” ایک بہادر حکومت“
09 نومبر 2018 2018-11-09

میں جماعت اسلامی کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے عقب میں واقع ایک بڑے ہوٹل کے کمرے میں منعقد کی جانے والی چوکور میز کانفرنس میں شریک تھا، اس کانفرنس کی میزبانی جماعت اسلامی لاہور کے امیرجناب ذکر اللہ مجاہد کر رہے تھے جبکہ میرے سامنے صحافت کے بڑے بڑے چہرے موجود تھے۔جناب ذکر اللہ مجاہد نے ناموس رسالت اور ختم نبوت کے حوالے سے جماعت اسلامی پاکستان کی طویل جدوجہد کا ذکر کیا اور مجھے ان کی بتائی ہوئی باتوں سے کوئی انکا رنہیں تھا۔ میں نے ان تمام چہروں کی طرف دیکھا جو وہاںموجود تھے تو مجھے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سے واضح ہمدردی رکھنے والے صحافیوں کی طرف سے بھی کوئی مخالفت نظر نہیں آئی بلکہ ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جو ختم نبوت کی تحریک میں غازی کا درجہ رکھتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ پھر ان تمام چہروں کی طرف دیکھا تو جانا کہ ہم گویا خود کلامی میں مبتلا ہیں، جماعت اسلامی سے سیاسی اختلاف رائے کے باوجود جناب سید مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو ایک بڑا مفکر، دانشور اور رہ نما سمجھنے سے انکار نہیں کر سکتے ۔ یہ آئینوں سے گفتگو تھی جو خود اپنا حوصلہ تو بڑھاتی ہے مگر مسائل حل نہیں کرتی۔ یہ چوکور میز کانفرنس اس وقت کامیاب ہوتی جب چاروں کونوں پر مختلف الخیال لوگ ہوتے اور آپس میںمکالمہ کرتے۔
کیا اس وقت کسی مکالمے کی ضرورت ہے، یہ سوال بھی ہمیں خود سے پوچھنے کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ مکالمہ تو تمام ہو چکا اور اس مکالمے کے نتائج بھی کم از کم پچانوے فیصد عوام کے اتفاق رائے سے سامنے آ چکے۔ جس کسی کو ختم نبوت کے ایشو پر اختلاف رائے ہے اسے 1974 میں قومی اسمبلی میں ہونے والی اس تمام بحث کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی حکومت نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ ریکارڈ کے مطابق تحریک کے اصل محرک علامہ شاہ احمد نورانی تھے جنہوں نے تیس جون کو ایک تاریخی قرارداد جمع کروائی تھی۔ اس قرارداد پر چھ ستمبر تک واضح بحث ہوئی تھی اور اس وقت بھی ہمارے بہت سارے ارکان اسمبلی اس خیال کے حامی تھے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار نہ دیا جائے۔ اس بحث میں نوابزادہ نصراللہ خان کا کردار بھی بہت نمایاں تھا۔ طویل مباحثے میں ایک وقت وہ آیا جب قادیانیوں کے امیر مرزا ناصر سے پوچھا گیا کہ اگر دنیا میں کہیں بھی تمہاری حکومت قا ئم ہوجائے تو تم ہم کلمہ گو مسلمانوں ( یعنی غیر احمدیوں ) کووہاں کس درجے میں رکھو گے تو جواب ملا تھا کہ وہ انہیں اقلیت سمجھیں گے ،قادیانیوں کی طرف سے اس واضح اختلاف کے بعد آپس میں کوئی اختلاف نہیں رہا تھا۔ یہ ختم نبوت کا معاملہ ہے جبکہ توہین رسالت کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔
میں نے جماعت اسلامی کے رہنماوں اور ساتھی صحافیوں کے سامنے اس روز شائع ہونے والاجناب عبدالباری عتیقی کے ایک مضمون کا حوالہ بھی رکھا جسے ایک معاصر نے ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ سے لے کر شائع کیا تھا اوراس میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحاریر ، تقاریر و تصانیف سے ثابت کیا گیا تھا کہ توہین رسالت کامجرم واجب القتل قرار نہیں پاتاگویا جماعت اسلامی بھی فکری طور پر منقسم ہے۔ یہ درست طور پر نشاندہی کی گئی کہ جماعت اسلامی کے پاس فکری بحثوں ، مکالموں اور حکمت عملیوں کے لئے وقت نہیں ہے، وہ اب عمومی طور پر پاپولر ازم کا پیچھا کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آسیہ بی بی کے تمام معاملے میں بھی یہ جماعت ہمیں مولانا خادم حسین رضوی کی فکر اور وژن کا پیچھا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جناب ذکر اللہ مجاہد نے ذکر کیا کہ مولانا خادم حسین رضوی نے جماعت اسلامی کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے تھے جو ان کے فاصلوں کو ظاہر کرتے ہیں مگر دوسری طرف جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے نو منتخب امیر جناب امیر العظیم کچھ مختلف رہ نمائی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں حکومت کی طرف سے تحریک لبیک سے طے پانے والے معاہدے کے بعد توڑ پھوڑ کرنے اور فساد مچانے والوں کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں یعنی کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے۔
بات معاہدے کی آئی تو حکومت کی بہادری کا ذکر بھی کر دیا جائے۔ حکومت اس شخص کی مانند ہے جومدمقابل کی طاقت سے بے پرواہ بہادری دکھاتا ہے۔یہ بات درست ثابت ہوتی چلی جا رہی ہے کہ آگاہی اور فکر آپ کو کنفیوژ کرتے ہیں جبکہ نتائج سے بے فکری آپ کو پختہ اورنڈربنا دیتی ہے۔ حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ کیا جس میں طے کیا گیا کہ آسیہ بی بی کو بیرون ملک نہیں جانے دیا جائے گا، اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا جائے گا مگرتادم تحریر صورتحال یہ ہے کہ بی بی سی کے مطابق آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے نکال کر ہالینڈ پہنچایاجا چکا ہے۔ حکومت جیل سے نکالنے کی تو تصدیق کرتی ہے مگر ہالینڈ یا کسی بھی دوسرے ملک میں پہنچانے کی تردید کی جا رہی ہے۔ یہاں بھی کنفیوژن عروج پر ہے۔ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آسیہ بی بی بے گناہ اور آزاد عورت ہے لہذا اس کانام ای سی ایل پر نہیں ڈالا جا سکتا اور وزارت خارجہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ اس کے بیرون ملک جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہمارے کچھ دانشور رائے رکھتے ہیں کہ حکومت عالمی برادری کے دباو کے پیش نظرہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں کہ آسیہ بی بی کو باہر بھیج دیں جیسے اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کو بھیجا گیا تھا۔
یہ عین ممکن ہے کہ پاکستان کی کوئی عدالت اس معاہدے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دے جو تحریک لبیک سے حکومت نے کیا ہے اور یہ کام حکومت خود بھی کر سکتی ہے کیونکہ یہ ایک بہادر حکومت ہے۔ اس بہادر حکومت نے معاہدے کے بعدہی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا حالانکہ معاہدے میں مقدمات واپس لینے کا ذکر تھا۔ حکومت ایک ایسی سڑک پر کھڑی ہے جس پر اس کے سامنے تحریک لبیک کا ردعمل ایک بڑی سرخ بتی کی طرح روشن ہے۔ یہ بڑی بہادری ہو تی ہے جب سرخ بتی کو توڑتے ہوئے اپنے راستے پر گامزن رہا جائے ۔ حکومت کا خیال ہے کہ اسے اتنی طاقت حاصل ہے کہ اس سے ٹکرانے والے خود ہی پاش پاش ہوجائیں گے۔ ہر طرف کے چیلنج قبول کرنے والا نتائج سے بے پرواہ بہادر آدمی دو نتیجوں کی طرف جا سکتا ہے ، پہلا یہ کہ و ہ اپنے تمام مخالفین کو ڈھیر کردے یا دوسرے وہ خود ڈھیر ہوجاتا ہے، نتائج سے بے فکر بہادری میں پر امن بقائے باہمی والی صورتحال نہیں ہوتی۔


ای پیپر