نیک نیت
09 نومبر 2019 2019-11-09

پاکستان زندہ باد! عمران خان زندہ باد! جنرل باجوہ زندہ باد!۔ 68 سالہ جگندر کور سے صرف یہی تو پوچھا تھا کہ بابا گرو نانک کا دربار صاحب کرتارپور میں آپ کا حاضر ہونا کتنی بڑی حسرت کا نام ہے۔ ان حسرتوں کا جواب دینے سے پہلے جب جگندر کور صاحبہ کے منہ سے یہ تین نعرے سنے تو احساس تب ہی ہوگیا تھا کہ سکھ مذہب اور بابا گورو نانک کے چاہنے والوں کی اگر کوئی سب سے بڑی خواہش تھی تو وہ دربار کرتارپور میں حاضری تھی۔ اپنی زندگی کے 40 سال آسٹریلیا میں گزارنے والی جگندر کور کے 68 سال کی عمر میں لہجے کی کھنکھناہٹ اور بے انتہا خوشی ان کے زندگی کے سب سے بڑے ارمان کے پورے ہونے کی غمازی کررہی تھی۔

میں نے پوچھا پاکستان آکر کیسا لگا؟ وہ اپنے مخصوص پنجابی لہجے میں بولیں آسٹریلیا توں ودیا لگیا۔ نہایت پرخلوص لہجے میں حیرانگی کا عنصر لئے جگندر کور صاحبہ نے کہا ”میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ نوجوت سنگھ سدھو کی جادو کی جپھی اور عمران خان کا کیا ہوا وعدہ صرف ایک سال میں ہی پورا ہوجائے گا“

جب ہم نے بتایا صرف 7 ماہ کے عرصے میں 4 ایکڑ کے رقبے کو دربار کے اندر 42 ایکڑ تک توسیع دی گئی فرط جذبات سے یہ خاتون رو پڑی۔ کہنے لگیں کہ پورے ایک سال سے پراجیکٹ کو ٹیلی وژن کے ذریعے مانیٹر کررہی تھی۔ لیکن مجھ سمیت دنیا بھر کے سکھ یاتریوں کا پاکستان میں آسانی سے آجانا اس کا تصور بھی نہیں تھا۔ ناجانے کتنے برس سے جوگندر کور اور ان جیسے لاکھوں سکھ برداری سے تعلق رکھنے والے افراد بابا گرو نانک کی نشانیاں دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے۔ لیکن بھارتی کلیئرنس کی سخت ترین شرائط ہمیشہ ویزے کی راہ میں حائل رہتیں۔

جگندر کور کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ایک sports woman ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے بھارت کے لیے اتھلیٹکس میں 19 گولڈ میڈل لیے جس میں ایک olympic میڈل بھی شامل ہے۔ 'sports woman رہی ہوں اس لیے اندازہ ہے کرتار پور کی شکل میں اتنا بڑا فیصلہ کوئی عام آدمی نہیں عمران خان کی شکل میں کوئی Sports Manہی کرسکتا ہے۔

کرتار پور کے محل وقوع سے اگر میں آپ کو آگاہ کروں تو صرف 3 کلومیٹر کی یہ راہداری ہے لیکن اس راہداری میں حائل رکاوٹوں نے ختم ہونے میں 70 سال لیے۔ 1996ءسے لے کر 2013ءتک کئی بار پاکستان نے کرتار پور راہداری کو کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی حائل رہی۔

ان گزشتوں سالوں میں بھارت کی شرانگیزی اپنی جگہ لیکن سکھ برادری کے اس دیرینہ خواب اور مطالبے پر ثابت قدمی کے ساتھ کام پاکستان نے کیا۔ نیت صاف ہو تو فاصلے سمیٹنے میں وقت نہیں لگتا ورنہ پچھلی کئی دہائیوں سے زیرو پوائنٹ پر لگی دوربین ہی وہ واحد ذریعہ تھی جس کے ذریعے سکھ برادری بابا گرو نانک صاحب کا دربار تو نہیں لیکن اس سے ملحق درشن ڈیوڑی کا مینار دیکھ کر اپنی منتیں مرادیں اور عقیدتیں پیش کرتے تھے۔

لیکن اب مرادیں اور امیدیں بر لانے کا وقت آچکا ہے۔ دلوں کو جوڑنے اور فاصلے کم کرنا کوئی ہم سے سیکھے۔ کرتار پور اور اس کی راہداریاں ہر لحاظ سے ایک عجوبہ اور گیارہ مہینے کی ناممکنات میں سے لگتا تھا۔ اس پراجیکٹ میں ہی کئی ایسے پراجیکٹ تھے جس کی تعمیر ایشیا کی حد تک بے مثال ہے۔

یوں کہیے کہ محض دعاو¿ں کے عوض پاکستان نے سکھ برادری سے کیا گیا وعدہ وفا کر کے سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک دیو جی سے محبت کا عملی نمونہ پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے ایک ایک کونے سے پاکستان کا خلوص اور محبت جھلکتے دیکھا جاسکتا ہے۔

گوردوارہ دربار صاحب سمیت کرتارپور راہداری منصوبہ 11ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر دیا ، وزیراعظم عمران خان ، سیاسی و عسکری قیادت کے ہمراہ آج منصوبے کا افتتاح کریں گے۔

جوگندر کور تو ایک مثال ہے جس جس سے بھی ہم نے بات کی اس کے پاس پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔

یوں کہیے کہ نا صرف انڈیا بلکہ دنیا بھر کی سکھ برادری خوشی سے نہال ہی نہال ہے۔ بین الاقوامی سرحد سے ساڑھے 4کلومیٹر پر دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ دربار صاحب بابا گرو نانک کے ماننے والوں کے لیے کھلے ہاتھ اور چوڑے سینوں کے ساتھ خیر مقدم کیلئے تیار ہے کیونکہ یہ سلسلہ اب رکنا نہیں ہے۔ دوستی کی جانب بڑھے ہوئے قدم کون روک سکتا ہے۔ یہ پورا منصوبہ جس کا ابھی پہلا فیز ہی اتنے شاندار طریقے سے مکمل ہوا ہے اور جس کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کے donation کو قبول نہیں کیا گیا یہ فقط سکھ برادری کو پاکستان کی جانب سے ایک تحفہ ہے۔ لیکن ابھی اس پراجیکٹ کے مزید دو فیز باقی ہیں۔ 823ایکڑ اور گوردوارہ کمپلیکس 330ایکڑپر محیط ہے۔

پاکستان ، بھارت سرحد زیرو پوائنٹ پر گیٹ نصب کیا گیا، نانک نام لیواو¿ں کی رہنمائی کیلئے سائن بورڈز نصب کر دیے گئے، امیگریشن بارڈر ٹرمینل کی تعمیر مکمل ہو گئی ، ٹرمینل پر سبز ہلالی پرچم بھی لہرانے لگا، چھت بھی پاکستانی پرچم سے مزین ہے جب کہ ٹرمینل میں 76 کمپیوٹرائزڈ کاﺅنٹرز قائم ،50مزید دستیاب ہیں جن کی تعداد 152تک بڑھائی جاسکے گی۔

زیرو پوائنٹ سے درشن ڈیوری تک ایک شاندار چھ اشاریہ آٹھ کلومیٹر کی سڑک قائم کی گئی ہے۔ بھارت سے آنے والے وہ عقیدت مند زائرین جو دربار صاحب میں حاضری کے لیے پیدل چل کر آنا چاہتے ہیں سڑک کے دونوں جانب صاف ستھرے فٹ پاتھ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ سات مہینے کی قلیل مدت میں ناصرف دریا کا رخ موڑا گیا بلکہ آٹھ سو میٹر لمبا شاندار پل بھی تعمیر کے عجوبے سے کم نہیں ہے۔ درشن ڈیوڑی، سرو-ور، دیوان استھان، لنگر خانہ ،میوزیم، لائبریری قائم کر دی گئی ہے۔ پارکنگ، بجلی پانی گیس بیت الخلاءجیسی بنیادی سہولیات دے دی گئی ہیں جبکہ سکیورٹی کیمرے اورہنگامی طبی سہولیات باہم دستیاب ہوں گی۔گورودوارہ میں قائم قیام و خواب گاہوں میں 2ہزار، خیمہ بستی میں8ہزار یاتری قیام کریں گے ، لنگر خانہ 2 ہزار500 یاتریوں کو بیک وقت طعام پیش کریگا۔

گوردوارہ دربار صاحب سے ملحقہ 62 ایکڑ خطہ زمین کھیتی صاحب کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ کھیتی پر پھولوں ،پھلوں کے باغات، فصلیں کاشت کر کے لنگر خانہ کیلئے اناج حاصل کیا جائیگا۔ بہرحال یہ پراجیکٹ مذہب کی قید سے آزاد ہو کر ہر لحاظ سے دیکھنے کے لائق ہے۔ جوگندر جیسے لاکھوں لوگوں کے لیے پاکستان نے اپنی محبت تو نچھاور کردی لیکن دشمن آج بھی پس پردہ نتائج کی کھوج میں ہے۔


ای پیپر