وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب، افواہیں دم توڑ گئیں
09 May 2021 2021-05-09

وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ چکے ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب پہنچنے سے پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ،وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر محمود اشرفی سمیت اہم شخصیات پہلے ہی ارضِ حرمین الشریفین پہنچ چکی تھیں ،علامہ طاہر محمود اشرفی کا ذکر اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کے سعودی شاہی خاندان اور اہم سعودی شخصیات سے قریبی مراسم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

چند روز قبل جب میں نے علامہ طاہر محمود اشرفی سے ان کی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی تو ان کا زور دیتے ہوئے اصرار تھا کہ پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے گمراہ کن افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں ،اس وقت نہ صرف پاک سعودی تعلقات بلکہ تمام عرب ممالک سے تعلقات گذشتہ پندرہ سال کی نسبت بہترین پوزیشن میں ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ پاک سعودی تعلقات کو مضبوط سے مضبوط بنایا جائے۔انہیں اس بات پر بھی پختہ یقین تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت مل کر امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل کو نہ صرف حل کرے گی بلکہ دونوں برادر ممالک آنے والے وقتوں میں امت مسلمہ کی قیادت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب سے قبل یہ افواہیں ’مارکیٹ‘ میں گرم تھیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی قیادت پاکستان سے سخت ناراض ہے تاہم وزیراعظم کا حالیہ دورہ اور سعودی ولی عہد کا جدہ کے کنگ عبد العزیز ائیرپورٹ پر عمران خان اور ان کے وفد کے شاندار استقبال نے پھیلی یا پھیلائے جانے والی تمام افواہوں کو زمین بوس کردیا ہے۔۔۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جو خود کو سعودی عرب میں’پاکستان کا سفیر‘کہلانے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں نے جدہ ائیر پورٹ پر وزیراعظم عمران خان کا شاندار اور پر تپاک استقبال کر کے دونوں برادر ممالک کے دشمنوں اور حاسدوں کی تمام خواہشوں کو نہ صرف مٹی میں ملا دیا ہے بلکہ پاک سعودی تعلقات کے مخالفین کے ہاں اب ’صف ماتم‘ بچھ گئی ہے۔وزیراعظم کے سعودی عرب پہنچنے سے قبل جمعہ کے روز پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اوردونوں برادر ممالک کے تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان ملاقاتوں کے دوران دونوں برادر ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات خصوصاً دفاعی اور فوجی پہلوو¿ں کا جائزہ لیا گیا،سیکیورٹی اور استحکام بر قرار رکھنے کے لیے مشترکہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے جبکہ با ہمی دلچسپی کے امور بھی زیر بحث آئے۔ان ملاقاتوں کے بعد نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے’ بھائی پاکستان‘ کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورہ سعودی عرب کے موقع پر خوش آمدید کہا،ہم نے دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعاون اور برادر ملک پاکستان کے سا تھ دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب پہنچنے سے پہلے ہی سعودی حکام نے جدہ کے کنگ عبد العزیز ائیرپورٹ اور مرکزی شاہراو¿ں کو پاکستانی پرچموں ،وزیراعظم عمران خان اور شہزادہ محمد بن سلمان کی تصویروں اور خیر مقدمی بینروں سے سجایا ہوا تھا۔وزیراعظم عمران خان کے دورے سعودی عرب کے موقع پر رات گئے سعودی پیلس میں ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان وفود کے ہمراہ طویل ملاقات ہوئی جس میں کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے،دونوں رہنماو¿ں نے اپنی ملاقات کے دوران مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے تمام جائز حقوق کی نہ صرف مکمل توثیق کی بلکہ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی کھل کر حمایت کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماو¿ں نے عالم اسلام کی طرف سے انتہا پسندی اور تشدد کا مقابلہ کرنے ، فرقہ واریت کو مسترد کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے حصول کے لئے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر گرین پاکستان ، گرین سعودی عرب ، گرین مشرق وسطیٰ، نیشنل سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کی تشکیل، وزارت داخلہ ، وزارت ثقافت و اطلاعات سمیت کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔یقینی طور پر ان معاہدوں سے پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط اور گہرے ہوں گے۔ہمیں یہ بات یاد رکھنا ہو گی کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات انتہائی مستحکم ہیں جن کی بنیاد اور مرکز مشترکہ عقیدہ ہے، اسلام کی مشترکہ بنیاد نے دونوں ممالک کے مابین مثالی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔دونوں برادر ممالک کے مابین مثالی تعلقات کی اہمیت عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جاتی ہے جبکہ دنیا یہ بات بھی جانتی اور تسلیم کرتی ہے کہ سعودی عرب نے دنیا کے نقشے پر سب سے پہلے پاکستان کوتسلیم کیاتھا۔قیام پاکستان سے لے کرآج تک سعودی عرب ہمیشہ اور ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ رہا اور پاکستان نے بھی ہمیشہ سعودی عرب کے دفاع کے لئے ہرقسم کی قربانی دینے کا عزم کرتا رہا ہے، ارض حرمین شریفین ہونے کی حیثیت سے بھی سعودی مملکت کا تقدس ہر سطح پر نمایاں ہے۔ہمیں اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ سعودی عرب ہمیشہ سے ہی پاکستان کی ترقی اور استحکام کا خواہاں رہا ہے،یہ سعودی عرب ہی تھا کہ جس نے پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر مختلف منصوبوں کے تحت 20 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے ،یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نہ صرف شدید معاشی مشکلات سے دوچار تھا بلکہ ہماری کرنسی عالمی منڈی میں تیزی سے انحطاط کا شکار تھی۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دشمن کوشش میں ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کو دور کریں لیکن ان کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو گی،وزیر اعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب مکمل ہونے پر مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا، یہ اعلامیہ بہت سے لوگوں کے اوپر پانی ڈال کر جائے گا جو سازشیں کر رہے تھے، پروپیگنڈا کر رہے تھے، ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کو کوئی جدا نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ارض حرمین شریفین ہمارے لیے سرخ لائن کا درجہ رکھتی ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب کا امن وسلامتی اور دفاع ہمیں بہت زیادہ عزیز ہے کیونکہ یہاں ارض حرمین مکہ اور مدینہ ہے، امن اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جس وقت اور لمحے پاکستان سے جو کہے گا ساتھ دیں گے، پاکستان اور سعودی عرب دونوں کا امن، سلامتی اور استحکام اور دفاع ایک ہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم عمران خان بھائی ہیں اور بھائیوں کے درمیان کبھی خلیج پیدا نہیں ہوتی اور دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، سعودی عرب کو اللہ نے عالم اسلام میں مقام دیا ہواہے، ان سے یہ مقام کوئی چھین نہیں سکتا، اسی طرح پاکستان عالم اسلام کی ایک عظیم ایٹمی قوت ہے، مضبوط قوم اور مضبوط فوج ہے، امت مسلمہ کو ہمارے اوپر فخر ہے، ہم امت کے ساتھ ہیں اور امت ہمارے ساتھ ہے،ہم سعودی ولی عہد اور سعودی حکومت کے ان تمام اقدامات جو امت کی بہتری اور دنیا میں امن واستحکام کے لیے ہیں ان کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی ہیں،ہم دنیا میں امن چاہتے ہیں،ہمارے اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب جو بھی مثبت کوشش کرے گا، پاکستان ساتھ کھڑا ہو گا۔مشترکہ اعلامیہ تو بعد میں جاری ہو گا تاہم یہ بات حقیقت ہے کہ خطے کی حالیہ صورتحال میں وزیراعظم عمران خان کا یہ کامیاب دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،اس دورے کی کامیابی کا سہرا وزیراعظم عمران خان کی مربوط پالیسیوں ،جنرل قمر جاوید باجوہ کی سعودی عرب کے ساتھ مضبوط کمٹ منٹ اور علامہ طاہر محمود اشرفی کی ارض حرمین سے بے لوث محبت کا نتیجہ ہے ،اللہ سے دعا ہے کہ دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان یہ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں اور ارض حرمین الشریفین کے تحفظ کا جذبہ ہمارے دلوں میں شاد و آباد رہے۔آمین 


ای پیپر