب ہم نے 60ءاور70ءکی دہائی میں بڑے بڑے کام کیے، ڈیم بنائے، صنعتوں میں ترقی ہوئی، اس وقت نیب تھا نہ کوئی سوموٹو ایکشن لیا جاتا تھا۔ میں اُس وقت تو بات کو ”کور“ میں رکھنے کے لیے کہہ دیا کہ اس وقت حکمرانوں کی آنکھ میں بھوک نہ تھی۔ وہ سرکاری مال کو اپنی ذات اور اپنے خاندان پر خرچ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ قائد اعظمؒ سے لے کر عبدالرب نشتر تک؛ لیاقت علی خان سے لے کر چودھری محمد علی تک اور ایوب خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک، کسی پر کرپشن کا الزام نہ تھا۔ چونکہ حکمران دیانت دار تھے اس لیے بیورو کریسی میں بھی خیانت کی جرا¿ت تھی نہ روایت۔ وفاقی سیکرٹری، سرکاری گاڑی ذاتی استعمال میں لاتا تھا توکرایہ سرکاری خزانہ میں جمع کراتا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ سیکرٹری خزانہ یا وزیر خزانہ اگر انکار کر دیتا تھا تو اسے وزیراعظم یا گورنر جنرل، یا صدر فیصلہ بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا! غضب کا مالیاتی ڈسپلن تھا۔ سربراہ حکومت کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون نہیں بن جاتا تھا۔ یہ باتیں کہہ کر ہم اپنے تئیں یہ بات سوچنے پر ضرور مجبور ہو جاتے ہیںکہ آخر کوئی نہ کوئی تو خامی ہوتی ہے کہ جس سے ادارہ یا شخصیت ناکام ہوتی ہے۔

آپ حالیہ نواز شریف ، مریم نواز اورکیپٹن صفدر کی سزا معطلی کیس کی مثال لے لیں ۔ جس میں نیب پراسیکیوشن پر بہت سے سوالیہ نشان لگ گئے۔ اس رہائی نے معاشرے میں عدل، انصاف، قانون، ح±سن، خیر، صداقت، اخلاق، کردار غرض یہ کہ ہر اُس قدرکو مسخ کرکے رکھ دیا ہے، جس سے معاشرہ، معاشرہ بنتا ہے۔ کروڑوں روپے کے وکلاءکی ٹیم کے سامنے چند لاکھ روپے تنخواہ والے وکیل کھڑے کر دیے گئے، معذرت کے ساتھ جنہیں شاید بڑے وکلاءکی انگریزی بھی سمجھ نہ آتی ہوگی۔ اس بڑے کیس میں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کہاں تھے؟ کیا انہیں علم نہیں تھا کہ کیس کی طرف جا رہا ہے؟ کیا وہ کیس ٹو کیس وکلاءہائیر نہیں کر سکتے۔ جب آپ نے کرپشن میں ملوث عناصر سے کھربوں روپے وصول کرنے کے دعوے کرنے ہیں تو پھر تیاری بھی پوری کریں، کیوں کہ جو شخص آپ پکڑتے ہیں اُس کا تو سب کچھ داﺅ پر لگا ہوتا ہے، بالکل اُسی طرح جس طرح ایک قاتل شخص پھانسی سے بچنے کے لیے سب کچھ داﺅ پر لگا دیتا ہے۔ لہٰذا نیب کی پرسیکیوشن کی وہ کلاس ہی نہیں ہوتی جو ملزم کی کلاس ہوتی ہے یا جو ملزم کے دفاعی وکیل نے اختیارکی ہوتی ہے ۔ مذکورہ بالا کیس میں اعتزاز احسن، علی ظفر، اعظم نذیر تارڑ اور ان جیسے نامور وکلاءکو کھڑے کریں تاکہ کیس کا رخ ہی تبدیل نہ ہو سکے اور ملزمان کٹہرے میں کھڑے ہوں تو انہیں ڈر ہو خوف ہو۔ چھوٹے وکیل کھڑے کرنے سے آج تک کیا کوئی نتیجہ نکلا؟ ایان علی کا کیس آپ کے سامنے ہے، جس انسپکٹر سے اسے گرفتارکیا وہ ہی مارا گیا، پھر بابر ولی قتل کیس میں سارے گواہ مار دیے گئے۔ ایسے حالات میں کس کی جرا¿ت ہے کہ وہ ان بڑی شخصیات پر ہاتھ ڈالیں یا پھر چھوٹے وکلاءخود ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

خیر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے احتساب کے اداروں نے جنگل کے قانون کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس کیس میں تو موجودہ حکومت بھی یہ کہتی نظرآئی کہ نیب کے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے اپنا مقدمہ ٹھیک طرح پیش کرنے میں ناکام رہے۔ وہ شریف خاندان کے جرائم کے سلسلے میں ٹھوس شہادتوں کو سامنے نہ لاسکے۔ چنانچہ نیب کے کان کھینچنے کی ضرورت ہے۔ فرض کیجیے کہ استغاثہ نے واقعتا وہی کیا جو ذرائع ابلاغ میں موجود افواہوں نے کہا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا استغاثہ نے ازخود ایسا کیا؟ جب نیب چیئرمین کو علم تھا کہ اتنا بڑا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چل رہا ہے تو انہوں نے عام نیب وکلاءکے بجائے ملزم کے وکلاءکے برابر وکلاءکو ہائیرکیوں نہ کیا؟ موجودہ نیب چیئرمین اس ٹیم کو تبدیل یا اس کی معاونت کو اچھے وکیل دے سکتے تھے۔ افسوس یہ ہے کہ اب بھی پاکستان میں کسی بھی بدعنوان کو قانون کا کوئی ڈر نہیں۔اوّل تو پکڑے نہیں جاتے اگرگرفتار ہوتے بھی ہیں تو ناقص تفتیش کے باعث باعزت بری ہوکر ساری زندگی اپنی ایمانداری کا اعلان کرتے اور پھر لوٹ مار پر لگ جاتے ہیں۔ بظاہر اس کی تمام تر ذمہ داری نیب پر عائد ہوتی ہے کیونکہ نیب کی پراسیکیوشن کافی مشکوک اور غیر تسلی بخش رہی۔ نیب کے وکیل نے انتہائی کمزور دلائل دے کر جیتا ہوا کیس ہاردیا۔ مگر صورت حال اتنی سادہ نہیں کہ تمام تر ذمہ داری نیب کی کمزور پراسکیوشن پر ہی ڈال دی جائے کہ یہاں سب کچھ بکتا ہے۔ اس کیس کی پراسیکیوشن نیب جیسا آزاد و خود مختار ادارہ کر رہا تھا جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدعنوان عناصر کا احتساب کرے۔ کیا نیب کو اپنے پراسیکیوٹر کی کارکردگی پر ذرا بھی شک نہیں ہوا؟ جب کہ میڈیا میں اکثر نیب پراسیکیوشن کوغیر تسلی بخش قرار دیا جاتا رہا۔ نیب پراسکیوٹر ثابت شدہ جرم ثابت کرنے میں ناکام کیوں رہا ؟ اگر نیب اتنی ہی معصوم ہے کہ اسے پتا ہی نہ چل سکے کہ اس کی ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے تو پھر وہ اپنی کارکردگی کا اندازہ خود لگا لے۔

مذکورہ کیس کے فیصلے کے بعد ” نیب “ نے نیک نیتی یا بے نیتی سے سپریم کورٹ جانے کا فیصلے کیا تو وہاں سے جھڑکیں کھانے کے بعد خاموشی سے بیٹھ گئی۔ نیب کو ابھی بھی چاہیے کہ اپنی تمام تر توجہ العزیزیہ اور فلیگ شِپ ریفرنسز پر مرکوزکر دے کیونکہ ایون فیلڈ ریفرنس میں کچھ باقی نہیں بچا۔ باقی سمجھدار کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ ایک بات یہ بھی غور کرنے والی ہے کہ نیب کے ملزمان کی یہ عجیب و غریب منطق بہت ہی نامناسب ثابت ہوتی ہے کہ ”ملزم “ یہ کہے کہ کوئی کرپشن ثابت نہ ہو سکی۔ سوال یہ ہے کہ الزام کیوں لگا؟ ثابت نہ ہو سکنے کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ کرپشن نہیں کی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں آگ ہو! آخر کرپشن کا الزام قائد اعظم ؒپرکیوں نہیں لگا۔ عدالتوں میں لیاقت علی خان کیوں نہ گھسیٹے گئے، عبدالرب نشتر، مولوی تمیزالدین خان، نور الامین، فضل القادر چودھری، صبور خان، پرکرپشن کے الزامات کیوں نہ لگے؟ ذوالفقار علی بھٹو پر کرپشن کا الزام کیوں نہ لگا۔ نصیر اللہ بابر پر کیوں نہ لگا؟ قمر زمان کائرہ، راجہ ظفر الحق پر کرپشن کے الزامات کیوں نہ لگے؟ اس لیے کہ کرپشن کے الزامات انہی پر لگتے ہیں جو کرپشن کرتے ہیں! رہی جماعتوں کی اجتماعی کرپشن کی تو کسی بھی سیاسی جماعت کا منشور اُٹھا کر دیکھ لیں، زمین آسمان کے قلابے ملاتا، پاکستان کو جنت نظیر بناتا نظر آئے گا لیکن نتیجہ ہمیشہ ”صاحب نے کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا، بارہ آنے“۔ اب تو قوم بھی سمجھ چکی کہ منشور ونشور کچھ نہیں، یہ محض ووٹوں کے حصول کے بہانے ہیں۔ میرے خیال میں اس فرسودہ نظام پر ایک نظر ڈالیں تو ناقص پراسیکیوشن کی وجہ سے جعلی بینک اکاونٹس کیس، بلدیہ فیکٹری کیس، ڈاکٹر عاصم حسین کیس، ماڈل ٹاون کیس، آشیانہ ہاﺅسنگ اسکیم اور صاف پانی کرپشن کیس پر پیش رفت نہ ہونا انتہائی مایوس کن ہے۔ ہمیں نظام کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں احتساب کا ایسا ادارہ بنانا ہوگا کہ ہرکرپشن کرنے والا شخص اس کے بارے میں سوچ کر بھی اپنے غلط ارادوں کو ترک کرد ے اور پاکستان کی ترقی کا پہیہ بھی تبھی چلے گا جب مضبوط احتساب ہوگا کیونکہ احتساب مضبوط ہونے سے ہی تمام اداروں میں شفافیت آئے گی جو ملک وقوم کی ترقی کے لئے ازحد ضروری ہے ۔


ای پیپر