یہ ملاقات اِک بہانہ ہے!.... (بارہویں قسط)
09 May 2020 2020-05-09

گزشتہ کئی کالموں میں، میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ گزشتہ دنوں ہونے والی اپنی ون ٹو ون ملاقات کی تفصیلات بیان کررہا ہوں، اس ملاقات میں زیر بحث آنے والے اہم ترین موضوعات میں سے ایک موضوع میڈیا کے مسائل یا میڈیا کی آزادی کا بھی تھاجس کے بارے میں میرا اندازہ ہے وزیراعظم بننے کے بعد خان صاحب کی سوچ اور رویے میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے، اس وقت عمومی تاثر یہی ہے موجودہ حکومت آزادی رائے کے اظہار پر مکمل یقین نہیں رکھتی، اس حوالے سے بہت سی گزارشات میں نے وزیراعظم سے کیں، انہوں نے بھی اِس موضوع پر کھل کر بات کی، دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا، مجھے اُس موقع پر محاورہ یاد آرہا تھا ” تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے“۔....دونوں ہاتھوں کی یہ تالی کم ازکم میرے نزدیک صرف ذاتی مفادات کے ٹکڑاﺅ کے لیے ہی بج رہی ہے، میڈیا سے وابستہ چند شخصیات کی گزشتہ کچھ برسوں سے عادتیں اس قدر بگڑ چکی ہیں انہیں راہ راست پر صرف ایک ہی صورت میں لایا جاسکتا ہے کہ ان کو راہ راست پر لانے والے یا اس کی طاقت اور اختیار رکھنے والے پہلے خود مکمل طورپر راہ راست پر آجائیں، .... جب ایک فریق میں خرابیاں یا خامیاں ہوں گی اور وہی خرابیاں یا خامیاں دوسرے فریق میں بھی ہوں گی تو دونوں اطراف سے کوئی کچھ بھی کرلے معاملات کے سدھار کا کوئی طریقہ نکل نہیں پائے گا، .... دوسری صورت یہ ہے دونوں فریق یعنی حکومت اور میڈیا مالکان آپس میں بیٹھ کر اپنی اپنی خرابیوں کو زیربحث لائیں اور مستقل طورپر فیصلہ کرلیں دونوں نے ایک دوسرے کی محبت اور نفرت میں کس حدتک جانا ہے؟....میری ذاتی رائے میں حکومت یا حکومت کے سربراہ کو اپنا دل زیادہ بڑا کرنا چاہیے، اگر میڈیا حکومت کی ایسی خرابیوں یا خامیوں کی نشاندہی کررہا ہے جو معاشرے میں مختلف حوالوں سے واقعی بگاڑ پیدا کررہی ہیں، یاملک کو نقصان پہنچا رہی ہیں، تو اس نشاندہی پر حکومت کو میڈیا کے خلاف ہونے کے بجائے اس کاشکرگزار ہونا چاہیے۔ اور اگر میڈیا یا میڈیا کا ایک حصہ حکومت یا ریاست کے معاملات میں باقاعدہ مداخلت کررہا ہو اور یہ سمجھ رہا ہو حکومت صرف میڈیا نے ہی چلانی ہے، پھر ظاہر ہے ایسے ہی حالات پیدا ہوں گے جس سے دونوں جانب ٹکڑاﺅ بڑھے گا، اور اس کا نقصان صرف یہ نہیں کہ حکومت یا حکومت کے سربراہ ہی کو ہوگا، پاکستانی میڈیا کے حوالے سے دنیا بھر کے لوگوں میں منفی جذبات یا تاثرات کا بڑھنا میڈیا کے لیے کتنا نقصان دہ ہے اس کا اندازہ اگرپاکستانی میڈیا کو نہیں تو یہ افسوس کا مقام ہے، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت بتدریج کم ہورہی ہے ان کے مقابل میں سوشل میڈیا کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے، سوشل میڈیا کے مقابلے میں اپنی حیثیت یا اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو مثبت رویوں کے ساتھ ایک نیا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے تھا جو میرے خیال میں غیر ضروری طورپر حکومت کے ساتھ الجھاﺅ کی نذر ہوگیا، دنیا بھر میں بے شمار ممالک ایسے ہیں جہاں سوشل میڈیا کے انتہائی فعال ہونے کے باوجود الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کی اہمیت یا حیثیت کم نہیں ہوئی۔ گو کہ سوشل میڈیا سب سے ناقابل اعتبار ذریعہ ہے، پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ کچھ لوگوں میں پھر بھی تھوڑالحاظ ہوتا ہے، وہ کسی خبر کی تصدیق کے لیے ہلکی پھلکی کوششیں ضرور کرتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر جس کے جو جی میں آئے جھوٹ سچ بک دیتا ہے، لوگ اُس پر یقین بھی کرلیتے ہیں، اس عمل کو کوئی گناہ تو دُور کی بات ہے کوئی غلطی بھی تصور نہیں کرتا، ہمارے دین میں بغیر تصدیق کے کسی بات کو آگے بتانا یا پھیلانا انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے، دین میں اِس مکروہ عمل کی جو سزا ہے کاش ہمارے لوگوں کو اس کا اندازہ ہوتا، حالت یہ ہے اب معاشرے میں بگاڑ کا سب سے اہم اور بڑا ذریعہ ”سوشل میڈیا“ کو ہی تصور کیا جاتا ہے، اس کے بے جا استعمال سے صرف معاشرے میں ہی نہیں انسانی صحت میں جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے، اُس جانب کسی کی توجہ ہی نہیں ہے، .... سو ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اورہماری حکومت اگر حقیقی معنوں میں معاشرے میں کوئی بہتری لانا چاہتے ہیں، اِس مقصد کے لیے سب سے پہلے وہ اپنے رویوں میں بہترین لائیں، اس کے بعد مِل جُل کر سوشل میڈیا پر کچھ ایسی پابندیاں عائد کریں جن سے معاشرے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی خرابیوں میں کوئی ٹھہراﺅ یا کمی واقع ہو، اس ضمن میں پورے کاپورا ڈھانچہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ صرف اِس صورت میں تبدیل ہوسکتا ہے جب فریقین کی سوچ تبدیل ہو، اگر سوچ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے، ایک دوسرے سے بدلہ لینے یا ایک دوسرے کے خلاف سازش کرنے کی ہو، پھر اس کے نتائج کئی” کورونوں“ سے بھاری ہی ثابت ہوں گے، ہم صرف ”کورونا“ سے ہونے والے ”مبینہ نقصانات“ کو رورہے ہیں، اس طرح کے ہزاروں ”وائرس“ ہماری سوچوں میں ایسے پائے جاتے ہیں جو اِس ملک کی بنیادوں کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کررہے ہیں، انفرادی مفادات کے رحجان نے تباہی کے ایسی دہانے پر ہمیں لاکھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی اب بہت مشکل دکھائی دے رہی ہے، مایوسی ”گناہ“ ہے، پر المیہ یہ ہے اللہ کے نیک بندے یا پاکستان کو ٹوٹ کر چاہنے والے، پاکستان کے حکمرانوں، پاکستان کے کچھ مو¿قراداروں اور پاکستان کے عوام کے رویوں کی وجہ سے اس گناہ سے پوری کوشش کے باوجود بچ نہیں پارہے، ہر شعبے، ہرادارے میں انفرادی فائدے کی سوچ نے ملک کے اجتماعی مفاد کو ایسی گہری ضرب لگائی ہے، یہ ”زخم“ شاید ہی اب کبھی بھرپائے گا۔ کوئی مرہم اہل درد کو ایسی میسر نہیں جو اس زخم پر رکھی جائے اور اِس کی ”ہریائی “ ذرا کم ہو جائے، .... ابھی گزشتہ روز پیمرا نے نیوٹی وی کا لائسنس کینسل کردیا، ممکن ہے نیوٹی وی سے کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے میں تاخیر ہورہی ہو، پر ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اداروں کی جانب سے مزید وقت ملنا چاہیے تھا، اس عمل سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی ہے کہ موجودہ حکومت آزادی رائے کے اظہار پر مزید پابندیاں لگانا چاہتی ہے۔ اور نیوٹی وی کا لائسنس صرف اس لیے کینسل کیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی کچھ غلط پالیسیوں کو جائز طورپر تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا، .... میں سمجھتا ہوں وزارت اطلاعات کو چلانے کے لیے وزیراعظم نے جو نئی ٹیم اپنی مرضی یا کسی کی مرضی سے بنائی ہے اُسے میڈیا، حکومت اور اداروں کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایسی نئی حکمت عملی اپنانا پڑے گی جس سے ان کی اہلیت اور ان کی تقرری کا میرٹ ثابت ہوسکے، ورنہ آج تک تو یہی ہوتا آیا ہے محض چہروں کی تبدیلی سے معاملات میں بہتریوں کے بجائے خرابیاں ہی بڑھی ہیں، سارے کام وزیراعظم نے نہیں کرنے ہوتے، وزیراعظم سے مل کر مجھے احساس ہوا بے شمار خرابیاں جو ہم وزیراعظم سے جوڑ دیتے ہیں وزیراعظم کو ان کے بارے میں پتہ بھی نہیں ہوتا۔ (جاری ہے)!!


ای پیپر