دانائے رازاِقبال کی فکر و فلسفے کا ذکر کیوں نہ ہو۔۔۔!
09 نومبر 2018 2018-11-09

9نومبر یومِ اقبال کے موقع پرپورے ملک میں عام (قومی) تعطیل ہوا کرتی تھی۔ لیکن پچھلے دورِ حکومت میں اس تعطیل کو ختم کر دیا گیا۔ موجودہ حکومت نے بھی پچھلے سالوں کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اِس سال بھی یومِ اقبال کے موقع پر تعطیل نہ ہونے ( نہ کرنے) کے فیصلے کو ہی برقرار نہیں رکھا ہے بلکہ قومی اسمبلی میں یومِ اقبال کی تعطیل کو بحال کرانے کے لئے پیش کی جانے والی قرار داد کو بھی حزبِ مخالف کے ارکان کی حمایت کے ساتھ مسترد کروانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے ۔یومِ اقبال کے موقع پر عام تعطیل ہو یا نہ ہو اہم بات یہ ہے کہ بطورِ قومی اور ملی شاعر اور بطورِ مفکرِ پاکستان ہم اقبال کی فِکر و فلسفے ، اُن کی شاعری اور اُن کی شاعری میں دئیے گئے پیغام کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ سچی بات ہے اِس ضمن میں ہمارا جواب شاید زیادہ حوصلہ افزا نہ ہو ورنہ ایک زمانے میں ہمارے ہاں یومِ اقبال پر قومی تعطیل کے موقع پر تعلیمی اِداروں میں ہی نہیں علمی اور ادبی تنظیموں کے تحت بھی اقبالؒ کے بارے میں تقاریب کا انعقاد ایک عام معمول تھا۔اِس ضمن میں لاہور میں عرصے تک مرکزی مجلس بیا اقبال کے زیر اہتمام یومِ اقبال کے موقع پر قومی سطح کی تقریب کا انعقاد ایک خُوش کُن اوردرخشندہ روایت رہی ہے۔ مُجھے یاد پڑتا ہے کہ اِس مرکزی تقریب میں کئی سالوں تک جرمنی سے تعلق رکھنے والی مشہور سکالر، ماہرِ اقبالیات اور فکر ِ اقبال کی عاشق ڈاکٹر این میری شمل بطورِ خاص شریک ہو کر اقبال کے فکر و فلسفے اور شاعری کے بارے میں اپنا مقالہ پیش کیا کرتی تھیں۔ اُن کے ساتھ فرزندِ اقبال جسٹس جاوید اقبال مرحوم اَور مشہور مفکر ،دانشور، اور عاشقِ اقبال پروفیسر مرزا محمد منور مرحوم اور بعض دوسری شخصیات کی عالمانہ تقاریر و مقالے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہوتے تھے۔ اب وہ سب کچھ نذرِ ماضی ہو چکا ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اقبال کی فکر و فلسفے اور اُن کی شاعری اور شاعری میں دئیے گئے پیغام سے رُ و گردانی کریں یا عدم توجہ برتیں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اس سے اقبالؒ کے مقام و مرتبے میں تو کچھ فرق نہیں پڑے گا البتہ بحیثیت قوم ہمارا اپنا نقصان ہوگا جس کا مداوا مشکل سے ہو سکے گا۔ لہٰذا اقبال اَور اُن کے فکروفلسفے اَور اُن کی شاعری میں دئیے جانے والے پیغام کا کچھ نہ کچھ تذکرہ ضرور ہوتے رہناچاہیے ۔
حقیقت یہ ہے حکیم الامت ، شاعرِ مشرق حضرت اقبالؒ کی شخصیت ، شاعری اور فکرو فلسفے کے بارے میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے اور اتنا کچھ لکھا جاتا رہے گا کہ اس کو نقد و نظر میں پرکھنا شاید کسی کے بس کی بات نہ ہو ۔ ذاتی طور پر مجھے اپنی کم ہمتی ، کم مائیگی ، کم علمی اور کسی حد تک کوتاہ بینی کاا حساس ہے کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر اُردو کے کورس میں شامل اقبالؒ کی نظموں اور غزلوں کو کم و بیش چا ر سے زیادہ دہائیوں سے پڑھانے کے باوجود میں اقبالؒ فہمی کا صحیح شعور اپنے اندر پید انہیں کر سکا۔ اقبالؒ سے عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ لیکن اقبالؒ کے فکر و فلسفے کو پوری طرح سمجھنے اور اُن کی شاعری کے ظاہری اور باطنی حسن کو گہرائی میں جا کر جانچنے کے لیے جس قابلیت ، صلاحیت، محنت، ریاضت، شعور و آگہی اور عشقِ حقیقی کی ضرورت ہے شاید مجھ میں اس کی کمی ہے۔ میں اسے اپنی کوتاہی اور کسی حد تک احسان ناشناسی کہوں گا کہ اقبالؒ کی شہرہ آفاق نظم ’’مسجدِ قرطبہ ‘‘ کے پہلے چار اشعار میں مسلسل دوہرائی جانے والی
’’سلسلہ روز و شب‘‘ کی ترکیب کو میں نے اپنے کالم کے سرنامہ کے طور پر اختیار کر رکھا ہے اور اس پر ناز بھی کرتا ہوں کہ میری خامہ فرسائی (کالم نگاری) کا عنوان Title بڑا خوبصورت، جامع، پُر معنی اور باوقار ہے لیکن اس کے باوجود میری بیاضِ فکر و عمل میں ایسا کوئی قابلِ ذکر گوشہ نہیں جو اقبال سے فکر ِ اکتساب کرنے کے باوجود اُن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے مزین ہو ۔
اقبال بلا شبہ حکیم الامت تھے، فلسفی تھے ، شاعر تھے، دانائے راز تھے اُن کی شاعری اپنے ظاہری حسن کے لحاظ سے ہی بے مثال نہیں بلکہ باطنی حسن اور معنی اور مطالب کے لحاظ سے بھی بے مثال ہے ۔ اس میں جو خوبصورت تراکیب استعمال ہوئی ہیں، اس میں الفاظ کی جو بندش ہے، معنی کی جو وسعت ہے، تاریخ اور تہذیب کا جو شعور ہے ، خودی کی جو ترجمانی ہے، فکر و فلسفے کی جو گہرائی ہے ، عقل و شعور کی جو فرمانروائی ہے، خیالات کی جو بلندی ہے، عشق حقیقی اور عشقِ رسولؐ کی جو خوشبو ہے، قومِ رسولِ ہاشمیؐ اور تہذیب حجازی کا جو تذکرہ ہے، ماضی کی جو منظر کشی ہے، حال کی جو اُمید افزائی ہے اور مستقبل کے جو سہانے خواب ہیں وہ سب کچھ اتنا عدیم النظیر ہے کہ اس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔ میرے نزدیک اقبالؒ کی ہستی ملتِ اسلامیہ بالخصوص برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے لیے اللہ کریم کا احسانِ عظیم تھا۔ اُنیسویں صد ی کے اوآخر اور بیسویں صدی کے نصفِ اول میں جب ملتِ اسلامیہ زوال و انحطاط کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی اور اُس پر نکبت اور ادبار کے بادل چھائے ہوئے تھے اور برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمان غلامی کے شب و روز اس انداز سے بسر کر رہے تھے کہ اُن کے قومی وجود کی بقا کو بھی حقیقی خطرات لاحق ہو چکے تھے تو ان کٹھن اور مشکل حالات میں اقبالؒ نے اپنے فکرو فلسفے اور اپنے شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو اسلام کا پیغام ، عشق رسولؐ کا پیغام، خودی کا پیغام، عظمتِ انسانیت کا پیغام اور مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ اور عظمتِ رفتہ کو حاصل کرنے کا پیغام دیا۔ ملتِ اسلامیہ نے اقبالؒ کے اس پیغام سے یقیناًاثر قبول کیا ، اُسے ولولہ تازہ ملا اور اُس نے اپنی غلامی کو اپنی آزادی اور اپنی نکبت و ادبار کو اپنی سربلندی میں تبدیل کیا۔ اقبال نے کس طرح ملتِ اسلامیہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا اور اس میں آزادی اور اپنی کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کو حاصل کرنے کی تڑپ اور ولولہ پید اکیا اس کا اظہار اُن کی کئی نظموں اور زبانِ زدِ خاص وعام اشعار میں ہوتا ہے۔ یہاں میں اُن کی ایک مشہور نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ کا حوالہ دینا چاہوں گا۔
9 بندوں اور 72 اشعار پر مشتمل اس طویل اور خوبصورت نظم کا شمار اقبالؒ کی بہترین نظموں میں ہوتا ہے ۔ اقبالؒ نے یہ نظم گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے کے آخری برسوں میں پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر لکھی جب ترکی اپنی مخالف برطانیہ اور اُس کی اتحادی یورپی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔وہ ’’ طلوعِ اسلام‘‘ کے پہلے شعر میں کہتے ہیں :
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تُنک تابی
اُفق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی
ستاروں کا ٹمٹمانا روشن صبح کے طلوع ہونے کی نشانی ہے مسلمانوں کاغلامی کا دور ختم ہو رہا ہے اور اُفق سے سُورج (آزادی کا ) طلوع ہو رہا ہے۔ اسی نظم کے پہلے بند کے دوسرے شعر میں اقبالؒ کہتے ہیں
عروقِ مردہ مشرق میں خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلمان جن کی اکثریت ایشیاء (مشرق) میں آباد ہے وہ غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اُن کی حیثیت مردہ رگوں کی سی تھی ، اُن میں زندگی کا خون (آزادی کا جذبہ) کیسے بیدار ہوا یہ ایک راز ہے جس کو بو علی سینا اور ابونصر فارابی جیسے مسلمان مفکر بھی نہیں سمجھ سکتے ۔گویا اقبالؒ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں ہی وہ دانائے راز ہوں جس نے اس راز کو جانا اور اپنی شاعری اور فکر و فلسفے کے ذریعے مسلمانوں کو آزادی اور اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرنے کا پیغام دیا۔ اقبال کی کس کس نظم کا ذکر کیاجائے۔کالم میں گنجائش ہوتی تو میں اقبالؒ کی اُن کے بے مثال اُردو مجموعہء کلام ’’بالِ جبریل‘‘میں آٹھ بندوں اور چونسٹھ اشعار پر مشتمل خوبصورت اور شعرا آفاق نظم’’ مسجدِ قرطبہ‘‘جس کا حوالہ اُوپر ہے کا ذکر کرتا ۔تاہم اُس کے دو اشعار جو مجھے بہت پسند ہیں اُن کا حوالہ میں ضرور دینا چاہوں گا کہ اقبالؒ نے اِن میں اُمتِ مسلمہ کی عظمتِ رفتہ کی طرف ہی اِشارہ نہیں کیاہے بلکہ اُس زمانے کا خواب بھی دیکھا ہے جب مسلمان اپنی اس عظمتِ رفتہ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔اقبالؒ کہتے ہیں:
کونسی وادی میں ہے کونسی منزل میں ہے
عشقِ بلاخیز کا قافلہِ سخت جاں
آبِ روانِ کبیرتیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب


ای پیپر