PTI government, inflation, victory, Muhammad Zubair, Abdul Hafeez Shaikh, Hammad Azhar
09 May 2021 (16:30) 2021-05-09

 اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کے بیرون ملک جانے کا عدالتی فیصلہ چیلنج کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ہماری شریف خاندان سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ،شریف خاندان نے اپنے دور اقتدار میں قوم کا اربوں روپیہ بیرون ملک منتقل کیا،منی لانڈرنگ کے پیسے سے شریف خاندان نے لندن میں جائیدادیں خریدیں،قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر اقدامات کیے جا سکتے ہیں،شہباز شریف  کے بیرون ملک جانے کے فیصلے پراپیل کا حق ہمارے پاس ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنمائوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہمیں حکومت ملی ہے ،نظام تبدیل نہیں ہوا،نظام کی تبدیلی کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی جنگ جاری ہے،ہمارا واضح مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی یکساں ہو جس میں نواز شریف خاندان کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ نہ ہو،یاسمین راشد شہباز شریف سے زیادہ بیمار ہیں  ، بیرون ملک نہیں اپنے ملک میں رہ کر علاج کروا رہی ہیں،اپوزیشن نے خود نوازشریف کی بیماری کا بیانیہ مسترد کر کے مفرور قرار دیا ،نیب نے 400 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرایا جو قابل تحسین ہے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ1988 سے199 تک اور 2008سے2018 تک آرگنائزڈ کرپشن کی گئی ،ان ادوار میں ارب ہاروپے پاکستان سے چوری کیا گیا اور مختلف ذریعوںسے پاکستان سے باہر بھیجا گیا،نواز شریف کے چار اپارٹمنٹ لندن میں ہیں،یہ سلسلہ اس وقت زیادہ سامنے آیا جب مریم نواز نے ٹی وی پر آکر کہا کہ لندن میں تو کیا پاکستان مین بھی کوئی پراپرٹی نہیں،ایک جرمن اخبار نے دنیا کے بدنام ترین حکمرانوں کی جائیدادوں کی تفصیل بتائی،اس میں کامن یہ تھا کہ غریب ترین ممالک کے حکمران امیرترین تھے۔

تحریک انصاف کے رہنمائوں کا کہنا تھا پاکستان میں سے شریف فیملی کا نام پانامہ سکینڈ میں آیا،نواز شریف کے ایک فلیٹ کی قیمت 45 ملین پاؤنڈ تھی،نواز شریف کے اپارٹمنٹس کی قیمت ایک ارب پاؤنڈ ہے،شریف فیملی میں کوئی بچہ پیدا بعدمیں ہوتا ہے اور لندن میں اپارٹمنٹ پہلے بنتا ہے،ہم سب کو اس کرپشن کیخلاف کام کرنا ہے ،ہم سب سے مراد حکومت عدلیہ اور دیگر تفتیشی ادارے بھی ہیں۔ 

انہوںنے کہاکہ جب سے جسٹس جاوید اقبال نے چیئرمین نیب کا چارج سنبھالا ہے نیب جے چار سو ارب روپے ریکور کروائے،پانامہ کے خلاف جس طرح عدالتوں نے فیصلے دئیے وہ قابل تحسین ہیںانہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر کی جانب سے علاج کے لیے بیرون جانے کی درخواست پیش کی گئی اور اگلے درخواست پر سماعت ہوئی اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تاہم اس تمام معاملات میں حکومت سے کوئی مؤقف شامل نہیں رہا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے مطلب یہ ہے کہ ان ہزاروں قیدیوں کو حقوق کو ایک طرف رکھ دیں اور انہیں بھول جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طبقاتی نظام کو تسلیم کرلیں اور قیدیوں کو جیل سے باہر علاج کرانے کا حق بھی نہیں ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس طرح ہمارا معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کے علاوہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو کہتا تھا کہ تحریک چلانا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کو وطن واپس لائیں کیونکہ خود اپوزیشن سمجھتی ہے کہ نواز شریف مفرور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا واضح مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی یکساں ہو جس میں نواز شریف خاندان کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ قوانین نہ ہوں۔


ای پیپر