Ata Sb, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 May 2021 (12:03) 2021-05-09

پاکستان کی سیاسیات کے حوالے سے ایک اہم سوال جو ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے… پرنٹ اور الیکٹرانک سے لے کر سوشل میڈیا پر زیربحث ہے…بااثر اور خود کو باخبر سمجھنے والے حلقوں کی ڈرائنگ روم گفتگوئوں کا اہم موضوع ہے۔ کیا عمران خان کی حکومت واقعی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی… اگر ایسا ہو گیا تو ملک و قوم کی سیاست اور عوامی صورت حال پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے… اگر یہ حکومت ماضی کی تقریباً سب حکومتوں کی مانند راستے ہی میں الٹا کر رکھ دی گئی یا اپنی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے اوندھے منہ گر گئی تو کیا نتیجہ برآمد ہو گا… غیرآئینی اختیارات کی مالک فیصلہ ساز قوتیں سلیکٹڈ حکومت کو کس راستے اور انجام پر لیجانا پسند کریں گی… اہل وطن کی اکثریت ان معاملات میں ابہام کا شکار ہے… صاحبان فکرونظر کی بھی اپنی اپنی رائے ہے کسی ایک نتیجہ فکر پر اتفاق نظر نہیں آتا… اگر ملک کے اندر واقعی آئین کی حکمرانی ہوتی… جمہوریت کا تسلسل ہر لحاظ سے یقینی نظر آتا تو یہ تمام سوالات بے معنی ہوتے… آئین مملکت کے تحت انتخابات میں اکثریت حاصل کر کے برسراقتدار آنے والی ایک سویلین حکومت کے بارے میں پوچھنا اپنی مدت پوری کرے گی یا نہیں لایعنی ہوتا… جمہوری نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی اپنے تحت وجود میں آنے والی حکومت کو طے شدہ مدت پوری کرنے کا حق دیتا ہے اور اس کا سختی کے ساتھ احترام کیا جاتا ہے… مثلاً اس سال کے آغاز پر امریکہ میں گزشتہ برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو چار سالہ مدت پوری کرنے کے بعد شکست ہوئی… مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن سخت مقابلے کے بعد کامیاب ہوئے… صدر ٹرمپ نے وہائٹ ہائوس خالی کرنے سے انکار کر دیا… لیکن یہ فوج نہیں آئین مملکت کی کاغذی مگر جمہوری عوامی طاقت تھی جس نے کارفرمائی دکھائی اور ٹرمپ صاحب کو باوجود تمام تر ضد اور ہٹ دھرمی کے گھر کی راہ لینا پڑی… موجودہ صدر بائیڈن نے عہدے کا حلف اٹھایا… 2016 میں جب ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت کی مدمقابل ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر صدارتی منصب پر فائز ہوئے تھے تو ایک سال کے اندر ہی صدر منتخب کی لاابالی طبیعت اور بدمزاجی کی وجہ سے لوگوں کے اندر موصوف کے بارے میں کھچائو پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ یہ کیفیت تیزی کے ساتھ بڑھتی گئی… مواخذہ (Impeachment) یقینا ایک آئینی راستہ ہے جسے اپنا کر انتہائی ناپسندیدہ سربراہ مملکت سے اس کی کسی فاش غلطی یا ملک دشمن حرکت کی بنا پر جان چھڑائی جا سکتی ہے… لیکن یہ اتنا پیچیدہ اور قانونی مباحث میں الجھا ہوا عمل ہے اور خاص طور پر معتوب صدر صاحب کی جماعت کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل ہو تو کامیابی ممکن نہیں رہتی اس لیے ٹرمپ صاحب نے پورے طنطنے کے ساتھ چار برس کی آئینی مدت مکمل کی … خود اسی کے تحت شکست بھی تسلیم نہ کی… اپنے حامیوں کے ذریعے ہنگاموں پر اتر آئے تو قوم کے اجتماعی آئینی و جمہوری شعور کی طاقت کی بنا پر ذلیل و رسوا ہوئے… پھر دم دبا کر وہائٹ ہائوس سے بھاگ نکلے… فوج قطعاً غیرجانبدار رہی… سی آئی اے اور ایف آئی اے جیسی طاقتور ایجنسیاں جو اب ہوم لینڈ سکیورٹی نظام کے تحت باہم مربوط ہو چکی ہیں… آئینی طرز عمل کے ساتھ مکمل وفاداری نبھاتی رہیں… یعنی اگر ٹرمپ کے چار سالوں 2016 تا 2020 کے درمیان امریکیوں کی بھاری اکثریت ان سے نالاں بھی تھی تو صبر کے ساتھ مدت مکمل ہونے دی گئی… اگلے انتخابات کے نتائج سامنے آنے تک انتظار کیا…

ہمسایہ ملک بھارت میں ہماری مانند پارلیمانی جمہوریت ہے… نریندر مودی دو مرتبہ 2014 اور 2019 کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرنے کے بعد سارے بھارت کے اندر دندنا رہا ہے… کشمیر کو جارحانہ طور پر ہڑپ کر چکا ہے… بابری مسجد کے قضیے میں بھی سخت ہندووانہ مزاج کے تحت سفاکی کا مظاہرہ کر چکا ہے… لیکن اکثریتی ہندی بیلٹ کے اندر مقبول ہے… اب جو اس کی حکومت دوسری مدت سے گزر رہی ہے تو ایک جانب شمالی ہند یعنی ہندی بیلٹ کے اہم مقامات پر یعنی مغربی پنجاب، ہریانہ اور یو پی کے کئی اضلاع میں کئی ماہ سے کسانوں کی زبردست احتجاجی تحریک جاری ہے… دوسری جانب پانچ ریاستوں میں ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے جن میں تین کے اندر نریندر مودی کی 

بی جے پی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے… ان میں سے مغربی بنگال کے وہاں کی ہندوستان گیر شہرت رکھنے والی ممتا بینرجی کی ترامینول کانگریس کی ایک مرتبہ پھر فتح نے نریندر مودی اور ان کے دست رات وزیر داخلہ امیت شا کے چودہ طبق روشن کر دیے ہیں… اس سب کے باوجود بھارت کے اندر یا باہر کوئی بھی اس قسم کی قیاس آرائی نہیں کر رہا کہ مودی صاحب اپنی آئینی مدت پوری کریں گے یا نہیں… بھارت کے اندر اگلے عام انتخابات 2024 میں ہونے والے ہیں… بظاہر تب تک حکومت چلانے میں مودی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں… الّا یہ کہ بڑھتی ہوئی عدم مقبولیت کی وجہ سے لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد منظور کر لی جائے… اس کے بھی دور دور تک امکانات نظر نہیں آتے اس لیے کہ سب کچھ ہو جانے کے باوجود ایوان زیریں میں مقابلے کی کوئی جماعت یا مودی کو چیلنج کرنے والا کوئی لیڈر نہیں… مگر اس تمام تر شوروغل میں بھارت کی فوجی قیادت کی مجال نہیں منتخب لیڈر کے لیے مسئلہ پیدا کرے… اس کے اقتدار کو غیریقینی بنا دے یا قیاس آرائیاں جنم لینے لگ جائیں… بھارت کی مقتدر قوتیں یا ہماری ماسٹر اسٹیبلشمنٹ اگر اس کا خفیف درجے پر بھی کوئی وجود پایا جاتا ہے مودی حکومت کو سکیورٹی رسک قرار دے کر اسے الٹا دینے کی تدابیر زیرعمل لانا شروع کر دیں… وہاں کی خفیہ ایجنسیاں پوری ’را‘ اور ’آئی بی‘ پوری طرح مستعد ہیں لیکن اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتیں… کسی سیاستدان کو حکمران ہو یا حزب اختلاف کے قافلے کا رکن ان سے خوفزدہ نہیں رہتا… سیاست کا دریا And Quiet Flows The Don کی مانند اپنی رفتار سے بہتا رہتا ہے… جو بھی طغیانی اس کے اندر اٹھتی ہے اس کے اندر جنم لینے والے تغیرات کی آئینہ دار ہوتی ہے… بیرونی عوامل اس پر کم اثرانداز ہوتے ہیں… پاکستان میں مگر الٹی گنگا بہتی ہے… وہ جسے ہمارے یہاں مقتدرہ یا اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے اور حقیقت میں ملک کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت پر مشتمل ہوتی ہے اپنا راج پوری طرح جمائے بغیر امور مملکت کو ایک قدم آگے نہیں بڑھنے دیتی… اسی طرز عمل نے ہمارے ملک کو دولخت کیا… ہمارے بہادر اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار فوجی بھارت جیسے کمینے دشمن کے آگے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے… وہ تو خیر ننگے مارشل لائوں کے ادوار تھے… اب سخت بدنامی کی وجہ سے انہیں لگانا آسان نہیں رہا… اس لیے آئین اور بظاہر جمہوری عمل کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے… پس پردہ بیٹھ کر اس فن کاری کے ساتھ تاریں ہلائی جاتی ہیں کہ ہر سول حکومت خواہ کتنی عوامی تائیدوحمایت کے ساتھ برسراقتدار آئی ہو ان سے خوفزدہ رہتی ہے… حالانکہ نام نہاد مقتدرہ آئینی لحاظ سے ماتحت ادارے کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ہوتی ہے… اس کا اصل اور بنیادی فریضہ منتخب حکومت کی پالیسیوں کا اتباع کرنا ہوتا ہے… چنانچہ مارشل لا نہ لگانے کے باوجود یہ قوتیں حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ کی پس پردہ شغل میں مشغول رہتی ہیں… بے نظیر اور نوازشریف کی حکومتیں بار بار منتخب ہونے کے باوجود ان کے پائوں جمنے نہ دیئے گئے… ہر وقت طاقتوروں کی زور آزمائی کا شکار بنے رہتے… آخرکار نام نہاد قومی مفاد کے تحت کام ان کا تمام کر دیا جاتا… عمران خان کو مرضی کے انتخابات کے ذریعے لائے ہی وہ ہیں… وہ ان کی بیساکھی کا سہارا لئے بغیر ایک قدم نہیں آگے چل سکتا لہٰذا اس کے مستقبل کے بارے میں سوال کرنا عین فطری ہے… مدت پوری کر سکے گی یا نہیں… اس حکومت کا تازہ ترین احوال ملاحظہ کیجئے… وزیراعظم کے لیے اللہ امین کے بعد سعودی عرب کا تیسرا دورہ ممکن ہوا ہے… دوکے بعد سخت قسم کی سردمہری تھی… ایک ارب ڈالر کا قرضہ تک عمران بہادر سے واپس مانگ لیا گیا … سو چین کے ترلے منتیں کر کے واپس کرنا پڑا… چنانچہ ان کے وہاں پدھارنے سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سواری باد بہاری وہاں پہنچی اور موصوف کے ارض مقدس پر ورود مسعود سے پہلے اس کا اہتمام کیا گیا کہ ہمارے سفارت خانوں کے خلاف روزمرہ کی شکایات کی آڑ لے کر متعین سفیر اعجاز احمد کو عملے کے چند ارکان سمیت واپس بلا لیا گیا… دنیا بھر میں متعین ہمارے اعلیٰ اور تجربہ کار سفارتکاروں کی ٹی وی پر توہین و تذلیل کی گئی… ان کی جگہ جنرل (ر) بلال اکبر کو جن کا سفارتکاری کا کوئی تجربہ نہیں لیکن جرنیلی تو دبدبے کی ساتھ کی ہے اور یہ حقیقت اس کے علم میں نہیں ہمارے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف سعودی فوجی اتحاد کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے پہلے سے وہاں موجود ہیں… اس ماحول میں موجودہ آرمی چیف نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام چوٹی کے سعودی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں… معاہدے طے کیے ہیں… ان کا چار روزہ دورہ ختم نہیں ہوا نہ ان بہادر کا بطور وزیراعظم تین روزہ دورہ شروع ہوا ہے… فوری رسمی ملاقاتیں ہوئیں، پروٹوکول کے تقاضے پورے کرتے ہوئے معاہدوں پر دستخط کئے گئے… اس کے بعد عمرہ کی ادائیگی اور روضہ رسول پر حاضری کی ویڈیو کلپیں سامنے آئیں گی اور قوم کو بتایا جائے گا اس کے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی کے میدان میں کیسی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں… لہٰذا اس حکومت کے بارے میں جو ضمنی انتخابات میں ایک کے بعد دوسری شکست سے دوچار ہو رہی ہے… آقائے ولی نعمت کے لیے خواہ کتنی مطلوب ہو عوام میں اس کی قدروقیمت روزبروز گرتی جا رہی ہے… یہ سوال زورشور کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ فوجی آقائوں کی رہین منت سے انتظامیہ مدت پوری کرے گی یا نہیں… اگر اسے آخر دم تک چلنے بھی دیا جاتا ہے تو اسی طرح ڈگمگاتی رہے گی… تب اگر بظاہر نئی انتظامیہ کے لیے عام انتخابات منعقد کرا بھی لئے گئے تو نظام انتخابات کی اصلاح کے تمام تر دعووں یا ارادوں کے باوجود اپوزیشن جب تک آئندہ یا کسی بھی انتخابی عمل کو نام نہاد والیان ریاست کے سایہ عاطفت سے پرے نہیں رکھا جاتا… ان کی ایجنسیوں کی معمولی سی بھی براہ راست یا بالواسطہ مداخلت سے مبرا اور شفاف نہیں کر لیے جاتے ان کا کوئی فائدہ قوم اور ملک کو نہیں پہنچے گا… مرضی کی پارٹی یا اتحاد کامیاب کرایا جائے گا خواہ وہ عمران خان یا کوئی اور گھوڑا لا کر انتخابی گاڑی کے آگے جوت دیا جائے… سیاسیات پاکستان اور ہمارے ریاستی امور کا یہ وہ عقدہ ہے جب تک اسے حل نہیں کر لیا جاتا آئین کی حکمرانی خواب کا خواب رہے گی… جمہوریت کی بیخ کنی ہوتی رہے گی… ہم بنیادی پالیسیوں کے نفاذ اور انہیں ثمربار کرنے میں ناکامیوں کا سامنا کرتے رہیں گے… عمران خان کی حکومت اپنی مدت مکمل کرے یا نہ کرے…


ای پیپر