اپنے حصے کا دیاجلانے والے
09 نومبر 2018 2018-11-09

علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو جب بی ٹی(بیچلر آف ٹیچنگ) میں گولڈ میڈل ملا اور اسے سکالر شپ پر برطانیہ بھجوانے کی سفارش کی گئی تو اس کے استاد نے کہا: ’’بیٹا تم برطانیہ جانے کی بجائے پاکستان چلے جاؤ اور پاکستان جا کر سول سروس جوائن نہ کر لینا بلکہ’’ استاد ‘‘ بننا کیونکہ پاکستان جیسی نوزائیدہ مملکت کو افسروں کی نہیں اساتذہ کی ضرورت ہے۔‘‘ اس طالب علم نے تمام عمر درس و تدریس میں گزار دی اور چراغ سے چراغ جلاتے رہنے کا درس دیتے رہے اور 19 جون 1999 کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے اور راولپنڈی کے ریس کورس قبرستان میں مدفون ہیں۔اس طالب علم کا نام پروفیسر سعید راشد تھا جو 1950سے 1990ء تک ملٹری کالج جہلم میں پڑھاتے رہے۔ اس حلیم اور پرعزم شخصیت کا یہ امتیاز تھا کہ انہوں نے تعلیم کے فروغ میں کبھی ذاتی منفعت اور مفادات کو مدنظر نہیں رکھا۔ بلاشبہ انسان کا کام ہی اسے زندہ رکھتا ہے۔میں جب مارچ 2000میں لاہور سے راولپنڈی منتقل ہوا تومیں ریس کورس قبرستان میں ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے گیا تو مجھے ان کی قبر معلوم نہیں تھی۔ صرف اندازہ تھا کہ قبر کس طرف ہے۔ مجھے تلاش کے باوجود ان کی قبر دکھائی نہ دی تو میں نے دور کھڑے ہو کر تمام قبروں پر ایک سرسری نظر دوڑائی تو ایک قبر پر مجھے یہ عبارت دکھائی دی ’’ اپنے حصے کا دیا جلانے والے ‘‘ میرے قدم خود بخود اس طرف اٹھ گئے قریب جا کر کتبہ کو بغور دیکھا تو یہ عبارت درج تھی۔
’’ اپنے حصے کا دیا جلانے والے ‘‘
پروفیسر سعید راشد
جن کی کاوشوں سے ہزاروں دیئے روشن ہوئے۔
میں پرنم آنکھوں کے ساتھ ہاتھ باندھے خاموشی سے کھڑا رہا۔ راشد صاحب سے ہونے والی یہ وہ ملاقات تھی جس میں، میں سامع تو نہیں تھا لیکن میں بول بھی نہیں رہا تھا۔دونوں طرف خاموشی تھی۔ میں نے محبت کوپہلی مرتبہ بے زبان ہوتے دیکھا ، فاتحہ خوانی کی اور لوٹ آیا۔سعید راشد محبتوں کی سرزمین سے پھوٹے ہوئے اس گلاب کی مانند تھے جس کی خوشبو سے بلاشرکت غیرے کوئی بھی مستفیض ہو سکتا تھا انہوں نے اپنے علم اور ہنر کو بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اسے عام کیا۔وہ بچوں کی تعلیم ہی نہیں ان کی تربیت اور کردار سازی کی طرف بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ 1980میں جب میں آٹھویں جماعت میں ملٹری کالج گیا تووہ شیر شاہ ہاؤس کے ہاؤس ماسٹر تھے۔ ہمارے ہاؤس کی لائبریری واحد لائبریری تھی جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھی۔کوئی کیڈٹ جب چاہے وہاں سے کتاب اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جاتا۔ بعض اوقات ہم کچھ کتابیں چھٹیوں کے دوران اپنے گھر بھی لے جاتے لیکن راشد صاحب کی تربیت کا کمال تھا کہ ہم ان کتابوں کو
جان سے زیادہ عزیز رکھتے اس خیال کے ساتھ کہ ہمیں یہ کتب واپس جا کر لائبریری میں رکھنی ہیں۔ گویا لائبریری سے کتاب حاصل کرنے اور واپس کرتے ہوئے کسی کو آگاہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ راشد صاحب سے کسی نے پوچھا آپ کے اس طریقہ کار کی وجہ سے بعض اوقات کچھ کتابیں ادھر ادھر بھی ہو جاتی ہوں گی۔ کہنے لگے ہاں بعض بچے کتاب واپس رکھنا بھول جاتے ہیں لیکن اس طریقہ کار کی بدولت بے شمار نئی کتابیں بھی لائبریری میں آ جاتی ہیں اور مجھے معلوم نہیں ہوتا کون رکھ گیا ہے۔
1982ء میں جب ہم میٹرک میں تھے تو کیڈٹ حامد سجاد (اب کرنل ریٹائرڈ) شیر شاہ ہاؤس کا ہاؤس پریفیکٹ اور (راقم) اسسٹنٹ ہاؤس پریفیکٹ تھا انہی دنوں راشد صاحب کی والدہ کا بھارت میں انتقال ہوا تو ہم نے کلاس کے باقی طلباء کے ساتھ اظہار افسوس کیا۔ دوچار روز بعد راشد صاحب نے ہم دونوں کو بلایا اور کہا آپ میرے گھر افسوس کے لئے کیوں نہیں آئے؟ ہم نے آہستگی سے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ سر ہم نے کلاس میں افسوس کیا تھا۔ کہنے لگے نہیں آپ آج مغرب کی نماز کے بعد گھر آئیں۔ ہم دونوں نماز کے بعد گھر گئے تو ان کا بیٹا آصف سعید راشد جسے ہم مُنے میاں کہا کرتے تھے برآمدے میں کھڑا ہمارا منتظر تھا اس نے اندر جا کر بتایا تو راشد صاحب فوراً باہر نکل آئے اور برآمدے کی سیڑھیوں پر ہمارا استقبال کیا۔ انتہائی رکھ رکھاؤ سے ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔ ہم نے فاتحہ خوانی کی کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد کہنے لگے آپ کو آج یہاں بلوانا دراصل آپ کی تربیت کے لئے بہت ضروری تھا کہ کل کلاں کو آپ پاک فوج میں کمیشن حاصل کر کے ممکن ہے کسی یونٹ یا برگیڈ کی کمان کر رہے ہوں تو خوشی یا غمی کے موقعوں پر آپ کو اپنے زیرکمان لوگوں کی کئی مواقع پرنمائندگی کرنا ہو گی۔1966میں سعید راشد صاحب کا تقرر پاکستان ملٹری اکیڈمی میں بطورِ کیپٹن ہو گیا تو انہوں نے اس سلسلے میں ملٹری کالج جہلم کے سابق کمانڈنٹ بریگیڈیئر رفیق (مرحوم) کو خط لکھا او رمشورہ مانگا تو انہوں نے جواب دیا۔’’پی ایم اے کو افسروں کی ضرورت نہیں لیکن ملٹڑی کالج کو ایک استاد کی ضرورت ہے۔ 1965 میں ہم نے سترہ دن کی لڑائی لڑی جب کہ آپ سترہ سال سے لڑ رہے ہیں اور ابھی آپ کی لڑائی ختم نہیں ہوئی۔‘‘
پروفیسر سعید راشد پاکستان آرمی میں جرنیلوں کے استاد کے طور پر مشہور تھے۔ میں نے ایک مرتبہ ان سے ان کے نامور شاگردوں سے متعلق پوچھا تو کہنے لگے شاگرد نامور ہوں یا گمنام میں سمجھتا ہوں میں اس گمنام شاگرد میں بھی زندہ ہوں۔ جو دنیا میں بظاہر کوئی بڑا مقام حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن وہ اپنی جگہ ایک بھاری پتھر ہے، مجھے نامور اور گمنام تمام شاگردوں پر فخر ہے مجھے اتنا اطمینان ضرور ہے کہ جسے میں نے پڑھایا ہے اس نے مجھ سے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے۔راشد صاحب کے اصول پسندی اور کرادر کی پختگی کی مثال اس سے زیادہ کیا دی جاسکتی ہے کہ شیر شاہ ہاؤس کی ہاؤس ماسٹری کے دوران جو ٹھیکیدار کیڈٹس کے ناشتے کے لئے صبح مکھن مہیا کرتا تھا۔ اس سے راشد صاحب بھی اپنے لئے ایک ٹکیہ خریدا کرتے تھے۔ وہ راشد صاحب کے گھر مکھن دینے کے بعد شیرشاہ ہاؤس کے اوپر سے ہوتا ہوا میس میں کیڈٹس کے لئے مکھن پہنچاتا تھا۔ ایک روز وہ جلدی میں سیدھا گزر گیا اور میس میں پہنچ کر اسے یاد آیا کہ راشد صاحب کو تو مکھن کی ٹکیہ دی ہی نہیں۔ اس وقت ہاؤس کے کیڈٹس لان میں فال اِن ہو چکے تھے۔ ٹھیکیدار پلیٹ میں مکھن کی ایک ٹکیہ رکھے ہوئے ہاؤس کے لان میں سے گزر کر راشدصاحب کے گھر پہنچا، گھنٹی بجانے پر وہ باہر نکلے تو سامنے ٹھیکیدار مکھن کی ٹکیہ لئے کھڑا تھا۔ راشد صاحب کہنے لگے: ’’بھئی آج مکھن نہیں چاہئے!‘‘ کیوں سر! آپ تو روزانہ مکھن سے ناشتہ کرتے ہیں؟ اس پر راشد صاحب کہنے لگے میں مکھن قیمتاً خریدتا ہوں آج تم میس سے مکھن لے کر ہاؤس کے اندر سے آئے ہو میں 80 کیڈٹس میں سے کس کس کو بتاؤں گا کہ میں مکھن میس سے لے کر نہیں کھاتا۔‘‘
اب بھی ایسے واقعات ذہن میں آتے ہیں تو حیرت وارفتگی میں بدل جاتی ہے۔ احتیاط کا تقاضا اس حد تک تھا کہ کیڈٹس کی تربیت کے لئے مکھن کی وہ ٹکیہ قیمتاً بھی وصول نہیں کی جو ہاؤس کے اندر سے ہوکر آئی تھی۔1990 میں ملٹری کالج سے ریٹائر منٹ کے بعد انہوں نے آرمی پبلک سکول منگلا کے پرنسپل کے طور پر ایک انوکھا تجربہ کیا وہ ہر روز سب سے پہلے سکول پہنچ جاتے اور پہلے بچے سے لے کر آخری بچے کا سکول کے گیٹ پر السلام علیکم کہہ کر استقبال کرتے اور پھر جب وہ کلاس میں جاتے تو بچے انہیں دیکھتے ہی کہتے پیارو پاکستان وہ جواباً کہتے بہارو پاکستان۔ اگر چھوٹی کلاس ہے تو کہتی حق اﷲ پاک ذات، اﷲ، سبحان اﷲ، جان جان پاکستان، دل دل پاکستان، گویا انہوں نے ہمیشہ Orientation پر زور دیا۔ انہوں نے جہاں جہاں بھی کام کیا پاکستانیت کا جذبہ بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
جناب سعید ارشد 50 سال تک ملٹری کالج اور دیگر اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اتنے سالوں میں ان کے شاگردوں نے انہیں کبھی لیٹ آتے نہیں دیکھا، کبھیImproper ڈریس میں نہیں دیکھا ، کبھی غصے میں نہیں دیکھا، کبھی کام میں کم نہیں دیکھا اور محبت میں کم نہیں دیکھا۔جناب سعید ارشد جب تک زندہ رہے جہدِ مسلسل کی علامت بنے رکھے۔ قائدِاعظم اور علامہ اقبال کی تعلیمات کا فروغ ان کی تربیت کا خاصا تھا۔ الغرض ان کی تمام عمر ایک مشن کے لئے صرف ہوئی۔ اﷲدرجات بُلند فرمائے۔


ای پیپر