سیاست میں گولڈن ہینڈ شیک
09 May 2019 2019-05-09

اپوزیشن کی بڑی جماعت ن لیگ نے پارلیمانی عہدوں میں اہم تبدیلیاں کردی ہیں۔ اس سے قبل یہ اشارے مل رہے تھے کہ پارٹی کی پالیسی پر اتفاق رائے نہیں تھا۔ پارٹی کے بعض رہنما شہباز شریف کی پالیسی کو صحیح سمجھتے تھے۔ جبکہ کئی رہنما نواز شریف کے بیانیے پر چلنا چاہتے ہیں۔شریف فیملی مزید 2 عہدوں سے دستبردار ہوگئی، شہباز نے لندن سے واپسی ملتوی کردی ہے، رانا تنویر پی اے سی کے چیئرمین، خواجہ آصف پارلیمانی لیڈر مقرر کردیا گیا۔ پارٹی میں ازسرنو تنظیم سازی کردی گئی۔ شاہد خاقان پارٹی کے سینئر نائب صدر ہوگئے ہیں، ن لیگ کی مریم نواز اور حمزہ شہباز بھی نائب صدر ہو گئے ہیں۔ خواجہ آصف کوپارلیمانی لیڈر شہباز شریف کی خواہش پر بنایا گیا،رانا تنویر کو نواز شریف کی مکمل تائیدحاصل ہے۔ شہباز شریف کی غیر موجودگی میں شاہد خاقان عباسی پارٹی کی رہنمائی کریں گے، اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر کام کریں گے۔ ڈیل کی باتیں اس وقت دم توڑ گئیں جب نواز شریف کو ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد جیل جانا پڑا،کیونکہ انہوں نے پرانے بیانیہ چھوڑا نہیں ہے،وہ موزون وقت کا انتظار کررہے ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کہتے ہیں کہ پارٹی کنٹرول ایک ہاتھ میں ہونے کے بجائے تین چار ہاتھوں میں تقسیم ہوجائے تو کارکردگی پر مثبت اثر پڑے گا، مقدمات اور سزائوں کے دبائوسے نکلنے کیلئے ہم نے نئی صف آرائی کی ہے۔

شریف خاندان سیاست سے کنارہ کش نہیں ہواہے۔ حالیہ تبدیلیاںمشکل حالات ٹالنے کی منصوبہ بندی ہے،شریف برادران مریم اور حمزہ کو اپنے تخت دے کر پیچھے بیٹھ کر حکومت کریں گے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران پارٹی کی عدم سرگرمی کے باعث بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آرہے تھے۔ لہٰذا پارٹی کو سرگرم رکھنے کے لئے ازسرنو منظم کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی مقدمات میں الجھے ہوئے ہیں۔ لہٰذا نواز لیگ کی ساری امیدیں مریم نواز سے وابستہ ہیں۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کے’’ بڑے‘‘ آصف علی زرداری کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ ان کی گرفتاری ماہ صیام سے پہلے متوقع تھی لیکن ملک کامالی بحران اور آئی ایم ایف سے مذاکرات آڑے آگئے۔اگرچہ بیانیہ زرداری کا ہی چل رہا ہے۔تاہم ان کا سیاسی کردار بہت حد تک محدود ہو رہا ہے اور بلاول بھٹو زرداری زیادہ تر پارٹی معاملات اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں۔آج ملک میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بڑی پارٹیاں ہیں۔ عمران خان، مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ان پارٹیوں کے رہنما ہیں۔

صورتحال اس نہج پر چلی گئی ہے کہ دونوں جماعتوں کے دو دوبڑے عملاً غیر فعال ہو جائیں، ریٹائر ہوں یا جیل جا کر غیر فعال ہو جائیں۔ اس فارمولا کے تحت نواز شریف جیل پہنچ چکے ہیں۔ اور ان کی پارٹی نئے عہدیداران منتخب کر چکی ہے۔ شہباز شریف کے پاس اگرچہ رسمی طور پر پارٹی کے صدر اور لیڈر آف اپوزیشن نے عہدے ابھی تک باقی ہیں۔ یہ بھی کچھ عرصے بعد وہ چھوڑ دیں گے۔ ان کی جگہ پر پارٹی کی نئی قیادت ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔

اب پیپلزپارٹی کی باری ہے۔ میگا منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 4وعدہ معاف گواہوں کے بیانات ضمنی ریفرنس کا حصہ ہونگے۔جس طرح سے نواز لیگ میں نواز شریف اور شہباز شریف احتساب کے جال میں ہیں، اسی طرح آصف علی زرداری اور فریال تالپور احتساب کے محاصرے میں ہیں۔ آصف زرداری سے پہلے فریال تالپور کی گرفتاری متوقع تھی۔یہی وجہ ہے کہ دو ہفتے قبل فریال سندھا سمبلی میں آئیں اور وہاں ان کی سالگرہ منائی گئی۔ مزید یہ کہ سندھ اسمبلی کو مسلسل سیشن میں رکھا گیا، فریال تالپور کی گرفتاری کی صورت میں ان کو اسپیکر کے پراڈکشن آرڈر کے ذریعے اسمبلی میں بلایا جاسکے۔

سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گزشتہ دسمبر میںکہا تھا کہ زرداری اور نواز شریف کی جائدادیں ضبط ہونگی وہ جیل چلے جائیں گے اور ان دونوں کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ انہی دنوں میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے تین سال کی مدت رکھنے والوں کا ذکر کیااور کہا کہ’’ مقررہ مدت والے آتے جاتے رہتے ہیں۔ میدان میں صرف سیاستدان ہی مستقل طور پر رہتے ہیں۔‘‘ عدلیہ ہو یا عسکری ادارہ دونوں میں عہدوں اور عمر کی حد مقرر ہے۔ جس کے بعد وہ ریٹائر ہو جاتے ہیں۔انہیںپتہ تھا کہ جبری ریٹائرمنٹ کا پلان متعارف ہو رہا ہے۔ آصف زرادری کا خیال تھا کہ ان اداروں میں بیٹھے ہوئے حضرات خود کو سیاستدانوں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیشے کے لحاظ سے ان دونوں اداروں کے حضرات نے باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے۔ لیکن انہیں ایک نقطہ پر آکر ریٹائر ہونا ہے۔ سیاستدان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ سیاستدان کو ملکی حالات کا گہرا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، سماج کو سمجھنا پڑتا ہے، سماج کی مختلف طبقوں اور فریقین کو اکموڈیٹ اور ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے،ان میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔لہٰذا سیاستدان بننے میں ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر خدمت کے جذبے کے ساتھ آتے ہیں، اور عوام میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ وہ اگر ایک الیکشن ہار جائیں اور اقتدار سے باہر جائیں ، ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں آئندہ انتخابات جیت کر دوبارہ اقتدار میں آجاتے ہیں دنیا بھر میں سیاست کا یہی سائیکل چلتا ہے۔ لہٰذا سیاست یا سیاستدانوں اور باقی دونوںا داروں کی آپس میں تشبیہ دینا درست ان تینوں اداروں کی نوعیت، فرائض اور میکنزم مختلف ہے۔ سیاستدان اپنی سیاسی وراثت دوسری نسل کو منتقل کر لیتے ہیں۔ جو کہ اور اداروں میں ممکن نہیں۔

فارمولا نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے دو دوبڑوں کو سیاسی میدان سے آئوٹ کرنے کا زیر عمل ہے۔یہ قیادت ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ یا رضاکارانہ اعلان نہیں کر رہی، لہٰذا انہیں جیل کے ذریعے ریٹائرمنٹ کے راستے پر ڈالا جارہا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے ’’بڑوں‘‘ نے بڑی مزاحمت کی۔ لیکن کرپشن کا آلہ اور احتساب کا جال مضبوط تھا، جس کو عوام میں بھی پزیرائی مل چکی تھی، لہٰذا اس سے بچ نہیں پا رہے ہیں۔

اب نواز شریف اور آصف علی زرادری سیاسی منظر نامے سے ہٹ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرادری ریڈیکل بیانات دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ماہ سے ایسا لگتا ہے کہ انہوںنے پارٹی قیادت کی سیٹ عملی طور پر سنبھال لی ہے۔ اور آصف علی زرداری پارٹی کی قیادت سے دستبردار ی نظر آتی ہے۔ نواز لیگ کے بعد پیپلزپارٹی میں بھی ’’ اولڈ گارڈز‘‘ کے بجائے نئی نسل کی قیادت میں آگئی ہے۔ممکن ہے کہ مقتدرہ حلقوں کا خیال ہو کہ اولڈ گارڈز کے مقابلے میں نئی نسل کی قیادت سے نمٹنا زیادہ آسان ہے۔

ملازمت میں جبری ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، اب سیاست میں بھی جبری ریٹائرمنٹ کا طریقہ متعارف ہو رہا ہے۔ کارپوریٹ کلچرنے جبری ریٹائرمنٹ کا مہذب نام گولڈن ہینڈ شیک رکھا ہے۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں کی قیادت کو گولڈن ہینڈ شیک دیا جارہا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے’’ بڑے‘‘ سیاست سے فارغ ہوں اور ان کی جگہ پر مریم نواز اور بلاول بھٹو کو لیا جاسکتاہے۔


ای پیپر