نیکی اور تکبر
09 May 2020 2020-05-09

بابا جی اشفاق احمد کہتے تھے کہ نیا نیا دین پڑھنا شروع کیا تھا ،نمازیں وقت پر ادا ہونے لگیں ۔اذکار ،نوافل ،تلاوت قر آن ،میوزک کی جگہ دینی لیکچرز،ایک کے بعد ایک تبدیلی ۔زندگی میں سکون تو تھا ہی لیکن اب سکون کی انتہا ہونے لگی ۔تشکر سے دل بھر گیا ۔جہاں ایک طرف سب پرفیکشن کی طرف جا رہا تھا،وہاں ساتھ ہی ایک بہتر بڑی خرابی نے ہلکے ہلکے دل میں سر اٹھانا شروع کر دیا ۔جی ہاں تکبر نے ،جی یہی شیطان کی چالیں ہیں ،اول تو وہ دین کی طرف آنے نہیں دیتا۔اگر اس مرحلے میں ناکام ہو جائیں تو ریا کاری کروا کے نیکی ضائع کروا تا ہے ،دل میں تکبر ڈال کر ضائع کرواتا ہے ۔مجھے یہ تو نظر آتا تھا کہ فلاں نے تین ہفتے سے نماز جمعہ ادا نہیں کی تو اسکے دل پر مہر لگ گئی ہے ۔مجھے یہ بھول جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری زندگی زنا کرنے والی اُس عورت کو پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخش دیا ۔مجھے یہ تو دکھائی دیتا کہ فلاں لڑکی نے پردہ نہیں کیا ،مجھے یہ بھول جاتا کہ رائی جتنا تکبر مجھے کہیں جہنم میں نہ گرا دے ۔مجھے یہ تذکرہ کرنا تو یاد رہتا کہ فلاں نے داڑھی رکھ لی اور نماز ادا نہیں کی ،مجھے یہ بھول جاتا کہ کسی کی غیبت کر کے مُردار بھائی کا گوشت کھانے کا مرتکب تو میں بھی ہو رہا ہوں ،یہ سلسلہ کچھ عرصہ یونہی چلتا رہا ۔پھر ایک بار کسی نے بڑے پیار ے انداز میں ایک قصہ سنایا ۔قصہ ایک فقیرکا تھا ،وہ مسجد کے آگے مانگنے بیٹھا ۔نمازی باہر نکلے تو انہیں اپنی نمازوں پر بڑا زعم تھا ،فقیر کو ڈانٹ کر بھگا دیا ،وہاں سے اٹھ کر فقیر مندر گیا ،پجاری باہر آئے تو اُس کے ساتھ وہی سلوک یہاں بھی ہوا،تنگ آکر وہ شراب خانے کے باہر بیٹھ گیا جو شرابی باہر آتا اور اسے کچھ دے دیتا ،ساتھ میں دعا کا کہتا کہ ہم تو بڑے گناہ گار ہیں ،کیاپتہ تجھے دیا ہوا ہی بخشش کا باعث بن جائے ۔مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ گناہوکر کے شرمندہ ہونا نیکی کر کے تکبر کرنے سے بہتر ہے ۔یہ قصہ میرے لئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ،ہم سب کو اپنے آپ کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ امر بالمعرود اور نہی عن المنکرضرورکریں ۔لیکن ججمنٹ کا کام اللہ کے لئے چھوڑ دیں نیکی کا کام دل میں امت کا درداور محبت لے کر کرنے سے ہو گا،اپنے آپ کو باقیوں سے برتر سمجھ کر نہیں ۔کانٹے بچھا کر پھولوں کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ؟نفرتیں پھیلا کر محبتیں کیسے سمیٹی جا سکتی ہیں؟دوسروں کی اصلاح کریں لیکن اپنے روئیے پر کڑی نظر رکھنا نہ بھولیں ۔

جی ہاں !بابا جی اشفاق احمد اور ان جیسے دیگر انسان دوستوں کی باتیں محض لکھنے ،پڑھنے اور گفتگو میں استعمال کر کے خود کو بڑا ثابت کرنے کے لئے نہیں ہیں ۔بلکہ ان سبق آموز باتوں کا مقصد ان اصولوں کو اپنی زندگی میں لاگو کر کے انسانیت کو فلاح کی طرف راغب کرنا اور تباہی سے بچانا ہے ۔یہ باتیں انسان کی اخلاقیات سے متعلق ہیں اور اخلاقیات میں جتنا نکھار آتا جائے گا ،انسانی معاشرہ اتنا ہی پر امن اور فلاحی ہوتا جائیگا ۔انسان کی معراج عہدوں دولت کی فروانی اور انسانی اقدار کو پامال کر کے عروج کے حصول میں نہیں بلکہ خود کو اخلاق کا ایسا پیکر بنا کر پیش کرنے میں ہے کہ کوئی آپ کو اپنے لئے نہ بنالے ، کام ہے تو بڑا مشکل لیکن ہے کرنے کا ۔

آج کل سب ایک دوسرے کی کامیابی دیکھ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں ،کوئی ترقی کی طرف گامزن ہو تو اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ، حالانکہ جو کسی کی کامیابی میں رکاوٹ بنتے ہیں تو وہ اس میں مقابلہ کرنے کی مزیدسکت پیدا کرتے ہیں اور ترقی اس کے قدم چومتی ہے ۔آج کے دور میں کوئی نیکی کا سوچتا ہے تو وہ یہ بھی ساتھ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ کون کون اس کو یہ نیکی کرتے دیکھ رہا ہے وہ نیکی اس لئے بھی کسی کے سامنے کرتا ہے کہ اُس کا بھی حوصلہ بلند ہو اور وہ بھی صرف اللہ پاک کی خوشنودی کے لئے خرچ کرے،خرچ ،پیسہ نہیں بلکہ پیسے اور اس سے خرید کر وہ ہر وہ چیز ہے جومستحق افراد کے درمیان تقسیم کی جائے ،رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ چل رہا ہے ،ایسے میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اس کا کئی گنا ہ اجر لیں ،ایک دووسرے کے لئے سوچئے ،سوچ مثبت رکھیں ،اس دور میں ہم ایک دوسرے کے لئے آسانیاں پیدا کریں ،نا کہ مشکلیں کھڑی کی جائیں ۔

بات کی جائے نیکی کی تو ایسے میں ذرابرابر بھی تکبر ہر گز نہ کیا جائے کیونکہ تکبر کرنے والے اللہ کو سخت نا پسند ہیں ۔کچھ روز قبل میرا دوست ایک ایسی نیکی کی بات کر رہا تھا کہ میں جب کسی کی مدد کرتا ہوں ، تو اس بندے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ نہیں پاتا اور اس شخص کی مدد کر کے نہ آنکھیں ملانے کی ہمت کرتا پاتا ہوں ،اپنے دوست کی یہ بات سن کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ نیکی کر کے اجر اللہ پاک سے لینا ہے ناکہ تکبر کر کے نیکی کو ضائع کرنا !اعمال کا دارومدار نیکیوں پر ہے لہذا ہمیں نیکیاں کرنے کی توفیق دے یہ دعا اللہ پاک سے کرتے رہنا ہے،اگر کوئی ترقی کر رہا ہے تو اس کے بارے میں اچھا سوچنا بھی ایک نیکی ہے اور خود کو اس سے بھی زیادہ کامیاب بنانا ہے تو اپنے بارے بھی یقینا اچھا ہی سوچئے ،دوسرا کیا کر رہا ہے ،وہ اچھا ہے برا ہے ،اس سے باہر نکلیں تو عمل اچھے کریں ،اللہ پاک آپ کی کامیابی کے راستے بھی کھول دے گا ۔

ذرا سی دیر کیا ہوئی اللہ سے تم نے مانگنا ہی چھوڑ دیا ؟اسکو تو پسند تھی تمھاری آواز اور تم نے رابطہ ہی توڑ دیا ؟اسکی ہزار نعمتوں کو نظر انداز کر کے ناشکری کرنے لگے ،تم نے بس ایک لا حاصل چیز کے لئے اسکا مان توڑ دیا ؟مگر جانتے ہواسکی محبت کی خاصیت یہی ہے کہ ہزار گناہوں کے بعد بھی تم اس کے پاس جاﺅ تو وہ معاف کردیتا ہے وہ تو کبھی نہیں کہتا کہ دیر سے آئے ہو تو نہیں معاف کروں گا تمھیں ۔وہ تو روز تمھارے پلٹ آنے کا انتظار کرتا ہے، اور تم ہو کہ اس کے دیر سے رخ موڑ لیا؟وہ ہمیشہ تم سے محبت کرتا رہے گا تم کرو یا نہ کرو تمھیں کس نے کہا کہ تمھاری دعاو¿ں کو موڑ دیا گیا ۔


ای پیپر