فاٹا کے مسا ئل اور ان کا ممکنہ حل
09 May 2019 2019-05-09

کالم کی تفیل میں جانے سے پہلے پی ٹی ایم ، یعنی پشتو ن تحفظ مو ومنٹ کو ا س کے اغر اض و مقا صد سمجھنا ہو گا۔ دراصل پی ٹی ایم کا قیا م 2014 میں محسو د تحفظ مو و منٹ کے نا م سے عمل میں لا یا جا چکا تھا۔ پھر ہو ا یو ں کہ 2018کے اوا ئل میں نقیب محسو د کے قتل کے بعد یہ مو و منٹ پختون نو جو انو ں میں مقبو لیت اختیا ر کر گئی جس کے با عث اس کا نا م تبد یل کر کے پشتو ن تحفظ مو منٹ ر کھ دیا گیا۔ اب صو ر تِ حا ل یہ ہے کہ فاٹا کی قبائلی پٹی میں غیر معمولی سیاسی ارتعاش کی اطلاعات نے ذرائع ابلاغ کے غالب حصہ کو متوجہ کیا ہے۔ جبکہ پی ٹی ایم سے متعلق انکشافات نے سیاسی حلقوں، سیکورٹی اداروں اور فاٹا کی نئی نسل کے حوالہ سے سیاسی و عسکری قیادت کو بھی مستقبل کے امکانی خطرات سے الرٹ کردیا ہے۔ ساتھ ہی چونکا دینے والے حقائق کے حصول اور ریشہ دوانیوں میں ملوث خارجی و داخلی عناصر کے خلاف اقدامات اور ناگزیر فیصلوں کے ایک ہی نکتہ پر جمع کردیا ہے۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم خود کوئی مسئلہ نہیں ہے، کچھ افراد غیرملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ یہ افراد دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے جذبات سے دانستہ طور پر کھیل رہے ہیں۔ آپریشن کے بعد پی ٹی ایم نے جن مسائل پر بات کی وہ حقیقی اور قدرتی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں دورے پر آئے طلبا و طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ذہین اور قابل نوجوانوں سے مالا مال ہے۔ قوم اور مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیا ں حاصل کی ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے دیرپا امن کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دشمنوں کے تمام منصوبے ناکام بنادیں گے، حکومت اور سیکورٹی فورسز قبائلیوں کے مسائل حل کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے مزید کہا کہ طلبا کسی بھی گمراہ کن پراپیگنڈہ میں نہ آئیں۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعد ایک سازش کے تحت بیرونی فنڈنگ کے ذریعے قبائل کو پاکستان سے متنفر کرنے کوشش سے قوم کو آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی باشندوں، حکومت اور پاکستان بھر کے عوام کو مل کر اسے ناکام بنانا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ قبائلی علاقوں کو بڑے قریب سے جانتے ہیں اور یہاں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قبائلی عوام نے ملک کی حفاظت کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے انتہا مشکلات اور صعوبتوں کا سامنا کیا، نقل مکانی کی جو کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں غیر ملکی عناصر کی فنڈنگ سے پراپیگنڈہ ہورہا ہے قبائلی لوگوں کو اکسانے کی سازش ہورہی ہے، اگر ان علاقوں میں نوجوانوں کی مدد نہ کی گئی تو ملک میں انتشار پیدا ہوگا جس سے پاکستان کو بہت بڑا نقصان ہوگا۔ اگر ہم قبائلیوں کی مدد کریں گے تو اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔

ملک کی دو اہم شخصیات نے اپنے تئیں فاٹا کی جیو پولیٹکل صورتحال اور پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کے مالیاتی پہلوئوں اور بیرونی قوتوں کی اس تحریک کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ضمن میں جن حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے اس کی سنگینی سے شاید ہی کسی کو انکار ہو مگر تشویش مسئلہ کی حساسیت اور فاٹا کی تزویراتی تپش اور ملک دشمنوں کے گٹھ جوڑ کی ہے، جو پاکستان کو ہر اعتبار سے محاصرے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان قوتوں کی شناخت کوئی مسئلہ نہیں، ارباب اختیار ان کے چہروں اور مکروہ منصوبوں سے واقف ہیں۔ اس لیے پی ٹی ایم اگر مسئلہ نہیں اس کے چند خصو صی تر بیت یا فتہ نوجوان رہنمائوں کا ملکی سالمیت اور فاٹا عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے اندیشوں سے ہے تو یہ دو جہتی چیلنج ہے۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف چونکہ فاٹا کی سیاسی، سماجی اور دہشت گردی سے متاثرہ انفراسٹرکچر اور معاشی ریلیف سے آگاہ ہیں چنانچہ اقدامات ٹارگٹڈ ہوں، سماجی و معاشی تبدیلیوں اور فاٹا کے متاثرین کے قلب ماہیت سے متعلق ٹھوس اقدامات کو یقینی بنا نا ناگزیر ہے۔ مضمر خطرات کا گہرا ادراک اور قانونی اقدامات کے لیے بلاتاخیر ڈائنامک سٹریٹجی ملک دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملاسکتی ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جو عناصر قبائلیوں کو اکسا رہے ہیں، فنڈنگ ہورہی ہے اور پی ٹی ایم کے کچھ نادان لوگ غیرملکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں تو گربہ کشتن روز اول کے اصول کے تحت تو حقیقت معلوم ہوجانے پر وقت گزرنے کا انتظار نہ کیا جاتا۔ فاٹا کے عوام محب وطن ہیں اور ان کی تاریخ جارح اور ملک دشمن طاقتوں سے ٹکرانے کی ہے، جو مغربی سرحدوں پر مسلح افواج کے لیے ہمیشہ اطمینان اور یکسوئی کا باعث بنے رہے اور کوئی وطن عزیز کے اس حصے کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرسکا۔ تاہم نائن الیون اور دہشت گردی کی تباہ کاریوں نے فاٹا میں سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا جہنم زار کھول دیا ، امریکی ڈرون حملوں نے فاٹا کے عوام کو بہت دکھ دیئے۔ اسی صورتحال کی کوکھ سے پی ٹی ایم نے جنم لیا، جبکہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے بقول پی ٹی ایم نے جن مسائل پر بات کی وہ حقیقی اور قدرتی تھی۔ اسی نکتہ پر حکومت فاٹا سٹریٹجی تشکیل دے کر نوجوان نسل کے جذبات کو قومی دھارے میں لانے کا عظیم فریضہ انجام دے سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں فاٹا کے کے عوام کی معاشی ضروریات کا ازالہ ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے کہا ہے کہ مہمند ڈیم کی تعمیر کا افتتاح ملک میں توانائی اور آبی ذخائر کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ منصوبہ عوام کی ایک دیرینہ خواہش اور وقت کی ضرورت تھی۔ مہمند ڈیم کی تعمیر علاقے میں سماجی، زرعی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ شکر ہے ایک طویل تعطل اور سیاسی کشمکش کے بعد ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا ہوا، صوبائی حکومت کو وفاق کی رہنمائی ملی، بیروزگاری، احساس محرومی ختم اور جنگ و دہشت گردی کی مجموعی صورتحال نے فاٹا عوام کی نفسیات پر جو گہرے اثرات مرتب کیے ان کے پیش نظر ضروری ہے کہ حکومت اسے صرف پی ٹی ایم کا مسئلہ نہ سمجھے بلکہ نوجوانوں کی مدد کا سلسلہ ایک مضبوط اقتصادی پیکیج کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی خطے میں ریشہ دوانیوں میں مصروف غیرملکی قوتوں پر بھی نظر رکھی جائے جیسا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر تو ہورہے ہیں مگر کچھ قومی اور غیرملکی ایجنسیاں انہیں خراب کرنا چاہتی ہیں۔ فاٹا اور اس کے عوام دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن Victims رہے ہیں۔ ان کے درد کو پوری قوم نے محسوس کیا ہے۔ ہوسکتا ہے اس درد کی کسک پی ٹی ایم کے نوجوان رہنمائوں نے زمینی حقائق کے درست تناظر میں محسوس نہ کی ہو مگر دیکھنا یہ ہے کہ غیرملکی طاقتوں نے کیوں، کب اور کیسے ان کے خواب چرا لیے اور انہیں اپنے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور یا تیار کیا۔ لہٰذا وقت آگیا ہے کہ ارباب اختیار فاٹا میں امن، استحکام اور معاشی و سماجی ترقی کا ایک سنگ میل عبور کریں۔ معاشی ثمرات ہی فاٹا کے عوام اور نئی نسل کا مقدر تبدیل کرسکتے ہیں۔


ای پیپر