کرونا کا معیشت کو دھچکا ،نئے بجٹ کیلئے مشیر خزانہ نے خطرے کی گھنٹی بجادی
09 May 2020 (17:02) 2020-05-09

اسلام آباد :مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کوروناکے باعث ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا نہیں ہو پائے گا اور مالی خسارے میں بھی اضافہ ہوگا، آئندہ بجٹ میں اہم مقصد معیشت اور عوام کووبا کے منفی اثرات سے بچانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال مالی خسارے میں اضافہ ہوگا اور مالی خسارہ9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، مالی خسارے میں اضافے کی وجہ معیشت پر کوروناکے منفی اثرات ہیں۔مشیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں مالی خسارہ 7.6 فیصد رہنے کی امید تھی، اب مالی خسارہ 8سیبڑھ کر9فیصدتک ہوسکتاہے جبکہ کوروناکیباعث ٹیکس وصولیوں کاہدف پورا نہ ہوپائیگا۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کیہدف میں کمی کی گئی ہے، رواں سال ٹیکس وصولیوں کاہدف3.9ٹریلین روپے رہیگا، ٹیکس وصولیوں کاہدف مقررہ ہدف سے19فیصد کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف )1ارب 38کروڑڈالرریپڈفنانسنگ کے تحت دیے، یہ رقم کورونا سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کیلئے خرچ ہوگی، رواں مالی سال ملکی معیشت ایک سے ڈیڑھ فیصد تک سکڑنیکاخدشہ ہے۔مشیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان نے رواں مالی سال کیلئے 2.4فیصدشرح نموکا ہدف رکھا تھا، کوروناکے باعث، ٹیکس وصولیوں،برآمدات پرمنفی اثرات مرتب ہوئے۔

عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ پاکستان نے جی 20کوقرضوں کی ادائیگی موخرکرنیکی درخواست دی، درخواست کی منظوری سے پاکستان کو 1.8ارب ڈالر کا ریلیف ملے گا، عالمی بینک اوراے ڈی بی پاکستان کو اسپیشل پیکج دے رہے ہیں۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں اہم مقصدمعیشت،عوام کووباکے منفی اثرات سے بچاناہے، برآمدی صنعتوں میں کام جاری رکھنے کیلئے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں، کوروناکے اثرات کب ختم ہونگے پتہ نہیں۔مشیرخزانہ کا کہنا تھا کہ مالی خسارہ آئندہ بجٹ میں کم کریں گے ، مالی خسارے میں کمی کیلئے اخراجات میں کمی کی جائے گی۔


ای پیپر