Amira Ehsan, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 May 2021 (12:00) 2021-05-09

دنیا جب سے گلوبل ولیج بنی ہے، بالخصوص گزشتہ دو دہائیاں انسانیت پر بہت سخت گزری ہیں۔ ان جنگ پرستوں سے ہے سارا جہاں برہم! بلکہ درہم برہم۔ یہ جنگیں قیامت خیز اسلحے اور دل ونگاہ خیرکن، عقلوں کو گروی رکھ لینے والی ابلاغی قوت کے سر پر لڑی گئیں۔ انسانیت کی قدروں پر قبرستانوں کا سا سناٹا چھانے لگا۔ بدلا ہوا ہے عدل کا معیار چپ رہو، بولو نہ کچھ زبان سے سرِدار چپ رہو، سکہ رائج الوقت ٹھہرا۔ انسانی تاریخ کے اعلیٰ ترین علوم کا حاصل، مغربی حکمران تہذیب کے ہاں کیا تھا؟ ابلاغی مکر وفریب، جھوٹ دجل کے ڈالروں میں گندھے طومار، اور ان کے عالمی بیوپاری۔ سیٹلائٹوں کی سان چڑھے، رنگ اور روشنیوں، موسیقی اور زبان آوری کے لطیف ہتھیاروں سے لیس عقل وخرد شکار کرنے والے۔ جنگی اسلحے نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اپنی نوک پر رکھا، باقی دنیا کو دہلایا اور 21 ویں صدی کے ہلاکو اور چنگیز سبھی اتحادی بن کر پورے گلوب پر چڑھ دوڑے۔ (افغانستان پر جنگ سمیٹتے ہوئے بھی 36 ممالک کے 9 ہزار 592 اہلکار اور ڈھائی ہزار امریکی، عسکری باقیات میں سے وہاں موجود ہیں!) ظھر الفساد فی البر والبحر… خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔‘ (الروم۔ 41) یہ آیت اپنی پوری معنویت کے ساتھ بیس برس روئے زمین کے ہر گوشے، ہر دائرہ عمل، ہر شعبۂ حیات پر چھائی رہی۔ بری فضائی فوجوں کی قیامتیں تو دنیا دیکھتی آئی تھی۔ سمندروں پر قابض، ہیبت اور شکوہ لیے جنگی بحری بیڑے، فرانسیسی جہاز چارلس ڈیگال اور امریکی روز ویلٹ، جن کے سینے سے بمبار جنگی طیارے اڑان بھرتے رہے۔ نہتے بے نوا مفلس، بری بحری فضائی افواج سے عاری ملک افغانستان کے طول وعرض پر کارپٹ بمباری کرتے رہے بلاروک ٹوک۔ برسر زمین عورتیں بچے بوڑھے مویشی گھر بستیاں آبادیاں، باراتیں، جنازے بھینٹ چڑھتے رہے۔ واحد ابلاغی آواز جو زمینی حقائق بیان کرتی، ’الجزیرہ‘ کی تھی۔ اس کے کابل اور عراق کے دفاتر پر میزائل داغے اور پھر یکطرفہ ہی خبریں چلیں۔ دنیا بھر کو جو کچھ دیکھنا سننا تھا، حملہ آوروں ہی کی زبان سے سننا تھا۔ وہ طاقت کے نشے میں کس طرح چور تھے؟ عراق  پر حملے کی کوریج پر بی بی سی کے نیوز ہیڈ، راجرموسے نے ایک ای میل میں لکھا: ’بی بی سی کی (عراق) جنگ کی کوریج نہایت غیرمعمولی ہے۔ یہ تقریباً عالمی فٹ بال کی سی کیفیت ہے۔آپ امِ قصر سے جنگ کے کسی دوسرے ’تھیٹر‘ تک جاتے ہیں اور یوں آپ جنگوں کے سبھی محاذ بیک نظر دیکھ رہے ہیں۔‘ ایسا ہی منظر امریکی بحری بیڑے کے سینے پر لدی سی این این کی معروف اینکر کرسٹینا امان پور کا تھا۔ امریکی قوت پر نازاں، تکبر میں گندھے لہجے، ناک سے بچھو گرنے (تکبر کو بیان کرتا پنجابی محاورہ) والی کیفیت میں وہ کروز میزائیلوں اور اڑتے بمبار جہازوں کے فضائل اور کارکردگی بیان کرتی نہ تھکتی تھی۔ اب مدمقابل عراق تھا، مشرق وسطی میں اسرائیل کے سینے پر مونگ دلتی واحد مضبوط فوجی قوت۔ امریکا کا دعویٰ تھا کہ وہ جنگ خلیج میں عراق کی 80 فیصد فوجی قوت تباہ کرچکا تھا۔ 1991ء میں اس نے 40 ٹن ڈیپلیٹڈ یورینم عراق پر برسایا تھا جس سے کینسر کی شرح میں 700 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ معاشی پابندیوں کے نتیجے میں ادویات سے محرومی کی بھینٹ 5 لاکھ عراقی بچے چڑھ کر پہلے ہی جنگ خلیج کا لقمۂ تر بنے تھے۔ 2003ء کا حملہ تو تیسری عالمی جنگ اور نئی صلیبی جنگ کا حصہ تھا۔ اس مرتبہ میڈیا کی برتری اور سحر انگیز کارفرمائی نے پوری دنیا کے دل دماغ اپنے شکنجے میں جکڑ لیے تھے۔ مثلاً ’دی آبزرور‘ میں ایک تصویر چھپتی ہے۔ امریکی فوجی 15 سالہ عمر کے ساتھ ہمدردی کر رہا تھا۔ یہ انسان دوستی کا مرقع فوجی کیسا نرم اور خوبصورت تاثر چھوڑتا ہے! مگر تصویر یہ نہیں بتاتی کہ اس بچے کے ماں باپ بہن بھائی کے پرخچے چند لمحے پہلے اسی فوجی کے ٹینک کے گولوں سے کیونکر اڑے۔ شہری آبادی پر یہ قیامت اسی مہربان نے برپا کی۔

یہی داستانیں دو دہائیوں میں دہرائی گئیں جابجا۔ فلوجہ میں فاسفورس (ممنوعہ مواد) برساکر اذیت ناک موت سے عراقی دوچار کیے گئے۔ (اب فخریہ اسی پر وڈیو گیم بناکر بچوں میں خونخواری اتارنے کا سامان، خون مسلم کے لیے، کیا گیا ہے جس پر امریکی مسلمانوں نے آواز اٹھائی ہے!) غزہ اور شام میں ننھے پھول سے بچوں کی قطار اندر قطار لاشیں۔ کیمیائی ہتھیاروں (ممنوعہ) کے حملے سے شامی بچے بوڑھے نوجوان، سانس کو ترستے ہچکیاں بھرتوں کی دلدوز ویڈیو۔ (آج پوری دنیا کی سانس کورونا نے جکڑی ہے، سارا رونا آکسیجن سپلائی کا ہے!) حقوق انسانی کے دفاتر کی پرشکوہ بلند وبالا عمارتوں میں اقوام متحدہ کی چھتری تلے یہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ سمندروں میں ڈوبتے ساحلوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے بے گھر بے در روہنگیا مسلمان۔ پوری شامی آبادی مہاجر ہوگئی، ساحل سمندر پر پڑی ننھے خوبصورت ایلان کردی کی لاش کی تصویر ضمیر عالم کو پکارتی انسانی اقدار کا نوحہ تھی۔ کشمیر کی وادیوں مرغزاروں میں نوجوانوں کی بینائی چھینتی بھارتی بندوقیں۔ ان کی رہی سہی آزادی 5 اگست 2019ء میں چھین کر بھارتی افواج کشمیر پر قہر ڈھانے کو ہمہ وقت مسلط ہیں۔ بھارت میں گائے کے ذبیحے کے شبے میں مسلمانوں کا خون بستی 

بستی حلال رہا۔ احمد آباد گجرات کے سانحات اور مسلمانوں پر بھارت بھر میں زمین تنگ، معیشت دشوار اور جینا حرام کیے رکھنا سراسر روا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں سری لنکا میں (امن کے پرچارک) بدھ انتہاپسندوں کے ہاتھوں حکومتی سرپرستی میں قیامت برپا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان عالمی ہاتھیوں کے قدموں تلے سرمہ بن رہے ہیں۔

دنیا میں یکایک ایک اور بے آواز جنگ کا نقارہ بجا۔ دسمبر 2019ء سے آج تک غیرمرئی حملہ آور نے سائنسی ترقی کی ہمہ نوع گھن گرج والی دنیا کی گردن دبوچ لی۔ بولتی بند کردی۔ سانسیں سلب کرلیں۔ اسلحوں کے انبار لگی دنیا کے پاس گولی، میزائل تا ایٹم بم سبھی کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اس دشمن کے مقابل سبھی کچھ ناکارہ ہے۔ وہ امریکا جس نے 2001ء سے ہونے والی جنگوں میں 5.9 کھرب ڈالر جھونکے، اب سارا مال ومتاع اس ان دیکھے دشمن سے جنگ میں جھونک رہا ہے! پوری ایک صدی بالعموم اور 20 سال بالخصوص دنیا پر ظلم، جبر واستبداد کا قہر ڈھانے والی قوتوں کے خلاف از خود نوٹس خالق ارض وسماء نے لیا ہے۔ مالک کسی پر ناراض ہوتو بسا اوقات اپنا کتا اس پر چھوڑ دیتا ہے۔ تکبر کی سونڈ کو داغنے کے لیے اللہ نے نمرود کے لیے مچھر بھیجا تھا۔ اب تاریخی تکبر تھا سو داغ لگانے کو آنے والا اتنا ہی حقیر، نیم جان، بے وجود سی شے ہے! پہلا وار تم کرلو دوسرا ہمارا ہے۔ یہ اللطیف رب کی غیرمحسوس، لطیف، غیرمرئی چال ہے جس کے مقابلے سے پوری دنیا قاصر ہے۔ محیر العقول انتقام ہے۔ مظلوموں کا بدلہ چکانے کو گھن گرج والے دونوں مذکورہ امریکی فرانسیسی بحری بیڑے ساحلوں سے دور سمندروں میں کھڑے کھڑے کیونکر کورونا کی لپیٹ میں آئے۔ نہیں جانتے۔ امریکی روز ویلٹ بحری جہاز دیکھتے ہی دیکھتے گزشتہ سال مارچ میں کورونا نے دھر لیا اور اسی طرح فرانسیسی جہاز بھی۔ یاد رہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں تقسیم کار کے تحت (نیٹو جنگی شرکت کے علاوہ)، مسلمانوں کی روحیں زخمی کرنے کے لیے ہمارے مقدسات پر یورپ (بالخصوص فرانس) پورے 20 سال حملہ آور رہا۔ کیا کچھ دنیا بھر کے کفار ومنافقین نے نہ کیا۔ برسر زمین عالمی سطح پر اہل ایمان کے ہاتھوں پر ان دجالیوں نے انگارے دھرے۔ افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر۔ بھارت کے جنگی جنون کا دماغ کورونا نے ٹھکانے لگا دیا۔ روزانہ مسلسل 10 دن سے 4 لاکھ نئے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔ روزانہ ساڑھے 3 ہزار سے زائد اموات ہیں۔ امریکا میں اب تک 6 لاکھ اموات، یورپ میں سوا 10 لاکھ اموات اور دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ متاثرین ہیں۔ انسان کی خدائی ہلا ماری گئی۔ 

یہ وقت ہے اپنے اندر جھانکنے کا، شہ رگ سے قریب خالق، اور حیوانی وجود میں پھونکی گئی روح کی خبر اور تلاش کا۔اللہ نے تنہائی لاگو کی ہے۔ دنیا سے کٹ کر(قرنطینہ )اندر کا سفر کرو۔کالی سکرین بند کرو، شیاطین جکڑے جاچکے۔ صرف خاکی شیاطین کی کارفرمائی ہے۔ سائنس کے مارو، آئن اسٹائن کی گواہی ثبت ہے کہ اس نہایت پیچیدہ اور متنوع کائنات کا ایک خالق ہے۔ رمضان میں رابطہ آسان ہے۔ مگر کیا کیجیے مسلمان سائنس کو صرف ایک سبب اور وسیلے کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے اسی بت کے آگے ہاتھ جوڑے بیٹھا ہے۔ دنیا کی رہنمائی کیا کرے گا۔ خزانے (قرآن اور رسالت) پر سانپ بنا بیٹھا ہے۔ قرآن شاہ کلید ہے اٹھیے اسے برتیے اور اس کا فیض عام کیجیے۔


ای پیپر