Shafiq Awan, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 May 2021 (11:47) 2021-05-09

بطور صحافی شہباز شریف کے بیرون ملک علاج کی روانگی کے لیے عدالتی اجازت کیس کی کارروائی لمحہ بہ لمحہ براہ راست دیکھ رہا تھا کہ کس طرح سرعت میں 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ہائیکورٹ سے ائرپورٹ تک کا سفر طے ہوا۔ گو کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر وہ بیرون ملک نہ جا سکے۔ اس کی ذمہ دار بھی ان کی نالائق ٹیم پر ہے جس کی حد سے زیادہ خود اعتمادی انہیں لے بیٹھی۔ ان کی لیگل ٹیم بلیک لسٹ کے حوالے سے ایف آئی اے کے ضوابط کار سے آگاہی کے بغیر اور اس حوالے سے اقدام اٹھانے کی بجائے انہیں سیدھا ائیرپورٹ لے گئے جس کا نتیجہ سبکی کی صورت میں نکلا۔ اتنی بڑی سیاسی اور قانونی ٹیم کو حکومت وقت سے خیر کی توقع ہر گز نہیں کرنی چاہے تھے اور حکومت نے جو کیا اس سے اسی کی توقع کرنی چاہیے تھی لیکن ٹیم شہباز غالباً کسی خوش فہمی کا شکار ہو گئی تھی۔ اس سے ہٹ کر بھی ان کی ٹیم کو اس حوالے سے تمام قانونی و تکنیکی موشگافیوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔ان کی قانونی ٹیم کو یہ علم تو ہوگا ہی کہ ای سی ایل اور بلیک لسٹ سے نام ہٹانے کو کوئی طریق کار ہوتا ہے لیکن اسے اپنانے کی بجاے اپنا کیس ٹی وی سکرین پر لڑا گیا جس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ مسلم لیگ ن میں میڈیا پر زیادہ نظر آنے کی جنگ پہلے مریم اورنگ زیب اور عظمی بخاری کے درمیان تھی اور اب اس میں پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل عطا تارڑ بھی کودپڑے ہیں۔ ان کا کام تھا کہ اپنا وقت ہائی کورٹ کی اجازت کے بعد تکنیکی معاملات کی طرف دیتے لیکن اصل کام تو لندن، جاتی امرا ء اور ماڈل ٹائون بیٹھی اعلیٰ قیادت کو ٹی وی سکرین پر چہرہ دکھانا ہوتا ہے تا کہ حاضری لگتی رہے۔ عطا تارڑ اچھے سیاسی کارکن ہیں لیکن میڈیا کی بجائے وہ تھوڑی سی توجہ اپنے شعبے کو دے دیتے تو شاید اس سبکی سے بچا جا سکتا تھا۔ شہباز شریف اچھے منتظم سمجھے جاتے ہیں تھوڑی سی توجہ اس طرف بھی کریں۔ 

اس سارے فسانے میں البتہ ایک بات خوش آئند ہے کہ ملک میں انصاف کے حصول کے لیے عدالتی انقلاب آچکا ہے۔ ایک دور تھا دادا کیس کرتا تھا پوتے کی زندگی میں بھی فیصلہ نہ ہو پاتا تھا۔ اب دیکھیں جس دن درخواست دائر کریں اسی دن عدالت لگے گی، اسی دن فیصلہ بھی ہو جائے لیکن یہ سہولت نام نہاد اشرافیہ کے علاوہ عام 

آدمی کو بھی ملنی چاہیے۔ اشرافیہ کے لیے تو اب فیملی ڈاکٹر ، فیملی وکیل کے بعد آپ فیملی انصاف کی اصطلاح بھی استعمال ہونے لگی ہے۔ 

ہمارے معاشرے میں ہمیشہ انصاف کا دہرا معیار دیکھا گیا ہے۔ نام نہاد اشرافیہ کو مرضی کا انصاف ترت دلانے کے لیے انصاف کی دیوی ہر وقت ان کی دہلیز تک پر جانے کو تیار رہتی ہے لیکن عام آدمی کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں لگ جاتے ہیں اور جب انصاف ملتا ہے تو وہ نظام انصاف کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہوتے ہیں۔ 

مجھے یاد ہے کہ 21 اکتوبر 2016 کو سابق چیف جسٹس سردار آصف سعید کھوسہ نے قتل کے دوملزمان بھائیوں غلام قادر اور غلام سرور کی اپیل پر انہیں بری کرنے کا حکم دیا لیکن جب عدالتی احکامات جیل حکام تک پہنچے تو عدالت کو بتایا گیا کہ ان دونو ملزمان کو تو ایک سال قبل 13اکتوبر 2015ء کو بہاولپو جیل میں پھانسی دی جا چکی ہے۔ جب کہ سپریم کورٹ کے جسٹس راجہ فیاض احمد اور جسٹس طارق پرویز نے 10 جون2010ء کو اپیل باقاعدہ سماعت کیلیے منظور کر کے مزید ساعت ملتوی کردی تھی۔ سپریم کورٹ نے فیصلے کی نقل ہائی کورٹ، وزارت داخلہ اور محکمہ داخلہ پنجاب کو ملزمان کی پھانسی روکے کے لیے ارسال کردی تھی لیکن اس کے باوجود انہیں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ قتل کا یہ واقع 2 فروری 2002 کو صادق آباد میں ہوا تھا اور اس مقدمے کے سپریم کورٹ تک حتمی فیصلے کو 14 سال لگے جبکہ شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں دے دی گئی۔ کاش عوام کو بھی سرعت انصاف مہیا کر دیا جاتا تو ریاست ان دو بھائیوں کے قتل سے بچ سکتی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان کے وارثان نے پھانسی رکوانے کے لیے حتی القدور کوشش کی اور پھانسی رکوانے کے لیے سپریم کورٹ تک کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ان کی رٹ سماعت کے لیے بوجوہ مقرر نہ ہو سکی اور ان دونوں بھائیوں کو ناحق پھانسی دے دی گئی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس انصاف خریدنے کو اتنی دولت، وسائل اور اثر رسوخ نہ تھا۔ جبکہ اشرافیہ کو انصاف ہمیشہ پلیٹ میں رکھ کر دیا جاتا رہا ہے۔ 2016 میں دو بھائیوں کو پھانسی کے بعد جب بری کیا تو اس ناانصافی پر سب نے چپ سادھ لی اور ذمہ داروں کا تعین تک نہ کیا گیا۔ اور نہ ہی لواحقین کو خون بہا دیا گیا۔ کیونکہ اس فیصلے نے نظام انصاف پر کالک مل دی تھی اور اس سے قبل کہ اس کیس کی وجہ سے یہ بدبودار نظام مزید گندا ہوتا کیس کو داخل دفتر کر دیا گیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف بالترتیب تین تین بار وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ رہے لیکن عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے نظام انصاف کو بہتر کرنے کے لیے کچھ نہ کر سکے جس کا خمیازہ یہ خود بھگت رہے ہیں۔ اگر قدرت نے انہیں ایک بار پھر موقع دیا تو اس طرف ضرور توجہ دیں۔ 

یہ بھی دیکھاگیا ہے کہ وطن عزیز میں نو سو روپے کے دھنیا چورکی ایک سال بعد سپریم کورٹ سے ضمانت ہوتی ہے، مرغی چور کی ضمانت بھی رد ہو جاتی ہے،احترام رمضان آرڈیننس میں5دن سزا پانے والا پانچ سال بعد جیل سے رہا ہوا لیکن نام نہاد اشرافیہ کے لیے اس سے کہیں سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود بھی ریلیف دیا گیا۔ لیکن یہاں پسندیدہ اور نا پسندیدہ اشرافیہ کی تقسیم بھی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ نام نہاد مافیا کو بھی ایک ہی نظر سے دیکھا جائے۔ آصف علی زرداری اپنے کیسوں کی شنوائی جہاں کیس بنے ہیں وہاں چاہتے ہیں لیکن ان کے کیس پنجاب میں سنے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے وہ عدالتی شنوائی کے بھی منتظر ہیں۔۔ 

یوسف رضا گیلانی بھی سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں محض 7 ووٹوں کی تصدیق کے لیے زنجیر عدل کھٹکھٹا رہے ہیں لیکن انہیں ’’سرعت انصاف‘‘ مہیا نہیں؟

شہباز شریف صاحب کو بہر حال جلد یا بدیر ایک اور عدالتی یا ’’محکماتی‘‘ ریلیف مل جاے گا لیکن لگتا ہے عوام انصاف کے لیے یوں ہی ایڑیاں رگڑتے رہیں گے۔ انصاف کے نام پر بنی اور تبدیلی کا نعرہ لے کر آنے والی تحریک انصاف بھی بلند بانگ دعووں کے باوجود نظام انصاف کی بہتری کے لیے کچھ نہ کر سکی۔ کیونکہ عوام اشرافیہ کی ترجیحات میں اسی حد تک ہی ہیں جب تک ان کی سیاست کے لیے ایندھن بنتے رہیں گے۔ لیکن عوام کو گھبرانا نہیں ہے انصاف انہیں پھانسی کے پھندے سے جھولنے کے بعد بھی دیا جا سکتا ہے۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام پر کر سکتے ہیں۔


ای پیپر