پشاور کا ادبی منظر نامہ اور نشاط سرحد کی جدید شاعری 
09 May 2021 2021-05-09

فن وشعر کا یکساں شعور رکھنے والے، زبان وبیان ، روزمرہ ومحاورہ اور درست تلفظ پر عبور رکھنے والے شاعر کا نام استاد نشاط سرحدی ہے۔ قدرت نے ان کو بڑی فیاضی سے شاعرانہ خصوصیات اور صلاحیتوں سے نوازاہے۔ شاعری سے محبت بلکہ جنون کی حدتک عشق ان کے خون میں رچ بس گیا ہے۔ نوے(90)اوزان میں شاعری کرنے والے پشاور کے واحد شاعر، وہ صنف رباعی جس کے لیے 70/80سال کی استادانہ عمر چاہیے انہوں نے 40سال کی عمر میں رباعی کا آغاز کیا اور پشاور کے واحد رباعی گو ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ صوبے کے واحدرباعی گو جس نے رباعی کے 24اوزان کہیں اور 6رباعیات میں 24اوزان کا استعمال کیا۔ پاکستان بھر کے جن گیارہ (11)رباعی گونے 24اوزان میں رباعیات کہیں اور 6رباعیات میں 24اوزان استعمال کیے ان میں استاد نشاطسرحدی کا نام بھی شامل ہے جن میں سے 5کا تعلق کراچی سے 5کا تعلق پنجاب سے جب کہ ایک یعنی نشاطسرحدی کا تعلق KPKسے ہے یہ بہت فخر اوراعزازکی بات ہے۔ ان کے 5مجموعے چھپ چکے ہیں جبکہ 6مجموعے غیر مطبوعہ ہیں۔ 

ہردور اور مختلف حالات کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے والے ایک زندہ اور فعال شاعر کی طرح ان کی شاعری بھی عہد بہ عہد درجہ بہ درجہ ارتقاپذیری کے مراحل طے کرتی جارہی ہے۔ کورونا (Covid-19)کے آغاز کے ساتھ انہوں نے اپنی شاعری میں جدید حسیات اور جدید رجحانات کو سمونے کی بھرپورسعی کی ہے انہوں نے جدید شاعری سے رشتہ جوڑتے ہوئے نہ صرف خود کو بدل ڈالا بلکہ پشاور کے ادبی منظر نامے کو بدلنے کی کامیاب کوشش بھی کی ہے۔ پشاور میںجدید شاعری کرنے والے شعراءاور بھی ہیں لیکن بقول غالب

ہیں اور بھی دنیا میں سخنوربہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازبیاں اور

نشاطسرحدی کی جدید شاعری میں بلاکا تنوع اور بلند خیالی ہے بہت مشکل مضامین کو نہایت آسان اور جدید لب لہجہ میں ادا کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پشاور کے جدید شعراءکے سرخیل نظرآتے ہیں اور ایک بلند مقام پر فائز ہیں۔ ان کی شاعری میں عجائب وغرائب کے عکس اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ گہرائی اور گیرائی کی صفت سے متصف نظر آتی ہے۔ انہوں نے کورونا کے حوالے سے بہت سے اشعار، رباعیات اور غزلیں کہی ہیں لیکن ان کا ایک کرونائی مطلع اپنی مثال آپ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اردوادب میں اپنی نوعیت کا واحد مطلع ہے۔ پہلے کرونائی مطلع اور پھر منتخب کلام ملاحظہ ہو۔ اشعار

اداسی کی گھڑی سب کی کلائی پر بندھی ہے

ہمیں محتاط رہنا ہے بہت نازک گھڑی ہے 

جیب غم سے بھری ہوئی ہے آج 

کچھ زیادہ کمائی کی ہے آج 

کوئی بھی جگہ نہ دے رہا تھا 

میں خودپہ سوار ہوگیا تھا 

وہ سب کو سمجھ رہا تھا الٹا

رستے میں جو سرکے بل کھڑا تھا 

جتنے تھے چراغ بجھ گئے تھے 

بستی کا دماغ سوچکا تھا

 بستی کا اٹھا لیا تھا سرپہ 

لوگوں کو بہت ڈرادیا تھا 


ای پیپر