Source : Social Media

پانامہ کیس سے متعلق عمران خان حکومت کا نیا پلان منظرعام پر آگیا
09 نومبر 2018 (18:14) 2018-11-09

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر نے کہاکہ پاناما لیکس میں 444 پاکستانیوں کی نشاندہی ہوئی اور 294 کو نوٹسز جاری کیے، سابق حکومت نے پاناما لیکس میں شامل 242 کیسز کی پیروی نہیں کی جسے ہم فالو کریں گے۔

قومی اسمبلی میں حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ پانامہ لیکس میں سامنے آنے 444 میں سے 150پاکستانیوں کے کیسوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جبکہ 294 کیسوں میں نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں ،15کیسوں میں 10ارب کی ڈیمانڈ میں سے 6ارب وصول کر لیئے گئے ہیں،ایف بی آر نے پانامہ لیکس کے ضمن میں سپریم کورٹ میں کوئی پٹیشن دائر نہیں کی، بیرون ملک 96 ہزار پاکستانیوں کےاکاﺅنٹس کا ڈیٹا ایف بی آر کو مل چکا ہے، ڈیم فنڈ میں ساڑھے 7ارب کی رقم جمع ہو چکی ہے ۔

گزشتہ حکومت نے پانامہ لیکس میں شامل 242 افراد کے خلاف جان کر کارروائی شروع نہیں کی، تحریک انصاف کی حکومت نے ان 242 افراد کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے، ان خیالات کااظہار وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر سمیت دیگر وزراءنے وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر خزانہ اسد عمر نے ایوان کو بتایا کہ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق پانامہ لیکس میں 444 پاکستانیوں کے نام کی نشاندہی کی گئی ہے ،ایف بی آر نے پانامہ لیکس کے ضمن میں سپریم کورٹ میں کوئی پٹیشن دائر نہیں کی ،فیلڈ افسران نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ دفعہ کے تحت 294 کیسوں میں نوٹس جاری کر دیئے ہیں تاہم بقایا 150 کیسوں میں نوٹس جاری نہیں کیئے جا سکے جس کی وجہ یہ ہے کہ نامکمل کوائف کی بناء پران کیسوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

242 کیسوں میں معلومات کی موصولی کے وقت کاروائی کرنے کی مقررہ مدت گزر چکی تھی اس لیئے کاروائی شروع نہیں کی جاسکی تاہم بعد ازاں کاروائی کرنے کی مد میں قانونی تبدیلیوں سے اضافہ کرنے کے بعد کیسوں کے ضمن میں کاروائی کی جارہی ہے ،4افراد کے غیر مقیم ہونے کی بنیاد پر کارروائی روک دی گئی ہے ،جبکہ 12افراد وفات پاچکے ہیں،15کیسوں میں آڈٹ کی کاروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں ۔


ای پیپر