قرآن کا تصورتوحیداورریاست
09 نومبر 2018 2018-11-09



مکہ عمل تبخیرسے گزررہاتھا، آہیں اوراوہام وابہام وحی کیلئے بلک رہے تھے۔ظلمت وتاریکی کے جنگل میں رستہ سجھائی نہ دیتا تھا۔یہودونصاریٰ انہیں امی(وحی سے محروم) کہا کرتے ،اورکہتے تھے کہ ان سے اگرہم ظلم وزیادتی بھی کرلیں تو آخرت میں مواخذہ نہیں ہوگا، یہ احساس محرومی بلائے جاں تھا، سوچتے کہ اگرہم وحی سے فیضیاب ہوئے تو یہودونصاریٰ سے بہترمردان کارہوں گے،کچھ مظاہرفطرت پرغورکرکے بت پرستی سے ہاتھ کھینچ چکے تھے، جنہیں قرآن حنفاء کہتاہے ۔مستشرقین کاوہ گروہ جو قرآن کوتورات وانجیل کا آمیزہ قراردیتاہے، یہ کہتے ہوئے پھولے نہیں سماتا کہ تصورتوحید اسلام کوحنفائے مکہ کی عطاہے۔
عرض ہے کہ اگرابتدائی عہدکی سورۃ ماعون کو انفرادی آیات کے بجائے بطوروحدت دیکھا جائے توقرآن اورحضرت محمدؐ کا تصورتوحیدحنفائے مکہ کے تصورتوحید سے یکسرمختلف تھا ۔سماجی اصلاحات اس تصورتوحید کا جزولاینفک ہیں، اگرخدا ایک ہے تو لازماً انسانیت بھی ایک ہے۔بنی نوع انسان میں سماجی سیاسی اورمعاشی تفریق توحیدکا انکارہے۔اگرمعاشرے میںیتیم کی تکریم نہیں ، غربت وافلاس کے سمندرمیں خوشحالی وفراوانی کے خال خال جزیرے ہیں تو سمجھ رکھیئے نمازیں ریاکاری ہیں ، ممبرومحراب سے اٹھنے والی صدائے تکبیرمنافقانہ ہے۔ ابن آدم کی"مشترکہ خوشحالی" کا تصورمعبودحقیقی کو اتنا محبوب ہے جب ہجرت مدینہ کے بعدآنحضورؐ نے بطورحکمت عملی صدقہ وخیرات کو ننگ حال مہاجرین تک محدودکیا تاکہ راہ حق میں قربانیاں دینے والوں کی دلداری ہوسکے ،حکم ہوا کہ ہدایت کا منبع خداہے اورجو تم خرچ کرتے ہوتمہارے اپنے نفس کی بھلائی ہے ، اورجوایمان لائے وہ بھی اپنے بھلے کیلئے۔صدقہ وخیرات سے تبدیلی دل مقصودہی نہیں ہے۔ پھرسرورلولوک نے فرمایاکہ صدقہ وخیرات ضرورتمندوں کا حق ہے چا ہے ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو۔بندگان حرص وہوس جن کا سماج کی خوشحالی میں کوئی حصہ نہیں ہوتاقرآن انہیں "زنیم"قراردیتاہے۔زنیم اہل عرب بکری کے کانوں کے نیچے سے نکلنے والی ان دوگلٹیوں کو کہتے تھے جن کا بکری کی فزیالوجی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، فاضل چیزیں ہیں، ایسے افرادجومعاشرے کی خوشحالی میں حصہ نہیں ڈالتے انہیں جونک تک کہنا گوارانہیں کیا گیا کہ وہ بھی کسی کام آتی ہے، زائداورفاسد وفاضل خون نکالنے کے کام آتی ہے جو بہرحال حٖظان صحت کا فریضہ ہے۔معاشرتی خوشحالی سے لاتعلق افرادکے نکمے پن اوربے سودوجودکی ترجمانی کیلئے شایدزنیم سے بہترکوئی ستعارہ نہیں تھا ۔اورکیا یہ ہمارامشاہدہ نہیں ہے کہ اگرکوئی طالع آزمابزورحرص وہوس بہت دولت جمع کرلیتاہے تواسکی دوسری یا تیسری نسل میں ہی کوئی ایسا آجاتاہے جو اسراف کے ذریعے سب برابرکردیتاہے ،یا کسی قوم کے افرادبزورمحنت سرمایہ جمع کرلیتے ہیں توکچھ قزاق قومیں منصہ شہودپرآتی ہیں جوان کے قبضہ وقدرت میں مقیدسرمائے کو آزادکرالیتی ہیں کہ فطرت کو وہی دولت وسرمایہ عزیزہے جو معاشرتی خوشحالی کا ضامن بن کرمسلسل گردش میں رہے۔
تاہم انسان کی کمزوری ہے کہ وہ زبانی اوررسمی عقائدکی بجاآوری کے باوجودعملی طورپرسماجی، سیاسی اورمعاشی استحقاق کی اجارہ داری چاہتاہے۔یوں تصورتوحیدکی زبان سے تصدیق مگرعمل سے تردیدکرتاہے۔سوباغی صفات کی تہذیب کیلئے صرف تبلیغ ہی نہیں بلکہ ایک ایسے عوامی ادارے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس ان افراد سے، جن کی وہ ذمہ داری قبول کرتا ہے، اپنے عدالتی فیصلے منوانے کی طاقت ہو، اسے جدید اسلوب میں" ریاست" کہاجاتاہے۔مبنی برتوحید نظام اخلاق جوگاہے تبلیغ اورگاہے ریاست کی طاقت سے نفاذ کا طالب ہے قرآن اسے "الامانہ" کہتاہے جسے تمثیلی طورپر آسمانوں نے بلندیوں کے باوجود، زمین نے بے پناہ وسعتوں کے ہوتے ہوئے اورپہاڑوں نے اپنی مضبوطی اور استحکام کے باوجودقبول کرنے سے انکارکیا۔ھاھا! بیشک انسان بڑاہی عجلت پسند،ظالم اور جاہل ہے اتنی بڑی ذمہ داری کو قبول کیاکہ اگرپہاڑوں کو بخشی جائے تو خوف سے ریزہ ریزہ ہوجائیں۔تجاہل عارفانہ کا اس سے بڑا واقعہ بھلا چشم فلک نے کبھی دیکھا ہوگا؟ پھرزندگی کے دریانے کتنے رستے بنائے، ہزاروں بل کھائے انسان اپنی فطرت سلیم کے آئینہ دارنظام اخلاق کے نفاذواطلاق میں کتنا کامیاب رہاہے۔ قرآن کہتاہے انسان نے وہ عہدپورا نہیں کیا جس کا عالم ارواح میں اثبات کیاتھا(80:23)۔ اس گہری ذمہ داری کا ادراک واحساس شہ رسلؐ کے رگ وپے میں یوں سرایت کیے ہوئے ہے کہ قیام تفکرسے پاؤں پرورم کاآجانا معمول تھا۔ذمہ داری میں کوتاہی کے خدشے سے آوازرندھ جاتی، یوں جیسے ابلتی ہنڈیا سے آوازآرہی ہو۔کہاجارہاہے کہ آپکا کام فقط ابلاغ ہے،مگرغم انسانیت کاکوئی سوزہے کہ تھمتا نہیں"ہے تماشا گاہ سوزتازہ ہریک عضوتن"ارشادہوتاہے کہ کیاان کے غم میں اپنے نفس کو ہلاک کردوگے؟ مگروہ پیکریقین جولیزلے ہزلٹن کے الفاظ میں(inhumanly huge)ٹاسک کاامین تھا۔ڈاکٹر فضل الرحمان کے الفاظ میں شعورکی گہرائی سے یہ سمجھتاتھا کہ "صرف پیغام پہنچانا مگراس نظام اخلاق کو تاریخ کے گوشت پوست میں پیوست نہ کرناایک غیرترقی یافتہ روحانیت ہوگی" لہٰذا ریاست مدینہ کے قیام کے باوجودجب تک جزیرۃ العرب کے مذہبی،ثقافتی، سیاسی اور معاشی مرکزمکہ کا کنٹرول حاصل نہیں ہوااورآئندہ نسلوں کیلئے ایک مخصوص جغرافیے پرنظام اخلاق کے اطلاق کا عملی نمونہ ،جس کی حتمی منزل ایک یونیورسل نظام اخلاق کا قیام ہے، پیش نہیں ہوا ، تکمیل دین کی نوید نہیں آئی۔
عیسائیت اوراسلام کے تصورریاست کا جوہری فرق ان حالات کا مرہون منت ہے جن میں دونوں پروان چڑھے۔عیسائیت کوابتداًرومی ریاست سے پالا پڑاجواپنے وجود میں خود مضبوط سیاسی تنظیم رکھتی تھی، لہٰذا عیسائیت نے اس ریاستی ڈھانچے کو چیلنج نہ کرسکنے کے باوصف ریاست اورمذہب کی علحدگی اس اصول کے تحت تسلیم کرلی "کہ جو قیصرکا ہے وہ قیصرکودو، اورجو خداکاہے وہ خداکو"یوں عدالتی اختیارات ریاست کو مل گئے اورزہدوتقویٰ اورتزکیہ نفس کے امورمذہب کو۔پھرجب حالات پلٹا کھاکراہل مذہب کے تابع ہوئے توبھی عدالتی ودنیوی امورکوغیرمقدس سمجھ کرتھیو کریسی(خدائی بادشاہت) کواپنایا گیا۔اگرعیسائیت نے ریاست تشکیل کی ہوتی تولازماًاپنی تخلیق کو مقدس سمجھتی مگر اس کی" تعمیرمیں مضمرتھی اک صورت خرابی کی" سومذہب وریاست کی دوئی کبھی ختم نہ ہوسکی۔اسلام نے چونکہ ابتداًہی تشکیل ریاست کا بیڑااٹھایاتھا اورکامیاب بھی رہاسو مذہب وریاست کی یکجائی اس کے خمیرمیں ہے۔اقبال بجا کہتے ہیں کہ" اسلام کے مذہبی رہنما اصول ایسے سماجی نظام سے حیاتیاتی طورپرمنسلک ہیں جو اس کا اپنا پیداکردہ ہے یوں ایک کا انکارلازماًدوسرے کاردہے"
اسلام کا تصورتوحیدریاست کی تشکیل کا متقاضی ہے جہاں ایک سوشل فیبرک کی تعمیردھاگا بہ دھاگااتھارٹی کے زیرنگرانی ہوگی۔جہاں نمازکاقیام اورزکوٰۃ کا انصرام سماجی اورمعاشی انصاف سے عبارت ہوگا۔حج سیاسی انصاف کی علامت۔الغرض ایسی ریاست جہاں سائل ومحروم، عبدومولیٰ اورحاکم ومحکوم وبندہ وآقاکی تفریق نہیں ہوگی۔جاویدنامہ میں جب اقبال جمال الدین افغانی سے پوچھتے ہیں کہ کمیونزم اورکیپٹلزم کے بارے آپ کی کیارائے ہے اورقرآن کوئی ایسا نظام اپنے دامن میں رکھتاہے جو موجودہ عہدکے زہرکا تریاق ہو۔سیدالسادات کہتے ہیں کہ کمیونزم کے خمیرمیں بغاوت اورکیپٹلزم کے جوہرمیں خراج وصولی کے سوارکھاکیاہے یہ دونوں نظام چکی کے دوپاٹ ہیں جن کے درمیان شیشہ آدم کرچی کرچی ہواہے۔ ہاں قرآن کے دامن میں ایک عالم بے امتیازخون ورنگ ہے، جس کی شام صبح فرنگ سے زیادہ روشن ہے۔رمزتوحیدسے ہرپست کو بالا اوردہرمیں اسم محمدسے اجالاکرنے کیلئے اقبال نے ریاست پاکستان کا خواب دیکھا تھا جو ہمارے تساہل و تجاہل سے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اورمذہبی اجارہ داروں کی
آماجگاہ ثابت ہوا، اگراسلامی فلاحی ریاست کے داعی وزیراعظم ابن العربی کے مطالعے سے فرصت پا کر قرآن وسیرۃ رسول واصحاب پرغورکریں تویہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ فلسفہ وحدت الوجودکی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے برعکس قرآن کے تصورتوحیدوریاست میں غوطہ زن ہوکرنہ صرف قومی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتاہے بلکہ جہاں بین وجہاں داروجہاں گیروجہاں آرا ہوکرامن عالم وخوشحالی آدم کا فریضہ سرانجام دیا جاسکتاہے۔


ای پیپر