فوٹوبشکریہ فیس بک

تھر میں بچوں کی ہلاکت کا معاملہ، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی
09 اکتوبر 2018 (14:11) 2018-10-09

کراچی: سپریم کورٹ نے تھر میں بچوں کی ہلاکت سے متعلق کیس میں سندھ حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے تھر میں بچوں کی اموات کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سیکرٹری ہیلتھ سندھ نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر بتایا کہ رواں سال 486 بچوں کی اموات ہوچکی ہیں، ہلاک بچوں میں 317 کی عمریں 11 ماہ سے کم تھیں۔

چیف جسٹس نے سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ نے کاغذی کارروائی کی ہے، ہسپتالوں کی حالت بدترین ہے، عدالت کو دھوکا دیا جارہا ہے، تھر جا کر بیٹھ جاؤں گا، دیکھوں گا وہاں کیا ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ حکومت نے اب تک کیا تدابیر اختیار کی ہیں؟؟؟ تھر کا اصل مسئلہ کوئی بیان نہیں کرتا، کوئی غذائی قلت سے مر رہا ہے تو کوئی ناقص علاج معالجے سے۔

سندھ کے ہسپتالوں میں بلیاں پھرتی ہیں، ہسپتالوں میں بلیوں کا بستروں سے خون کے لوتھڑے لیکر جانے کی ویڈیوز موجود ہیں۔ اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، خود تھر جا کر بیٹھ جاؤں گا، عدالت کو رپورٹس نہیں مسئلے کا حل چاہئے۔ عدالت نے سندھ کے ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات کی تفصیلات طلب کرلی۔

عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ ، صوبائی سیکرٹری پاپولیشن، سیکرٹری ایجوکیشن سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرتے ہوئے سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کردی۔


ای پیپر