PDM,Palmist,Pakistan Politics,PPP,PMLN,PTI
09 نومبر 2020 (19:00) 2020-11-09

سیدعلی زیدی (آسٹروپامسٹ)

اپنے کالم کے آغاز میں سب سے پہلے میں ’’نئی بات‘‘ میڈیا گروپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔ 

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ’’پی ڈی ایم‘‘ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہے اور پی ڈی ایم نے جو جلسے حال ہی میں کیے وہ کافی کامیاب تھے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی۔ سیاسی تجزیہ کار کی سیاسی ماحول کا اندازہ لگا کر اپنا تجزیہ پیش کردیتے ہیں لیکن ہم لوگ جو نجوم اور دیگر علوم کے ماہر ہوتے ہیں ہم حالات کو مدنظر رکھ کر کوئی پیش گوئی نہیں کرتے۔ ہم نے جو پیش گوئی کرنی ہوتی ہے وہ اپنی علمی بنیادوں پر کرنی ہوتی ہے۔ کئی بار ایسے ہوتا ہے کہ بہت سی باتوں پر ہمارا تمسخر اُڑایا جاتا ہے لیکن جب ہمارے کہی ہوئی باتیں سچ ثابت ہوتی ہیں تب جا کر لوگ ہماری کہی ہوئی باتوں، ہمارے علم کو اور ہمیں تسلیم کرتے ہیں۔

پی ڈی ایم کے سیاسی مستقبل پر بات ہورہی تھی۔ قارئین کو یاد ہو گا گزشتہ سال انہی دنوں انہوں نے تحریک کا آغاز کیا تھا اور جو واقعات ہوئے وہ آپ سب لوگ جانتے ہیں۔ انہی دنوں مجھے ایک نجی چینل نے سیاسی حالات اور پی ڈی ایم کے مستقبل کے حوالے سے جاننے کے لیے بلایا جس میں جے یو آئی کے رہنما حافظ حسین احمد اور پیپلزپارٹی کے قمرزمان کائرہ، علامہ طاہراشرفی، مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر افنان اللہ موجود تھے۔ میری پیش گوئی جو مولانا فضل الرحمان کے بارے میں تھی، اس پر بڑا عجیب سا ردعمل دیا تھا۔ میں اپنی پیش گوئی پر قائم ہوں اور میں وہی پیش گوئی روزنامہ ’’نئی بات‘‘ کے میگزین کے قارئین کی نذر کرتا ہوں۔

مولانا فضل الرحمان جو کئی حکومتوں کے ساتھ حکومت کا حصہ رہے ہیں، میری پیش گوئی ہے اگلے آٹھ سال تک مولانا فضل الرحمان کو کوئی سیاسی عروج حاصل نہیں ہو گا۔ اگلے آٹھ سال تک کسی قسم کی کوئی سیاسی کامیابی نظر نہیں آتی۔ اگلے آٹھ سال مولانا فضل الرحمان پر سیاسی زوال کے سال ثابت ہوں گے۔ اس دوران ان کے بھی بہت سے ساتھی ان کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر چلے جائیں گے۔ زائچہ میں دائیں اور بائیں دونوں اطراف سے ٹوٹنے کی علامات ہیں۔ دیگر سیاسی اتحادی پارٹیاں عین موقع پر ان سے بے وفائی کریں گی اور ایک انتہائی اہم بات زائچہ میں قید وبند کی علامات موجود ہیں۔ امکان ہے کہ ان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے۔ ان کے ہاتھوں پر شمسی لکیر عائد ہے۔ لمبے عرصے تک ان کو سیاست میں کوئی مرتبہ اور مقام حاصل نہیں ہوگا۔

اب بات کر لیتے ہیں دوسری اتحادی جماعت مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی۔ بلاشبہ مریم نواز پاکستان کی معروف سیاستدان ہیں۔ اگرچہ خود کو وہ بھرپور طریقے سے ابھی تک سیاسی میدان میں نہیں لائیں تاہم پھر بھی ان کی مقبولیت بے پناہ ہے اور ہر آنے والے دن ان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے البتہ تجزیہ کاروں کے لیے مریم نواز کا کردار ہمیشہ پُراسرار رہا ہے۔ جب وہ خاموش ہوتی ہیں تو تجزیہ کار ان کی خاموشی سے حیران وپریشان رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ مریم نواز کا سیاسی قد بڑھا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں جس وقت مریم نواز نے پارٹی قیادت سنبھالی تو اس وقت مسلم لیگ ن زوال اور مسائل کا شکار تھی۔ میاں صاحب نااہل ہونے کے قریب تھے۔ اکثر فیصلے عدالتوں کی جانب سے ان کے خلاف آرہے تھے۔ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک کمپین چلی ہوئی تھی۔ اس وقت جو لوگ مجھے فیس بُک اور سوشل میڈیا پر فالو کررہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پہلے میں نے میاں صاحب کے نااہل ہونے اور پھر ملک سے باہر چلے جانے کی پیش گوئی کی جو سچ ثابت ہوئی۔ یہ سب پیش گوئیاں میرے فیس بُک پیج پر موجود ہیں۔ ان کی گرفتاری اور جو رہائی کے بارے میں کی مگر اب سوال یہ ہے کہ مریم نواز کے ستارے اس وقت کیا کہتے ہیں۔ مریم نواز کے ستارے اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید احتجاج، جلسوں تحریکوں میں مزید تیزی لائیں گی اور ایک بڑا محاذ حکومت کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ آنے والے چند دنوں میں عدالتوں سے کسی قسم کا ریلیف ملنے کے امکانات ہیں۔ ستارے مزید اشارہ دے رہے ہیں کہ ان کا نام ECL (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) سے نکالے جانے کے امکانات ہیں۔ ذائچہ میں قید کی علامات ختم ہوچکی ہیںان کی اب دوبارہ گرفتاری کا کوئی امکان نہیں۔ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ آنے والے چند دنوں میں ملک سے باہر چلی جائیں گی۔ ذائچہ میں ہر دن سفر کی علامات واضح ہورہی ہیں تاہم ایک بات ان کے ساتھ ہو گی یہ کبھی بھی پاکستان کی وزیراعظم نہیں بن پائیں گی۔ ان کے ہاتھ میں بادشاہت کی لکیر نہیں۔

اب بات کرلیں تیسری پارٹی کے رہنما جو پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور ان کی اُمیدوں کا محور ہیں۔ پیپلزپارٹی نے پاکستان میں بھی کئی دور دیکھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے بعد آصف علی زرداری اور اب پیپلزپارٹی کا مستقبل بلاول بھٹو زرداری سے جڑا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سے بنے بنائے کام پورے نہیں ہورہے۔ بلاول بھٹو کے ستارے بڑے عجیب وغریب اشارے دے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کو سیاست میں اور نجی زندگی میں غیرمتوقع صورتحال کا ہمیشہ سامنا کرنا پڑے گا اور ہمیشہ غیرمتوقع صورتحال سے ان کا واسطہ پڑے گا ۔ ان کو ہمیشہ ٹریجڈی والی صورتحال پیش آنے کے امکانات رہیں گے۔ زائچہ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم پاکستان نہیں بن سکیں گے اور آنے والے چند دنوں میں سیاسی منظرنامے سے بالکل غائب ہو جائیں گے اور پیپلزپارٹی میں ان کی جگہ کوئی اور سنبھالے گا۔ اپنی زندگی میں کبھی بھی کوئی بڑا سیاسی کام نہیں کرپائیں گے۔ زائچہ یہ بتاتا ہے اگر ان کو کوئی بڑا سیاسی عہدہ ملتا ہے تو اس کی مدت پوری نہیں کرپائیں گے۔

اب بات کرلیں حکومت کی۔ پی ٹی آئی کی حکومت پر تیسرا سال انتہائی بھاری ثابت ہو گا۔ اس تیسرے سال میں حکومت کے ختم ہونے کے بھی امکانات ہیں۔ زائچے میں عمران خان اور حکومت پر تیسرا سال انتہائی مشکل اور تکلیفوں بھرا ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر حکومت اپنا تیسرا سال پورا کرتی ہے تو حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ حکومت اور پی ٹی آئی کی ہزار ناکامیوں کے باوجود زائچہ ایک بات بڑی عجیب وغریب بتا رہا ہے۔ زائچہ میں اگلی حکومت بھی پی ٹی آئی کی بننے کے امکانات ہیں اور عمران خان کے ہاتھ پر بھی حکومت کے دو دور کے اشارے ہیں یعنی ان کو دوبار حکومت ملنے کے امکانات ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور دیگر مسائل سے عوام اس حکومت سے تنگ نظر آتی ہے لیکن میرا علم کہتا ہے کہ آنے والی حکومت بھی عمران خان کی ہو گی۔

٭…٭…٭


ای پیپر